اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: چوں کفر از کعبہ برخیزد...

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 11 June 2017

چوں کفر از کعبہ برخیزد...


تحریر: فضیل احمد ناصری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ادھر کچھ دنوں سے عرب اتحاد اور قطر سے متعلق بہت سے مضامین اور خبریں نظر سے گزر رہی ہیں، جو اندوہ ناک بھی ہیں، کرب ناک بھی اور تشویش ناک بھی - عرب کے سات ممالک نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوے قطر کا مقاطعہ کر دیا ہے، یہ تازہ ترین صورتِ حال مسلمانوں کو رلادینے والی اور ان کا دل خون کر دینے والی ہے- اس سے مشرقِ وسطیٰ میں میں کھلبلی سی مچ گئی ہے، عالمِ کفر ہنس رہا ہے اور عالمِ اسلام دست و گریباں-

عربوں کی جنگ کو احادیث میں "علاماتِ قیامت "میں سے گنا گیا ہے، امام ترمذی نے طلحہ بن مالک سے حدیث نقل کی ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان من اشراط الساعۃ ھلاک العرب...قربِ قیامت کی ایک علامت عرب کی تباہی بھی ہے-
قطر کے خلاف اگر یہ جنگ ہوتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ تباہی کے بدترین دور میں چلا جاے گا-
🔵امریکہ کے سات گرگے🔵
جن سات عرب ممالک نے قطر کی گھیرا بندی کی ہے، ان میں سعودی عرب، مصر، لیبیا، متحدہ عرب امارات، بحرین، یمن اور مالدیپ ہیں- ان کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے، جی ہاں وہی سعودی عرب، جو عالمِ کفر کی اسلام مخالف سرگرمیوں پر مجرمانہ تغافل کا عادی ہے، جو مردانہ لباس میں زنانہ ادائیں رکھتا ہے، جسے صرف اپنے شاہی مفادات عزیز ہیں، نہ قرآن، نہ حدیث- اس کے ہونٹوں پر جو پہلا نام آتا ہے، وہ ہے امریکہ بہادر- اس کی اتباع میں بقیہ چھ ممالک بھی امریکہ کے پٹھو بنے ہوے ہیں، امریکہ انہیں جیسے چاہتا ہے، استعمال کرتا ہے، ان کے پاس قوتِ ارادی ہے، نہ فکرِ اسلامی- یہ ڈرپوک ممالک ہیں- جبہ قبہ، عبا قبا- کہنے کو سلاطین ہیں، مگر ان کی حیثیت امریکی چمچے سے زیادہ نہیں- یہ اللہ رسول کے نام پر عیاشی کے عادی ہیں، ان کا بس چلے تو قرآن پر بھی خطِ تنسیخ کھینچ سکتے ہیں، ذرا امریکہ ابرو تو ہلادے-
★برادرانِ یوسف سے بھی گئے گزرے★
یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھی یوسف علیہ السلام کو دغا دیا تھا، مگر ان میں سب شامل نہیں تھے، بعضوں کی خواہش قتل کردینے کی تھی، جب کہ بعض کا خیال تھا کہ قتل نہیں، کسی گمنام کنویں میں پھینک دو، چناں چہ کنویں میں پھینک دیا گیا، یوسف کے یہ غدار بھائی حقیقی نہیں، سوتیلے تھے- عرب کے یہ سات بھائی قطر کے حقیقی بھائی ہیں، ان کا باہمی رشتہ ایمان و اسلام سے قائم ہے، لیکن ان کی طبیعت ایسی سفاک اور مزاج اتنا تندخو کہ برادرانِ یوسف سے بھی گئے گزرے نکلے، جو اپنے ہی بھائی قطر کو ختم کردینا چاہتے ہیں- قطر کی بڑھتی مقبولیت،اس کا بڑھتا عروج  اور اس کی اسلام پسندی ان سات بھائیوں کو کھٹک رہی ہے، اس لیے سب مل کر اس کی ٹانگ کھینچنے میں لگ گئے ہیں-
🔷قطر پر پابندیاں🔷
ان ضمیر فروش سات بھائیوں نے قطر کا مقاطعہ کردیا ہے، ان ممالک سے قطر کے سارے سفیر بھیج دیے گئے ہیں، انہوں نے بھی اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں- ان کے سارے باہمی رابطے بند- رابطے کے ساتھ ہی راستے بھی بند- قطر کے جہاز بھی ان ممالک کی فضا میں نہیں اڑ سکتے، یہ بہادران بھی قطر کی زمین، ہوا اور فضا استعمال نہیں کریں گے، قطر اب اچھوت ہو گیا ہے، کوئی عرب ملک اس سے تعلق نہ رکھے- ساتھ ہی اپنے باشندوں کو سخت تاکید کہ قطر کی تائید میں ہرگز حصہ نہ لے، ورنہ زندگی کے پندرہ سال عقوبت خانوں میں گزارنے پڑیں گے، پچاس ہزار درہم کا جرمانہ الگ رہا - دھمکی ہے کہ یہ تحریک اس وقت تک چلے گی، جب تک قطر ان کے مطالبات پورے نہ کردے، ورنہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاے گی-
★کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں★
لومڑی بھی مرغ کا قتل کرتی ہے تو سب سے پہلے مرغ کی معصوم گردن پر الزامات ڈالتی ہے، چاہے ان کا زمینی طور پر کوئی وجود نہ ہو، یہی حال ان روباہ صفت عربوں کا بھی ہے- انہوں نے بھی قطر پر حملے کے لیے الزامات کی بوچھاڑ لگادی ہے،  ان کا الزام ہے کہ قطر "الاخوان المسلمون، حماس، القاعدہ "، حوثی اور "داعش "کی مدد کر رہا ہے، ان تنظیموں کے بڑے چھوٹے سبھی رہ نما قطر میں ہی مقیم ہیں- جس سے خطے میں بدامنی کا زہر گھل گیا ہے، جب تک قطر کا آخری قطرہ بھی بہا نہ دیا جاے، مشرقِ وسطیٰ جہنم زار بنا رہے گا، مگر سچ کہیے تو ان الزامات کی کوئی زمینی حقیقت نہیں، اس مقاطعے کی سب سے بڑی وجہ قطر کی اسلام پسندی ہے، اس کے علاوہ ٹی وی چینل "الجزیرۃ " یہ چینل حقائق بیانی میں اپنی مثال آپ رہا ہے، اس نے عربوں کو آئینے کی طرح سامنے کردیا، ان ممالک کی عیاشیوں کی راہ میں بھی یہی چھوٹا ملک رکاوٹ ہے، دیگر عربوں کی طرح اسے بھی "معجونِ شباب آور "دے دیا جاے تو اسلام سے اس کی وابستگی بھی ڈھیلی پڑ جاے گی، گویا بقول اکبر الہ آبادی:

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی جا کر آج تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
🔵وہی بیٹھا بیٹھا شرارت کرے ہے🔵
کہنے کو عرب اتحاد نے قطر کا مقاطعہ بلکہ محاصرہ کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب امریکی اشارے پر ہو رہا ہے- یہ ٹرمپ کارڈ ہے، جو عرب ممالک کھیل رہے ہیں- سعودی عرب نے جن 59 دہشت گردوں کی فہرست حال میں پیش کی ہے، یہ لوگ بہت پہلے سے قطر میں پناہ گزیں ہیں، ان کی یاد اب کیوں آئی؟ حقیقت یہ ہے کہ سب ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے اشارے پر ہوا ہے- امریکی صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد ٹرمپ نے پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہی کیا تھا، کیا شان کا خیرمقدم تھا! طیارے سے لے کر ٹرمپ کی گاڑی تک زیر قدم سرخ قالین بچھا کر اس کو سلامی دی گئی، سعودی حکمراں کا دیدہ و دل فرشِ راہ کرنا اب بھی لوگوں کو تازہ ہوگا، سعودی کی پاک سرزمین پر ٹرمپ کا آنا عرب میں طغیانی کا واضح سبب ہے، عرب کے موجودہ بحران پر ٹرمپ نے مسرت کا اظہار کیا ہے، دہشت گرد ملک دہشت گردی کا خاتمہ چاہ رہا ہے، اس سے بھونڈا مذاق اور کیا ہوگا! آج دنیا میں جتنے میں خون خرابے ہیں، ان کا ذمے دار تنِ تنہا امریکہ ہے، بقول کلیم عاجز:

یہ فتنے جو ہر اک طرف اٹھ رہے ہیں
وہی بیٹھا بیٹھا شرارت کرے ہے
★کیا حماس اور الاخوان واقعی دہشت گرد ہیں؟★
عرب کبھی جری ہوتے تھے، یہ قوم اب مردوں میں تبدیل ہو چکی ہے، اسے دینی نفع نقصان کا مطلق نہیں پتہ، بس امریکہ دن کو رات کہہ دے تو یہ بے تکلف کہہ اٹھیں گے:
🔵تری آواز مکے اور مدینے🔵
ان کا فیصلہ اپنا فیصلہ نہیں ہوتا، یہ کوئی بات کہنے سے پہلے دجالی ستاروں کو دیکھتے ہیں کہ ادھر سے فرمان کیا آتا ہے؟ امریکہ کو "معلم العرب "کہا جاے تو قطعی مبالغہ نہ ہوگا- خان بہادر نے جسے دہشت گرد کہہ دیا، یہ "نعم گو "اور "بلیٰ گو "قوم اسے دہشت گرد ماننے میں سکنڈ سے زیادہ نہیں لیتی، حالاں کہ عراق، افغانستان اور لیبیا میں اس کی درندگی نے چاند تاروں کو بھی رلا دیا-
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا الاخوان المسلمون اور حماس واقعی دہشت گرد ہیں؟ تو اس کا جواب پانے کے لیے ان تنظیموں کی تاریخ کھنگالنی پڑے گی-
★حماس: پس منظر وپیش منظر★
اللہ تعالیٰ نے یہود کے بارے میں فرمایا تھا: ضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ، یعنی قیامت تک کے لیے ان پر ذلت اور بے مائیگی ڈال دی گئی- اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق یہود جہاں رہے، ذلیل رہے، جس جگہ پہونچے، وہیں فٹ بال بنادیا گیا، ان کی اپنی حکومت کبھی نہ بن سکی اور سچ یہ ہے کہ آج تک اپنی حکومت سے محروم ہیں- اسرائیل نامی ریاست جو آج نظر آرہی ہے وہ بھی مستقل بالذات نہیں، یورپین بیساکھیوں پر ٹکی ہے- اگر مغربی اقوام اس کا ساتھ چھوڑ دیں تو نہتے فلسطینی ہی اس کا وجود مٹادیں گے- تاہم یہ سچائی ہے کہ جیسا تیسا ہی سہی، 1948 سے قبل یہود کے کسی ملک کا وجود نہیں تھا، عربوں کے تغافل نے انہیں فلسطین میں لا بسایا، 1948 میں اسرائیل نامی ریاست عربوں کی پشت پر خنجر کے طور پر وجود میں آئی، اس نے آتے ہی فلسطینیوں کا جو حشر کیا، ان کے تصور سے ہی پتّہ پانی ہو جاتا ہے- سات لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا گیا، دنیا جہاں میں پھیلے یہود کو بلا بلا کر بسایا گیا- ستم بالاے ستم یہ کہ مسجدِ اقصیٰ پر دست درازی سے بھی یہ باز نہ آے اور آے دن بیت المقدس پر حملے کر رہے ہیں، منصوبہ ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کو شہید کرکے اس کی جگہ "ہیکل سلیمانی "یعنی یہودی عبادت خانے کی تعمیر کی جاے، اس قوم نے صابرہ اور شتیلہ میں فلسطینیوں کے ساتھ کشت و خوں کا جو بازار گرم کیا، اس کی یاد آج بھی تڑپا دیتی ہے- یہ تباہ کن حالات فلسطینیوں کو اندر اندر کھاے جا رہے تھے، بالآخر جسم کا معذور اور ارادے کا مردِ آہن "شیخ احمد یاسین "اٹھا اور اس نے 1987 میں "حماس "کی داغ بیل ڈالی، حماس کے اہداف میں بیت المقدس کی بازیابی کے ساتھ فلسطین سے اسرائیل کے ناجائز قیام کا خاتمہ ہے- شیخ احمد 2006 میں اسرائیلی بمباری میں شہید ہو گئے، ورنہ تو ان کا عزم تھا کہ 2025 تک فلسطین کو یہود سے پاک کر لیا جاے گا- قابض طاقتوں کے خلاف نبرد آزمائی اور تحریکِ حریت کسی بھی قانون میں غلط نہیں، مختلف ممالک سے قابضوں کو بھگایا گیا ہے، خود ہندوستان سے بھی، اگر حماس یہ کام کر رہی ہے تو دہشت گردی کا الزام اس پر کیوں؟
🔵الاخوان المسلمون🔵
عرب اتحاد کو قطر پر جس بات کا غصہ ہے، اس میں الاخوان المسلمون کی حمایت بھی ہے- الاخوان المسلمون 1928 میں قائم ہوئی، عالمی جنگ عظیم اول کے بعد 1924 میں ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہو گیا اور کمال اتاترک نے اسلام کو ملک کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا تو ترکی کے ساتھ دوسرے اسلامی ممالک بھی لادینت کی زد میں آے، مصر ان میں سے ایک تھا - مصر اسلامی مزاج کھو کر فرعونی تہذیبیں زندہ کر رہا تھا، ملک کے علما و مشائخ عوام کو اسلامی تعلیمات پر جمانے کی کوشش کر رہے تھے، مگر بات جہاں تھی، وہیں تھی، بلکہ حالات مزید بگڑتے گئے، اللہ نے شیخ حسن البنا کے نام سے ایک مجاھد کھڑا کیا، جس نے اسلام پسند عوام کو ایک لڑی میں پرو کر الاخوان المسلمون کے عنوان سے حماس ہی طرح ایک زندہ تحریک چلائی، اس تحریک نے اسلام کے متاعِ گم گشتہ کی بازیابی کو یقینی بنایا- شیخ حسن البنا 1949 میں شہید ہو گئے، مگر ان کا خونِ جگر مصر میں اسلامی تہذیب کو زندہ کر گیا، چند برس پیش تر "بہارِ عرب "نامی انقلاب نے جن عرب حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کیا، ان میں مصر کا "فرعون طینت" سربراہ حسنی مبارک بھی تھا، اس کے بعد 2012 میں ملکی انتخابات ہوے تو الاخوان کے سربراہ محمد مرسی نے واضح کامیابی حاصل کی اور مصری صدر کے طور پر حلف لیا، ان کی آمد کے ساتھ ہی ایسا لگا جیسے عہدِ خلافت بجلی کی رفتار سے واپس آرہا ہے، مگر افسوس کہ سعودی عرب کو اخوانیوں کی فتح نہیں جچی اور یہودیہ خاتون کے فرزند جنرل عبدالفتاح السیسی نے مصر کو وہیں پہونچا دیا، جہاں حسنی مبارک نے پہونچا دیا تھا- 2013 میں مصر کے یہودی جنرل "السیسی "نے صدر محمد مرسی کا تختہ پلٹ دیا تھا، استھا کے بعد سے مرسی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور موت و حیات کی کشمکش میں غلطاں- یہ اخوانی صرف اس لیے دہشت گرد ہیں کیوں کہ وہ مصر میں اسلامی نظام چاہتے ہیں-
★سعودیوں! یہ کام تمہارا تھا★
حماس ہو یا الاخوان،دونوں کے مقاصد آپ کے سامنے ہیں، ان میں سے کوئی بھی تخریب پسند یا امن دشمن نہیں ہے، لیکن دشمن کی آنکھ میں اچھائی کب اچھی لگی ہے کہ اب لگ جاے گی ؟
میں کہتا ہوں "اے سعودیوں!  پوری دنیا میں اسلامی نظام کے احیا کا کام تمہارا تھا، اس کی ترویج تمہارے ذمے میں تھی، قبلۂ اول کے تحفظ کا بیڑہ تمہیں اٹھانا تھا، فلسطین سے اسرائیل کو بھگانے کی ذمے داری تم پر عائد ہو رہی تھی، مگر تم ہاتھ پر ہاتھ ڈال کر بیٹھے رہے - پرتکلف اور پرتعیش زندگی تمہارا نصب العین بنی رہی- تمہارے پہناوے اوڑھاوے اور تہذیب و ثقافت سے کبھی نہیں چھلکا کہ تم "روحِ محمد "والے ہو، مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی کے لیے گردنیں کٹائیں تو فلسطینی نے، جی ہاں، وہی فلسطینی، جن کا مقصدِ حیات اسرائیل کے ناپاک وجود کا قیام اور پنجۂ یہود سے قبلۂ اول کی آزادی ہے- اس مقصد کے لیے ان کا گھر اجڑا، تو اجڑنے دیا، صنف نازک پر بیوگی آئی تو آنے دی، بچوں پر یتیمی آئی تو اس کا بڑھ کر استقبال کیا، موت قریب آئی تو اسے گلے لگایا، شہادت نے جھانکا، تو اس سے بغل گیر ہوے- کوئی گھر شہیدوں سے خالی نہیں- صبح ہوتی ہے تو میزائیل کی گڑگڑاہٹ میں، شام ہوتی ہے تو سنگینوں کے ساے میں-معذروں کی بھیڑ دیکھنی ہو تو فلسطین جاؤ! خونِ مسلماں سے لالہ زار زمین اگر اب تک نہیں دیکھی تو ارض الانبیا کا رخ کرو! یہ فلسطینی سارے مسلمانوں کے محسن ہیں، نہتے اور بے سہارے فرضِ کفایہ ادا کر رہے ہیں، وہ ساری امتِ مسلمہ کی طرف سے شکریے کے مستحق ہیں، تمہیں تو یہاں خود محاذ سنبھالنا چاہیے تھا، یہ عالم اسلام کا مرکز ہونے کے سبب تمہاری ذمہ داری بنتی تھی، مانا کہ مادیت پرستی نے تمہیں "وہن "کا شکار کردیا اور تم جبہ قبہ اور عبا قبا کے پیچوں میں الجھ گئے، تم سے یہ نہیں ہو سکا تو کم ازکم یہی کر لیتے کہ بڑھ کر جیالے فلسطینیوں کی پیشانی چوم لیتے، افسوس کہ تم سے یہ بھی نہ ہوسکا، الٹا تم نے حماس اور الاخوان کو دہشت گرد بنا ڈالا، تم نے ان 59 اربابِ عزیمت کو بھی "شجرِ ممنوع "قرار دے دیا، یہ مردہ ضمیری کی انتہا ہے، تم انسانوں سے ڈرتے ہو اور اللہ سے مؤاخذے کا تمہیں ذرہ برابر خوف نہیں؟ پھر تو تمہارے لیے زمین کی پشت نہیں، زمین کا شکم اچھا ہے-
🔷یہ علماء اور مشائخ تمہیں دہشت گرد لگتے ہیں؟🔷
تم نے حال میں 59 دہشت گردوں کی پھر سے فہرست جاری کی، اس میں تم نے ایسی شخصیات کو دہشت گرد قرار دے دیا جو درجنوں علمی کتابوں کے مصنف ہیں، بہترین ادیب اور باکمال واعظ ہیں، ان سے ایک عالم اکتسابِ فیض کر رہا ہے، تم نے شیخ الاسلام علامہ یوسف القرضاوی کو دہشت گردوں کی فہرست میں سب سے اوپر رکھ دیا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ تمہاری چودھراہٹ کو تسلیم نہیں کرتے- بتاؤ! تم میں اور امریکہ میں کیا فرق رہا؟
🔵میرے لیے مٹی کا حرم اور بنادو!🔵
سعودیو! تم پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتے ہو کہ تم خادم الحرمین ہو، تمہیں بتاؤ، خدمتِ حرمین کے نام پر تم نے مسلم امہ کو کیا دیا ہے؟ تم بڑے موحد بنتے ہو اور ہر بات میں شرک دیکھ لیتے ہو، کیا مغرب کے سامنے جبیں فرسائی شرک نہیں ہے؟ تمہیں اللہ کا ڈر کیوں نہیں لگتا؟ تمہارے بارے میں مشہور ہو چکا کہ تم برطانیہ اور امریکہ کے خادم ہو اور حرمین شریفین سے عملاً تم انہیں ہی مراد لیتے ہو، بتاؤ! یہ بے حسی کب تک؟ اسلامی شعائر کی پاسداری تم کب کروگے؟ تم نے حرمین شریفین کو چمکا کر مسلمانوں سے صلہ لے لیا، مگر بتاؤ، اگر تم حرمین کی خدمت نہ کرتے تو حج اور عمرہ رک جاتا؟ عازمینِ حج کم پڑ جاتے؟ سچ کہوں تو تم نے حرمین میں بھی برائیوں کو اکھڑنے نہ دیا، تصویر کشی کا طوفان تمہارا لایا ہوا ہے، داڑھی کا مذاق تم بناتے ہو - اگر سننے کی تاب ہو تو سنو:
میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو
تم نے قطر پر پابندی لگانے کے لیے عربوں کا استعمال کیا، یہی طاقت دشمنانِ دین کے استیصال میں کیوں نہیں لگاتے ہو؟ اپنوں کا خون بہانے میں تمہیں مزہ ملتا ہے؟ تمہیں اسلام کی جگ ہنسائی سے شرمندگی نہیں ہوتی؟ تمہارے دیدے کا پانی کیوں کر ختم ہو گیا؟
 سنو سعودیوں! اگر تم واقعی مسلمان ہو اور توحید و سنت کی آگ اپنے سینوں میں دبی رکھتے ہو تو قطر کا محاصرہ فوری طور پر بند کردو! تمہیں یہ نکتہ نہیں معلوم:
★عرب کی باہمی رنجش، عجم کی پائیداری ہے★
خدا کے واسطے ہوش میں آؤ! یہ یہود و نصاریٰ شورِ محشر تک تم سے خوش نہ ہو سکیں گے، کیا تمہیں خدا کی اس تنبیہ پر یقین نہیں؟ تمہیں ترکی سے سبق لینا چاہیے تھا، کمال اتاترک نے جسے "مردِ بیمار "بنا دیا تھا، وہ ترکی آج شفایاب ہو کر بستر سے اٹھ چکا ہے، اس کی تکبیرِ مسلسل کوہ و بیاباں اور گلشن و صحرا میں سنی جا رہی ہے، مسلمانوں پر جہاں افتاد پڑے، اس کا عشق آتشِ نمرود میں بے کھٹک کود پڑتا ہے، حالیہ تنازع میں بھی ترکی نے تمہارا نہیں، قطر کا ساتھ دیا اور اپنے پانچ ہزار فوجی اس کی مدد کو بھیجے، اب بھی تمہاری آنکھیں کھلیں یا نہیں؟ صبح کا بھولا شام کو آجاے تو اسے بھولا نہیں کہتے، تم اب بھی اپنے فیصلے واپس لے کر مسلمانوں کے نورِ نظر بن سکتے ہو، خدارا ان تخریبات اور خوں آشامیاں چھوڑو! بھائی بھائی بن جاؤ! یہ فلسفہ تمہارے ذہن میں ہر وقت رہنا چاہیے:
چوں کفر از کعبہ برخیزد، کجا ماند مسلمانی؟