اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: الجامعۃ الاشرفیہ کے سابق نائب شیخ الحدیث علامہ حافظ عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے 47ویں عرس کے موقع پر ایک خصوصی اجلاس!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 9 July 2017

الجامعۃ الاشرفیہ کے سابق نائب شیخ الحدیث علامہ حافظ عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے 47ویں عرس کے موقع پر ایک خصوصی اجلاس!


 رپورٹ: ابوالفیض خلیلی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مبارکپور/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 9/جولائی 2017) عالمی شہرت یافتہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کے سابق نائب شیخ الحدیث علامہ حافظ عبد الرؤف علیہ الرحمہ کے 47ویں عرس کے موقع پر جامعہ اشرفیہ کی عزیز المساجد میں آج ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دارالقلم دہلی کے بانی و مہتمم مولانا یٰسین اختر مصباحی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حافظ عبدالرؤف کا سب سے بڑا کارنامہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی تصنیف فتاویٰ رضویہ کی ترتیب و تدوین اور اشاعت کے ساتھ ہی الجامعۃ الاشرفیہ عربی یونیورسٹی کا قیام بھی ہے، یونیورسٹی کا پورا خاکہ انہوں نے ہی تیار کیا تھا، ان کی خداد صلاحیت کی بنا پر ہی بانی جامعہ حافظ ملت علیہ الرحمہ نے انہیں اپنا دست و بازو بنا لیا تھا، مولانا یٰسین اختر مصباحی نے مزید کہا کہ مولانا احمد رضا خاں کی شہرہ آفاق تصنیف فتاویٰ رضویہ کی غیر مطبوعہ نسخ جب بریلی کے کتب خانہ میں کیڑے کی نذر ہو رہے تھے تو حافظ عبد الرؤف نے ہی اس کی ترتیب و تدوین اور اشاعت کا بیڑا اٹھایا تھا الجامعۃ الاشرفیہ کے سربراہ اعلیٰ علامہ عبدالحفیظ نے اپنے ناصحانہ خطاب میں طلباء جامعہ سے کہا کہ وہ اپنی محنت و لگن سے حافظ عبدالرؤف کے جانشین بننے کی کوشش کریں کیونکہ مرحوم صرف اپنی محنت سے ہی اس مقام پر فائز ہوئے تھے.
 جامعہ کے پرنسپل اور صدر شعبۂ افتاء مفتی محمد نظام الدین رضوی اور ناظم تعلیمات علامہ محمد احمد مصباحی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حافظ عبد الرؤف نے 48 برس قبل جس عربی یونیورسٹی کا نقشہ بنایا تھا آج پوری دنیائے سنیت پر اس  کا نقش چھا گیا ہے جلسہ کی صدارت علامہ عبدالحفیظ نے کی، آغاز قاری مفتی محمد رضا کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، نعت و منقبت قاری تحسین رضا نے پیش کی، اختتام ایصال ثواب اور دعاء مغفرت پر ہوا، اس موقع پر مولانا مسعود احمد برکاتی، مولانا ساجد علی مصباحی، مولانا احمد رضا بڑے بابو، مولانا صدرالوریٰ، مولانا مفتی زاہد سلامی اور ماسٹر حسیب وغیری خاص طور سے موجود تھے ۔