دیوبند(آئی این اے نیوز 11/جولائی 2017) بحرالعلوم حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب دامت برکاتھم استاد حدیث دارالعلوم دیوبند نے گزشتہ سال 1438ھ ، سن 2017 کے شروع میں اپنے درس کے دوران فرمایا تھا کہ میں آپ تمام طلبہ دارالعلوم دیوبند سے خاص طور پر کہتا ہوں کے وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر دعاؤں کا خاص اہتمام کریں، یہ سال وفات العلماء کا سال معلوم ھو رھا ھے، اور ایسا ہی ھوا.
سب سے پھلے حضرت مولانا قربان صاحب اسعدی رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب بستوی رحمہ اللہ استاد دارالعلوم دیوبند، پھر حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہشیخ الحدیث جامعہ فاروقیہ کراچی صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب کٹکی جلال آبادی رحمہ اللہ داماد حضرت اقدس مولانا مسیح اللہ خان صاحب رحمہ اللہ، حضرت مولانا مگن میاں صاحب داماد حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آباد رحمہ اللہ، پھر حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب رحمہ اللہ خلیفہ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ، آپ کے بعد حضرت مولانا شیخ عبد الحق صاحب محدث دار العلوم دیوبند، حضرت مولانا قاری فخر الدین صاحب ناظم شعبہ تنظیم وترقی دارالعلوم دیوبند، آپ کے معا بعد ترانہء دارالعلوم دیوبند کے تخلیق کار حضرت مولانا ریاست علی صاحب ظفر بجنوری رحمہ اللہ استاد حدیث دارالعلوم دیوبند، پھر حضرت مولانا ازہر صاحب رحمہ اللہ رانچی رکن شوری دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا نسیم غازی صاحب شیخ الحدیث جامع الھدی مراد آباد، اور آج شیخ الحدیث مولانا یونس صاحب اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں ※انا لله وانا اليه راجعون※ اللہ تعالی ان سبھی اکابرین کی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے اور نعم البدل عطافرمائے. آمیــن یا رب العالمیــن.
