ازقلم: محمد عارض شیخ مہواں چھاؤنی
متعلم مدرسة الإصلاح سرائے میر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مکرمی!
آج کل بڑی زور و شور سے ذبیحہ پر پابندی لگائی جارہی ہے جیسے گائے ،بھینس، بیل اور اونٹ کی جن میں افزائش نسل بھی زیادہ ہوتی ہے اور خاص کر گائے اور اور بیل کے چمڑے دبیز ، نرم اور تہ بہ تہ ہوئے ہیں.
اور باخبر حضرات کا خیال ہے کہ ہمیں دیکهنے میں تو ایک چمڑا نظر آتا ہے لیکن اس ایک نظر آنے والے چمڑے کے اندر کئی چیزیں چھپی ہوتی ہیں، اس لئے گائے، بیل کے چمڑوں کو زیادہ قیمتی سمجها جاتا ہے، یہی نہیں اس سے عوام کو روزگار بھی ملتا ہے اور حکومت ہند کا فائدہ بھی ہوتا ہے، جو جانور دودھ دینے کے لائق باقی نہ رہے اور جن کو سواری کے لئے استعمال نہ کیا جائے سوائے گوشت اور چمڑے کے حصول کے ان کا کوئی مصرف نہیں ره جاتا، عرصہ پہلے کے اندازہ کے مطابق هندوستان میں بڑے جانور روزآنہ دو لاکھ کی تعداد میں ذبح کئے جاتے تھے، اور روزانہ دو لاکھ جانور کے بچتے چلے جانے کا مطلب یہ ہے کہ مہینہ میں انکی تعداد ساٹھ لاکھ ہوجائیگی اس سے اندازہ کر لیں کہ سال بهر میں بے مصرف بیل گائے بهینس وغیرہ کتنی بڑی تعداد میں ہو جائیں گی، تعجب نہیں کہ چند برسوں میں جانوروں کی تعداد انسانوں کی تعداد سے بهی تجاوز کر جائے اور یہ بات محتاج اظہار نہیں ہے کہ عام طور پر جب یہ جانور دوسرے فائدے کے لائق نہیں رہتے ہیں جب ہی ان کو کهانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.
غور کیجئے کہ جب اتنی بڑی تعداد میں یہ جانور بچے رہ جائیں گے تو انسان کی صورتحال کس قدر تکلیف دہ ہو جائے گی سڑکوں پر کهیتوں میں جانور ہی جانور دکهائی دیں گے.
ذرا نہیں! پورا سوچئے کہ وہ منظر کتنا عجیب ہوگا جب گائے بیل کے جھنڈ سڑکوں پر مٹر گشتی کرتے ہوں گے اور کهیتوں میں انکی جوق در جوق فوج اتر کر پیداوار کو تہس نہس کر رہی ہوں گی.
بے مصرف ہونے کے ساتھ ساتھ ان جانوروں میں تیز رفتار نسلی افزائش کا قدرتی نظام انسان کیلئے تباه کن ہوجائے گا اس لئے یہ حقیقت ہے کہ ان جانوروں کو ذبح کیا جانا اور ان کو اپنی خوراک بنانا فطرت کی آواز ہے اور فطرت سے بغاوت ہمیشہ انسان کو نقصان پہنچاتی ہے .
اسی کے ساتھ یہ بهی نہیں ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کی خوراک ہے بلکہ یہودی ، عیسائی، بدهسٹ، سکھ، قبائلی گروہ اور لامذھب اقوام یہاں تک کہ ہندوئوں میں سے بهی بہت لوگ کهاتے ہیں.
اسی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائیوں سے درخواست کرتا هوں کہ اگر هم بڑے جانور کا گوشت کهانا سال دوسال کلی طور پر بند کردیں تو جو جانور بارہ پندرہ ہزار میں نہیں ملتے وہ بارہ پندرہ سو میں تمهارے گهر پہنچائیں گے اور یہ کیا جب سے گائے پر پابندی لگائی گئی ہے اسکے بعد کئی قابل اعتبار لوگوں سے سننے میں آیا ہے کی جانور ٹرک پر لاد کر دوسری جگہ لے جاکر هانک دیئے جاتے ہیں.
مسلمانوں!
سوچوں ابھی ہم نے کهانا بند نہیں کیا ہے صرف کم کیا ہے اگر کلی طور پر کهانا بند کردیں تو نا جانے عالم کیا ہوگا.