تحریر: محمد صدر عالم نعمانی صدر جمعیت علماء سیتامڑھی بہار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ میرے حالات اچھے ہوں، پریشانیوں سے چھٹکارا ملے، تو اسے چاہئے کہ وہ اللہ کو راضی کرلے. اپنی بداعمالیوں اور گناہوں سے توبہ کرکے. اللہ راضی ہوگا تو ساری پریشانیاں اور مصیبتوں سے چھٹکارا مل جائے گا. اور اللہ ناراض رہے گا تو ہزاروں تدبیریں کر لی جائے حالات درست نہیں ہوسکتے. اس لیئے کہ حالات کا بدلنا اور انہیں بہتر بنانا اللہ کے اختیار میں ہے اگر تمہارے حکمراں ظالم اور شرپسند ہوں تو انہیں برا بھلا نہ کہو. تمہاری بد اعمالی اور شرکشی کی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے تمہارے اوپر مسلط کیا ہے. تم اگر حالات بدلنا چاہتے ہو تو اللہ سے کہو. دعا مانگوں گرگرائو. گناہوں سے توبہ کرکے نیک راہ اختیار کرو وہ تمہارے بادشاہ اور حکمرانوں کو نرم بنادیےگا. اور انکے دل میں تمہاری محبت ڈال دیگا پھر وہ بہتر سلوک کرےگا. اور تمہارے حق میں نرم رویہ اختیار کرےگا. ملک کے موجودہ حالات میں یہ باتیں باالکل صادق آتی ہے. لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہم نماز بھی نہ پڑھیں اور حالات بھی بہتر ہوں. اخلاق وقردار ہمارے نہایت پست ہوں اور ہمارے لئے رحمت کے دروازے بھی کھلے رہیں ایسا نہیں ہوسکتا. ذاتی احوال سے لیکر ملکی اور بین لاقوامی سطح پر حالات کا بدلنا اللہ تبارک وتعالی کے اختیار میں ہے. اس لئے ہم اپنے حکمرانوں کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لیں. اور انہیں کتاب و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں. اللہ کی غیبی مدد ہوگی اور دیکھتے ہی دیکھتے حالات ایسے بدلینگے کہ ہم انکا تصور بھی نہیں کرسکتے. جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں بہت کم تھی. انکے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا نہتے اور کمزور تھے. مگر اللہ کی قدرت پر انہیں پورا بھروسہ تھا. ظاہری اسباب کے بجائے رب کی طاقت پر انکی نظر تھی. اللہ سے انکا مضبوط تعلق تھا. اور اسی سے وہ مدد کے طلبگار تھے. خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے پہلے رات بھر اللہ کے سامنے روتے اور گڑگڑاتے رہے. جس میں اس بات کا پیغام ہے کہ مسلمانوں کو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط اور مستحکم کرنا چاہئے. اور بزدلی کے بجائے پرعزم اور حوصلہ مند رہنا چاہئے. ظاہری اعتبار سے تعداد کم ہو. وسائل اور اسباب بھی نہ ہو ں تو بھی اللہ مسلمانوں کو عزت اور غلبہ عطاکریگا. اسلام غالب ہونے کیلئے آیا ہے مغلوب ہونا اسکی فطرت میں نہیں ہے.
ــــــــعــــــــ
وعدہ غلبہ ہے مومن کیلئےقرآن میں
گر تو غالب نہیں کچھ ہے کسر ایمان میں
بشرطیکہ اس کے ماننے والے اس کے قابل ہوں. اور ان میں اسکی صلاحیت پائ جائے. کیونکہ اللہ تبارک وتعالی نااہلوں کو عظمت ورفعت عطا نہیں کرتا. اللہ تعالی کسی کا محتاج نہیں وہ جب کسی کو نوازنا چاہتا ہے تو اس کیلئے ایسی راہیں ہموار کرتا ہے کہ لوگ حیران اور ششدر رہ جاتا ہے. سوچئے حضرت موسی علیہ السلام کی پرورش اس نے خود فرعون کے گھر میں کس طرح کی. نمرود کی دہکتی ہوئ آگ اس نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے کس طرح بے اثر کردی. اصحاب فیل کو اس نے کس طرح چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے ہلاک کردیا. ہجرت کی رات کفار مکہ کے قتل کے منصوبہ کو کس طرح ناکام بنادیا. اور کس طرح عاد ثمود کو نیست ونابود کیا. کس طرح فرعون اور اسکے لشکر جرار کو اس نے پانی میں غرق کیا. ظاہر ہے جہاں انسانی عقل کام نہیں کرتی اور ہر راستے مسدود نظر آتے تھے. اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا نظارہ وہاں دکھایا. آج بھی اللہ اسی طاقت کے ساتھ موحود ہے ہماری نظر اپنے اللہ کی طاقت پر ہونی چاہئے مسلمانوں تمہیں دوسرے کو برابھلا کہنے کے بجائے اپنے اعمال کو درست کرنا چاہئے مسلمان جہاں بھی ہو چلتا پھرتا قرآن نظر آئے. تاجر ہے تو سچا تاجر بنو امانت داری کو کسی بھی حال میں ہاتھ سے جانے نہ دو. ڈاکٹر ہے تو پیسہ کمانے کے جزبہ کے بجائے انسانی ہمدردی اور خیر خواہی کے جزبات دل میں پائے جائیں. وکیل ہے تو مظلوموں کو ناجائز مقدمات سے بری کرنے کی جدو جہد کرے. کوئ ٹیچر ہے تو قوم کے مستقبل کو سوارنے کی فکر کرے. افسر ہے تو مظلوموں کی دادرسی کرے. صحافی ہے تو مظلوموں کی آواز بنکر سچ کو عام کریں. اگر اقتدار میں ہیں تو مظلوموں کو انصاف دلائیں اور ہمیشہ حق کا ساتھ دیں. پھر حالات بدلینگے. اور اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہوگی. اور یہی حکمراں جنکو آج ہم اسلام اور مسلمانوں کے دشمن سمجھتے ہیں اانشاء اللہ یہی حکمراں ایک دن اسلام کے معاون اور مددگار ثابت ہونگے .