تحریر: اشفاق احمد القاسمی خادم معھد الکتاب والسنہ ،مقام سیھن ضلع نوادہ بہار
09570671460
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
گلاب جیسی خوشبو، چودھویں جیسی چاندنی ،فرشتوں جیسی معصومیت ،سچائی کا پیکر لازول، محبت، شفقت ،تڑپ ،ایثار وقربانی جب یہ تمام الفاظ یکجا ہوجائے توبن جاتا ہے تین حرفوں کا لفظ ،،ماں ،،ماں ،،جسکے قدموں تلے جنت ہے.
ماں سے بڑھ کر اس دنیا میں چیز نہیں ،جب ماں کو اللہ تعالی نے بنایا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ چاند کی ٹھنڈک ،سبنم کے آنسو ،بلبل کےنغمیے۔گلاب کے رنگ ،پھولوں کی چمک ،کوئل کی کوک ،سمندر کی گہرائی ،دریاؤں کی روانی ، موجوں کا جوش ،کہکشاں کی رنگینی ،چاند کی چمک ،صبح کا نور اور آفتاب کی روشنی کو جمع کیا جائے تاکہ ماں کی تخلیق کی جائے ،جب ماں کو اللہ تعالی نے بنایا تو فرشتوں نے پوچھا اے مالک دوجہاں تو نے اس میی اپنی طرف سے کیا شامل کیا تو رب ذوالجلال نے کہا ،،محبت ،،ماں ۔۔۔یہ لفظ جب ہماری زبان سے نلکتاہے تو ساری تلخیاں مٹ جاتی ہیی ،دنیا میی سب سے حقیقی پیار اور شفقت ماں کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے،ماں بے سہاروں کا سہارا ہے کمزور زندگی کی قوت ہے ،محبت اور ہمدردی کا سنگم ہے۔
اس روئے زمیں کے اوپر سب سے بڑا درجہ اگر کسی کا ہے تو وہ ماں کاہے ،اسلیے باپ سے پہلے ہمیشہ ماں کا لفظ آتا ہے اسکی سب سے بڑی شہادت ہمیں اللہ کے رسول ﷺکی اس حدیث سے ملتی ہےجسمیں ایک صحابی رسول اکرم ﷺکی خدمت اقدس میی حاضر ہوئے اور آپ ﷺسے پوچھا کہ سب سے زیادہ حقدار میرے حسن سلوک کا کون شخص ہے ،
تو آپ ﷺنے اس شخص سے یہ بات تین مرتبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ،،تیری ماں اور چوتھی مرتبہ کہا کہ تیرا باپ ۔۔۔۔
اسلیے آپ نے کبھی ایسا نہیں سنا ہوگا کہ باپ ماں کی خدمت کرو بلکہ یوں سنا ہوگا اور پڑھا ہوگا کہ ماں باپ کی خدمت کرو ،،ماں ہمیں جنم دیتی ہے ہمارے لیے رات بھر جاگتی ہے ،جب ہم روتے ہیی تو ہمیی لوریاں سناکر چپ کراتی ہے ، بچپن سے لیکر پچپن تک ہمیں سنبھالتی ہے، ہمیں اچھی باتیں سکھاتی ہیی ،اسی لے تو کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہے ۔۔
بوعلی سینا نےؒکہا ،، زندگی میں محبت کی سب سے اعلیٰ مثال تب دیکھی جب ہمارے سامنے چار تھے اور ہم ماں سمیت پانچ تھے ،تو ماں نے کہا مجھے سب پسند نہیں غریبی میی بھی ماں تین چار بچے پالتی ہے
مگر تین چار بچے سے ایک ماں نہیں پالی جاتی ۔
حضرت علی ؓکا قول ہے :اپنی زبان کی تیزی کو اس ماں پر مت چلاؤ جس نے تمہیں بولنا سکھایا ،بوڑھی ماں اور بوڑھے باپ بچوں کی طرح ہوتے ہیں اسی طرح محبت سے ان کا خیال رکھنا چاہیے ، جس طرح وہ ہمارے بچپن میں ہمارا خیال رکھتی ہے ۔
آج جدید سائنسی تحقیق نے بھی یہ ثابت کیا کہ ماں کی آواز وباوں سے نجات دیتی ہے ،چاہیے وہ فون پر ہی کیوں نہ بات کررہے ہوں ۔
یا اللہ میری ماں کا سایہ تا حیات میرے سرپر قائم اور دائم رکھ اور میرے وجود کو اسی طرح روشن کرتا رہیے جس طرح تو اپنی رحمتوں کے سائے سے اس دنیائے جہاں کو روشن کئے ہوا ہے.
آمین ثم آمین یا رب العالمین
09570671460
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
گلاب جیسی خوشبو، چودھویں جیسی چاندنی ،فرشتوں جیسی معصومیت ،سچائی کا پیکر لازول، محبت، شفقت ،تڑپ ،ایثار وقربانی جب یہ تمام الفاظ یکجا ہوجائے توبن جاتا ہے تین حرفوں کا لفظ ،،ماں ،،ماں ،،جسکے قدموں تلے جنت ہے.
ماں سے بڑھ کر اس دنیا میں چیز نہیں ،جب ماں کو اللہ تعالی نے بنایا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ چاند کی ٹھنڈک ،سبنم کے آنسو ،بلبل کےنغمیے۔گلاب کے رنگ ،پھولوں کی چمک ،کوئل کی کوک ،سمندر کی گہرائی ،دریاؤں کی روانی ، موجوں کا جوش ،کہکشاں کی رنگینی ،چاند کی چمک ،صبح کا نور اور آفتاب کی روشنی کو جمع کیا جائے تاکہ ماں کی تخلیق کی جائے ،جب ماں کو اللہ تعالی نے بنایا تو فرشتوں نے پوچھا اے مالک دوجہاں تو نے اس میی اپنی طرف سے کیا شامل کیا تو رب ذوالجلال نے کہا ،،محبت ،،ماں ۔۔۔یہ لفظ جب ہماری زبان سے نلکتاہے تو ساری تلخیاں مٹ جاتی ہیی ،دنیا میی سب سے حقیقی پیار اور شفقت ماں کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے،ماں بے سہاروں کا سہارا ہے کمزور زندگی کی قوت ہے ،محبت اور ہمدردی کا سنگم ہے۔
اس روئے زمیں کے اوپر سب سے بڑا درجہ اگر کسی کا ہے تو وہ ماں کاہے ،اسلیے باپ سے پہلے ہمیشہ ماں کا لفظ آتا ہے اسکی سب سے بڑی شہادت ہمیں اللہ کے رسول ﷺکی اس حدیث سے ملتی ہےجسمیں ایک صحابی رسول اکرم ﷺکی خدمت اقدس میی حاضر ہوئے اور آپ ﷺسے پوچھا کہ سب سے زیادہ حقدار میرے حسن سلوک کا کون شخص ہے ،
تو آپ ﷺنے اس شخص سے یہ بات تین مرتبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ،،تیری ماں اور چوتھی مرتبہ کہا کہ تیرا باپ ۔۔۔۔
اسلیے آپ نے کبھی ایسا نہیں سنا ہوگا کہ باپ ماں کی خدمت کرو بلکہ یوں سنا ہوگا اور پڑھا ہوگا کہ ماں باپ کی خدمت کرو ،،ماں ہمیں جنم دیتی ہے ہمارے لیے رات بھر جاگتی ہے ،جب ہم روتے ہیی تو ہمیی لوریاں سناکر چپ کراتی ہے ، بچپن سے لیکر پچپن تک ہمیں سنبھالتی ہے، ہمیں اچھی باتیں سکھاتی ہیی ،اسی لے تو کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہے ۔۔
بوعلی سینا نےؒکہا ،، زندگی میں محبت کی سب سے اعلیٰ مثال تب دیکھی جب ہمارے سامنے چار تھے اور ہم ماں سمیت پانچ تھے ،تو ماں نے کہا مجھے سب پسند نہیں غریبی میی بھی ماں تین چار بچے پالتی ہے
مگر تین چار بچے سے ایک ماں نہیں پالی جاتی ۔
حضرت علی ؓکا قول ہے :اپنی زبان کی تیزی کو اس ماں پر مت چلاؤ جس نے تمہیں بولنا سکھایا ،بوڑھی ماں اور بوڑھے باپ بچوں کی طرح ہوتے ہیں اسی طرح محبت سے ان کا خیال رکھنا چاہیے ، جس طرح وہ ہمارے بچپن میں ہمارا خیال رکھتی ہے ۔
آج جدید سائنسی تحقیق نے بھی یہ ثابت کیا کہ ماں کی آواز وباوں سے نجات دیتی ہے ،چاہیے وہ فون پر ہی کیوں نہ بات کررہے ہوں ۔
یا اللہ میری ماں کا سایہ تا حیات میرے سرپر قائم اور دائم رکھ اور میرے وجود کو اسی طرح روشن کرتا رہیے جس طرح تو اپنی رحمتوں کے سائے سے اس دنیائے جہاں کو روشن کئے ہوا ہے.
آمین ثم آمین یا رب العالمین
