اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: آہ! حسیب صاحب مرحوم، آپ کا نام زندہ رہے گا!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 9 January 2019

آہ! حسیب صاحب مرحوم، آپ کا نام زندہ رہے گا!

از : محمد عفان منصور پوری
2/جمادی الاولی 1440
 مطابق 9/ جنوری 2019
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 2019 کا آغاز اور شہر دیوبند کی نامی گرامی شخصیت مولانا حسیب صدیقی علیہ الرحمہ کی اچانک رحلت، خدا خیر رکھے، حد درجہ  افسوس کا باعث ہے، نہ جانے یہ سال اپنے جلو میں کیسی مسرت انگیز خبریں اور غمناک حوادث کو لیکر آیا ہے، بہر حال نظام قدرت کے مطابق جو مقدر تھا وہ پیش آیا اور آئندہ بھی ہوگا وہی جو اللہ چاہیں گے، باری تعالی مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائیں، خدمات جلیلہ کو قبول فرمائیں، سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائیں اور اھل خانہ و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں ۔
     بلا شبہ دیوبند ایک تاریخ ساز، ملنسار ، خوب رو اور نرم گو، ہر دم متحرک، بزرگوں کی تربیت یافتہ اور معتمد ایک ایسی سنجیدہ باوقار اور ذی رائے شخصیت سے محروم ہوگیا جس کو لمبے زمانہ تک یاد کیا جاتا رہیگا ۔
    مولانا کا نستعلیقی انداز ، کھلتا ہوا چہرہ ، صاف ستھرے کپڑے موسم کے لحاظ نفیس اور دیدہ زیب پوشاک جو اکثر و بیشتر شیروانی ہوا کرتی تھی یہ سب چیزیں ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے والی اور دیکھنے والے کے لئے متاثر کن ہوا کرتی تھیں ۔
         نمایاں خدمات : 
     جمعیت علماء ھند کی تحریک پر1961 سے قائم مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے پلیٹ فارم سے جو مثالی اور نمایاں کارنامے قوم وملت کی فلاح وبہبود کے لئے مولانا مرحوم نے انجام دئے ھیں وہ اس میدان میں کام کرنے والوں کے لئے بہترین نمونہ ہیں، انہوں نے قوم کے تعاون سے کھڑے ہونے والے ایک معمولی ادارہ کو حسن تدبیر ، دیانت ، غیر معمولی لگن اور دلچسپی کی بنا پر ایک ایسا تناور اور مختلف شاخیں رکھنے والا پھلدار درخت بنادیا جس سے دنیا فیض یاب ہورہی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہیگی ۔
     مرحوم نے مسلم فنڈ کے ذریعہ قوم کے لئے جہاں تعلیمی ادارے قائم کئے وہیں مدنی آئی ٹی آئی ، کمپیوٹر سینٹر ، مدنی آئی ھاسپٹل اور فری ایمبولینس سروس کی شکل میں ٹیکنیکل اور طبی سہولیات مہیا کرانے کے ساتھ ساتھ شھر والوں کو اچھا روزگار بھی عطا کیا اسی طرح غیر سودی قرضوں کے ذریعہ عوام کے لئے کاروبار بنانے اور بڑھانے اور معاشی استحکام و مضبوطی حاصل کرنے کی راہ ہموار کی ۔
     یہ سارے روشن کارنامے اللہ کے خصوصی فضل وکرم اور مرحوم کی انتھک جد وجہد اور مقصد کے حصول کے  تئیں غیر معمولی فکر اور دلچسپی کے نتیجے میں ہی منظر عام پر آسکے جو یقینا مولانا مرحوم کے لئے ذخیرہ آخرت بنیں گے
اور ان کے نام کو زندہ رکھیں گے ۔
        خانوادہ مدنی سے تعلق: 
     خانوادہ مدنی سے مولانا مرحوم کو گہرا لگاؤ تھا کیونکہ جس گھر میں( 15 اگست 1936 ) میں آپ نے آنکھیں کھولیں وہ بھی حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کا گرویدہ تھا آپ کے والد محترم منشی عزیز صاحب مرحوم ( جو ایک طویل زمانہ تک دفتر تعلیمات دارالعلوم دیوبند کے ہیڈ کلرک رہے ) حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ سے بہت قرب رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے ( مولانا حسیب صدیقی صاحب )کی " بسم اللہ "  بھی حضرت مدنی علیہ الرحمہ سے کروائی ، اور پھر درس نظامی کی تکمیل کے موقع پر حضرت شیخ الاسلام نور اللہ مرقدہ سے 1953 میں آپ کو  صحیح بخاری پڑھنے کا موقع بھی ملا، عمر کے آخری لمحات تک یہ دیرینہ تعلق برقرار رہا ۔
      حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہ سے تو آپ کا ایسا والہانہ اور عقیدت مندانہ رابطہ تھا کہ گھر کے ایک فرد کی طرح وہ معاملات میں شریک رہا کرتے تھے، ہر چھوٹے بڑے کام کے سلسلہ میں انہیں یاد کیا جاتا، اپنی سلیقہ مندی اور قابلیت سے مرحوم نے حضرت فدائے ملت علیہ الرحمہ کا ایسا اعتماد حاصل کرلیا تھا کہ وہ بلاشبہ ان کے دست راست اور مشیر کار بن گئے تھے، ہم نے بچپن ہی سے حضرت فدائے ملت نور اللہ مرقدہ کی زبان سے اتنی کثرت کے ساتھ " حسیب صاحب حسیب صاحب " کا تذکرہ سنا کہ یہی نام زبان پر چڑھ گیا، حضرت فدائے ملت نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد بھی اس تعلق خاطر کو نہ صرف انہوں نے خانوادہ کے ساتھ برقرار رکھا بلکہ باحسن وجوہ نبھایا بھی ۔
    جانشین فدائے ملت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب  حفظہ اللہ نے بھی حسیب صاحب کو عزت واحترام کا وہ مقام برابر عطا کیا جو چھوٹوں کی طرف سے بڑوں کو ملنا چاہیے، والد محترم نور اللہ مرقدہ کے شریک کار ہونے کی حیثیت سے اہم معاملات میں ان کی گرانقدر آراء اور تجربات سے ہمیشہ فائدہ اٹھایا ، سچی بات یہ ہیکہ حسیب صاحب کا وصال خانوادہ مدنی کے لئے بھی بھاری نقصان ہے ۔
     دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب نور اللہ مرقدہ بھی آپ پر بڑا اعتماد فرماتے تھے دارالعلوم کے اھم انتظامی معاملات میں بسا اوقات آپ مشیر ھوتے اور مختلف کمیٹیوں کے رکن ہونے کی حیثیت سے ذمہ داریوں کو نبھاتے ۔
          پانچ سال تک شہر کے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے بھی آپ نے قوم کی خدمت کی ، ایک عالم دین ہونے کی حیثیت سے مولانا محمد عثمان صاحب علیہ الرحمہ کے بعد آپ نے اس عہدہ کو رونق بخشی اسی طرح شھر کی عیدگاہ کمیٹی کے آپ عرصہ دراز تک ذمہ دار رہے اور حسن و خوبی کے ساتھ نظام چلاتے رہے، پہلے حضرت فدائے ملت نور اللہ مرقدہ عیدگاہ میں نماز عیدین کی امامت فرماتے تھے اور ان کے وصال کے بعد سے حضرت والد محترم امیر الھند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب  منصور پوری مد ظلہ العالی عیدین کی امامت فرمارہے ہیں ، ادام اللہ ظلہ علینا ۔
جمعیت علماء ھند سے ربط :
       مرحوم کی جمعیت علماء سے وابستگی بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنا خاندان مدنی سے انکا تعلق  وہ جمعیت کی فکر میں ڈھلے ہوئے اور اس کی تحریک کو زمینی سطح پر برپا کرنے والوں اور رو بہ عمل لانے والوں میں سے تھے، ہر پروگرام میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لیتے اور کامیابی کے ساتھ ہمکنار کرنے کی مقدور بھر کوشش فرماتے ، گزشتہ مہینہ 15/16 دسمبر 2019 کو اکابر جمعیت کی حیات و خدمات سے متعلق منعقد ہونے والے سیمینار میں پیرانہ سالی اور کمزوری کے باوجود دہلی تشریف لے گئے اور دو دن قیام فرمایا ، آپ جمعیت  علماء ھند کی مجلس عاملہ کے موقر رکن ہونے کے ساتھ ساتھ تنظیم کے خازن بھی تھے اور بڑی باریکی کے ساتھ حساب پر نگاہ رکھتے تھے ۔
    اس گنہگار پر بھی حسیب صاحب کی بڑی شفقتیں تھیں جہاں بھی ملاقات ہوتی سینے سے لگالیتے اور خوب دعائیں دیتے سالانہ حج کے تربیتی کیمپ کے موقع پر بھی یاد فرماتے اور خود محبت بھری دعوت دیا کرتے کوئی عارض نہ ہوتا تو شرکت ضرور ہوتی ۔