فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی
ــــــــــــــــــــــــــــــ
عام طور سے عوام الناس میں یہی مشہور ہے کہ نماز میں دو قدموں کے درمیان چار انگل کافاصلہ ہونا چاہیے اسے مسنون سمجھا جاتا ہے اور عوام الناس کو یہی بتایا جاتا ہے، حالانکہ نماز کی حالت میں دو قدموں کے درمیان چار انگل فاصلہ کو ہی مسنون سمجھنا یہ جہل اور نادانی اور شریعت مطہرہ کے سوا کچھ بھی نہیں، مسنون یہی ہے کہ شریعت مطہرہ دونوں قدموں کے درمیان فاصلہ کی کوئی تحدید نہیں ہے،
اصل حکم شریعت میں یہ ہے کہ نماز میں خشوع وخضوع اختیار کرو، اب فقہاء کرام نے خشوع وخصوع کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مسئلہ بیان کیا کہ نماز کے آداب میں سے یہ ہے کہ دوقدموں کے درمیان چارانگل کافاصلہ ہو، علامہ شامی رحمہ اللہ نے فتاوی شامی میں فرمایا،
وینبغی ان یکون بینھما مقدار اربع اصابع الید لانہ اقرب الی الخشوع، فتاوی شامی. جلد ۲، صفحہ، ۱۳۱،
یعنی نمازی کے لئے مستحب ہے کہ اس کے دوقدموں کے درمیان چار انگل کافاصلہ ہو، اس لئے کہ چار انگل کا فاصلہ نماز میں خشوع کے قریب ہے.
علامہ شامی کی اس عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ چار انگل کے فاصلہ کی علت نماز میں خشوع کا حاصل کرنا ہے، جو نماز کی روح ہے، جس کا اللہ نے حکم دیا ہے، ہمارے فقہاء نے جو یہ چار انگل فاصلہ بیان کیا یہ کوئی تحدید نہیں جو لوگ اس سے چار انگل کی تحدید سمجھتے ہیں ان کی بھی نادانی ہے، علامہ یوسف بنوری رحمہ اللہ نے معارف السنن میں فرمایا،
واما الفصل بین القدمین فالحق عدم التحدید فی ذلك وانما الانسب بحال المصلی مایکون اقرب الی الخشوع واوفق بموضوع التذلل ..معارف السنن.جلد ۲، صفحہ.۲۹۸،
بہرحال دوقدموں کے درمیان فاصلہ تو حق بات یہی ہے کہ اس میں کوئی تحدید نہیں ہے بلکہ نمازی کی حالت کے اعتبار سے اتنا فاصلہ رکھے جس سے خشوع وخضوع اسے حاصل ہو.
علامہ شامی اور دوسرے فقہاء نے جہلاء کی رعایت کرتے ہوئے ایک مقدار بیان کردی کہ چار انگل کا فاصلہ ہو یہ مقدار صرف اس لئے بیان کی گئی تاکہ جہلاء پریشان نہ ہو کہ کتنا فاصلہ ہو، لیکن عوام الناس کو صرف اسی مقدار کو بیان کرنے سے اورعلت نہ کرنے سے ایک نئی جہالت یہ شروع ہوگئی اس مقدار کو لازم سمجھا جانے لگا، موٹا تازہ آدمی اگر چار انگل سے زیادہ فاصلہ کردیا تو اسے ٹوک دیتے ہیں کہ نماز میں چارانگل سنت ہے، آپنے چار انگل سے زیادہ فاصلہ کردیا، حالانکہ یہ ان کی جہالت اور شریعت سے نادانی کے علاوہ کچھ نہیں، اگر موٹا آدمی ہے اس کے بدن کے اعتبار خشوع اگر پانچ انگل میں چھ انگل میں حاصل ہورہا ہے، تو مسنون وہی ہے، اگر کوئی دبلا پتلا آدمی ہے چار انگل سے کم میں خشوع اسے حاصل ہوجارہا ہے، تواس لئے مسنون اتنا ہی فاصلہ ہے، جس میں خشوع حاصل ہوجارہا ہے، خلاصہ کلام اصل علت یہ ہے نماز میں خشوع کا حکم ہے فقہاء نے جو چار انگل مقدار بیان کیا ہے، اس سے مقصد یہ ہے، کہ ایک درمیان جسم والے آدمی کو چار انگل فاصلہ میں خشوع حاصل ہوجاتاہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے چار انگل ہی ضروری ہے کوئی تحدید نہیں، جسم کے اعتبار سے جسے جتنے فاصلہ میں خشوع حاصل ہوجائے اختیار کرسکتا، فقہاء کرام نے جہلاء کی رعایت کرتے ہوئے یہ مقدار بیان کیا تاکہ وہ پریشان نہ ہوجائیں، لیکن اس مقدار سے ایک نئی جہالت کا آغاز ہو رہا تھا اس لئے تحقیق ضروری تھا.
ــــــــــــــــــــــــــــــ
عام طور سے عوام الناس میں یہی مشہور ہے کہ نماز میں دو قدموں کے درمیان چار انگل کافاصلہ ہونا چاہیے اسے مسنون سمجھا جاتا ہے اور عوام الناس کو یہی بتایا جاتا ہے، حالانکہ نماز کی حالت میں دو قدموں کے درمیان چار انگل فاصلہ کو ہی مسنون سمجھنا یہ جہل اور نادانی اور شریعت مطہرہ کے سوا کچھ بھی نہیں، مسنون یہی ہے کہ شریعت مطہرہ دونوں قدموں کے درمیان فاصلہ کی کوئی تحدید نہیں ہے،
اصل حکم شریعت میں یہ ہے کہ نماز میں خشوع وخضوع اختیار کرو، اب فقہاء کرام نے خشوع وخصوع کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مسئلہ بیان کیا کہ نماز کے آداب میں سے یہ ہے کہ دوقدموں کے درمیان چارانگل کافاصلہ ہو، علامہ شامی رحمہ اللہ نے فتاوی شامی میں فرمایا،
وینبغی ان یکون بینھما مقدار اربع اصابع الید لانہ اقرب الی الخشوع، فتاوی شامی. جلد ۲، صفحہ، ۱۳۱،
یعنی نمازی کے لئے مستحب ہے کہ اس کے دوقدموں کے درمیان چار انگل کافاصلہ ہو، اس لئے کہ چار انگل کا فاصلہ نماز میں خشوع کے قریب ہے.
علامہ شامی کی اس عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ چار انگل کے فاصلہ کی علت نماز میں خشوع کا حاصل کرنا ہے، جو نماز کی روح ہے، جس کا اللہ نے حکم دیا ہے، ہمارے فقہاء نے جو یہ چار انگل فاصلہ بیان کیا یہ کوئی تحدید نہیں جو لوگ اس سے چار انگل کی تحدید سمجھتے ہیں ان کی بھی نادانی ہے، علامہ یوسف بنوری رحمہ اللہ نے معارف السنن میں فرمایا،
واما الفصل بین القدمین فالحق عدم التحدید فی ذلك وانما الانسب بحال المصلی مایکون اقرب الی الخشوع واوفق بموضوع التذلل ..معارف السنن.جلد ۲، صفحہ.۲۹۸،
بہرحال دوقدموں کے درمیان فاصلہ تو حق بات یہی ہے کہ اس میں کوئی تحدید نہیں ہے بلکہ نمازی کی حالت کے اعتبار سے اتنا فاصلہ رکھے جس سے خشوع وخضوع اسے حاصل ہو.
علامہ شامی اور دوسرے فقہاء نے جہلاء کی رعایت کرتے ہوئے ایک مقدار بیان کردی کہ چار انگل کا فاصلہ ہو یہ مقدار صرف اس لئے بیان کی گئی تاکہ جہلاء پریشان نہ ہو کہ کتنا فاصلہ ہو، لیکن عوام الناس کو صرف اسی مقدار کو بیان کرنے سے اورعلت نہ کرنے سے ایک نئی جہالت یہ شروع ہوگئی اس مقدار کو لازم سمجھا جانے لگا، موٹا تازہ آدمی اگر چار انگل سے زیادہ فاصلہ کردیا تو اسے ٹوک دیتے ہیں کہ نماز میں چارانگل سنت ہے، آپنے چار انگل سے زیادہ فاصلہ کردیا، حالانکہ یہ ان کی جہالت اور شریعت سے نادانی کے علاوہ کچھ نہیں، اگر موٹا آدمی ہے اس کے بدن کے اعتبار خشوع اگر پانچ انگل میں چھ انگل میں حاصل ہورہا ہے، تو مسنون وہی ہے، اگر کوئی دبلا پتلا آدمی ہے چار انگل سے کم میں خشوع اسے حاصل ہوجارہا ہے، تواس لئے مسنون اتنا ہی فاصلہ ہے، جس میں خشوع حاصل ہوجارہا ہے، خلاصہ کلام اصل علت یہ ہے نماز میں خشوع کا حکم ہے فقہاء نے جو چار انگل مقدار بیان کیا ہے، اس سے مقصد یہ ہے، کہ ایک درمیان جسم والے آدمی کو چار انگل فاصلہ میں خشوع حاصل ہوجاتاہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے چار انگل ہی ضروری ہے کوئی تحدید نہیں، جسم کے اعتبار سے جسے جتنے فاصلہ میں خشوع حاصل ہوجائے اختیار کرسکتا، فقہاء کرام نے جہلاء کی رعایت کرتے ہوئے یہ مقدار بیان کیا تاکہ وہ پریشان نہ ہوجائیں، لیکن اس مقدار سے ایک نئی جہالت کا آغاز ہو رہا تھا اس لئے تحقیق ضروری تھا.