اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: سوچیں، سمجھیں پھر ووٹ کریں!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 10 May 2019

سوچیں، سمجھیں پھر ووٹ کریں!

عازم خان الفلاح فرنٹ
ــــــــــــــــــــــــــــــ
مکرمی!
مجھے آج بھی یاد ہے سال 2008 کے وہ ایام جب مائیں اپنے بیٹوں کو مغرب کی نماز کے بعد سیدھا گھر آنے کے لے زور دیا کرتی تھی اور بیٹا خود ڈر وخوف کی وجہ سے سیدھا گھر ہی آتا، آخر پورے ضلع آعظم گڑھ میں یہ خوف کا عالم کیوں تھا.
واضح ہو کہ 9 ستمبر 2008 دہلی کے جامعہ نگر بٹلہ ہاؤس میں دہلی پولیس کی جانب سے ایک فرضی انکاؤٹر ہوا، اس فرضی انکاؤٹر میں اعظم گڑھ کے دو مسلم نوجوان عاطف امین اور محمد ساجد کی شہادت ہوئی اور اس وقت سے اعظم گڑھ جو کی علامہ شبلی نعمانی جیسی شخصیت کا گڑھ ہے افسوس کا مقام ہے کی اس کو آتنک گڑھ کے نام سے جانا جانے لگا اور آج بھی جانا جاتا ہے.
       یہ سب بات بتانے کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کی آج جو قوم کے نام پر ٹھیکیداری کرتے ہیں وہ اس وقت کہاں تھے؟
اپنے ضلع کا کھویا ہوا وقار واپس حاصل کرنے کے لیے علمائے کرام کی ایک ٹولی مدارس سے باہر آتی ہے اور لوگ ان علمائے کرام پر اپنا پورا اعتماد دلاتے ہیں، ساتھ لڑائی لڑنے کا پھر پتا نہیں چند سالوں کے بعد ان لوگوں کو کیا ہو جاتا ہے کی وہ دوبارہ اپنے آقاؤں کے محلوں میں واپس چلے جاتے ہیں، شاید انہیں غلامی میں زیادہ مزہ آتا ہوگا.
لوگ کہتے ہیں کی ڈمپی نے انکاؤٹر کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا تھا یہ بات میں بھی مانتا ہو، لیکن ڈمپی کو اس کا صلہ کیا ملا یہ تو آپ خود دیکھ رہے ہیں، یہ فرق ہوتا ہے غلامی اور قیادت میں.
        بات آج کے موجودہ صورتحال کی 2019  ہندوستانی جمہوریت کا سب سے بڑا تیوہار (پارلیمانی انتخابات) سر پر ہے جیسا کی آپ لوگوں کو پتہ ہے پچھلی سرکار اپنے جھوٹے وعدوں کی وجہ سے پوری طرح فیل ہے، میں اس سرکار پر بات نہیں کروں گا کیونکہ یہ تو پہلے ہی اپنے جھوٹے وعدے کی وجہ سے لوگوں میں نا قابل قبول ہے، اس مرتبہ
ہمارے ضلع اعظم گڑھ میں گٹھ بندھن کے امیدوار  مسلم نوجوان لڑکوں کے دلوں کی دھڑکن ملا ملائم سنگھ کے صاحبزادے اکھلیش یادو ہیں،
لوگ کہتے ہیں اکھلیش بھیا کے جیتنے سے ضلع کا وکاس ہو گا، مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا جب ان کی سرکار یو پی میں تھی تب تو کچھ ہوا نہیں، اور اسی وکاس کی آس میں یہ ضلع آج بھی ایک یونیورسٹی کی راہ دیکھ رہا، عورتوں میں یہ بات پھیلا دی گئی ہے کی مودی کو ہرانا ہے مودی کو کیوں ہرانا ہے؟
کیونکہ اس نے گجرات میں فساد کروایا تھا اور وہ فسادی ہے، اگر مودی گجرات میں فساد کروا کر فسادی ہے تو اکھلیش یادو مظفر نگر میں فساد کروا کر مسیحا کیوں؟؟؟
 یہ دو طرفہ رویہ کیوں؟؟؟
 کہیں اس وجہ سے تو نہیں نا کہ اس کے باپ کے سر پر جو ملا کا لقب ہے.
آنے والی 12 تاریخ کو جب آپ روزہ کی حالت میں ووٹ دینے کے لیے جائیں تو ایک بار مظفر نگر فساد میں مارے گئے بےگناہوں کی آہ، ماؤں بہنوں کی بے عزتی، ماب لنچنگ میں مارے گئے اخلاق کی آہ، دہشتگردی کے الزام میں جیل میں بند حکیم طارق قاسمی کی آہ، خالد مجاہد کی شہادت، پولیس آفیسر ضیاء الحق کی شہادت، ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے دل سے یہ سوال کرنا کیا میری غیرت اتنی مر گئی ہے جو میں ایک ظالم کو اسکے ظلم کی داستان سن کر بھی اسکی حمایت کرنے جارہا / جارہی ہوں.
 مجبور نہیں مضبوط بنیں۔ اپنی قیادت کو مضبوط کریں۔