دارالعلوم فیض محمدی میں جشن یوم آزادی جوش وخروش کیسا ساتھ منایا گیا
لکشمی پور ( ایس، این، بی، مہراج گنج)
اسلامی وعصری درسگاہ دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ میں یوم آزادی کی تقریب بڑے تزک واحتشام کے ساتھ ادارہ کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی کی صدارت اور مہتمم ادارہ مولانا محی الدین قاسمی ندوی کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس میں مہمان خصوصی کے طور پر محمد اسلم اور محمد اعظم شائن گروپ نے شرکت کی۔ حسب اعلان ٹھیک آٹھ بجے دارالعلوم کے اساتذہ وطلباءکی موجودگی میں قومی پرچم لہرا کر ملک کے جاں باز سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
پرچم کشائی کے بعد مجمع سے خطا ب کرتے ہوئے ادارے کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے کہا کہ: آج کی تاریخ بڑی انقلابی تاریخ ہے، آج ہی کے دن ہندوستان کی دھرتی کو ملک کے سپوتوں نے اپنی قربانیاں دیکر انگریز ظالم وجابر حکمرانوں کے پنچوں سے آزاد اکرایا۔یہ سچ ہے کہ اس گلستاں کو سجانے اور سنوارنے وغلامیت سے نکالنے میں آزادی ہند کے سرفروشوں نے جو اپنی بیش بہا قربانیاں دی ہیں، وہ کبھی بھلائی نہیں جاسکتیں۔ مسلمانوں سے انگریزوں نے اس ملک کو چھینا تھا، اس لئے آزادی کی تڑپ بھی انکے اندر دیگر شہریوں سے زیادہ تھی ، اس لئے انہوں نے پھانسی کو پھندے کو چومتے ہوئے ملک کی خاطر اپنی جان لگادی۔آج ضرورت ہے کہ ہم اتحاد واتفاق کو باقی رکھتے ہوئے ملک کو آگے لے جانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں، چوں کہ تعلیم کیذریعہ ہی ہم اپنی اور ملک کی خوبصورتی اور وقار میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے مجاہدین آزادی کے زریں کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجاہدین نے آنسوو ¿ں سے نہیں بل کہ اپنے خون کے دھبوں سے اس چمن کو سینچا ہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حب الوطنی کی ایسی شاندار مثال پیش کی ہے،جسے ہندوستان کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ بعدازاں طلبانے اپنے رنگا رنگ پروگرام میں قومی ترانہ ، قو می یکجہتی و آزادی کے عنوان پر اپنی اپنی تقاریر پیش کیں۔ اخیر میں تمام بچوں میں لڈو تقسیم کرکے انکا منھ میٹھا کیا گیا۔
اس موقع پرمفتی احسان الحق قاسمی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا محمد قیصر فاروقی، حافظ ذبیح اللہ ، مولانا شکرا للہ قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، مولانا محمد صابر نعمانی، ماسٹر محمد عمر خان، ماسٹر جاوید احمد، ماسٹر فیض احمد، ماسٹر رام ملن یادو،، ماسٹر محمدکوشل جیسوال، ماسٹر جمیل احمد، ماسٹر صادق ، عصب الدین ، ماسٹر شمیم احمد ، ماسٹر شاہ عالم ، حافظ ابوالکلام ، محمد اسلم ، وغیرہ موجود تھے۔
لکشمی پور ( ایس، این، بی، مہراج گنج)
اسلامی وعصری درسگاہ دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ میں یوم آزادی کی تقریب بڑے تزک واحتشام کے ساتھ ادارہ کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی کی صدارت اور مہتمم ادارہ مولانا محی الدین قاسمی ندوی کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس میں مہمان خصوصی کے طور پر محمد اسلم اور محمد اعظم شائن گروپ نے شرکت کی۔ حسب اعلان ٹھیک آٹھ بجے دارالعلوم کے اساتذہ وطلباءکی موجودگی میں قومی پرچم لہرا کر ملک کے جاں باز سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
پرچم کشائی کے بعد مجمع سے خطا ب کرتے ہوئے ادارے کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے کہا کہ: آج کی تاریخ بڑی انقلابی تاریخ ہے، آج ہی کے دن ہندوستان کی دھرتی کو ملک کے سپوتوں نے اپنی قربانیاں دیکر انگریز ظالم وجابر حکمرانوں کے پنچوں سے آزاد اکرایا۔یہ سچ ہے کہ اس گلستاں کو سجانے اور سنوارنے وغلامیت سے نکالنے میں آزادی ہند کے سرفروشوں نے جو اپنی بیش بہا قربانیاں دی ہیں، وہ کبھی بھلائی نہیں جاسکتیں۔ مسلمانوں سے انگریزوں نے اس ملک کو چھینا تھا، اس لئے آزادی کی تڑپ بھی انکے اندر دیگر شہریوں سے زیادہ تھی ، اس لئے انہوں نے پھانسی کو پھندے کو چومتے ہوئے ملک کی خاطر اپنی جان لگادی۔آج ضرورت ہے کہ ہم اتحاد واتفاق کو باقی رکھتے ہوئے ملک کو آگے لے جانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں، چوں کہ تعلیم کیذریعہ ہی ہم اپنی اور ملک کی خوبصورتی اور وقار میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے مجاہدین آزادی کے زریں کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجاہدین نے آنسوو ¿ں سے نہیں بل کہ اپنے خون کے دھبوں سے اس چمن کو سینچا ہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حب الوطنی کی ایسی شاندار مثال پیش کی ہے،جسے ہندوستان کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ بعدازاں طلبانے اپنے رنگا رنگ پروگرام میں قومی ترانہ ، قو می یکجہتی و آزادی کے عنوان پر اپنی اپنی تقاریر پیش کیں۔ اخیر میں تمام بچوں میں لڈو تقسیم کرکے انکا منھ میٹھا کیا گیا۔
اس موقع پرمفتی احسان الحق قاسمی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا محمد قیصر فاروقی، حافظ ذبیح اللہ ، مولانا شکرا للہ قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، مولانا محمد صابر نعمانی، ماسٹر محمد عمر خان، ماسٹر جاوید احمد، ماسٹر فیض احمد، ماسٹر رام ملن یادو،، ماسٹر محمدکوشل جیسوال، ماسٹر جمیل احمد، ماسٹر صادق ، عصب الدین ، ماسٹر شمیم احمد ، ماسٹر شاہ عالم ، حافظ ابوالکلام ، محمد اسلم ، وغیرہ موجود تھے۔
