اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: معلم اردو کے کچھ اہم خصوصیات

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 21 August 2019

معلم اردو کے کچھ اہم خصوصیات

معلم اردو  کے کچھ اہم خصوصیات
لکچر :پروفیسر ہاجرہ نوشین صاحبہ
مرتب :ذیشان الہی منیر تیمی
مانو کالج اورنگ آباد مہاراشٹرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     اردو زبان و ادب اپنی شیرینی اور مٹھاس کے لئے جانی اور پہچانی جاتی ہے یہ وہ زبان ہے جسے ہندی، ہندوی، دکنی اور اردو جیسے مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے اس کے بولنے والے ہند و پاک میں کثیر تعداد میں لوگ موجود ہیں ۔یہ زبان گنگا جمنی تہذیب کی ایک بہترین مثال رہی ہے یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف میر، غالب اور اقبال نے اس زبان  کو عروج و ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا وہی دوسری طرف کرشن چندر، فراق گورکھپوری اور پریم چند نے اسے سیچنے اور سنوارنے کے لئے اپنے تن، من اور دھن کی بازی لگادی ۔
        اردو زبان کی اسی گنگا جمنی تہذیب کی اہمیت و افادیت کی وجہ کر اردو کے معلم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مندرجہ ذیل اوصاف جو نکات کی شکل میں تحریر کی جارہی ہیں سے اپنی شخصیت کو متصف کرے تب جاکر ایک اردو کے معلم کما حقہ اردو کے معلم کہلانے کے مستحق ہونگے ۔
(1)مادری زبان پر عبور حاصل ہونا ۔
ایک اردو کے معلم کو چاہئے کہ وہ مادری زبان(اردو) پر عبور حاصل کرے نیز زبان کا صحیح تلفظ، پڑھنے اور بولنے میں روانی ۔وقت و حالات کے اعتبار سے جملوں کا استعمال، قواعد کا علم، تغیر لحن، زبان کی ساخت پر نظر اور الفاظ کا ذخیرہ سے اپنی شخصیت کو متصف کرے کیونکہ زبان پر عبور کے بغیر معلم درس و تدریس کا عمل اچھے انداز میں نہیں کرسکتے ۔
(2)زبان و مضمون سے محبت ۔
  ا یک معلم کوچاہئے کہ وہ اپنی زبان و مضمون سے محبت کرے کیونکہ طلبہ معلم کا عکس ہواکرتے ہیں اس لئے معلم
   کو کثرت مطالعہ، اس زبان کے متعلق کی گئی پروگرام میں شمولیت، مضمون نگاری اور لکچرمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور اپنی زبان کو لے کر احساس کمتری کا شکار نہ ہونا چاہئے ۔اپنی زبان سے مطمئن اور خوش رہنا چاہئے تاکہ طلبہ میں دلچسپی کا مادہ پیدا ہو
(3)کثرت مطالعہ کا شوق
ایک کامیاب معلم کی صفت ہوتی ہے کہ اس کا مطالعہ کبھی نہیں رکتا جس کی وجہ کر اس کے علم میں اضافہ اور الفاظ کا ذخیرہ جمع ہوجاتا ہے اور وہ اس کی نئی معلومات میں اضافہ کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ کر اس کی شخصیت نکھر اور بکھر جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ فصاحت و بلاغت کے آسمان پر پہنچ جاتا ہے اور ان کی زیر تربیت طلبہ ادیب، شاعر اور مفکر بن کر دنیا کے سامنے آتے ہیں ۔
(4)درس و تدریس کے طریقہ سے واقفیت ۔
ایک بہترین معلم کع درس و تدریس کے طریقہ سے واقفیت رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ کہ نصاب کے اندر بہت سارے مضامین ہوا کرتے ہیں مثلا نظم، نثر، ڈرامہ وغیرہ تو ایک معلم کو چاہئے کہ وہ نظم کو گنگنائے اور طلبہ کو بھی گانے کے لئے کہے ڈرامہ میں ڈرامائی انداز اختیار کرے اور اس میں طلبہ کی مکمل شمولیت ہو اور نثر میں مثال سے اصول کی جانب، لکچر، بحث و مباحثہ یا سوال و جواب والا طریقہ اختیار کرے
(5)تعلیمی توضیحات
تعلیمی توضیحات یہ معلم کا یتھیار ہے اس سے درس میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور درس کا تصور واضح ہو جاتا ہے اور طلبہ کو بات سمجھ میں آجاتی ہے جس کی بنا پر معلم اپنی تصور میں کامیاب ہو جاتا ہے اور طلبہ کی تعلیمی زندگی میں نکھار اور سدھار پیدا ہونے لگتا ہے ۔معلم تعلیمی توضیحات کے اعتبار سے چند معاون چیزوں کا استعمال کر سکتے ہیں مثلاً چارٹ، سلائیڈس، ماڈلس، آڈیوں اور ویڈیوں وغیرہ
(6)دیگر مضامین کا علم
    ایک معلم کو دیگر مضامین کا علم رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے نصاب کا ربط قائم ہوتا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ کمرہ جماعت میں مختلف مضامین کے طلبہ ہوتے ہیں اور ان کے شکوک و شبہات کو اس کی مدد سے ختم کیا جا سکتا ہے مثال کے طور پر کمرہ جماعت میں ہندی، اردو، انگلش، جغرافیہ اور سائنس وغیرہ کے طلبہ ہوتے ہیں تو ان کو ان ہی کی زبان میں سمجھایا جائے تو طلبہ کو آسانی سے بات سمجھ میں آئے گی اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب معلم دیگر مضامین کا علم رکھے ۔
(7)اردو کی ادبی، تہذیبی اور نصابی سرگرمیاں ۔
بحیثیت معلم ایک اردو معلم کو چاہئے کہ وہ اردو کی ادبی، تہذیبی، ثقافتی اور نصابی سرگرمیاں کو بہتر بنائے اور طلبہ میں مشارکت کا شوق پید ا کرے مثال کے طور پر غالب و میر یا علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر پروگرام کرنا ۔اسکول میں کسی بڑے اردو شاعر یا ادیب کو بلانا اور تقریری و تحریری مقابلہ، نظم گوئی یا ڈرامہ کا پروگرام کرانا تاکہ طلبہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور اسے اردو ادب سے شوق پید ا ہو اگر ایسا ہوا تو یہی طلبہ آگے چل کر اردو کے بڑے بڑے ادباء، شعراء اور قلمکاروں میں اپنا نام درج کرا سکتے ہیں ۔
(8)سائنسی رجحانات اور نظریہ
  عصر حاضر کا زمانہ سائنس و ٹکنالوجی کا زمانہ ہے اس لئے معلم اردو کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو نصابی کتابوں تک محدود نہ رکھے بلکہ سائنس و ٹکنالوجی کا علم بھی رکھے اور اسے کمرہ جماعت میں عملی جامہ پہنائے تاکہ طلبہ میں زمانے سے قدم ملانے اور وقت کے ساتھ چلنے کا شوق پیدا ہو ۔
(9)جمہوری نظریہ اور رویہ 
  معلم اردو کو چاہئے کہ وہ جمہوری نظریہ کا حامل ہو تمام طلبہ کو ایک نظر سے دیکھتا ہو ذات پات، دین و دھرم، مسلک و منہج اور رنگ و نسل کی وجہ سے نہ کسی سے محبت رکھتا ہو اور نہ ہی عداوت کرتا ہو  بلکہ ان چیزوں سے اوپر اٹھ کر تمام طلبہ کو ایک نظر سے دیکھتا ہو ۔تب جاکر طلبہ کے اندر معلم کے تئیں اعتماد اور بھروسہ آئے گا اور ان کی زندگی نکھر اور بکھر جائے گی ۔
(10)نفسیات کا علم
معلم اردو کو چاہئے کہ وہ نفسیات کا علم رکھتا ہو کیونکہ اس کے بغیر وہ نہ تو طلبہ کی کردار سازی کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے سمجھ سکتا ہے ۔
(11)اخلاقی شخصیت
  معلم اردو کو چاہئے کہ وہ اخلاق و کردار کے بہترین عہدہ پر فائز ہو کیونکہ طلبہ استاد کا عکس ہوا کرتے ہیں اس لئے استاد کے اندر نیکی و پارسائی، ہمدردی و غمگساری، بھلائی و ایمانداری  صبر و تحمل اور الفت و محبت ہونی چاہئے تب ان کے طلبہ ان کے نقش قدم پر چلیں گے اور ان کی شخصیت ایک بہترین شخصیت بنے گی ۔
(12)اصول و ضوابط اور وقت کی پابندی
  معلم اردو کو چاہئے کہ وہ اصول و ضوابط اور وقت کی پابندی کرے کیونکہ اگر معلم ایسا کرینگے تو طلبہ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں گے جس کی وجہ کر درس و تدریس میں نہ تو تاخیر ہوگی اور نہ ہی طلبہ کا وقت ضائع ہوگا ۔اس کے نتیجے میں ایک بہترین اور پرسکون ماحول میں عمدہ تدریس اور طلبہ کے روشن مستقبل کی امید یقینی بن جائے گی ۔
(13)مستقل مزاجی
  معلم اردو کو چاہئے کہ وہ مستقل مزاج ہو ۔آپسی تناؤ یا گھر کا جھگڑا لے کر اسکول نہ آتا ہو ۔اسکول آکر تمام طلبہ و اساتذہ کے ساتھ خوش مزاجی سے رہتا ہو ۔کلاس میں نہ تو بہت زیادہ غصہ اور نہ ہی بہت زیادہ ہنسی کا مظاہرہ کرتا ہو ۔طلبہ کے درمیان تنازعات کو بہترین اور پرسکون طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔مستقل مزاجی اس لئے بھی ضروری ہے کہ معلم کا تعلق سماج سے براہ راست جڑا ہوا ہوتا ہے ۔
(14)احساس ذمہ داری اور فرض شناسی
  معلم اردو کو چاہئے کہ وہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی کی صفت سے متصف ہو مثلا مکمل تیاری اور ایمانداری سے تدریس کا فریضہ انجام دینا ۔طلبہ کی کردار سازی اور ان کی تربیت کرنا، اسکول او کمرہ جماعت کا ماحول درست کرنا ۔اس  کی اشیاء کا بہترین استعمال کرنا اور اس کی ترقی کے لئے فکر مند رہنا وغیرہ
(15)اسکول و سماج کی نشو نما
  کسی بھی اسکول کا تصور سماج کے بغیر ممکن نہیں ٹھیک ایک بہترین سماج کا تصور اسکول کے بغیر محال ہے کیونکہ اس کی ترقی اور نشو نما کی وجہ کر طلبہ بااخلاق و باکردار بن کر ایک بہترین شہری بن کر سماج میں جاتے ہیں اور سماج میں امن و سکون، الفت و محبت اور عدل و انصاف کی خوشبوں پھیلاتے ہیں اس لئے ایک معلم کے ساتھ ساتھ سماج کے افراد کو بھی چاہئے کہ وہ اسکول کو بہتر بنانے کے لئے فکر مند رہیں
    مذکورہ بالا نکات کے ساتھ ساتھ کچھ اور نکات ہیں جو معلم اردو کے لئے ضروری ہیں لیکن مضمون کی طوالت کے خوف سے ذیل میں ان نکات کو مختصرا ذکر کیا جارہا ہے ۔
(16)قوت فیصلہ اور خود اعتمادی
(17)جذبہ تعاون اور ہمدردی
(18)نرم لہجہ اور صاف آواز
(19)اچھی صحت
(20)اچھی یاداشت
(21)بہترین اداکار
    مذکورہ بالا صفات ایک معلم کے لئے بہت ضروری ہیں جو معلم ان صفات سے متصف ہونگے یقینا ان کی تدریس مؤثر اور خوبصورت ہوگی جن کے لئے شاعر کو بھی مجبورا کہنا پڑا ۔
  جن کی تدریس سے آتی ہو صداقت کی مہک
 ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتا ہے