وشنومندر توڑ کر بابری مسجد بنائی گئی
سپریم کورٹ میں رام للا کے وکیل کا دعویٰ
نماز کی ادائیگی سے متعلق سوال کا جواب دینے سے ویدناتھن کا انکار
نئی دہلی، ۲۰ اگست : آج چیف جسٹس رنجن گو گوئی کی قیادت میں ۵ رکنی بنچ کے سامنے رام للا کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ مسٹر سی ایس ویدناتھن نے اپنی بحث جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آثار قدیمہ کی کھدائی ، غیرملکی سیاحوں اور گواہوں کے بیانات سےُثابت ہوتا ہے کہ یہ جگہ ہمیشہ سے رام جنم بھومی کی حیثیت سے ہی استعمال ہوتی رہی ہے لہذا اس کے تقدس کو بحال کیا جائے۔اس موقع پر جسٹس اشوک بھوشن نے سوال کیا کہ کیا گواہون کہ بیانات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہان نماز بھی ہوتی رہی ہے۔ اس پر مسٹر وید ناتھن نے کہا کہ اس پر وہ آگے گفتگو کریںگے۔ انہون نے آگے کہا کہ آثار قدیمہ کی کھدائی میں ایک پتھر کا سلیب ملا ہے جس میں سنسکرت میں لکھا ہوا ہے جو باروین صدی کا ہے، جو راجا گونداُچندرا کے زمانے کا ہے۔ گوند چندرا ساکیتا منڈلا کا راجا تھا جس کا پائے تخت ایودھیا تھا۔ یہان پر ایک بڑا وشنو کا مندر تھا۔ میرے خیال میں اسی مندر کو توڑ کر یا اسی کے ملبے پر مسجد تعمیر کی گئی۔ جہان تک سلیب پر لکھی سنسکرت کی عبارت ہے کا تعلق ہے اس کے ترجمہ کو کسی نے چیلنج نہیں کیا ہے البتہ سلیب کے موجودگی کو ہی چیلنج کیا گیا ہے۔ جب مسلم گواہوں کی گواہی کو مسٹر ویدناتھن نے پیش کرنا شروع کیا تو انہوں نے جسٹس بھوشن کے اس سوال کو نظر انداز کردیا کہ مسلمانوں کے اس جگہ پر نماز پڑھنے کی کوئی شہادت بھی سامنے آئی تھی یا نہیں۔ اس کے برعکس انہون نے کہا کہ مسلم گواہان نے سراحت سے یہ کہا کہ کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے اگر کوئی مسجد بنائی جائے گی تو وہ شر عا مسجد نہیں ہوگی۔ مسٹر وید ناتھن کی بحث نامکمل رہی جو کل بھی جاری رہے گی۔ اس معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو سینئر ایڈوکیٹ سی ایس ویدیاناتھن نے بتایا کہ سنسکرت میں کیا لکھا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں بلکہ اعتراض اس بات پر ہے کہ آیا وہ سلیب متنازعہ جگہ سے کھدائی کے دوران نکلا تھا۔اس کے بعدسی ایس ویدیا ناتھن نے عدالت کو اس جگہ کی تصاویر بتائیں جہاں سے سلیب نکالا گیا تھا اور اس وقت وہاں ایک صحافی موجود تھا جس نے عدالت میں گواہی بھی دی تھی۔ایڈوکیٹ ویدیا ناتھن نے آج متعدد گواہوں کی گواہیاں پڑھیں جنہوں نے اپنے بیانات میں ایودھیا میں رام مندر کے ہونے کا دعوی کیا تھا۔ 91 سالہ گواہ رام ناتھ مشراء جس نے دوران گواہی کہاتھا کہ اس کی شادی کے بعد وہ مہمانوں کے ہمراہ ایودھیا گیا تھا اور اس نے رام مندر میں مذہبی امور کی ادائیگی کی تھی۔رامناتھ نے اپنی گواہی میں مزید بتایا تھا کہ وہ ایودھیا میں اکثر رام کی مورتی کی پوجا کر نے جاتا تھا اور متنازعہ عمارت اس وقت ہندوؤں کے قبضہ میں تھی۔سینئر ایڈوکیٹ ویدیاناتھن نے رامناتھ کی گواہی کے بعد محمد ہاشم کی گواہی پڑھی اور کہا کہ ایودھیاہندووں کیلئے ایک مقدس اورپوتراستھان ہے۔ عدالت میں سینئر وکیل سی ایس ویدیاناتھن نے گواہ محمد قاسم کی گواہی پڑھی جس پر جسٹس بوبڑے نے سی ایس ویدیاناتھن سے پوچھا کہ آیا یہ شخص شیعہ تھا یا سنی جس کے جواب میں ویدیاناتھن نے کہا کہ ممکن ہے وہ سنی تھا۔اسی درمیان بینچ نے ایڈوکیٹ سی ایس ویدیا ناتھن سے پوچھا کیا مسلم گواہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے کے تعلق سے کچھ کہا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ اس کے لئے انہیں مسلم گواہوں کی گواہیاں پڑھنی پڑھے گی۔ گواہیاں پڑھنے کے بعد ایڈوکیٹ ویدیا ناتھن نے عدالت کے سامنے ماضی کے فیصلوں کی نقول کی دوسری جلدپیش کی،فیصلوں کے نقول کی پہلی جلد وہ پہلے عدالت میں پیش کرچکے ہیں، اسی درمیان عدالت کا وقت ختم ہوگیا اور عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔امید ہے کہ کل ویدیاناتھن کی بحث کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون بحث کا آغاز کریں گے۔واضح رہے کہ بابری مسجدملکیت مقدمہ معاملہ پر صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی برابر اپنے وکلاء سے رابطہ میں ہیں اور پل پل کی خبر پر نظررکھے ہوئے ہیں،بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر10866-10867/2010 پر بحث کے دوران جمعیۃ علماء ہندکی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیودھون کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ کنورادتیہ سنگھ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیاو دیگر موجود تھے۔
سپریم کورٹ میں رام للا کے وکیل کا دعویٰ
نماز کی ادائیگی سے متعلق سوال کا جواب دینے سے ویدناتھن کا انکار
نئی دہلی، ۲۰ اگست : آج چیف جسٹس رنجن گو گوئی کی قیادت میں ۵ رکنی بنچ کے سامنے رام للا کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ مسٹر سی ایس ویدناتھن نے اپنی بحث جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آثار قدیمہ کی کھدائی ، غیرملکی سیاحوں اور گواہوں کے بیانات سےُثابت ہوتا ہے کہ یہ جگہ ہمیشہ سے رام جنم بھومی کی حیثیت سے ہی استعمال ہوتی رہی ہے لہذا اس کے تقدس کو بحال کیا جائے۔اس موقع پر جسٹس اشوک بھوشن نے سوال کیا کہ کیا گواہون کہ بیانات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہان نماز بھی ہوتی رہی ہے۔ اس پر مسٹر وید ناتھن نے کہا کہ اس پر وہ آگے گفتگو کریںگے۔ انہون نے آگے کہا کہ آثار قدیمہ کی کھدائی میں ایک پتھر کا سلیب ملا ہے جس میں سنسکرت میں لکھا ہوا ہے جو باروین صدی کا ہے، جو راجا گونداُچندرا کے زمانے کا ہے۔ گوند چندرا ساکیتا منڈلا کا راجا تھا جس کا پائے تخت ایودھیا تھا۔ یہان پر ایک بڑا وشنو کا مندر تھا۔ میرے خیال میں اسی مندر کو توڑ کر یا اسی کے ملبے پر مسجد تعمیر کی گئی۔ جہان تک سلیب پر لکھی سنسکرت کی عبارت ہے کا تعلق ہے اس کے ترجمہ کو کسی نے چیلنج نہیں کیا ہے البتہ سلیب کے موجودگی کو ہی چیلنج کیا گیا ہے۔ جب مسلم گواہوں کی گواہی کو مسٹر ویدناتھن نے پیش کرنا شروع کیا تو انہوں نے جسٹس بھوشن کے اس سوال کو نظر انداز کردیا کہ مسلمانوں کے اس جگہ پر نماز پڑھنے کی کوئی شہادت بھی سامنے آئی تھی یا نہیں۔ اس کے برعکس انہون نے کہا کہ مسلم گواہان نے سراحت سے یہ کہا کہ کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے اگر کوئی مسجد بنائی جائے گی تو وہ شر عا مسجد نہیں ہوگی۔ مسٹر وید ناتھن کی بحث نامکمل رہی جو کل بھی جاری رہے گی۔ اس معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو سینئر ایڈوکیٹ سی ایس ویدیاناتھن نے بتایا کہ سنسکرت میں کیا لکھا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں بلکہ اعتراض اس بات پر ہے کہ آیا وہ سلیب متنازعہ جگہ سے کھدائی کے دوران نکلا تھا۔اس کے بعدسی ایس ویدیا ناتھن نے عدالت کو اس جگہ کی تصاویر بتائیں جہاں سے سلیب نکالا گیا تھا اور اس وقت وہاں ایک صحافی موجود تھا جس نے عدالت میں گواہی بھی دی تھی۔ایڈوکیٹ ویدیا ناتھن نے آج متعدد گواہوں کی گواہیاں پڑھیں جنہوں نے اپنے بیانات میں ایودھیا میں رام مندر کے ہونے کا دعوی کیا تھا۔ 91 سالہ گواہ رام ناتھ مشراء جس نے دوران گواہی کہاتھا کہ اس کی شادی کے بعد وہ مہمانوں کے ہمراہ ایودھیا گیا تھا اور اس نے رام مندر میں مذہبی امور کی ادائیگی کی تھی۔رامناتھ نے اپنی گواہی میں مزید بتایا تھا کہ وہ ایودھیا میں اکثر رام کی مورتی کی پوجا کر نے جاتا تھا اور متنازعہ عمارت اس وقت ہندوؤں کے قبضہ میں تھی۔سینئر ایڈوکیٹ ویدیاناتھن نے رامناتھ کی گواہی کے بعد محمد ہاشم کی گواہی پڑھی اور کہا کہ ایودھیاہندووں کیلئے ایک مقدس اورپوتراستھان ہے۔ عدالت میں سینئر وکیل سی ایس ویدیاناتھن نے گواہ محمد قاسم کی گواہی پڑھی جس پر جسٹس بوبڑے نے سی ایس ویدیاناتھن سے پوچھا کہ آیا یہ شخص شیعہ تھا یا سنی جس کے جواب میں ویدیاناتھن نے کہا کہ ممکن ہے وہ سنی تھا۔اسی درمیان بینچ نے ایڈوکیٹ سی ایس ویدیا ناتھن سے پوچھا کیا مسلم گواہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے کے تعلق سے کچھ کہا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ اس کے لئے انہیں مسلم گواہوں کی گواہیاں پڑھنی پڑھے گی۔ گواہیاں پڑھنے کے بعد ایڈوکیٹ ویدیا ناتھن نے عدالت کے سامنے ماضی کے فیصلوں کی نقول کی دوسری جلدپیش کی،فیصلوں کے نقول کی پہلی جلد وہ پہلے عدالت میں پیش کرچکے ہیں، اسی درمیان عدالت کا وقت ختم ہوگیا اور عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔امید ہے کہ کل ویدیاناتھن کی بحث کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون بحث کا آغاز کریں گے۔واضح رہے کہ بابری مسجدملکیت مقدمہ معاملہ پر صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی برابر اپنے وکلاء سے رابطہ میں ہیں اور پل پل کی خبر پر نظررکھے ہوئے ہیں،بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر10866-10867/2010 پر بحث کے دوران جمعیۃ علماء ہندکی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیودھون کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ کنورادتیہ سنگھ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیاو دیگر موجود تھے۔
