#صحابہ #سے #نفرت ،#خذلان و #عصیاں #ہے
چودہ سو سال سے آج تک تمام امت مسلمہ کا صاف نظریہ اور عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام کے بعد خاتم الأنبياء سرور اصفیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام ومرتبہ تمام انسانوں سے اعلیٰ وافضل ہے،انکی محبت دین و ایمان اور طاعت وعبادت ہے، اوران سے نفرت کفر،و نفاق اور خذلان و عصیان ہے، جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے بہتر اور افضل ہیں اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمام امتوں سے افضل اور بہتر ہے، "کنتم خیر أمة أخرجت للناس" ألآية قرآن کریم کی نص صریح ہے اوراس کا اولین مصداق تمام امت میں سب سے افضل اور بہتر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا طبقہ ہے، اوریہی تمام اہلسنۃ والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے، وہ بلاشبہ مومن کامل اور صحیح الاسلام تھے، معاذ اللہ، معاذاللہ وہ منافق نہ تھے ـ قرآن و حدیث انکے ایمان اور اخلاص کی شہادت سے بھرا پڑا ہے، ان کا خاتمہ ایمان اور اسلام پر ہوا ہے، قیامت تک کوئی شخص انکے مرتبہ کو نہیں پہونچ سکتا، "لقد رضی الله عن المؤمنين إذ يبايعو نك تحت الشجرة فعلم ما في قلوبهم" ألآية، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے متعلق اپنی رضامندی کا اعلان فرمایا، اور "فعلم ما فی قلوبھم" میں ان کے اخلاص کی شہادت دی، کہ اللہ انکے دلوں کا حال خوب جانتا ہے،
لہٰذا ان قطعی دلائل کے بعد صحابہ کرام کے درمیان جو باہمی اختلافات اور نزاعات پیش آئے جیسے جمل وصفین کے واقعات، انہیں اجتہادی خطاپر محمول کرنا چاہیے، ہوا و ہوس، حب جاہ، حب ریاست اور طلب رفعت و منزلت سے اس کو دور سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ نفس امارہ کی کمینہ اور رذیل خصلتیں ہیں،جبکہ ان بزرگوں کے نفوس حضرت خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کیمیا اثر کی برکت سے ان سب چیزوں سے آئینہ کی طرح صاف شفاف ہو چکے تھے،لہذا وہ معصوم تو نہیں، لیکن صدق وعدالت میں موثوق اور خطا ومعصیت سے مغفور ضرور تھے، اس لئے امت کو اجازت نہیں کہ ان کی کسی خطا پر تنقید یا گرفت کرے،
اسکے بعدبھی اگر کوئی صحابہ کی شان میں کسی تنقیص کا مرتکب ہوتاہے، تو ذہنی اور ایمانی اعتبار سے کمزور ی کا شکار ہے، اور جو کوئی ایسے شخص کے دفاع میں آتا ہے، وہ اندھی عقیدت میں مبتلا ہے۔
اللہ ہماری حفاظت فرمائےاور سیدھے راستے پر چلاے آمین!
بلال احمد قاسمی
٢٥ ،محرم الحرام، ١٤٤٠ ھ،
تقریباً ایک سال پہلے کی تحریر ہے، کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے،
١٨،محرم الحرام، ١٤٤١ھ
چودہ سو سال سے آج تک تمام امت مسلمہ کا صاف نظریہ اور عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام کے بعد خاتم الأنبياء سرور اصفیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام ومرتبہ تمام انسانوں سے اعلیٰ وافضل ہے،انکی محبت دین و ایمان اور طاعت وعبادت ہے، اوران سے نفرت کفر،و نفاق اور خذلان و عصیان ہے، جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے بہتر اور افضل ہیں اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمام امتوں سے افضل اور بہتر ہے، "کنتم خیر أمة أخرجت للناس" ألآية قرآن کریم کی نص صریح ہے اوراس کا اولین مصداق تمام امت میں سب سے افضل اور بہتر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا طبقہ ہے، اوریہی تمام اہلسنۃ والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے، وہ بلاشبہ مومن کامل اور صحیح الاسلام تھے، معاذ اللہ، معاذاللہ وہ منافق نہ تھے ـ قرآن و حدیث انکے ایمان اور اخلاص کی شہادت سے بھرا پڑا ہے، ان کا خاتمہ ایمان اور اسلام پر ہوا ہے، قیامت تک کوئی شخص انکے مرتبہ کو نہیں پہونچ سکتا، "لقد رضی الله عن المؤمنين إذ يبايعو نك تحت الشجرة فعلم ما في قلوبهم" ألآية، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے متعلق اپنی رضامندی کا اعلان فرمایا، اور "فعلم ما فی قلوبھم" میں ان کے اخلاص کی شہادت دی، کہ اللہ انکے دلوں کا حال خوب جانتا ہے،
لہٰذا ان قطعی دلائل کے بعد صحابہ کرام کے درمیان جو باہمی اختلافات اور نزاعات پیش آئے جیسے جمل وصفین کے واقعات، انہیں اجتہادی خطاپر محمول کرنا چاہیے، ہوا و ہوس، حب جاہ، حب ریاست اور طلب رفعت و منزلت سے اس کو دور سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ نفس امارہ کی کمینہ اور رذیل خصلتیں ہیں،جبکہ ان بزرگوں کے نفوس حضرت خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کیمیا اثر کی برکت سے ان سب چیزوں سے آئینہ کی طرح صاف شفاف ہو چکے تھے،لہذا وہ معصوم تو نہیں، لیکن صدق وعدالت میں موثوق اور خطا ومعصیت سے مغفور ضرور تھے، اس لئے امت کو اجازت نہیں کہ ان کی کسی خطا پر تنقید یا گرفت کرے،
اسکے بعدبھی اگر کوئی صحابہ کی شان میں کسی تنقیص کا مرتکب ہوتاہے، تو ذہنی اور ایمانی اعتبار سے کمزور ی کا شکار ہے، اور جو کوئی ایسے شخص کے دفاع میں آتا ہے، وہ اندھی عقیدت میں مبتلا ہے۔
اللہ ہماری حفاظت فرمائےاور سیدھے راستے پر چلاے آمین!
بلال احمد قاسمی
٢٥ ،محرم الحرام، ١٤٤٠ ھ،
تقریباً ایک سال پہلے کی تحریر ہے، کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے،
١٨،محرم الحرام، ١٤٤١ھ
