اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: وزیر اعظم پر لب کشائی پر جیل، ہندوستان میں نیا ضابطہ

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 5 October 2019

وزیر اعظم پر لب کشائی پر جیل، ہندوستان میں نیا ضابطہ

 (کیرالا)5 اکتوبر (آئی این اے نیوز)
 ماب لنچنگ کے واقعات کے بارے میں وزیراعظم کو کھلا خط لکھنے والے 50 ممتاز شخصیتوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے ایک روز بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت کو لتھاڑتے ہوئے کہاکہ نریندر مودی یا حکومت کے خلاف جو کوئی لب کشائی کرتا ہے اُسے سلاخوں کے پیچھے ڈالا جارہا ہے۔ راہل نے کہاکہ ملک مطلق العنان مملکت کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ اب کوئی راز کی بات نہیں رہی۔ اُنھوں نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہاکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے۔ یہ اب کوئی راز نہیں۔ درحقیقت ساری دنیا اِسے جان گئی ہے۔ ہم آمرانہ مملکت کی طرف بڑھ رہے ہیں، یہ بالکل واضح ہے۔ وائےناڈ کے ایم پی جو اپنے حلقہ میں اُن احتجاجیوں سے اظہار یگانگت کے لئے موجود ہیں جو باندی پور ٹائیگر ریزرو سے گزرنے والی شاہراہ پر رات کے اوقات میں آمد و رفت پر امتناع کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہاکہ وزیراعظم کے خلاف کچھ بھی بولئے، حکومت کے خلاف کوئی مسئلہ اُٹھایئے، آپ جیل بھیج دیئے جائیں گے یا آپ پر حملہ کیا جائے گا۔ میڈیا اِن واقعات کو کچل رہا ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ حقیقت حال کیا ہے۔ بہار کے مظفرپور میں جمعرات کو لگ بھگ 50 ممتاز شخصیتوں بشمول رام چندر گوہا، منی رتنم، اے گوپال کرشنن اور اپرنا سین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اِن شخصیتوں نے وزیراعظم مودی کو کھلا خط لکھ کر ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات پر اپنی تشویش و فکرمندی کا اظہار کیا تھا۔ اِس معاملہ میں چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ نے اپنی عدالت میں اِن شخصیتوں کے خلاف پٹیشن داخل کرنے پر حکم جاری کیا جس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ اِن شخصیتوں نے مبینہ طور پر ملک کی ساکھ متاثر کی ہے اور وزیراعظم کے متاثرکن پرفارمنس کو گھٹاکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیز وہ علیحدگی پسند رجحانات کو ہوا دے رہے ہیں۔ راہول نے کہاکہ ملک میں دو نظریات ہیں جس میں ایک ایسے خیال کو پروان چڑھاتا ہے کہ قوم پر ایک شخص، ایک آئیڈیالوجی کی حکمرانی ہونا چاہئے۔ ایک طرف یہ آئیڈیا ہے کہ ملک ایک شخص، ایک نظریہ کے تسلط میں رہے اور دیگر تمام خاموش رہیں، دوسری طرف کانگریس پارٹی اور اپوزیشن ہیں، جو کہتے ہیں کہ یہ ملک مختلف النوع نظریات، مختلف زبانوں، ثقافتوں کا حامل ہے اور ان میں سے کسی بھی آواز کو نہیں دبانا چاہئے۔