*مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا*
مہدی حسن عینی قاسمی
بالآخر اجودھیا تنازع کا فیصلہ آگیا،جمعیت علمائے ہند اور مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت سبھی مسلم فریقوں نے جس جرات اور ثبات قدمی کے ساتھ بابری مسجد کا مقدمہ لڑا وہ پوری دنیا کے لئے ایک مثال ہے، اور مخلصانہ جد و جہد کی نظیر ہے،
کورٹ نے جن بنیادوں پر فیصلہ کیا ہے وہ نا تو مضبوط ہیں اور نا ہی قابل قبول، پھر بھی مسلمانوں نے جس امن و صبر کا مظاہرہ کیا وہ بھی تاریخ کے صفحات پر سنہرے لفظوں سے درج کیا جائے گا.
اب دنیا یہ کہے گی کہ مسجد شہید کرکے پھر اس پر مندر کی تعمیر کی جارہی ہے.
25 سالہ جد و جہد کا حاصل یہی ہے کہ ہم اللہ کے دربار میں سرخرو ہوں گے کہ ہم نے اس کے گھر کا نا تو سودا کیا اور نا ہی دباؤ میں کسی کو حوالہ کیا.
ہم لڑے اور مضبوطی سے لڑے،ہمیں انصاف نہیں ملا لیکن ہم نے یہ ٹابت کردیا کہ وہاں سینکڑوں سال سے مسجد تھی،اسے فرقہ پرستوں نے شہید کیا،مسلمانوں نے کسی مندر کو مسمار نہیں کیا،
آج دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ججمینٹ اور جسٹس میں کیا فرق ہوتا ہے؟اور انصاف کی شکست کیسے ہوتی ہے؟ ہمیں خیرات کی کوئی ضرورت نہیں ہے،اجودھیا میں 10 مسجدیں پہلے سے ہیں،
یہ لڑائی دو چار ایکڑ زمین حاصل کرنے کی نہیں تھی بلکہ دنیا کو یہ دکھانا اور بتانا تھا کہ سب سے بڑی اقلیت کے عبادت خانہ کو کس طرح سے اکثریت کے جنونی غنڈوں نے راتوں رات مسمار کردیا اور اس کے نام پر ہزاروں بے گناہوں کی خون کی ہولی کھیلی گئی.
الحمد للہ سپریم کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بابری مسجد کو مسمار کرنا ایک جرم تھا،اور مندر توڑی نہیں گئی تھی،بلکہ چودہویں صدی میں میر باقی نے مسجد کی تعمیر کی تھی،اور 1949 تک مستقل اس میں نماز ہوتی رہی ہے،
ہمارے وکلاء اور لیگل کمیٹیوں نے الحمد للہ پوری شدت اور پامردی کے ساتھ اپنے موقف کی حفاظت کی اور اخیر دم تک مقابلہ کیا،
ہم پوری قوم کی جانب سے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،
مولانا سید محمد ارشد مدنی صدر جمعیۃ علمائے ھند،
مولانا سید محمد ولی رحمانی جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،فخر ہند ایڈووکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون،ایڈووکیٹ ظفریاب جیلانی،ایڈووکیٹ اعجاز مقبول، ایڈووکیٹ شکیل احمد سید، ایڈووکیٹ ششماداحمد،ڈاکٹر قاسم رسول الیاس
سمیت اس مقدمہ کے سبھی وکلاء،آفیشلز،جماعتوں کے کارکنان، معاونین اور آخری صف سے ادنی معاونت کرنے والے فرد ملت کا شکریہ ادا کرتے ہیں،ان حضرات کی جرات و ہمت،استقلال اور جہد پیہم کو سلام کرتے ہیں،
اور امید کرتے ہیں کہ سبھی مسلم فریق مل جل کر آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے اور مشترکہ طور پر کوئی مناسب قدم اٹھائیں گے،ریویو پیٹیشن یا کیوریٹیو پیٹیشن کے لئے متحدہ بانگ دیں گے.
ملت اسلامیہ سے اپیل ہے کہ مایوس نا ہوں،انتشار سے بچیں،خدا کی جانب متوجہ ہوں،ملی جماعتوں اور قیادتوں سے بدظنی سے بچیں،اپنی صفوں کی کالی بھڑوں سے ہوشیار رہیں.ان شاءاللہ اس تنگی کے بعد فراخی آئے گی،اس مصیبت کے بعد آسانی آئے گی.
ان مع العسر يسرا
مہدی حسن عینی قاسمی
بالآخر اجودھیا تنازع کا فیصلہ آگیا،جمعیت علمائے ہند اور مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت سبھی مسلم فریقوں نے جس جرات اور ثبات قدمی کے ساتھ بابری مسجد کا مقدمہ لڑا وہ پوری دنیا کے لئے ایک مثال ہے، اور مخلصانہ جد و جہد کی نظیر ہے،
کورٹ نے جن بنیادوں پر فیصلہ کیا ہے وہ نا تو مضبوط ہیں اور نا ہی قابل قبول، پھر بھی مسلمانوں نے جس امن و صبر کا مظاہرہ کیا وہ بھی تاریخ کے صفحات پر سنہرے لفظوں سے درج کیا جائے گا.
اب دنیا یہ کہے گی کہ مسجد شہید کرکے پھر اس پر مندر کی تعمیر کی جارہی ہے.
25 سالہ جد و جہد کا حاصل یہی ہے کہ ہم اللہ کے دربار میں سرخرو ہوں گے کہ ہم نے اس کے گھر کا نا تو سودا کیا اور نا ہی دباؤ میں کسی کو حوالہ کیا.
ہم لڑے اور مضبوطی سے لڑے،ہمیں انصاف نہیں ملا لیکن ہم نے یہ ٹابت کردیا کہ وہاں سینکڑوں سال سے مسجد تھی،اسے فرقہ پرستوں نے شہید کیا،مسلمانوں نے کسی مندر کو مسمار نہیں کیا،
آج دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ججمینٹ اور جسٹس میں کیا فرق ہوتا ہے؟اور انصاف کی شکست کیسے ہوتی ہے؟ ہمیں خیرات کی کوئی ضرورت نہیں ہے،اجودھیا میں 10 مسجدیں پہلے سے ہیں،
یہ لڑائی دو چار ایکڑ زمین حاصل کرنے کی نہیں تھی بلکہ دنیا کو یہ دکھانا اور بتانا تھا کہ سب سے بڑی اقلیت کے عبادت خانہ کو کس طرح سے اکثریت کے جنونی غنڈوں نے راتوں رات مسمار کردیا اور اس کے نام پر ہزاروں بے گناہوں کی خون کی ہولی کھیلی گئی.
الحمد للہ سپریم کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بابری مسجد کو مسمار کرنا ایک جرم تھا،اور مندر توڑی نہیں گئی تھی،بلکہ چودہویں صدی میں میر باقی نے مسجد کی تعمیر کی تھی،اور 1949 تک مستقل اس میں نماز ہوتی رہی ہے،
ہمارے وکلاء اور لیگل کمیٹیوں نے الحمد للہ پوری شدت اور پامردی کے ساتھ اپنے موقف کی حفاظت کی اور اخیر دم تک مقابلہ کیا،
ہم پوری قوم کی جانب سے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،
مولانا سید محمد ارشد مدنی صدر جمعیۃ علمائے ھند،
مولانا سید محمد ولی رحمانی جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،فخر ہند ایڈووکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون،ایڈووکیٹ ظفریاب جیلانی،ایڈووکیٹ اعجاز مقبول، ایڈووکیٹ شکیل احمد سید، ایڈووکیٹ ششماداحمد،ڈاکٹر قاسم رسول الیاس
سمیت اس مقدمہ کے سبھی وکلاء،آفیشلز،جماعتوں کے کارکنان، معاونین اور آخری صف سے ادنی معاونت کرنے والے فرد ملت کا شکریہ ادا کرتے ہیں،ان حضرات کی جرات و ہمت،استقلال اور جہد پیہم کو سلام کرتے ہیں،
اور امید کرتے ہیں کہ سبھی مسلم فریق مل جل کر آگے کا لائحہ عمل طے کریں گے اور مشترکہ طور پر کوئی مناسب قدم اٹھائیں گے،ریویو پیٹیشن یا کیوریٹیو پیٹیشن کے لئے متحدہ بانگ دیں گے.
ملت اسلامیہ سے اپیل ہے کہ مایوس نا ہوں،انتشار سے بچیں،خدا کی جانب متوجہ ہوں،ملی جماعتوں اور قیادتوں سے بدظنی سے بچیں،اپنی صفوں کی کالی بھڑوں سے ہوشیار رہیں.ان شاءاللہ اس تنگی کے بعد فراخی آئے گی،اس مصیبت کے بعد آسانی آئے گی.
ان مع العسر يسرا
