بابری مسجد کے بدلے پانچ ایکڑ زمین کی خیرات ٹھکرا دی گئی
ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ریویو پٹیشن دائر کی جائے گی
نئی دہلی؍لکھنو۔18؍نومبر:(نمائندہ خصوصی) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ او رجمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) نے آج بابری مسجد کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ری ویوپٹیشن (نظرثانی کی درخواست)) دائر کرکے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آج لکھنو میں بورڈ کی مجلس عاملہ میں جہاں نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیاگیا وہیں ۵؍ایکڑ زمین نہ لینے کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے بھی نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے اور ۵؍ایکڑ زمین نہ لینے کا فیصلہ آج مجلس نئی دہلی میں مجلس عاملہ کی بیٹھک کے بعد کیا۔ لکھنو سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج ضلع انتظامیہ کی مداخلت اور میٹنگ منسوخ کرنے کے دبائوکے باوجود آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے بجائے ممتاز کالج لکھنو میں مولانا سید رابع حسنی ندوی کی صدارت میں ہوئی ۔ اس میٹنگ میں بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ مؤرخہ 9.11.2019کے درج ذیل نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔ بابری مسجد کی تعمیر بابر کے کمانڈر میر باقی کے ذریعہ 1528میں ہوئی تھی جیسا کہ مقدمہ نمبر ۵ کے فریقین نے اپنے مقدمہ کے عرضی دعویٰ میں خود مانا ہے اور سپریم کورٹ نے اسے قبول کیاہے۔ مسلمانوں کے ذریعہ دیئے گئے ثبوت سے یہ واضح ہے کہ 1857 سے1949تک بابری مسجد کی تین گنبد والی عمارت اور مسجد کا اندرونی صحن مسلمانوں کے قبضہ اور استعمال میں رہا ہے،اسے بھی سپریم کورٹ نے ماناہے۔ بابری مسجد میں آخری نماز 16دسمبر 1949کو پڑھی گئی تھی، سپریم کورٹ نے اسے بھی تسلیم کیاہے۔22/23دسمبر، 1949کی رات میں بابری مسجد کے بیچ والے گنبد کے نیچے رام چندر جی کی جو مورتی رکھ دی گئی تھی سپریم کورٹ کی نگاہ میں وہ قانون کی خلاف ورزی تھی۔ بابری مسجد کے بیچ والے گنبد کے نیچے کی ’’زمین‘‘ رام چندر جی کی جائے پیدائش (جنم استھان) کی شکل میں پوجا کیا جانا ثابت نہیں ہے۔لہٰذا سوٹ نمبر ۵ کے فریق نمبر ۲ (جنم استھان) کو Deity نہیں مانا جاسکتا۔ مسلمانوں کے ذریعہ دائر کردہ مقدمہ نمبر ۴ میعاد(limitation)کے اندر ہے اور جزوی طور سے ڈگری کئے جانے کے لائق ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ میں یہ بھی رائے دی ہے کہ ۶؍دسمبر 1992کو بابری مسجد گرائے جانے کا کام ہندوستان کے سیکولر آئین کے خلاف تھا۔ نزاعی عمارت میں چونکہ ہندو بھی سینکڑوں سال سے عبادت (پوجا) کرتے رہے ہیں اس لئے پوری نزاعی عمارت کی زمین مقدمہ نمبر ۵ کے فریق نمبر 1(بھگوان شری رام للا) کو دی جاتی ہے۔چونکہ نزاعی زمین مقدمہ نمبر 5کے فریق نمبر1کو دی گئی ہے اس لئے مسلمانوں کو 5ایکڑ زمین مرکزی حکومت کے ذریعہ یا تو Aquired Landیا صوبائی حکومت کے ذریعہ ایودھیا میں کسی دوسری اہم جگہ پر دی جائے جس پر وہ مسجد بنا سکیں۔ یہ حکم سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 142کا استعمال کرتے ہوئے دیاہے۔ جس کے مطابق مذکورہ 5ایکڑ زمین سنی وقف بورڈ کو دیئے جانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے اے۔ایس۔آئی۔ (آثارِ قدیمہ) کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ بات تسلیم کی ہے کہ کسی مندر کو توڑکر مسجد نہیں بنائی گئی ہے۔میٹنگ میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ 22/23دسمبر 1949کی رات میں بابری مسجد کے گنبد کے نیچے مورتیاں رکھے جانے کے تعلق سے درج F.I.R.اور حکومت اتر پردیش ، ڈی۔ایم۔ فیض آباد و ایس۔پی۔ فیض آباد کے ذریعہ مقدمہ نمبر1اور 2میں داخل جواب دعوی میں یہ مانا جا چکا ہے کہ مذکورہ مورتیاں چوری سے یا زبردستی رکھی گئی تھیں اور ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 30ستمبر2010کے فیصلہ میں بھی مذکورہ مورتیوں کو Deityنہیں مانا تھا۔مذکورہ بالا حالات میں آج کی میٹنگ میں یہ محسوس کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ کے مذکورہ بالا فیصلے میں کئی پہلوؤں پر نہ صرف باہمی تضاد ہے بلکہ کئی نقطوں پر یہ فیصلہ سمجھ سے پر ے ہے اور پہلی نظر م میں ہی غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ لہذا فیصلے کو چیلینج کرتے ہوئے نظر ثانی کی درخواست داخل کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ جس میں اس پہلو کا بھی ذکر کیا جائے گا کہ مسجد کی زمین کے بدلے میں مسلمان کوئی دیگر زمین قبول نہیں کر سکتے ہیں اور انصاف کا تقاضہ ہے کہ مسلمانوں کو بابری مسجد کی زمین دی جائے، مسلمان کسی عام حصہ زمین پر جائز حق لینے کے لئے سپریم کورٹ نہیں گئے تھے بلکہ مسجد کی زمین کے لئے انصاف حاصل کرنے کی خاطر عدالت گئے تھے۔عاملہ کے اجلاس میں مولانا فخرالدین اشرف، مولانا جلال الدین عمری (نائبین صدربورڈ)مولانا خالد سف اللہ رحمانی، مولانا فضل الرحیم مجددی، ظفریاب جیلانی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی (سیکریٹریزبورڈ) کے علاوہ مولانا سید ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی، قاسم رسول الیاس، مولانا عتیق احمد بستوی، مولانا سفیان قاسمی، اسدالدین اویسی، کمال فاروقی، عارف مسعود، مولانا یاسین علی بدایونی، مولانا سید اطہر علی،مولانا اصغر امام مہدی سلفی، جناب سعادت اللہ حسینی ، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا ڈاکٹر سعود عالم قاسمی، ایڈوکیٹ شمشاد ، ایڈوکیٹ فضل ایوبی، ایڈوکیٹ ارشاد ، اسماء زہرا، ممدوحہ ماجد، وغیرہ شریک تھیں۔ ادھر نئی دہلی میں جمعیۃعلماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کی تشکیل کردہ پانچ نفری پینل نے وکلاء اور ماہرین قانون سے صلاح و مشورہ کے بعد بابری مسجد حق ملکیت مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ریویو پٹیشن داخل کرنے کا آج فیصلہ کیا ۔صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی،مولانا حبیب الرحمن قاسمی، مولانا سید اسجد مدنی، فضل الرحمن قاسمی اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اعجاز مقبول پرمشتمل پینل نے ریویو پٹیشن کے تمام ممکنہ پہلووں پر غور کیا۔پینل نے کہا کہ بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہے لیکن قانونی طور پر یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے اس لئے کہ ابھی نظر ثانی(روویو)کا آپشن موجود ہے جسے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو عدالت سے رجوع ہونا چاہئے؛ کیونکہ ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل فیصلہ میں عدالت نے مسلمانوں کے بیشتر دلائل کو قبول کیا ہے۔ جہاں قانونی آپشن موجود ہے وہیں شرعاً بھی یہ ضروری ہے کہ آخری دم تک مسجد کی حصول یابی کے لیئے جدوجہد کی جائے۔مولانا ارشدمدنی نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے مسلمانوں کے ماتھے پر لگا یہ داغ دھل گیا کہ مسلمانوں نے بابری مسجد کی تعمیر رام مندر توڑ کر کی تھی، محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ نے واضح کردیا کہ مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر نہیں کی گئی ۔ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم ماہرین قانون نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اتفاق نہیں کیاہے، سپریم کورٹ سے 2012 میں سبکدوش ہونے والے جسٹس گانگولی نے کہا کہ اگر بابری مسجد شہید نہیں ہوتی اور ہندو سپریم کورٹ سے رجو ع ہوتے اور کہتے کہ رام کا جنم استھان مسجد کے اندر ہے تو کیا عدالت مسجد کو شہید کرنے کا حکم دیتی؟ عدالت ایسا نہیں کرتی تو پھر آج عدالت نے ایسا فیصلہ کیوں دیا؟ ان سب جیسے سوالات عدالت کے سامنے دوبارہ پیش کرنیکے لیئے نظر ثانی کی درخواست عدالت میں داخل کرنا ضروری ہے۔پانچ رکنی آئینی بینچ نے اپنے فیصلہ میں مورتی کو فریق نہیں قبول کیا ہے اس کے باوجود فیصلہ ہندوؤں کے حق میں دے دیا گیا جو ناقابل فہم ہے۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ریویو پٹیشن کے ذریعہ شاذ و نادر ہی فیصلے تبدیل کیئے جاتے ہیں لیکن ہمیں جو قانونی طورپردستیاب آپشن اس کو استعمال کرنا چاہئے،۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عدالت نے آئین ہند کے آرٹیکل 142 کے تحت اسے حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے تب بھی یہ معقول فیصلہ نہیں ہے کیونکہ متذکرہ آرٹیکل کے ذریعہ ثبوت و شواہد کی روشنی میں مکمل انصاف کیئے جانے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ اس معاملہ میں مکمل انصاف ہوا ہی نہیں کیونکہ مسلمانوں کے بیشتر دلائل قبول کرنے کے باوجود عدالت نے ایسا فیصلہ دیا ہے جو مسلمانو ں کے خلاف اور ہندوؤں کے حق میں ہے۔مسلمان مسجد منتقل نہیں کرسکتا لہذا متبادل اراضی لینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔بابری مسجد کے حقوق کے لئے جمعیۃ علماء ہند برسوں سے کوشاں ہیں اور ملک کی سلامتی اور انصاف کے لئے آخری حد تک کوشش جاری رہے گی۔واضح رہے کہ30/ ستمبر2010 الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد 23 اکتوبر 2010 کو جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہئے اور صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر سب سے پہلے الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی جس کا عرضداشت کا نمبر Civil Appeal Nos. 10866-10867 of 2010 ہے۔
ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ریویو پٹیشن دائر کی جائے گی
نئی دہلی؍لکھنو۔18؍نومبر:(نمائندہ خصوصی) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ او رجمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) نے آج بابری مسجد کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ری ویوپٹیشن (نظرثانی کی درخواست)) دائر کرکے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آج لکھنو میں بورڈ کی مجلس عاملہ میں جہاں نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیاگیا وہیں ۵؍ایکڑ زمین نہ لینے کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے بھی نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے اور ۵؍ایکڑ زمین نہ لینے کا فیصلہ آج مجلس نئی دہلی میں مجلس عاملہ کی بیٹھک کے بعد کیا۔ لکھنو سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج ضلع انتظامیہ کی مداخلت اور میٹنگ منسوخ کرنے کے دبائوکے باوجود آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے بجائے ممتاز کالج لکھنو میں مولانا سید رابع حسنی ندوی کی صدارت میں ہوئی ۔ اس میٹنگ میں بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ مؤرخہ 9.11.2019کے درج ذیل نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔ بابری مسجد کی تعمیر بابر کے کمانڈر میر باقی کے ذریعہ 1528میں ہوئی تھی جیسا کہ مقدمہ نمبر ۵ کے فریقین نے اپنے مقدمہ کے عرضی دعویٰ میں خود مانا ہے اور سپریم کورٹ نے اسے قبول کیاہے۔ مسلمانوں کے ذریعہ دیئے گئے ثبوت سے یہ واضح ہے کہ 1857 سے1949تک بابری مسجد کی تین گنبد والی عمارت اور مسجد کا اندرونی صحن مسلمانوں کے قبضہ اور استعمال میں رہا ہے،اسے بھی سپریم کورٹ نے ماناہے۔ بابری مسجد میں آخری نماز 16دسمبر 1949کو پڑھی گئی تھی، سپریم کورٹ نے اسے بھی تسلیم کیاہے۔22/23دسمبر، 1949کی رات میں بابری مسجد کے بیچ والے گنبد کے نیچے رام چندر جی کی جو مورتی رکھ دی گئی تھی سپریم کورٹ کی نگاہ میں وہ قانون کی خلاف ورزی تھی۔ بابری مسجد کے بیچ والے گنبد کے نیچے کی ’’زمین‘‘ رام چندر جی کی جائے پیدائش (جنم استھان) کی شکل میں پوجا کیا جانا ثابت نہیں ہے۔لہٰذا سوٹ نمبر ۵ کے فریق نمبر ۲ (جنم استھان) کو Deity نہیں مانا جاسکتا۔ مسلمانوں کے ذریعہ دائر کردہ مقدمہ نمبر ۴ میعاد(limitation)کے اندر ہے اور جزوی طور سے ڈگری کئے جانے کے لائق ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ میں یہ بھی رائے دی ہے کہ ۶؍دسمبر 1992کو بابری مسجد گرائے جانے کا کام ہندوستان کے سیکولر آئین کے خلاف تھا۔ نزاعی عمارت میں چونکہ ہندو بھی سینکڑوں سال سے عبادت (پوجا) کرتے رہے ہیں اس لئے پوری نزاعی عمارت کی زمین مقدمہ نمبر ۵ کے فریق نمبر 1(بھگوان شری رام للا) کو دی جاتی ہے۔چونکہ نزاعی زمین مقدمہ نمبر 5کے فریق نمبر1کو دی گئی ہے اس لئے مسلمانوں کو 5ایکڑ زمین مرکزی حکومت کے ذریعہ یا تو Aquired Landیا صوبائی حکومت کے ذریعہ ایودھیا میں کسی دوسری اہم جگہ پر دی جائے جس پر وہ مسجد بنا سکیں۔ یہ حکم سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 142کا استعمال کرتے ہوئے دیاہے۔ جس کے مطابق مذکورہ 5ایکڑ زمین سنی وقف بورڈ کو دیئے جانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے اے۔ایس۔آئی۔ (آثارِ قدیمہ) کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ بات تسلیم کی ہے کہ کسی مندر کو توڑکر مسجد نہیں بنائی گئی ہے۔میٹنگ میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ 22/23دسمبر 1949کی رات میں بابری مسجد کے گنبد کے نیچے مورتیاں رکھے جانے کے تعلق سے درج F.I.R.اور حکومت اتر پردیش ، ڈی۔ایم۔ فیض آباد و ایس۔پی۔ فیض آباد کے ذریعہ مقدمہ نمبر1اور 2میں داخل جواب دعوی میں یہ مانا جا چکا ہے کہ مذکورہ مورتیاں چوری سے یا زبردستی رکھی گئی تھیں اور ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 30ستمبر2010کے فیصلہ میں بھی مذکورہ مورتیوں کو Deityنہیں مانا تھا۔مذکورہ بالا حالات میں آج کی میٹنگ میں یہ محسوس کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ کے مذکورہ بالا فیصلے میں کئی پہلوؤں پر نہ صرف باہمی تضاد ہے بلکہ کئی نقطوں پر یہ فیصلہ سمجھ سے پر ے ہے اور پہلی نظر م میں ہی غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ لہذا فیصلے کو چیلینج کرتے ہوئے نظر ثانی کی درخواست داخل کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ جس میں اس پہلو کا بھی ذکر کیا جائے گا کہ مسجد کی زمین کے بدلے میں مسلمان کوئی دیگر زمین قبول نہیں کر سکتے ہیں اور انصاف کا تقاضہ ہے کہ مسلمانوں کو بابری مسجد کی زمین دی جائے، مسلمان کسی عام حصہ زمین پر جائز حق لینے کے لئے سپریم کورٹ نہیں گئے تھے بلکہ مسجد کی زمین کے لئے انصاف حاصل کرنے کی خاطر عدالت گئے تھے۔عاملہ کے اجلاس میں مولانا فخرالدین اشرف، مولانا جلال الدین عمری (نائبین صدربورڈ)مولانا خالد سف اللہ رحمانی، مولانا فضل الرحیم مجددی، ظفریاب جیلانی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی (سیکریٹریزبورڈ) کے علاوہ مولانا سید ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی، قاسم رسول الیاس، مولانا عتیق احمد بستوی، مولانا سفیان قاسمی، اسدالدین اویسی، کمال فاروقی، عارف مسعود، مولانا یاسین علی بدایونی، مولانا سید اطہر علی،مولانا اصغر امام مہدی سلفی، جناب سعادت اللہ حسینی ، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا ڈاکٹر سعود عالم قاسمی، ایڈوکیٹ شمشاد ، ایڈوکیٹ فضل ایوبی، ایڈوکیٹ ارشاد ، اسماء زہرا، ممدوحہ ماجد، وغیرہ شریک تھیں۔ ادھر نئی دہلی میں جمعیۃعلماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کی تشکیل کردہ پانچ نفری پینل نے وکلاء اور ماہرین قانون سے صلاح و مشورہ کے بعد بابری مسجد حق ملکیت مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ریویو پٹیشن داخل کرنے کا آج فیصلہ کیا ۔صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی،مولانا حبیب الرحمن قاسمی، مولانا سید اسجد مدنی، فضل الرحمن قاسمی اور ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اعجاز مقبول پرمشتمل پینل نے ریویو پٹیشن کے تمام ممکنہ پہلووں پر غور کیا۔پینل نے کہا کہ بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہے لیکن قانونی طور پر یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے اس لئے کہ ابھی نظر ثانی(روویو)کا آپشن موجود ہے جسے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو عدالت سے رجوع ہونا چاہئے؛ کیونکہ ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل فیصلہ میں عدالت نے مسلمانوں کے بیشتر دلائل کو قبول کیا ہے۔ جہاں قانونی آپشن موجود ہے وہیں شرعاً بھی یہ ضروری ہے کہ آخری دم تک مسجد کی حصول یابی کے لیئے جدوجہد کی جائے۔مولانا ارشدمدنی نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے مسلمانوں کے ماتھے پر لگا یہ داغ دھل گیا کہ مسلمانوں نے بابری مسجد کی تعمیر رام مندر توڑ کر کی تھی، محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ نے واضح کردیا کہ مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر نہیں کی گئی ۔ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم ماہرین قانون نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اتفاق نہیں کیاہے، سپریم کورٹ سے 2012 میں سبکدوش ہونے والے جسٹس گانگولی نے کہا کہ اگر بابری مسجد شہید نہیں ہوتی اور ہندو سپریم کورٹ سے رجو ع ہوتے اور کہتے کہ رام کا جنم استھان مسجد کے اندر ہے تو کیا عدالت مسجد کو شہید کرنے کا حکم دیتی؟ عدالت ایسا نہیں کرتی تو پھر آج عدالت نے ایسا فیصلہ کیوں دیا؟ ان سب جیسے سوالات عدالت کے سامنے دوبارہ پیش کرنیکے لیئے نظر ثانی کی درخواست عدالت میں داخل کرنا ضروری ہے۔پانچ رکنی آئینی بینچ نے اپنے فیصلہ میں مورتی کو فریق نہیں قبول کیا ہے اس کے باوجود فیصلہ ہندوؤں کے حق میں دے دیا گیا جو ناقابل فہم ہے۔صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ریویو پٹیشن کے ذریعہ شاذ و نادر ہی فیصلے تبدیل کیئے جاتے ہیں لیکن ہمیں جو قانونی طورپردستیاب آپشن اس کو استعمال کرنا چاہئے،۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عدالت نے آئین ہند کے آرٹیکل 142 کے تحت اسے حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے تب بھی یہ معقول فیصلہ نہیں ہے کیونکہ متذکرہ آرٹیکل کے ذریعہ ثبوت و شواہد کی روشنی میں مکمل انصاف کیئے جانے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ اس معاملہ میں مکمل انصاف ہوا ہی نہیں کیونکہ مسلمانوں کے بیشتر دلائل قبول کرنے کے باوجود عدالت نے ایسا فیصلہ دیا ہے جو مسلمانو ں کے خلاف اور ہندوؤں کے حق میں ہے۔مسلمان مسجد منتقل نہیں کرسکتا لہذا متبادل اراضی لینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔بابری مسجد کے حقوق کے لئے جمعیۃ علماء ہند برسوں سے کوشاں ہیں اور ملک کی سلامتی اور انصاف کے لئے آخری حد تک کوشش جاری رہے گی۔واضح رہے کہ30/ ستمبر2010 الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد 23 اکتوبر 2010 کو جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہئے اور صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر سب سے پہلے الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی جس کا عرضداشت کا نمبر Civil Appeal Nos. 10866-10867 of 2010 ہے۔
