*سپریم کورٹ کا فیصلہ تو قبول مگر اطمئنان بخش نہیں* ۔۔۔۔۔۔ مولانا طاہر مدنی
لکھنئو :9/نومبر 2019 آئی این اے نیوز
راشٹریہ علماء کونسل کے قومی جنرل سکریٹری مولانا طاہر مدنی نے ایودھیا مسئلہ پر آئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر میڈیا کو جاری پریس ریلیز میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانونی کارگزاری پر یقین رکھتے ہوئے فیصلے کو قبول تو کرتے ہیں مگر مطمئن نہیں ہیں۔
چونکہ یہ فیصلہ ہماری امیدوں کے مطابق نہیں ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو لگتا ہے کہ زمین کا مالکانہ حق ( ٹائٹل سوٹ) کے اس مقدمہ میں انہیں انصاف نہیں ملا، اس لئے اس مسئلہ پر آگے کی قانونی چارہ گوئ جاری رہنی چاہیئے اور ریوئیو فائل کیا جانا ضروری ہے۔ ہم مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رابطہ میں ہیں اور فیصلے کا پوری باریک بینی سے مطالعہ کرنے اور وکیلوں سے رائے و مشورہ کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ہر فیصلہ میں ہم شانہ بشانہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
فیصلے میں جہاں سپریم کورٹ نے خود تسلیم کیا ہے کہ مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائ گئ، وہاں نماز ہوتی تھی اور ساتھ ہی کہا کہ 1949 میں مسجد کے اندر غیر قانونی طریقہ سے مورتی رکھی گئ، 1992 میں مسجد کو توڑنا بھی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ پھر بھی آخری فیصلہ میں کورٹ نے مسجد کی پوری زمین کو مندر کی تعمیر میں دے دیا اور مسلم فریق کو دوسری جگہ پر 5 ایکڑ زمین دینے کا حکم سرکار کو دیا ہے۔ اب ہم مسجد کے عوض میں ایودھیا میں کسی دوسری جگہ پر 5 ایکڑ زمین دینے کے حکم پر ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شریعت کے مطابق مسجد اللہ کا گھر ہے، جس کا مالک اللہ ہوتا ہے اور مسجد جس جگہ پر تھی تاقیامت وہیں مانی جائےگی اور اسے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ 5 ایکڑ کیا ؟ 500 ایکڑ زمین مسلمان خرید کر مسجد بنا سکتے ہیں مگر ہمیں سرکار کی خیرات میں دی گئ اس 5 ایکڑ زمین کی کوئ ضرورت نہیں۔ ہم پرامن طریقے سے انصاف کے لئے آئین اور قانون میں دیئے گئے آخری نقطہ تک کو استعمال کریں گے اور انصاف کے لئے سنگھرش جاری رکھیں گے۔
مولانا نے عوام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں،امن قائم رکھیں، افواہ نہ پھیلائیں اور نہ پھیلنے دیں۔ یہ قانونی لڑائ ہے اور اسے قانونی طریقے سے لڑا جائے گا۔ کونسل کارکنان سے گزارش ہے کہ سماج میں بھائ چارہ بنائے رکھنے کے لئے مؤثر رول ادا کرتے رہیں۔
*اشرف اصلاحی*
میڈیا انچارج
لکھنئو :9/نومبر 2019 آئی این اے نیوز
راشٹریہ علماء کونسل کے قومی جنرل سکریٹری مولانا طاہر مدنی نے ایودھیا مسئلہ پر آئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر میڈیا کو جاری پریس ریلیز میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانونی کارگزاری پر یقین رکھتے ہوئے فیصلے کو قبول تو کرتے ہیں مگر مطمئن نہیں ہیں۔
چونکہ یہ فیصلہ ہماری امیدوں کے مطابق نہیں ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو لگتا ہے کہ زمین کا مالکانہ حق ( ٹائٹل سوٹ) کے اس مقدمہ میں انہیں انصاف نہیں ملا، اس لئے اس مسئلہ پر آگے کی قانونی چارہ گوئ جاری رہنی چاہیئے اور ریوئیو فائل کیا جانا ضروری ہے۔ ہم مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رابطہ میں ہیں اور فیصلے کا پوری باریک بینی سے مطالعہ کرنے اور وکیلوں سے رائے و مشورہ کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ہر فیصلہ میں ہم شانہ بشانہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
فیصلے میں جہاں سپریم کورٹ نے خود تسلیم کیا ہے کہ مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائ گئ، وہاں نماز ہوتی تھی اور ساتھ ہی کہا کہ 1949 میں مسجد کے اندر غیر قانونی طریقہ سے مورتی رکھی گئ، 1992 میں مسجد کو توڑنا بھی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ پھر بھی آخری فیصلہ میں کورٹ نے مسجد کی پوری زمین کو مندر کی تعمیر میں دے دیا اور مسلم فریق کو دوسری جگہ پر 5 ایکڑ زمین دینے کا حکم سرکار کو دیا ہے۔ اب ہم مسجد کے عوض میں ایودھیا میں کسی دوسری جگہ پر 5 ایکڑ زمین دینے کے حکم پر ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شریعت کے مطابق مسجد اللہ کا گھر ہے، جس کا مالک اللہ ہوتا ہے اور مسجد جس جگہ پر تھی تاقیامت وہیں مانی جائےگی اور اسے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ 5 ایکڑ کیا ؟ 500 ایکڑ زمین مسلمان خرید کر مسجد بنا سکتے ہیں مگر ہمیں سرکار کی خیرات میں دی گئ اس 5 ایکڑ زمین کی کوئ ضرورت نہیں۔ ہم پرامن طریقے سے انصاف کے لئے آئین اور قانون میں دیئے گئے آخری نقطہ تک کو استعمال کریں گے اور انصاف کے لئے سنگھرش جاری رکھیں گے۔
مولانا نے عوام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں،امن قائم رکھیں، افواہ نہ پھیلائیں اور نہ پھیلنے دیں۔ یہ قانونی لڑائ ہے اور اسے قانونی طریقے سے لڑا جائے گا۔ کونسل کارکنان سے گزارش ہے کہ سماج میں بھائ چارہ بنائے رکھنے کے لئے مؤثر رول ادا کرتے رہیں۔
*اشرف اصلاحی*
میڈیا انچارج
