*فاطمہ لطیف کی اندوہناک خودکشی*
نسل پرستانہ انسانیت دشمنی کی ایک اور شکار:
آج یہ خبر دل و دماغ کو جھنجھوڑ گئی ہےکہ فاطمہ نامی ہماری ایک ہونہار، جواں سال اور بےحد کامیاب اسکالر، نے خودکشی کرلی ہے
وہ بچی ہندوستان کے بہت بڑے تعلیمی انسٹیٹیوٹ IIT Madras میں طالبعلم تھی، وہ پڑھنے میں تیز، ذہین اور سرفہرست مقام حاصل کرنے والی تھی،
اس کے ساتھ مسلسل سوتیلا سلوک کیا جارہاتھا، اس بچی نے خودکشی سے قبل " سدرش " سمیت کئی ناموں کا اظہارکیا ہے جو اس کو ذہنی عذاب میں مبتلاء کیے ہوئےتھے
فاطمہ کو مسلمان ہونے کی بنا پر انسٹیٹیوٹ میں بدترین نفرتوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا
اس کے والد نے بیان میں بتلایا ہےکہ ان کی بچی کی موت مذہبی اور طبقاتی نفرت کی وجہ سے ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ:
" میری بیٹی کو اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ذات پات کی تفریق اور مذہبی تنفر کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، فاطمہ نے بتایا تھا کہ اس کا اپنا نام (فاطمہ) اس کی پرابلم بن چکاہے _
یہ زہریلا حال ہے ہندوستان میں ٹکنولوجی کی بڑی تعلیم گاہ کا، اس زہر نے ایک ۱۹ سالہ معصوم بچی کی جان لے لی، یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے، یہ پجاریوں کی انسانیت دشمن تعلیمات کا زہر ہے، یہ منو سمرتی کے جرائم میں سے ہے، یہ ہندوتوا کی شیطانیت ہے، اگر ایسا بدترین حال ہندوستان کے بڑے انسٹیٹیوٹ کا ہوچکاہے تو پھر بچا کیا ہے؟
یہ واقعہ کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے، کیا فاطمہ لطیف کو انصاف مل سکے گا؟ یا اجتماعی بے حسی بزدلی اور زندگی پرستی میں مزید ایک اور نحوست کا اضافہ ہوجائے گا؟
*سمیع اللّٰہ خان*
۱۳ نومبر، بروزبدھ: ۲۰۱۹
جنرل سیکرٹری: کاروانِ امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com
نسل پرستانہ انسانیت دشمنی کی ایک اور شکار:
آج یہ خبر دل و دماغ کو جھنجھوڑ گئی ہےکہ فاطمہ نامی ہماری ایک ہونہار، جواں سال اور بےحد کامیاب اسکالر، نے خودکشی کرلی ہے
وہ بچی ہندوستان کے بہت بڑے تعلیمی انسٹیٹیوٹ IIT Madras میں طالبعلم تھی، وہ پڑھنے میں تیز، ذہین اور سرفہرست مقام حاصل کرنے والی تھی،
اس کے ساتھ مسلسل سوتیلا سلوک کیا جارہاتھا، اس بچی نے خودکشی سے قبل " سدرش " سمیت کئی ناموں کا اظہارکیا ہے جو اس کو ذہنی عذاب میں مبتلاء کیے ہوئےتھے
فاطمہ کو مسلمان ہونے کی بنا پر انسٹیٹیوٹ میں بدترین نفرتوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا
اس کے والد نے بیان میں بتلایا ہےکہ ان کی بچی کی موت مذہبی اور طبقاتی نفرت کی وجہ سے ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ:
" میری بیٹی کو اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ذات پات کی تفریق اور مذہبی تنفر کا سامنا کرنا پڑرہا تھا، فاطمہ نے بتایا تھا کہ اس کا اپنا نام (فاطمہ) اس کی پرابلم بن چکاہے _
یہ زہریلا حال ہے ہندوستان میں ٹکنولوجی کی بڑی تعلیم گاہ کا، اس زہر نے ایک ۱۹ سالہ معصوم بچی کی جان لے لی، یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے، یہ پجاریوں کی انسانیت دشمن تعلیمات کا زہر ہے، یہ منو سمرتی کے جرائم میں سے ہے، یہ ہندوتوا کی شیطانیت ہے، اگر ایسا بدترین حال ہندوستان کے بڑے انسٹیٹیوٹ کا ہوچکاہے تو پھر بچا کیا ہے؟
یہ واقعہ کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے، کیا فاطمہ لطیف کو انصاف مل سکے گا؟ یا اجتماعی بے حسی بزدلی اور زندگی پرستی میں مزید ایک اور نحوست کا اضافہ ہوجائے گا؟
*سمیع اللّٰہ خان*
۱۳ نومبر، بروزبدھ: ۲۰۱۹
جنرل سیکرٹری: کاروانِ امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com
