گورنر نے ڈرامائی طو رپر فڈنویس اور اجیت پوار کو حلف دلایا
پولیٹیکل سرجیکل اسٹرائیک ! رات کے اندھیرے میں تیار کی گئی بی جے پی کی تخت نشینی کی سازش، اجیت پوار کو پارٹی سے نکال دیاگیا، مہاوکاس اگھاڑی کے اقتدار کا خواب چکنا چور، صدر راج ختم، ۳۰ نومبر کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت، گورنر کو فیصلے کو چیلنج کریں گے: اپوزیشن
بی جے پی نے جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑادیں: احمد پٹیل، بی جے پی کی حمایت پارٹی کا نہیں اجیت کا ذاتی فیصلہ: شرد پوار، کرکٹ اور سیاست میں سب کچھ ممکن: نتن گڈکری، مہاراشٹر کو مستحکم سرکار دیں گے: دیویندر فڈنویس، گورنر کو پھنسایاگیا سرکار ہماری ہی بنے گی: ادھو ٹھاکرے، ہمت ہے تو اکثریت ثابت کرکےدکھائو: سنجے رائوت
ممبئی 24؍ نو مبر ( عزیز اعجاز کی رپو رٹ)نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ہندوستان کی تاریخ میںرات کے اندھیرے میں بی جے پی کی تخت نشینی کی سازش تیار کر کے ایک ایسی ’’پو لیٹیکل سرجیکل اسٹرائیک ‘‘ کی گئی جس کا کسی کو گمان تک نہیں تھا اور اس طرح آج صبح سیاسی حلقوںکے ساتھ ساتھ ریاست کی عوام کے ہوش و حواس یہ سُن کر باختہ ہو گئے، جب راتوں رات سو دے بازی کے نتیجہ میں اِنتہائی خاموشی اور رازداری کیسا تھ ریاست کے گورنر بھگت سنگھ کو شیاری نے راج بھون میں آج صبح ٹھیک 8؍ بجکر 10؍ منٹ پر بی جے پی ل یندر فڈنویس کو’’ وزیراعلیٰ ‘‘اور این سی پی لیجسلٹیو پارٹی کے گروپ لیڈر’’ اجیت پوار‘‘ کوبحیثیت ’’نائب وزیراعلیٰ ‘‘ عہدہ اورراز داری کا حلف دلاکر مہاراشٹر کی سیاست میں بھو نچال مچا دیا ۔دریں اثناء گورنر نے وزیرا علیٰ کو ہدایت دی کہ وہ 30؍ نومبر 2019؍ کو مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں اکثریت ثابت کریں۔ اگرچہ ایک طرف بی جے پی لیڈر شپ اس بات کو لے کرپُر اعتماد ہے کہ وہ انتہائی آسانی کے ساتھ اکثریت ثابت کردیں گے ، وہیں اپو زیشن پارٹیاں کانگریس ۔ ایس سی پی اور شیو سینا کا دعویٰ ہے کہ ہم ریاستی اسمبلی کے ایوان میں بی جے پی کو شکست سے دو چار کریں گے ۔اس کے ساتھ ہی اپوزیشن لیڈران نے پو رے وثوق اور دعویًٰ کے ساتھ اعلان کیا کہ مہاراشٹر میں جلد ہی ’’مہا وکاس اگھاڑی ‘‘ کی حکو مت تشکیل دی جائے۔ دریں اثناءفڈنویس اور اجیت پوار کی حلف بر داری کے بعد آج دن بھر ممبئی شہر میں جاری میٹنگوں اور سیاسی اتھل پتھل کے درمیان جب میڈیا نے این سی پی صدر شرد پوار سے پو چھا تو انہوںنے واضح لفظوں میں کہا کہ بی جے پی کی حمایت کا فیصلہ میرا نہیںاور نہ ہی میری پارٹی کا ہے ۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ اجیت پوار کے ساتھ جانے والے ممبران اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بعد ازیںشرد پوار نے شیو سینا سربراہ اُدھو ٹھاکرے کے ساتھ یہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کانگریس، شیوسینا اور این سی پی نے مل بیٹھ کر مہاراشٹر میں حکومت بنانے کا فیصلہ کیا تھا ،لیکن جو صورتحال سامنے آئی ہے اُس میں پوری طور سے اجیت پوار کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پارٹی کے جو رکن اسمبلی اجیت پوار کے ساتھ جائیں گے ،اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں پوار نے کہا کہ ’’میرے ساتھ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے، مجھے فکر نہیں ہے۔ میرے پاس نمبر ہیں،اور ہم تینوں پارٹیاں مل کر ایک مستحکم حکومت بنائیں گے۔ انہوںنے بتایا کہ تینوں پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کے ساتھ ہی کچھ آزاد اُمیدوار کے تعاون سے شیو سینا کی قیادت میں مخلوط حکومت بن رہی تھی جس کی تعداد 170؍ تک جارہی تھی۔ لیکن اجیت پوار نے دھو کہ دے دیا ، پھر بھی مجھے یقین ہے کہ این سی پی کا کوئی بھی رکن اسمبلی اجیت پوارکے ساتھ نہیں جائے گا، اور محض اقتدار کی لاچ میں اگر کو ئی ایم ایل اے اجیت پو ار کے ساتھ جانے کی سوچ رہے ہیں، انہیں پارٹی مخالف قوانین کا علم ہونا چاہئےاُن کی ایم ایل اے شپ بھی جا سکتی ہے ۔
پولیٹیکل سرجیکل اسٹرائیک ! رات کے اندھیرے میں تیار کی گئی بی جے پی کی تخت نشینی کی سازش، اجیت پوار کو پارٹی سے نکال دیاگیا، مہاوکاس اگھاڑی کے اقتدار کا خواب چکنا چور، صدر راج ختم، ۳۰ نومبر کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت، گورنر کو فیصلے کو چیلنج کریں گے: اپوزیشن
بی جے پی نے جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑادیں: احمد پٹیل، بی جے پی کی حمایت پارٹی کا نہیں اجیت کا ذاتی فیصلہ: شرد پوار، کرکٹ اور سیاست میں سب کچھ ممکن: نتن گڈکری، مہاراشٹر کو مستحکم سرکار دیں گے: دیویندر فڈنویس، گورنر کو پھنسایاگیا سرکار ہماری ہی بنے گی: ادھو ٹھاکرے، ہمت ہے تو اکثریت ثابت کرکےدکھائو: سنجے رائوت
ممبئی 24؍ نو مبر ( عزیز اعجاز کی رپو رٹ)نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ہندوستان کی تاریخ میںرات کے اندھیرے میں بی جے پی کی تخت نشینی کی سازش تیار کر کے ایک ایسی ’’پو لیٹیکل سرجیکل اسٹرائیک ‘‘ کی گئی جس کا کسی کو گمان تک نہیں تھا اور اس طرح آج صبح سیاسی حلقوںکے ساتھ ساتھ ریاست کی عوام کے ہوش و حواس یہ سُن کر باختہ ہو گئے، جب راتوں رات سو دے بازی کے نتیجہ میں اِنتہائی خاموشی اور رازداری کیسا تھ ریاست کے گورنر بھگت سنگھ کو شیاری نے راج بھون میں آج صبح ٹھیک 8؍ بجکر 10؍ منٹ پر بی جے پی ل یندر فڈنویس کو’’ وزیراعلیٰ ‘‘اور این سی پی لیجسلٹیو پارٹی کے گروپ لیڈر’’ اجیت پوار‘‘ کوبحیثیت ’’نائب وزیراعلیٰ ‘‘ عہدہ اورراز داری کا حلف دلاکر مہاراشٹر کی سیاست میں بھو نچال مچا دیا ۔دریں اثناء گورنر نے وزیرا علیٰ کو ہدایت دی کہ وہ 30؍ نومبر 2019؍ کو مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں اکثریت ثابت کریں۔ اگرچہ ایک طرف بی جے پی لیڈر شپ اس بات کو لے کرپُر اعتماد ہے کہ وہ انتہائی آسانی کے ساتھ اکثریت ثابت کردیں گے ، وہیں اپو زیشن پارٹیاں کانگریس ۔ ایس سی پی اور شیو سینا کا دعویٰ ہے کہ ہم ریاستی اسمبلی کے ایوان میں بی جے پی کو شکست سے دو چار کریں گے ۔اس کے ساتھ ہی اپوزیشن لیڈران نے پو رے وثوق اور دعویًٰ کے ساتھ اعلان کیا کہ مہاراشٹر میں جلد ہی ’’مہا وکاس اگھاڑی ‘‘ کی حکو مت تشکیل دی جائے۔ دریں اثناءفڈنویس اور اجیت پوار کی حلف بر داری کے بعد آج دن بھر ممبئی شہر میں جاری میٹنگوں اور سیاسی اتھل پتھل کے درمیان جب میڈیا نے این سی پی صدر شرد پوار سے پو چھا تو انہوںنے واضح لفظوں میں کہا کہ بی جے پی کی حمایت کا فیصلہ میرا نہیںاور نہ ہی میری پارٹی کا ہے ۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ اجیت پوار کے ساتھ جانے والے ممبران اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بعد ازیںشرد پوار نے شیو سینا سربراہ اُدھو ٹھاکرے کے ساتھ یہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کانگریس، شیوسینا اور این سی پی نے مل بیٹھ کر مہاراشٹر میں حکومت بنانے کا فیصلہ کیا تھا ،لیکن جو صورتحال سامنے آئی ہے اُس میں پوری طور سے اجیت پوار کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پارٹی کے جو رکن اسمبلی اجیت پوار کے ساتھ جائیں گے ،اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں پوار نے کہا کہ ’’میرے ساتھ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے، مجھے فکر نہیں ہے۔ میرے پاس نمبر ہیں،اور ہم تینوں پارٹیاں مل کر ایک مستحکم حکومت بنائیں گے۔ انہوںنے بتایا کہ تینوں پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کے ساتھ ہی کچھ آزاد اُمیدوار کے تعاون سے شیو سینا کی قیادت میں مخلوط حکومت بن رہی تھی جس کی تعداد 170؍ تک جارہی تھی۔ لیکن اجیت پوار نے دھو کہ دے دیا ، پھر بھی مجھے یقین ہے کہ این سی پی کا کوئی بھی رکن اسمبلی اجیت پوارکے ساتھ نہیں جائے گا، اور محض اقتدار کی لاچ میں اگر کو ئی ایم ایل اے اجیت پو ار کے ساتھ جانے کی سوچ رہے ہیں، انہیں پارٹی مخالف قوانین کا علم ہونا چاہئےاُن کی ایم ایل اے شپ بھی جا سکتی ہے ۔
