*جامعة الزاهدة اسرولی میں سیرت و عام معلومات کوئز کمپٹیشن*
15/نومبر 2019 آئی این اے نیوز
مسلمان اور نیک انسان ہونے کی حیثیت سے نبوت و رسالت،اس کی تاریخ، اس کا پیغام اور اس کی حقیقت سے واقفیت از بس ضروری ہے ۔خصوصیت کے ساتھ بنی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور آپ کی حیات مقدسہ کے پاکیزہ اوراق سے واقفیت تو بے پناہ اہمیت کی حامل ہے۔اسی طرح موجودہ مسابقہ اور مقابلہ کے دور میں عام معلومات کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔اس کے بغیر کوئی امتحان یا مقابلہ پاس نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ عام معلومات پر نظر ایک مہذب، وسیع النظر اور تعلیم یافتہ انسان ہونے کی علامت ہے۔اس لئے دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کے لئے عام معلومات میں درک و کمال بھی ناگزیر ضرورت ہے ۔ چنانچہ اسی غرض و غایت اور مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے جامعہ الزاہدہ اسرولی میں پرائمری سطح پر *سیرت و عام معلومات کوئز کمپٹیشن* منعقد کیا گیا۔جس میں 40 طالبات نے پورے ذوق و شوق اور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا ۔ کمپٹیشن کا آغاز ثنا ابو احمر متعلمہ اول عربی کی پرسوز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔حنا ابو احمر متعلمہ اول عربی نے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔ اس کے بعد جامعہ کا خوبصورت اور بلند آہنگ ترانہ ثنا ابو احمر متعلمہ اول عربی اور حبیبہ ابو طالب متعلمہ سوم عربی کی مسحور کن آوازوں میں پڑھا گیا۔ افتتاحی کلمات کے طور پر جامعہ کے موقر اور بزرگ استاذ حدیث و ادب عربی جناب مولانا بدر جمال اصلاحی صاحب نے کمپٹیشن کی اہمیت و افادیت اور اس کی ضرورت پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار فرمایا اور منتظمین، معلمین و معلمات اور طالبات کو مبارک باد پیش کی۔ کمپٹیشن کل چار راونڈ میں ہوا ۔پہلے راونڈ میں 40 طالبات نے حصہ لیا جن میں سے 25 نے دوسرے راونڈ کے لیے اپنی اہلیت ثابت کی۔ تیسرے راونڈ کے لیے 14 طالبات کو اہل قرار دیا گیا۔ پہلے اور دوسرے راونڈ میں ہر طالبہ سے بالترتیب تین،تین اور پانچ، پانچ سوالات پوچھے گئے۔ چوتھے راونڈ کے لیے 5 طالبات نے کوالیفائی کیا۔ فائنل کا دلچسپ اور زوردار مقابلہ انہیں 5 نمایاں طالبات کے درمیان ہوا۔ جس میں *آمنہ بانو بنت محبوب عالم* درجہ پنجم مکتب نے اپنی عمدہ کارکردگی اور زبردست پیشکش سے اول انعام کیا۔ دوسرا انعام حاصل کرنے والی طالبہ کا نام *عائشہ بانو بنت معین الدین* درجہ پنجم مکتب ہے اور *اریبہ بانو بنت محمد نسیم* متعلمہ درجہ ششم مکتب اس کمپٹیشن میں تیسرا انعام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ چوتھا اور پانچواں انعام بالترتیب *آرزو بانو بنت فیضان احمد* درجہ ششم مکتب اور *مصباح بانو بنت رئیس احمد* درجہ ششم مکتب نے حاصل کیا۔کمپٹیشن کے آخر میں طالبات کو انعامات و اعزازات سے بھی سرفراز کیا گیا ۔پوزیشن ہولڈر طالبات کو عمدہ *ٹرافیز* کے ساتھ کمپٹیشن میں شریک تمام طالبات کو تشجیعی انعام کے طور پر *میڈل* سے نوازا گیا ۔انعامات کی تقسیم جامعہ کے معزز اساتذہ و معلمات کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ کمپٹیشن کے مخلتف راونڈز کو ناظم جامعہ جناب حافظ سعود احمد اعظمی اور محمد صادق اصلاحی، ندوی نے خوبصورتی سے کنڈکٹ کیا ۔ناظم جامعہ کی دعا پر کمپٹیشن کا اختتام ہوا۔
15/نومبر 2019 آئی این اے نیوز
مسلمان اور نیک انسان ہونے کی حیثیت سے نبوت و رسالت،اس کی تاریخ، اس کا پیغام اور اس کی حقیقت سے واقفیت از بس ضروری ہے ۔خصوصیت کے ساتھ بنی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور آپ کی حیات مقدسہ کے پاکیزہ اوراق سے واقفیت تو بے پناہ اہمیت کی حامل ہے۔اسی طرح موجودہ مسابقہ اور مقابلہ کے دور میں عام معلومات کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔اس کے بغیر کوئی امتحان یا مقابلہ پاس نہیں کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ عام معلومات پر نظر ایک مہذب، وسیع النظر اور تعلیم یافتہ انسان ہونے کی علامت ہے۔اس لئے دینی مدارس کے طلبہ و طالبات کے لئے عام معلومات میں درک و کمال بھی ناگزیر ضرورت ہے ۔ چنانچہ اسی غرض و غایت اور مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے جامعہ الزاہدہ اسرولی میں پرائمری سطح پر *سیرت و عام معلومات کوئز کمپٹیشن* منعقد کیا گیا۔جس میں 40 طالبات نے پورے ذوق و شوق اور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا ۔ کمپٹیشن کا آغاز ثنا ابو احمر متعلمہ اول عربی کی پرسوز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔حنا ابو احمر متعلمہ اول عربی نے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کیے۔ اس کے بعد جامعہ کا خوبصورت اور بلند آہنگ ترانہ ثنا ابو احمر متعلمہ اول عربی اور حبیبہ ابو طالب متعلمہ سوم عربی کی مسحور کن آوازوں میں پڑھا گیا۔ افتتاحی کلمات کے طور پر جامعہ کے موقر اور بزرگ استاذ حدیث و ادب عربی جناب مولانا بدر جمال اصلاحی صاحب نے کمپٹیشن کی اہمیت و افادیت اور اس کی ضرورت پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار فرمایا اور منتظمین، معلمین و معلمات اور طالبات کو مبارک باد پیش کی۔ کمپٹیشن کل چار راونڈ میں ہوا ۔پہلے راونڈ میں 40 طالبات نے حصہ لیا جن میں سے 25 نے دوسرے راونڈ کے لیے اپنی اہلیت ثابت کی۔ تیسرے راونڈ کے لیے 14 طالبات کو اہل قرار دیا گیا۔ پہلے اور دوسرے راونڈ میں ہر طالبہ سے بالترتیب تین،تین اور پانچ، پانچ سوالات پوچھے گئے۔ چوتھے راونڈ کے لیے 5 طالبات نے کوالیفائی کیا۔ فائنل کا دلچسپ اور زوردار مقابلہ انہیں 5 نمایاں طالبات کے درمیان ہوا۔ جس میں *آمنہ بانو بنت محبوب عالم* درجہ پنجم مکتب نے اپنی عمدہ کارکردگی اور زبردست پیشکش سے اول انعام کیا۔ دوسرا انعام حاصل کرنے والی طالبہ کا نام *عائشہ بانو بنت معین الدین* درجہ پنجم مکتب ہے اور *اریبہ بانو بنت محمد نسیم* متعلمہ درجہ ششم مکتب اس کمپٹیشن میں تیسرا انعام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ چوتھا اور پانچواں انعام بالترتیب *آرزو بانو بنت فیضان احمد* درجہ ششم مکتب اور *مصباح بانو بنت رئیس احمد* درجہ ششم مکتب نے حاصل کیا۔کمپٹیشن کے آخر میں طالبات کو انعامات و اعزازات سے بھی سرفراز کیا گیا ۔پوزیشن ہولڈر طالبات کو عمدہ *ٹرافیز* کے ساتھ کمپٹیشن میں شریک تمام طالبات کو تشجیعی انعام کے طور پر *میڈل* سے نوازا گیا ۔انعامات کی تقسیم جامعہ کے معزز اساتذہ و معلمات کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ کمپٹیشن کے مخلتف راونڈز کو ناظم جامعہ جناب حافظ سعود احمد اعظمی اور محمد صادق اصلاحی، ندوی نے خوبصورتی سے کنڈکٹ کیا ۔ناظم جامعہ کی دعا پر کمپٹیشن کا اختتام ہوا۔
