اب جو کھڑے ہوئے ہو، تو ڈٹے رہنا محاذ پر
ذوالقرنین احمد
9096331543
مودی حکومت اپنے ناجائز عزائم کو لیکر گوڈسے وادی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھی رہی ہے، یہ ملک کے حق میں بہت ہی خطرناک ثابت ہونے والا ہے۔ ایک طرف ملک معاشی تنزلی کی دہلیز کو چھو رہا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان کالج اور یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرکے نوکریوں کی تلاش میں در بدر بھٹک رہے ہیں۔ ملک میں سب سے بڑا انکم کا زریعہ زراعت پیشہ افراد قرضوں کے بوجھ تلے دب کر موت کو لگانے پر مجبور ہے۔ جرائم بڑھتے جارہے ہیں۔ پوری دنیا میں خواتین کے تحفظ کو لیکر ملک کی تھو تھو ہورہی ہیں۔ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ ایک عام انسان کے اہل خانہ کو دو وقت کی روٹی مشکل سے میسر ہوپارہی ہیں۔ تو کہی لاکھوں افراد ایک وقت کی روٹی کھا کر رات بھوکے گزار دیتے ہیں۔ مہنگائی آسمان چھورہی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت اپنے اقتدار کے نشے میں ایسے فیصلہ کر رہی ہے اور ایسے سیاہ قانون بنانے میں مگن ہے۔ جس کے نتائج انکے خواب و خیال میں بھی نہیں ہے۔
دوسری مرتبہ مرکزی اقتدار حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے ایسے قانون عوام پر مسلط کر رہی ہیں جس کا نا ملک کی ترقی سے کچھ لینا دینا ہے نا جس میں ملک کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اگر کچھ ہے تو صرف اور صرف ملک کی تباہی ہے اور تخریب کاری ہے۔ ملک کو توڑنے کی سازش ہیں۔ جس طرح انگریزوں نے پھوٹ ڈالوں اور حکومت کروں کی پالیسی اختیار کی تھی ٹھیک اسی طرح اپنے مداحوں کو اور اپنی کمیونٹی کو خوش کرنے کیلے ایک مخصوص قوم کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ تاکہ اس پر سیاست کی جائے اور آسانی سے اقتدار حاصل کیا جائے۔ یہ نظریہ بہت ہی خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ ملک میں ایسا لگ رہا ہے کے جمہوریت صرف اس لیے رہی گئی ہیں کہ 15 اگست اور 26 جنوری کو جھنڈا لہرا دیا جائے باقی ان فرقہ پرستوں تو بھارت کے آئین اور جمہوریت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ انکے دل میں جو آئے گا وہ کرے گے کیونکہ حکومت کی باگ ڈور ہی عوام نے انکے ہاتھ میں تھما دی ہے۔
ملک تخریب کاری کے مراحل سے گزر رہا ہے جو نظر تو آرہی ہے ہیں لیکن قانونی دھارے کو اور آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کو اس طرح غیر محسوس طریقے سے دھیرے دھیرے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کہ قانون کا ہی بھگوا کرن کہا جائے تو کوئی مزاحقہ نہیں ہوگا۔ آئین ہند کی انسانی حقوق سے متعلق اور انصاف پر مبنی قوانین کو ترمیم کردیا جارہا ہے۔ جیسے پچھلے دور اقتدار میں بی جے پی نے ہم جنس پرستی کا قانون کو جرائم کے زمرے سے باہر کردیا اسی طرح غیر ازدواجی جنسی تعلقات کو جائز قرار دے دیا گیا۔ طلاق ثلاثہ جو کہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہے اسے قانونی جرم میں قرار دیاگیا ہے۔ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کردیا گیا اور ابتک وہاں کی صورتحال عام روز مرہ کی زندگی کی طرح نہیں آ سکی ہے۔ غیر مدت ہڑتلا جاری ہے۔
حکومت اپنی سنگھی نظریات کو لے کر پوری چالاکی کے ساتھ ملک میں بھگوا کرن کر رہی ہیں۔ شہرہت ترمیمی بل جو غیر آئینی اور جمہوری نظام حکومت کے بلکل خلاف ہے جس میں ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اگر غیر ملکی غیر مسلم ہے تو اسی ہندوستان کی شہریت دے دی جائے گی لیکن اگر وہ مسلمان ہے تو اسے شہریت نہیں دی جائے گی یہ ہندوستان کے جمہوری نظام کی پامالی ہے۔ جبکہ 1949 میں جب آئین سازی کی جارہی تھی تب اس ملک میں سبھی کو برابری کے حقوق کا خیال ر کھا گیا، سبھی مذاھب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق ملک میں زندگی گزارنے کی آزادی دی گئی۔ سبھی کو بنیادی اور انسانی حقوق کی برابری کے حق دیے گئے ہیں۔ لیکن آج ملک میں ان تمام قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل کو پاس کیا گیا اسی طرح گزشتہ روز راجیہ سبھا میں 125 ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ شہریت ترمیمی بل کو پاس کرلیا گیا ہے جس پر صدر جمہوریہ کی دستخط کے بعد قانون شکل دے دی جائے گی۔ مطلب تقریباً یہ بل پاس ہوچکا ہے۔ حالانکہ یہ بل سراسر آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہیں۔ جس میں آئین ہند کی دفعہ 14 اور 15 کے خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جس مین کہاگیا ہے کہ ملک میں کسی بھی شہری کے ساتھ رنگ و نسل مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح موجودہ حکومت نے اپنی مسلم دشمنی اور سنگھی نظریات کی بنیاد پر اس کا خیال تک نہیں رکھا کہ وہ آئین ہند کو پامال کر رہی ہیں۔ آئین ہند کی دفعہ 13 میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی عمل بنیادی حقوق سے ٹکراتا ہے تو اسکی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ لیکن یہ فرقہ پرست بی جے پی حکومت نے اس بل کو اپنے زور اقتدار پر پاس کرلیا۔
سیکولرزم کا دم بھرنی والی پارٹیوں نے دونوں طرف ہاتھ رکھا کہ ان پر انگلیاں نا اٹھا سکے۔ اسی طرح کچھ نے بل کی مخالفت میں اپنا ووٹ دیا۔ لیکن پھر بھی ان ظالم فرقہ پرستوں کا پلڑا بھاری رہا۔ ان فرقہ پرستوں کی ذہنیت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں۔ میں کسی پارٹی کی ترجمانی نہیں کر رہا ہوں بلکہ اس بیان پر سوچ رہا ہوں جس میں ہمارے ملک کے وزیر داخلہ نے یہ بات کہی ہے کہ پاکستان میں میں ہندؤں اور سکھو پر ظلم ہورہا ہے۔ اور وہاں نوجوانوں کو جبرا مذہب تبدیل کروایا جارہا ہے اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہاں 428 ہندؤں عبادت گاہوں میں سے صرف 20 بچی ہیں۔ اس بات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہی نا کہی انکے دلوں میں انتقام کی آگ لگی ہوئی ہے۔ اس بات سے مسلم دشمنی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ یہ بل مسلمانوں کے خلاف ہر گز نہیں ہے۔ اور انہیں ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو بھر اس بل میں صرف مسلمانوں کو نظر انداز کیوں کیا گیا ہے۔ اگر مسلمانوں کو بھی اس میں داخل کیا جاتا تو ضرور کچھ اعتماد مل سکتا تھا۔ لیکن یہ بل پوری طرح ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے۔ یہ جبرا مسلط کرنے والا بل ہے۔ یہ سرکار ایک تو بانجھ ہوچکی ہے اور اسکے حکمران بھی بانجھ ہے۔ انسے ۵ سالوں میں وکاس تو دور بلکے ملک کی معیشت اور بھی تنزلی کا شکار ہوچکی ہے۔
یہ بل مذہبی منافرت کو واضح کرتا ہے دو قومی نظریہ کو تقویت دینے والا ہے۔ جبکہ ملک کی بنیاد ایک قومی نظریہ پر رکھی گئی تھی۔ آج ہندوستان پھر سے تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے۔ اگر اس وقت اس پر قابو نہیں پایا گیا تو وہ دن دور نہیں ہے کہ جناح کے خواب کی تعبیر حقیقت ثابت ہوگی۔ لیکن اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم تقسیم کے حق میں ہے بلکہ مسلمان ملک آئین کے مطابق جمہوری نظام پر اعتماد رکھتے ہیں وہ کسی پارٹی یا حکومت کے لیڈر سے نہیں ڈرتے ہیں ہم نے اس ملک کو اپنی پسند بنایا ناکہ پاکستان گئے یہ ملک ہماری پسند ہیں اور اسی میں ہم دفن ہوگے۔
آج پورا ہندوستان اس بل کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے علی گڑھ یونیورسٹی کے ہزاروں طلباء سڑکوں پر، آسام کی عوام سڑکوں پر ہیں مہاراشٹر ہر چھوٹے بڑے شہر میں اسکے خلاف احتجاج ہورہے ہیں، اس بل کو نظر آتش کیا جارہا ہے۔ کچھ سیکولر عوام مل کر اسکے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں کے زندہ دل جوانوں کی آواز ملک کے کونے میں پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ اب ملی تنظیموں کے سربراہان کے دفتروں میں زلزلے دیکھنے مل رہے ہیں۔ یہ انصاف پسند عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر غیر منصفانہ ظالمانہ قانون کے خلاف کھڑے ہونا بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے یہ جو چند ہمدردان قوم کھڑے ہوئے ہیں اب انہیں بیٹھنا نہیں چاہیے اب تمہاری ذمہ داری بڑھ چکی ہے۔ کیونکہ دل سے جو آواز نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ تمہارے آواز ہر انصاف پسند اور منصف عوام کے دلوں کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ یونہی یہ افراد اور تنظیمیں حرکت میں نہیں آئی ہے۔ اٹھ کے بزم جہاں کا کچھ اور ہی انداز ہے۔ مشرق و مغرب کی زمین تمہارے فتح کے جھنڈوں کیلے بے تاب ہے۔ اب جب تم نے کاندھوں پر ملک و ملت کا بوجھ اٹھا ہی لیا ہے تو تھک کر بیٹھ نا جانا تم ہی اب ایک انقلاب برپا کرنے والے ہو۔ جس طرح سے اس بل کے خلاف آواز بلند کی گئی اب اس شمع کو ہرگز بجھنے نہیں دینا۔ اگر اسی طرح شریعت میں مداخلت کے وقت آواز اس جیسی شدت کے ساتھ اٹھتی تو ضرور ان فرقہ پرستوں کے قلعوں میں زلزلے برپا ہوتی انکے دل کانپ جاتے۔ تمہارے آواز میں دم ہے اے نوجوانوں اب رکنا نہیں، ڈرنا نہیں ، لوٹنا نہیں، پیچھے مڑکر نہیں دیکھنا، اب آگے بڑھتے چلے جاؤ ایک نئی صبح تمہارے انتظار میں ہے۔ پوری قوم تم سے امید باندھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قوم کی بیک بون اسکے نوجوان ہوتے ہیں اب یہ بوڑھی قیادت صرف صلح مشورہ کے لیے رہ چکی ہیں تمہارے جزبات کو ترتیب دینے کیلے ضرور انکا استعمال کیجیے گا۔ لیکن اب تمہیں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ احتجاج ہوجانے کے بعد اپنے جزبات کو ٹھنڈے بستے مین ڈال کر نا سوجانا جاگتے رہو ، اور عزم و استقلال کے ساتھ کام جاری رکھو اس وقت تک لوٹنا مت جبتک انصاف نہ مل جائے، یا فتح کی جھنڈے نا گاڑ دو طارق بن زیاد، محمد بن قاسم بھی تمہاری طرح ہی نوجوان تھے۔ آج تم اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عدل و انصاف کے بیچ میں آنے والے تمام مشکلات کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دو یہی وقت ہیں تبدیلی کا۔ ورنہ کارواں گزر جائے گا اور غبار دیکھتے رہ جاؤ گے۔
ذوالقرنین احمد
9096331543
مودی حکومت اپنے ناجائز عزائم کو لیکر گوڈسے وادی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھی رہی ہے، یہ ملک کے حق میں بہت ہی خطرناک ثابت ہونے والا ہے۔ ایک طرف ملک معاشی تنزلی کی دہلیز کو چھو رہا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان کالج اور یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرکے نوکریوں کی تلاش میں در بدر بھٹک رہے ہیں۔ ملک میں سب سے بڑا انکم کا زریعہ زراعت پیشہ افراد قرضوں کے بوجھ تلے دب کر موت کو لگانے پر مجبور ہے۔ جرائم بڑھتے جارہے ہیں۔ پوری دنیا میں خواتین کے تحفظ کو لیکر ملک کی تھو تھو ہورہی ہیں۔ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔ ایک عام انسان کے اہل خانہ کو دو وقت کی روٹی مشکل سے میسر ہوپارہی ہیں۔ تو کہی لاکھوں افراد ایک وقت کی روٹی کھا کر رات بھوکے گزار دیتے ہیں۔ مہنگائی آسمان چھورہی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت اپنے اقتدار کے نشے میں ایسے فیصلہ کر رہی ہے اور ایسے سیاہ قانون بنانے میں مگن ہے۔ جس کے نتائج انکے خواب و خیال میں بھی نہیں ہے۔
دوسری مرتبہ مرکزی اقتدار حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے ایسے قانون عوام پر مسلط کر رہی ہیں جس کا نا ملک کی ترقی سے کچھ لینا دینا ہے نا جس میں ملک کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اگر کچھ ہے تو صرف اور صرف ملک کی تباہی ہے اور تخریب کاری ہے۔ ملک کو توڑنے کی سازش ہیں۔ جس طرح انگریزوں نے پھوٹ ڈالوں اور حکومت کروں کی پالیسی اختیار کی تھی ٹھیک اسی طرح اپنے مداحوں کو اور اپنی کمیونٹی کو خوش کرنے کیلے ایک مخصوص قوم کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ تاکہ اس پر سیاست کی جائے اور آسانی سے اقتدار حاصل کیا جائے۔ یہ نظریہ بہت ہی خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ ملک میں ایسا لگ رہا ہے کے جمہوریت صرف اس لیے رہی گئی ہیں کہ 15 اگست اور 26 جنوری کو جھنڈا لہرا دیا جائے باقی ان فرقہ پرستوں تو بھارت کے آئین اور جمہوریت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ انکے دل میں جو آئے گا وہ کرے گے کیونکہ حکومت کی باگ ڈور ہی عوام نے انکے ہاتھ میں تھما دی ہے۔
ملک تخریب کاری کے مراحل سے گزر رہا ہے جو نظر تو آرہی ہے ہیں لیکن قانونی دھارے کو اور آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کو اس طرح غیر محسوس طریقے سے دھیرے دھیرے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کہ قانون کا ہی بھگوا کرن کہا جائے تو کوئی مزاحقہ نہیں ہوگا۔ آئین ہند کی انسانی حقوق سے متعلق اور انصاف پر مبنی قوانین کو ترمیم کردیا جارہا ہے۔ جیسے پچھلے دور اقتدار میں بی جے پی نے ہم جنس پرستی کا قانون کو جرائم کے زمرے سے باہر کردیا اسی طرح غیر ازدواجی جنسی تعلقات کو جائز قرار دے دیا گیا۔ طلاق ثلاثہ جو کہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہے اسے قانونی جرم میں قرار دیاگیا ہے۔ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کردیا گیا اور ابتک وہاں کی صورتحال عام روز مرہ کی زندگی کی طرح نہیں آ سکی ہے۔ غیر مدت ہڑتلا جاری ہے۔
حکومت اپنی سنگھی نظریات کو لے کر پوری چالاکی کے ساتھ ملک میں بھگوا کرن کر رہی ہیں۔ شہرہت ترمیمی بل جو غیر آئینی اور جمہوری نظام حکومت کے بلکل خلاف ہے جس میں ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اگر غیر ملکی غیر مسلم ہے تو اسی ہندوستان کی شہریت دے دی جائے گی لیکن اگر وہ مسلمان ہے تو اسے شہریت نہیں دی جائے گی یہ ہندوستان کے جمہوری نظام کی پامالی ہے۔ جبکہ 1949 میں جب آئین سازی کی جارہی تھی تب اس ملک میں سبھی کو برابری کے حقوق کا خیال ر کھا گیا، سبھی مذاھب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق ملک میں زندگی گزارنے کی آزادی دی گئی۔ سبھی کو بنیادی اور انسانی حقوق کی برابری کے حق دیے گئے ہیں۔ لیکن آج ملک میں ان تمام قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل کو پاس کیا گیا اسی طرح گزشتہ روز راجیہ سبھا میں 125 ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ شہریت ترمیمی بل کو پاس کرلیا گیا ہے جس پر صدر جمہوریہ کی دستخط کے بعد قانون شکل دے دی جائے گی۔ مطلب تقریباً یہ بل پاس ہوچکا ہے۔ حالانکہ یہ بل سراسر آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہیں۔ جس میں آئین ہند کی دفعہ 14 اور 15 کے خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جس مین کہاگیا ہے کہ ملک میں کسی بھی شہری کے ساتھ رنگ و نسل مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح موجودہ حکومت نے اپنی مسلم دشمنی اور سنگھی نظریات کی بنیاد پر اس کا خیال تک نہیں رکھا کہ وہ آئین ہند کو پامال کر رہی ہیں۔ آئین ہند کی دفعہ 13 میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی عمل بنیادی حقوق سے ٹکراتا ہے تو اسکی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ لیکن یہ فرقہ پرست بی جے پی حکومت نے اس بل کو اپنے زور اقتدار پر پاس کرلیا۔
سیکولرزم کا دم بھرنی والی پارٹیوں نے دونوں طرف ہاتھ رکھا کہ ان پر انگلیاں نا اٹھا سکے۔ اسی طرح کچھ نے بل کی مخالفت میں اپنا ووٹ دیا۔ لیکن پھر بھی ان ظالم فرقہ پرستوں کا پلڑا بھاری رہا۔ ان فرقہ پرستوں کی ذہنیت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں۔ میں کسی پارٹی کی ترجمانی نہیں کر رہا ہوں بلکہ اس بیان پر سوچ رہا ہوں جس میں ہمارے ملک کے وزیر داخلہ نے یہ بات کہی ہے کہ پاکستان میں میں ہندؤں اور سکھو پر ظلم ہورہا ہے۔ اور وہاں نوجوانوں کو جبرا مذہب تبدیل کروایا جارہا ہے اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہاں 428 ہندؤں عبادت گاہوں میں سے صرف 20 بچی ہیں۔ اس بات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہی نا کہی انکے دلوں میں انتقام کی آگ لگی ہوئی ہے۔ اس بات سے مسلم دشمنی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ یہ بل مسلمانوں کے خلاف ہر گز نہیں ہے۔ اور انہیں ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو بھر اس بل میں صرف مسلمانوں کو نظر انداز کیوں کیا گیا ہے۔ اگر مسلمانوں کو بھی اس میں داخل کیا جاتا تو ضرور کچھ اعتماد مل سکتا تھا۔ لیکن یہ بل پوری طرح ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے۔ یہ جبرا مسلط کرنے والا بل ہے۔ یہ سرکار ایک تو بانجھ ہوچکی ہے اور اسکے حکمران بھی بانجھ ہے۔ انسے ۵ سالوں میں وکاس تو دور بلکے ملک کی معیشت اور بھی تنزلی کا شکار ہوچکی ہے۔
یہ بل مذہبی منافرت کو واضح کرتا ہے دو قومی نظریہ کو تقویت دینے والا ہے۔ جبکہ ملک کی بنیاد ایک قومی نظریہ پر رکھی گئی تھی۔ آج ہندوستان پھر سے تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے۔ اگر اس وقت اس پر قابو نہیں پایا گیا تو وہ دن دور نہیں ہے کہ جناح کے خواب کی تعبیر حقیقت ثابت ہوگی۔ لیکن اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم تقسیم کے حق میں ہے بلکہ مسلمان ملک آئین کے مطابق جمہوری نظام پر اعتماد رکھتے ہیں وہ کسی پارٹی یا حکومت کے لیڈر سے نہیں ڈرتے ہیں ہم نے اس ملک کو اپنی پسند بنایا ناکہ پاکستان گئے یہ ملک ہماری پسند ہیں اور اسی میں ہم دفن ہوگے۔
آج پورا ہندوستان اس بل کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے علی گڑھ یونیورسٹی کے ہزاروں طلباء سڑکوں پر، آسام کی عوام سڑکوں پر ہیں مہاراشٹر ہر چھوٹے بڑے شہر میں اسکے خلاف احتجاج ہورہے ہیں، اس بل کو نظر آتش کیا جارہا ہے۔ کچھ سیکولر عوام مل کر اسکے خلاف محاذ کھڑا کیے ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں کے زندہ دل جوانوں کی آواز ملک کے کونے میں پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ اب ملی تنظیموں کے سربراہان کے دفتروں میں زلزلے دیکھنے مل رہے ہیں۔ یہ انصاف پسند عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر غیر منصفانہ ظالمانہ قانون کے خلاف کھڑے ہونا بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے یہ جو چند ہمدردان قوم کھڑے ہوئے ہیں اب انہیں بیٹھنا نہیں چاہیے اب تمہاری ذمہ داری بڑھ چکی ہے۔ کیونکہ دل سے جو آواز نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ تمہارے آواز ہر انصاف پسند اور منصف عوام کے دلوں کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ یونہی یہ افراد اور تنظیمیں حرکت میں نہیں آئی ہے۔ اٹھ کے بزم جہاں کا کچھ اور ہی انداز ہے۔ مشرق و مغرب کی زمین تمہارے فتح کے جھنڈوں کیلے بے تاب ہے۔ اب جب تم نے کاندھوں پر ملک و ملت کا بوجھ اٹھا ہی لیا ہے تو تھک کر بیٹھ نا جانا تم ہی اب ایک انقلاب برپا کرنے والے ہو۔ جس طرح سے اس بل کے خلاف آواز بلند کی گئی اب اس شمع کو ہرگز بجھنے نہیں دینا۔ اگر اسی طرح شریعت میں مداخلت کے وقت آواز اس جیسی شدت کے ساتھ اٹھتی تو ضرور ان فرقہ پرستوں کے قلعوں میں زلزلے برپا ہوتی انکے دل کانپ جاتے۔ تمہارے آواز میں دم ہے اے نوجوانوں اب رکنا نہیں، ڈرنا نہیں ، لوٹنا نہیں، پیچھے مڑکر نہیں دیکھنا، اب آگے بڑھتے چلے جاؤ ایک نئی صبح تمہارے انتظار میں ہے۔ پوری قوم تم سے امید باندھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قوم کی بیک بون اسکے نوجوان ہوتے ہیں اب یہ بوڑھی قیادت صرف صلح مشورہ کے لیے رہ چکی ہیں تمہارے جزبات کو ترتیب دینے کیلے ضرور انکا استعمال کیجیے گا۔ لیکن اب تمہیں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ احتجاج ہوجانے کے بعد اپنے جزبات کو ٹھنڈے بستے مین ڈال کر نا سوجانا جاگتے رہو ، اور عزم و استقلال کے ساتھ کام جاری رکھو اس وقت تک لوٹنا مت جبتک انصاف نہ مل جائے، یا فتح کی جھنڈے نا گاڑ دو طارق بن زیاد، محمد بن قاسم بھی تمہاری طرح ہی نوجوان تھے۔ آج تم اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عدل و انصاف کے بیچ میں آنے والے تمام مشکلات کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دو یہی وقت ہیں تبدیلی کا۔ ورنہ کارواں گزر جائے گا اور غبار دیکھتے رہ جاؤ گے۔
