*نریندر مودی اورنتیش حکومت میں ملک کی بیٹیاں محفوظ نہیں۔ نظرعالم*
*عصمت دری کو روکنے کے لئے حکومت سخت قانون بنائے۔بیداری کارواں*
مدھوبنی :8 دسمبر 2019 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد
گزشتہ چند برسوں سے پورے ملک میں عصمت دری اور زندہ جلاکر مارڈالنے کی واردات سے بیٹیاں خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہی ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد عصمت دری اور زندہ جلاکر مارڈالنے کی واردات پیش آئی۔ ابھی یہ معاملہ کورٹ تک پہنچا ہی تھا کہ ملزمیں کو حیدرآباد پویس نے انکاؤنٹر میں مار گرایا۔ اس انکاؤنٹر پر بہت سارے سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ یہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے پریس بیان میں کہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب عدالت کی بجائے پولیس والے ہی فیصلہ کریں گے کیا۔ بہت سے لوگ عدالت میں فیصلہ تاخیر کے سبب پولیس کی اس کارروائی کو درست مان رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آخر عدالت میں تاخیر کیوں ہوتی ہے۔ اگر یہی پولیس والے ایمانداری سے مقدمہ کی جانچ کرکے بروقت جانچ رپورٹ سونپ دیں تو فیصلہ میں تاخیر کا مطلب نہیں بنتا۔ نظرعالم نے کہا کہ پولیس والوں نے جس بے باکی سے حیدرآباد میں انکاؤنٹر کرنے میں جلدبازی دکھائی کاش اُتنی ہی ایمانداری اور بے باکی مقدمہ جانچ میں دکھاتے تو آج ملک جرائم۔ عصمت دری۔قتل اور ڈکیتی جیسی واردات سے شرمسار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی حیدرآباد کا معاملہ تھما نہیں تھا کہ اناؤ میں عصمت دری کی شکار لڑکی کو ملزموں نے پیٹرول چھڑک کر جلادیا اور علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ عصمت دری کو روکنے کا حل انکاؤنٹر قطعی نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایسا سخت قانون بنائے کہ عصمت دری کرنے سے قبل لوگ سو بار سوچیں۔ انہوں نے بہار کی نتیش حکومت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہار میں سوشاسن کا دعویٰ کھوکھلا ہے۔ یہاں بھی آئے دن قتل۔ عصمت دری کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ بہار کی سرزمین ان دنوں خون میں لت پت ہے اور سوشاسن بابو فرضی جل جیون ہریالی یاترا پر پورے بہار کا دورہ کررہے ہیں لیکن جرائم کو قابو میں کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھارہے ہیں اور نہ ہی ان کی زبان کھل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد اور پولیس محکمہ بڑے پیمانے پر بہار کے امن و امان کو بگاڑنے کا کام کررہی ہے۔ بکسر۔ سمستی پور اور دربھنگہ کی واردات سے پورے بہار میں بے چینی ہے۔ بہار میں بھی خواتین اور بیٹیاں خودکوغیرمحفوظ محسوس کررہی ہیں۔
*عصمت دری کو روکنے کے لئے حکومت سخت قانون بنائے۔بیداری کارواں*
مدھوبنی :8 دسمبر 2019 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد
گزشتہ چند برسوں سے پورے ملک میں عصمت دری اور زندہ جلاکر مارڈالنے کی واردات سے بیٹیاں خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہی ہیں۔ حال ہی میں حیدرآباد عصمت دری اور زندہ جلاکر مارڈالنے کی واردات پیش آئی۔ ابھی یہ معاملہ کورٹ تک پہنچا ہی تھا کہ ملزمیں کو حیدرآباد پویس نے انکاؤنٹر میں مار گرایا۔ اس انکاؤنٹر پر بہت سارے سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ یہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے پریس بیان میں کہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب عدالت کی بجائے پولیس والے ہی فیصلہ کریں گے کیا۔ بہت سے لوگ عدالت میں فیصلہ تاخیر کے سبب پولیس کی اس کارروائی کو درست مان رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آخر عدالت میں تاخیر کیوں ہوتی ہے۔ اگر یہی پولیس والے ایمانداری سے مقدمہ کی جانچ کرکے بروقت جانچ رپورٹ سونپ دیں تو فیصلہ میں تاخیر کا مطلب نہیں بنتا۔ نظرعالم نے کہا کہ پولیس والوں نے جس بے باکی سے حیدرآباد میں انکاؤنٹر کرنے میں جلدبازی دکھائی کاش اُتنی ہی ایمانداری اور بے باکی مقدمہ جانچ میں دکھاتے تو آج ملک جرائم۔ عصمت دری۔قتل اور ڈکیتی جیسی واردات سے شرمسار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی حیدرآباد کا معاملہ تھما نہیں تھا کہ اناؤ میں عصمت دری کی شکار لڑکی کو ملزموں نے پیٹرول چھڑک کر جلادیا اور علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ عصمت دری کو روکنے کا حل انکاؤنٹر قطعی نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایسا سخت قانون بنائے کہ عصمت دری کرنے سے قبل لوگ سو بار سوچیں۔ انہوں نے بہار کی نتیش حکومت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہار میں سوشاسن کا دعویٰ کھوکھلا ہے۔ یہاں بھی آئے دن قتل۔ عصمت دری کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ بہار کی سرزمین ان دنوں خون میں لت پت ہے اور سوشاسن بابو فرضی جل جیون ہریالی یاترا پر پورے بہار کا دورہ کررہے ہیں لیکن جرائم کو قابو میں کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھارہے ہیں اور نہ ہی ان کی زبان کھل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد اور پولیس محکمہ بڑے پیمانے پر بہار کے امن و امان کو بگاڑنے کا کام کررہی ہے۔ بکسر۔ سمستی پور اور دربھنگہ کی واردات سے پورے بہار میں بے چینی ہے۔ بہار میں بھی خواتین اور بیٹیاں خودکوغیرمحفوظ محسوس کررہی ہیں۔
