اردو صحافت کا اعتبار تھے حفیظ نعمانی
حفیظ نعمانی کا انتقال اردو صحافت کا ایک بڑا خسارہ ہے.ان کی تحریریں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی تھی.وہ حق اور سچ لکھتے تھے.بے خوف ,بے لاگ اور اخلاقی جراءت کے ساتھ لکھتے تھے.ان کا خاندانی پس منظر عالموں اورجسارت مندوں کا تھا.انہوں نے اردو کا اعتبار تھے.سب سے سینئر اردو صحافی تھے.آج کے بوڑھے ہوتے صحافیوں کے آئیڈیل تھے.انہوں نے نئے ڈھلتی عمر کے صحافیوں کی ذہنی اور فکری رہنمائ کی ہے.ان کے قلم میں شاہجہانی تھی.وہ اردو صحافت کے آخری تاجدار تھے.بے باک,بے خوف اور بے لاگ لکھتے تھے.ان کی فکر واضح اور روشن تھی.ملک,ملت اور قوم کی بھلائی کے لیے ان کا قلم تھا.نا برابری ,ناہمواری اور ظلم و زیادتی کے خلاف ان کا قلمی جہاد تار نفس ٹوٹنے تک جاری تھا.
اس مرد حر کو آخری سلام.اللہ اس کے لیے جنت لازم کرے.آمین
حکیم وسیم احمد اعظمی
حفیظ نعمانی کا انتقال اردو صحافت کا ایک بڑا خسارہ ہے.ان کی تحریریں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی تھی.وہ حق اور سچ لکھتے تھے.بے خوف ,بے لاگ اور اخلاقی جراءت کے ساتھ لکھتے تھے.ان کا خاندانی پس منظر عالموں اورجسارت مندوں کا تھا.انہوں نے اردو کا اعتبار تھے.سب سے سینئر اردو صحافی تھے.آج کے بوڑھے ہوتے صحافیوں کے آئیڈیل تھے.انہوں نے نئے ڈھلتی عمر کے صحافیوں کی ذہنی اور فکری رہنمائ کی ہے.ان کے قلم میں شاہجہانی تھی.وہ اردو صحافت کے آخری تاجدار تھے.بے باک,بے خوف اور بے لاگ لکھتے تھے.ان کی فکر واضح اور روشن تھی.ملک,ملت اور قوم کی بھلائی کے لیے ان کا قلم تھا.نا برابری ,ناہمواری اور ظلم و زیادتی کے خلاف ان کا قلمی جہاد تار نفس ٹوٹنے تک جاری تھا.
اس مرد حر کو آخری سلام.اللہ اس کے لیے جنت لازم کرے.آمین
حکیم وسیم احمد اعظمی
