اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: شہر مونگیر میں ایک شب وروز دوسری قسط شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 12 December 2019

شہر مونگیر میں ایک شب وروز دوسری قسط شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

شہر مونگیر میں ایک شب وروز

دوسری قسط

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

امارت شرعیہ سے تقریباً ساڑھے دس بجے ہم اپنے مستقر ریلوے کالونی پہونچ گئے، ہمارے میزبان محترم شکیل چچا نے اپنے ملازم کو ہمارے کھانے کے انتظام کا حکم دے رکھا تھا تھوڑی دیر وہ مچھلی سبزی اور دیگر اقسام پر مشتمل پر تکلف کھانا حاضر کردیا میزبان نے بڑی محبت اور مکمل اہتمام سے کھانا کھلایا ان کی دلچسپی محبت اور ضیافت سے طبیعت میں ان کی عظمت کا نقش قائم ہوچکا تھا کھانے کے بعد ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ساڑھے گیارہ ہونے کو تھا ٹرین کا بھی وقت ہوچکا تھا مجھے حیرت تھی کہ اس قدر اطمینان سے کیوں بیٹھے ہیں'معلوم ہوا کہ موبائل کے ذریعے وہ ٹرین کی مسافت سے بالکل باخبر ہیں'،دس منٹ بعد اپنے ڈرائیور کو فون کیا وہ گاڑی لیکر حاضر ہو گیا میزبان کی معیت میں اسٹیشن آئے گوہاٹی ایکسپریس آئی اور محترم شکیل صاحب کی محبت وعنایات کی خوشگوار سوغات کے ساتھ روانہ ہوگئے۔

صوبہ بہار کے بارے میں سنا تھا کہ یہاں ٹرینوں میں ریزرویشن کوئی معنیٰ نہیں رکھتا اس کی تصویر اس ٹرین میں دیکھنے کو ملی ٹرین آئی تو بھیڑ کی وجہ سے اپنے ڈبے میں ہم سوار نہ ہو سکے کسی طرح پیچھے والے ڈبے میں چڑھے لیکن اپنی سیٹ پر نہ جاسکے کھڑے کھڑے دروازے پر ہی پٹنہ آئے یہاں ایک بھیڑ اتری
ہم بھی اتر کر اپنی بوگی میں آئے کسی طرح بیٹھنے کی جگہ مل سکی اسی کو یہاں کے ماحول میں غنیمت سمجھا۔ اس بے ہنگم بھیڑ کی وجہ ایک تو یہ سمجھ میں آئی کہ عوام کے پاس ٹراولنگ کے ذاتی ذرائع نسبتاً بہت کم ہیں ،دوسرے لوکل ٹکٹ لیکر اے سی ڈبوں میں بیٹھنے کی جرأت ٹی سی کی لاپرواہی ہے وہ آتے ہیں ریزرویشن ناموں کو پکارتے ہیں اور جنرل والوں کی بھیڑ سے کسی قسم کا تعرض نہیں کرتے،بہرحال شام چھ بجے ہم جمال پور جنکشن پہونچے۔یہاں ہمارے رفقاء مولانا عبداللہ اعظمی اور مولانا صابر اعظمی منتظر ہونے کو تھے وہ بھاگلپور اپنے استاد مولانا شمس پرویز سابق استاذ جامعہ فیض عام دیوگاؤں اعظم گڈھ کے دولت کدے پر کل ہی سے تشریف فرما تھے اور اس وقت انٹر سٹی ایکسپریس سے جمال پور ہی آرہے تھے اتفاق سے ہماری ٹرین کچھ پہلے آئی اور مخالف سمت سے وہ لوگ آدھے گھنٹے بعد آئے ،ملاقات کے بعد فوراً باہر آئے اور کنوینیر کی رہنمائی کے مطابق ایک آٹو ریزو کر کے مونگیر کی طرف چل پڑے یہاں سے مونگیر شہر تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،آٹو اچھی رفتار سے دوڑتا رہا ،دس کلومیٹر کا یہ راستہ انتہائی ہموار اور بہترین ہے' پر پیچ اور مخدوشیت کے اس تصور کو جھٹلا رہا ہے جو قدیم وجدید سماعتوں کے نتیجے میں ذہن ودماغ میں راسخ تھا،ساڑھے سات بجے ہم رحمانی فاؤنڈیشن پہونچے،

رحمانی فاؤنڈیشن۔۔۔۔۔

یہ ایک بافیض اور علمی و مرکزی ادارہ ہے اور اعلیٰ قسم کی دانشگاہ بھی،بالکل لب روڈ پر واقع اس کی عمارتیں بڑی جاذب نظر اور اسلامی فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں'،شاہراہ پر ایستادہ گیٹ کے بالکل سامنے مرکزی اور قدیم عمارت ہے سامنے وسیع وعریض صحن میں بڑے سلیقے سے سبزہ زار اور گلزاروں کی کیاریاں ہیں'جو اس کے حسن میں اضافے کا باعث ہیں'،طرز تعمیر کو دیکھ کر اس ادارے کے اساطین وزعماء ملت کے اعلیٰ ذوق اور ان کی دانشورانہ حسن طبیعت پر طبیعت عش عش کر اٹھی، اس مرکزی عمارت کی ساخت ہیئت دارالمصنفین شبلی اکیڈمی سے بالکل ملتی جلتی ہے۔بائیں سمت کی طویل عمارت بی ایڈ کالج کا کلاس روم ہے'اور چار منزل پر مشتمل ہے جس میں منت اللہ رحمانی ہال ہے'اسی ہال میں سمینار کا انعقاد ہونا تھا، یہ تعمیر بھی جدید انداز کی خوبصورت اور دلکش ہے۔
فاؤنڈیشن کی عمارت کے سامنے استقبالیہ ٹیبل لگے تھے سردی کے متعلق دل خوفزدہ تھا مگر یہاں موسم خاصا معتدل تھا سردی تھی مگر گلابی۔۔۔
یہاں حاضر ہو کر ناموں کا اندراج ہوا کاغذات اور فائلیں حاصل ہوئیں،اس کے بعد خانقاہ رحمانی آئے جو فاؤنڈیشن سے تقریباً آدھا کلومیٹر پہلے ہے'شہر میں داخل ہوتے وقت پہلے اسی کی زیارت ہوتی ہے'اس ادارے میں دورہ حدیث کے علاوہ دوسری تکمیلات کا نظم ہے'اس کی پر رونق اور بافیض فضاؤں نے ان گنت سیاروں کو تراشا ہے'بے شمار فکر وفن کے آفتاب اس افق سے طلوع ہوئے ہیں،ماضی قریب کے مفکر حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور عصر حاضر کے اسلامی اسکالر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا نام لینا اس دعوے کے ثبوت کے لئے کافی ہے' ۔
یہی وہ دانشگاہ ہے'اور میکدہ ہے'جہاں سے روحانیت اور معرفت کی نہریں رواں ہوئیں تو علاقے کے علاقے اور خطہ ہائے صحرا صفت کو سیراب کرتی چلی گئیں۔ادارہ بہت وسیع اراضی پر پھیلا ہوا ہے' مختلف قدیم وجدید عمارات پر مشتمل ہے،مرکزی عمارت جو چار منزل کی ہے' اوپر شاندار گنبد ہے جس سے اس کی وجاہت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے' اس کے علاوہ ایک بلڈنگ بالکل جدید ترین طرز کی ہے'اور غالباً پانچ منزلہ ہے'۔ان عمارتوں کے درمیان ایک خوبصورت مسجد ہے'اس کے جنوبی سمت میں وہ حضیرہ ہے'جس میں پیکر روحانیت اور تاریخ ساز شخصیت محمد علی مونگیری آسودہ خاک ہیں'۔
اس سے متصل خانقاہ رحمانی ہے'جہاں آج بھی مولانا محمد ولی رحمانی کے ذریعے عرفان واحسان کی سوغات تقسیمِ ہوتی ہے'
خانقاہ کے صحن میں کھانے کا نظم تھا اور جدید انداز اور ماڈرن طرز کا تھا جس طرح ہوٹلوں میں رائج ہے یعنی ایک طرف اسٹال کی شکل میں کھانا رکھ دیا جائے کھانے والے ضرورت کے بقدر خود سے لیں اور اپنی کرسی پر بیٹھ کر کھائیں ایک ٹیبل پر کرسیاں خالی تھیں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہم بیٹھے معلوم ہوا ویفر سسٹم ہے' تمام رفقاء کھانا لانے اسٹال پر گئے اور جب لےکر آئے تو کرسیوں پر دوسرے لوگ براجمان تھے۔برآمدے میں جگہ تھی وہیں بیٹھ کر کھا لیا گیا،یہ جدید انداز کیوں اخیتار کیا گیا معلوم نہیں لیکن ہم کہ سکتے ہیں کہ ہماری طرح اور بھی بہت سے لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا۔ایک ایسی درسگاہ جو سنت و شریعت کی صرف علمبردار نہیں بلکہ ترجمان بھی ہو اور صدیوں پر اس کی خدمات محیط ہواس کے پلیٹ فارم سے اس طرح کی جدت طرازی کچھ عجیب سی لگی۔کھانے سے فارغ ہوئے تو
  ہمیں شہر میں موجود ہوٹل،،راج،،میں پہونچا دیا گیا ہمارے عزیز مولانا عرفات ابن رئیس القلم مولانا ا عجاز احمد اعظمی اور استاذ محترم حاجی بابو بھی مدعو تھے مولانا عرفات تو ساڑھے دس بجے تشریف لائے اور اندراج کی کارروائی اور طعام وغیرہ سے فراغت کے بعد انہیں ایک دوسرے میں ٹھہرایا گیا ۔
صبح ناشتہ کے وقت گاڑی آئی اور فاؤنڈیشن کے احاطے میں لائی یہیں استاذ مکرم حاجی بابو مولانا ضیاء الدین قاسمی ندوی مولانا عرفات صاحب سے ملاقات ہوئی ساتھ میں ناشتہ ہوا اور نو بجے سیمینار کی کاروائی منت اللہ ہال میں شروع ہوچکی تھی وہاں حاضر ہوگئے۔
سیمینار کی نظامت مولانا ظفر رؤف رحمانی صاحب کررہے تھے تقریباً ڈیڑھ سو مقالہ نگار شریک تھے جس میں زیادہ تر صوبہ بہار کے ادارے کے ہی تھے اس کے علاوہ دارالعلوم دیوبند ندوۃ العلماء لکھنؤ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جامعہ ملیہ،پنجاب یونیورسٹی، پٹنہ یونیورسٹی بہار کے مختلف اخبارات کے ایڈیٹران نیز مصر کے علما بھی تھے۔
پہلی نشست نو بجے سے شروع ہو کر دو بجے تک چلی جس میں عموماً اہل بہار اور دارالعلوم دیوبند سے آئے ہوئے مقالہ نگاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں،
نشست اول کے اختتام پر کھانے کا دور چلا اور متعینہ گاڑیوں کے ذریعے ہم اپنے مستقر پر آگئے،ظہر کی نماز پڑھ کر مولانا عرفات کے روم میں  تھوڑا آرام کیا اس کے بعد اپنے ہوٹل میں آئے ۔
مغرب کے بعد پھر سیمینار ہال میں حاضر ہوئے مقالہ نگاروں کی کثرت اور وقت کی قلت اچھے خاصے پروگرام کو مختل کردیتی ہے'اس لیے بار بار اعلان اختصار کے باوجود اکثر حضرات نے اپنا حق سمجھ کر اچھا خاصا وقت لیا ایسے مواقع پر سختی سے کام لینا چاہیے اور منٹ کے اعتبار سے وقت کا تعین کرنا چاہیے اس آخری نشست میں ڈیڑھ گھنٹے بعد استاذ محترم حاجی بابو کا نمبر آیا اور کچھ دیر حقیر کا نمبر آیا مختصر سے وقت میں اپنے دونوں مقالے کا ذکر کیا اور ذیلی عناوین اور مندرجات پر ہلکی سی روشنی ڈالکر اختتامی تحریر پڑھ کر رخصت لے لی،ناچیز کا مقالہ چونکہ طویل تھا اور مولانا محمد علی مونگیری کی رد قادیانیت پر جو فتوحات تھیں انہیں تفصیلی طور پر اجاگر کیا گیا تھا اس لیے اس کے صفحات اسی سے متجاوز ہوگئے علاوہ ازیں پچیس تیس صفحات پر مشتمل تصوف کے موضوع پر علحیدہ مضمون مستزاد، شاید یہی وجہ تھی کہ کنوینیر نے آواز دیتے وقت ان الفاظ صراحت کی کہ،،
ان کا مقالہ اس قدر طویل مفصل ہے'کہ ان دو مقالوں کو علیحدہ کتابی شکل دی جاسکتی ہے،،

سیمینارساڑھے دس بجے اختتام کو پہنچا ایک اہم سعادت ہمارے لئے یہ تھی کہ مولانا الیاس ندوی بھٹکلی سے ملاقات ہوئی مولانا ضیاء الدین قاسمی صاحب نے ان سے ناچیز کا تعارف کرایا میری تحریروں کی بڑے عظیم الشان لفظوں سے تعریف کی اس کے علاوہ مولانا فیصل ندوی بھٹکلی شیخوپور اعظم گڈھ کے استاذ مولانا خورشید صاحب دیناجپوری اور بہت سے علماء سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

سیمینار اس لحاظ سے کامیاب رہا کہ ممدوح کی تقریباً تمام جہتوں پر مفصل تحریریں جمع ہوگئیں وہ پہلو بھی روشنی میں آگئے جو ان پر لکھی جانے والی سیرت میں نہیں آسکے تھے وہ گوشے بھی اجاگر ہوگئے جو اب تک وقت کی دبیز تہوں میں چھپے ہوئے تھے بلا شبہ یہی سمینار کا مقصد ہے'اور یقینا یہ مقصد حاصل ہے'۔تاہم اس بات کا بھی احساس ہوا کہ بہت سے مقالہ نگاروں کی تحریریں اس قدر سطحی تھیں وہ کسی طرح ایسے عالمی سیمینار کے قابل نہیں تھیں بس فارمیلٹی پورا کرنے کے لئے انہوں نے معروف کتاب سیرت محمد علی سے اقتباس نقل کرکے سنا دئیے کام ہوگیا ،ایک سیمینار کے لئے میری نگاہ میں دوچار صفحات اکابرین کے لئے تو بحیثیت تہینیت وپیغامات مناسب تو ہوسکتے ہیں مگر ایک مقالہ نگار کے لئے کسی طرح زیب نہیں دیتا
لیکن افسوس یہاں ہم نے دیکھا کہ بڑی بڑی عصری دانشگاہوں سے آنے والے اور جرائد و اخبارات مدیران نے چار پانچ صفحہ کا مضمون لکھ کر سرخرو ہو گئے ممکن ہے یہاں ان کے عہدوں اور بلند ناموں کا اثر ہو۔

پروگرام ختم ہونے سے پہلے ہی ساڑھے نو بجے ہم کھانے سے فارغ ہوگئے اور مولانا ضیاء الدین صاحب اور ان کے رفقاء پہلے ہی رہائش گاہ جاچکے تھے حاجی بابو کی معیت میں ہماری جماعت آٹو کے ذریعے قیام گاہ آئی
مولانا عرفات اور حاجی بابو جس ہوٹل میں تھے وہ ہماری رہائش گاہ سے پہلے ہی پڑتا تھا میں یہیں رک گیا مولانا عبداللہ وغیرہ اپنے مستقر پر پہونچے،یہیں روم میں عشاء کی نماز ادا کی گئی نماز بعد حاجی بابو کی ظرافت سے مجلس قہقہہ زار تھی ایک گھنٹے بعد محترم عرفات صاحب کے ساتھ پیدل اپنے مستقر کی طرف روانہ ہوا شہر کے درمیان سے گذرتے ہوئے احساس ہوا کہ مسلم آبادی بہت کم ہے کہیں مسجد نظر نہیں آئی۔ایک طالب علم سے معلوم کیا گیا تو اس نے بتایا کہ ایک مسجد ہے مگر بہت اندر ہے'
شہر کی اکثریت ہندو مت پر عمل پیرا ہے'لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ خانقاہ رحمانی کی عظمت ان کے دلوں پر آج اس دور تنافر میں بھی نقش ہے' جس دکان پر جانے کا اتفاق ہوا ان کی بات لہجے اور کردار سے محسوس ہوا کہ یگانگت ورواداری کی شمعیں اس علاقے میں روشن ہیں علماء کا احترام غیروں کے یہاں بھی موجود ہے یقیناً یہ حضرت مونگیری اور ان کے خلفاء وجانشین کی انسانیت نوازی ہی کا اثر ہے'۔

ساڑھے گیارہ بجے ادارے کی گاڑی آئی اور خیرآبادکے قافلے کے ساتھ اپنے رفقاء کے ساتھ ہم اسٹیشن آئے حسن اتفاق سے فرکا ایکسپریس ان حضرات کا بھی ٹکٹ کا صبح میں استاذ محترم حاجی بابو اپنے قافلے کے ہمراہ بکسر اتر گئے۔
مولانا عرفات صاحب میرے ساتھ ہی تھے وہ زمانیہ غازی پور اترے اور ہم چار افراد کا قافلہ مولانا صابر مولانا عبد اللہ مفتی کامران اور ناچیز مغل سرائے اترے،اول الذکر حضرات بنارس کی طرف آئیندہ کی ملاقات کے عہد کے ساتھ روانہ ہوگئے۔
اور راقم مفتی صاحب کے ساتھ مغل سرائے شہر میں موجود ان کے گھر آیا ناشتہ سے فارغ ہوکر تھوڑا آرام کیا یہیں مولانا مفتی نیاز صاحب تشریف لائے ایک زمانے کے بعد ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا شیخوپور کے فیض یافتہ ہیں اور یہیں اپنے وطن میں تدریس میں مشغول ہیں'،دو بجے کھانا کھا کر اسٹیشن روانہ ہو ئے نماز پڑھی اور ڈھائی بجے روانہ ہونے والی کرلا پٹنہ راجیندر نگر ایکسپریس سے ممبئی کے لئے مذکورہ لمحات اور دوستوں استاذوں کی صحبتوں کی خوشگوار یادوں کے ساتھ ممبئی روانہ ہوگیا۔