شہر مونگیر میں ایک شب وروز
قسط اول
از شر ف الد ین عظیم قاسمی الاعظمی
تاریکیاں جب دراز ہوجاتی ہیں،شب دیجور جب خوفناک صورت اختیار کرلیتی ہے تو سحر کی روشنی نمودار ہوتی ہے،اور اس کی کرنوں سے تاریکیوں کی دبیز چادریں چاک ہوجایا کرتی ہیں،1857کے بعد بر صغیر میں غلامی کی تاریکیاں اس قدر ہولناک اور دبیز تھیں کہ امیدوں کے تمام چراغ بجھ گئے تھے،ماحول کی سفاکیت،انگریزی ستم رانیوں کے سلسلے اس قدر طویل تھے کہ مذہب سے لیکر تہذیب وتمدن تک کی تمام منزلیں روپوش ہو چکی تھیں،لیکن قدرت کی یہ کرشمہ سازی تھی کہ انھیں دلخراش ایام میں لمحہ بہ لمحہ عشق ووفا اور جہد واستقامت کے ایسے ایسے قافلے رونما ہوتے رہے جنہوں نے اپنی بے لوث قربانیوں اور لاثانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ملت کے تحفظ وبقا کی راہیں نہ صرف دریافت کیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ان شاہراہوں میں روشن مشعلیں بھی چھوڑ گئے۔
انھیں کارواں میں ایک نام قظب عالم مولانا محمدعلی مونگیری کا بھی ہے جن کے کثیر الجہات کارناموں نے انہیں سالار کارواں کے منصب پر فائز کیا ہے'
زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کے کارناموں کی وسعت اور تنوع کے باوجود وقت کی گردشوں نے ان کی شخصیت کو اس طرح روپوش کردیا تھا کہ مخصوص طبقے میں اس کی روشنی قید ہو کر رہ گئی تھی ،ان کی عظمت کا تقاضا تھا کہ ان کے نقوش کو اجاگر کیا جائے، اس اہم کام کا بیڑا انہیں کے لگائے ہوئے پودے جو آج رحمانی فاؤنڈیشن کےچمن زاروں کی صورت میں چہار سو خوشبو بکھیر رہا ہے،کے ذمہ دار مولانا ظفر رؤف رحمانی صاحب نے اٹھایا۔
آج سے تقریباً تین ماہ قبل ان کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا کہ مذکورہ شخصیت کے حیات وکارنامے کے عنوان سے 8/دسمبر کو عالمی سیمینار منعقد ہو رہا ہے'اور اس پر مقالہ لکھنا ہے'، ایک عظیم شخصیت پر قلم اٹھانا ناچیز نے سعادت سمجھا اور دو مختلف موضوعات پرمفصل مقالے لکھے جو تقریباً ایک سو دس صفحات پر مشتمل ہیں'۔
5/دسمبر کو راقم الحروف ممبئی سے کرلا پٹنہ سوپر فاسٹ ایکسپریس سے مونگیر کے لئے روانہ ہوا دوسرے روز رات ساڑھے بارہ بجے مغل سرائے پہونچا یہاں ہمارے دوست اور رفیقِ درس مفتی کامران صاحب منتظر تھے اور اسی ٹرین سے ان کا بھی مونگیر کا سفر تھا، چوبیس گھنٹے کی تنہائی کے جب ان سے ملاقات ہوئی تو طبیعت کھل اٹھی، گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو ایسا دراز ہوا کہ پٹنہ آگیا اور وقت کا احساس تک نہ ہوا سحر کے وقت چار بجے پٹنہ سے ایک اسٹیشن قبل دانا پور اتر گئے،منصوبے کے مطابق یہاں دوپہر تک قیام تھا،مفتی صاحب کے ایک عزیز محترم شکیل چچا جو یہیں ریلوے کے کسی محکمہ میں آفیسر ہیں'وہ ریسیو کرنے اسٹیشن پر آئے اور اپنی قیام گاہ جو ریلوے کالونی کی شکل میں اسٹیشن کے سامنے ہی ہے'
پر ہمیں ساتھ لیکر آئے ،فجر کی نماز کا وقت ہوچکا تھا نماز پڑھ کر چائے پی اور فوراً سو گئے آٹھ بجے اٹھے فریش ہوئے،ہلکا پھلکا ناشتہ ہوا ،وقت ہمارے پاس کئی گھنٹے کا تھا اس لیے ارادہ ہوا کہ ملک کے مشہور ادارے امارت شرعیہ پھلواری شریف کی زیارت کی جائے،
امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ۔
کالونی سے باہر روڈ پر آئے رکشے کی قطاریں لگی تھیں ایک رکشے پر بیٹھے اور آدھے گھنٹے بعد امارت کی عمارتیں ہمارے سامنے تھیں، اندر داخل ہوئے،یہاں ہمارا کوئی شناسا نہیں تھا ایک مفتی سہراب أحمد صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ سے راہ ورسم تھی کہ رمضان المبارک اور دیگر ایام میں ان کے دورے ممبئی ہوتے رہتے ہیں،انھیں متعدد بار فون لگایا مگر ریسیو نہ ہو سکا،گیٹ ہی کے پاس ایک مولانا نظر آئے ان سے مفتی صاحب کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے فون لگایا اور ہمارے بارے میں بتایا ان کے ذریعے بات ہوئی معلوم ہوا کہ وہ ارریا میں ہیں بہرحال ان کے ایما پر مولانا کی توجہ حاصل ہوئی
انہوں نے ناشتہ وچائے سے ضیافت کی،یہیں امارت کے دوسرے نائب ناظم مولانا شبلی صاحب سے ملاقات ہوئی علیک سلیک کے علاوہ ان سے کوئی بات نہیں ہوئی دل نے کہا کہ یہ وہی تو نہیں جن کی تعلیم شیخوپور سے ہوئی ہے مگر چونکہ ان کی طرف سے سرد مہری تھی اس لیے ہم نے بھی خاموشی میں ہی عافیت سمجھی،بعد میں استاد محترم حاجی بابو خیر آبادی سے معلوم ہوا کہ یہ وہی شبلی صاحب ہیں'۔
نکلتے وقت ہم نے مولانا ارشد صاحب جن سے ابتداء میں ملاقات ہوئی تھی سے درخواست کی کہ ادارے کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں'انھوں نے ایک شخص کو اس کے لئے ہمارے ساتھ لگا دیا تھوڑی دیر تک ہم دفتروں اور کلاسوں کو دیکھتے رہے اس کے بعد وہاں سے رخصت ہوگئے، مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ رخصت ہوتے وقت ضیافت ،دلچسپی اور واردین کے ساتھ ان کے خشک کرداروں سے متعلق دل میں کوئی اچھا اثر قائم نہ ہوسکا۔
باقی اس بات سے قطع نظر یہ ادارہ نیشنل پیمانے پر اپنی خدمات انجام دے رہا ہے خاص طور سے بہار اڑیسہ جھارکھنڈ میں اس کے اثرات بہت خوشگوار اور گہرے ہیں'،یہاں دورہ حدیث تک تعلیم کا نظم ہے' شعبہ افتاء وقضاء کے علاوہ ہاسپٹل اور انسٹیٹیوٹ کا بھی بہترین نظام ہے' مذکورہ صوبوں میں اس ادارے کے ماتحت دینی اسلامی اداروں کے علاوہ متعدد ہاسپٹل میڈیکل کالج اور اسکول بھی چلتے ہیں'کہنا چاہیے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں یہ ادارہ آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے اگر اس طرح کے ادارے ہر صوبے میں قائم ہوجائے تو ملت کی تعلیمی اور سیاسی کایا پلٹ سکتی ہے۔
اس کے بانی مفکر اسلام مولانا محمد سجاد صاحب کے خلوص کا نتیجہ ہی اسے قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس قدر منظم انداز میں یہ ادارہ ارتقاء کی شاہراہ پر گامزن ہے۔
جاری _______
قسط اول
از شر ف الد ین عظیم قاسمی الاعظمی
تاریکیاں جب دراز ہوجاتی ہیں،شب دیجور جب خوفناک صورت اختیار کرلیتی ہے تو سحر کی روشنی نمودار ہوتی ہے،اور اس کی کرنوں سے تاریکیوں کی دبیز چادریں چاک ہوجایا کرتی ہیں،1857کے بعد بر صغیر میں غلامی کی تاریکیاں اس قدر ہولناک اور دبیز تھیں کہ امیدوں کے تمام چراغ بجھ گئے تھے،ماحول کی سفاکیت،انگریزی ستم رانیوں کے سلسلے اس قدر طویل تھے کہ مذہب سے لیکر تہذیب وتمدن تک کی تمام منزلیں روپوش ہو چکی تھیں،لیکن قدرت کی یہ کرشمہ سازی تھی کہ انھیں دلخراش ایام میں لمحہ بہ لمحہ عشق ووفا اور جہد واستقامت کے ایسے ایسے قافلے رونما ہوتے رہے جنہوں نے اپنی بے لوث قربانیوں اور لاثانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ملت کے تحفظ وبقا کی راہیں نہ صرف دریافت کیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ان شاہراہوں میں روشن مشعلیں بھی چھوڑ گئے۔
انھیں کارواں میں ایک نام قظب عالم مولانا محمدعلی مونگیری کا بھی ہے جن کے کثیر الجہات کارناموں نے انہیں سالار کارواں کے منصب پر فائز کیا ہے'
زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کے کارناموں کی وسعت اور تنوع کے باوجود وقت کی گردشوں نے ان کی شخصیت کو اس طرح روپوش کردیا تھا کہ مخصوص طبقے میں اس کی روشنی قید ہو کر رہ گئی تھی ،ان کی عظمت کا تقاضا تھا کہ ان کے نقوش کو اجاگر کیا جائے، اس اہم کام کا بیڑا انہیں کے لگائے ہوئے پودے جو آج رحمانی فاؤنڈیشن کےچمن زاروں کی صورت میں چہار سو خوشبو بکھیر رہا ہے،کے ذمہ دار مولانا ظفر رؤف رحمانی صاحب نے اٹھایا۔
آج سے تقریباً تین ماہ قبل ان کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا کہ مذکورہ شخصیت کے حیات وکارنامے کے عنوان سے 8/دسمبر کو عالمی سیمینار منعقد ہو رہا ہے'اور اس پر مقالہ لکھنا ہے'، ایک عظیم شخصیت پر قلم اٹھانا ناچیز نے سعادت سمجھا اور دو مختلف موضوعات پرمفصل مقالے لکھے جو تقریباً ایک سو دس صفحات پر مشتمل ہیں'۔
5/دسمبر کو راقم الحروف ممبئی سے کرلا پٹنہ سوپر فاسٹ ایکسپریس سے مونگیر کے لئے روانہ ہوا دوسرے روز رات ساڑھے بارہ بجے مغل سرائے پہونچا یہاں ہمارے دوست اور رفیقِ درس مفتی کامران صاحب منتظر تھے اور اسی ٹرین سے ان کا بھی مونگیر کا سفر تھا، چوبیس گھنٹے کی تنہائی کے جب ان سے ملاقات ہوئی تو طبیعت کھل اٹھی، گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو ایسا دراز ہوا کہ پٹنہ آگیا اور وقت کا احساس تک نہ ہوا سحر کے وقت چار بجے پٹنہ سے ایک اسٹیشن قبل دانا پور اتر گئے،منصوبے کے مطابق یہاں دوپہر تک قیام تھا،مفتی صاحب کے ایک عزیز محترم شکیل چچا جو یہیں ریلوے کے کسی محکمہ میں آفیسر ہیں'وہ ریسیو کرنے اسٹیشن پر آئے اور اپنی قیام گاہ جو ریلوے کالونی کی شکل میں اسٹیشن کے سامنے ہی ہے'
پر ہمیں ساتھ لیکر آئے ،فجر کی نماز کا وقت ہوچکا تھا نماز پڑھ کر چائے پی اور فوراً سو گئے آٹھ بجے اٹھے فریش ہوئے،ہلکا پھلکا ناشتہ ہوا ،وقت ہمارے پاس کئی گھنٹے کا تھا اس لیے ارادہ ہوا کہ ملک کے مشہور ادارے امارت شرعیہ پھلواری شریف کی زیارت کی جائے،
امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ۔
کالونی سے باہر روڈ پر آئے رکشے کی قطاریں لگی تھیں ایک رکشے پر بیٹھے اور آدھے گھنٹے بعد امارت کی عمارتیں ہمارے سامنے تھیں، اندر داخل ہوئے،یہاں ہمارا کوئی شناسا نہیں تھا ایک مفتی سہراب أحمد صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ سے راہ ورسم تھی کہ رمضان المبارک اور دیگر ایام میں ان کے دورے ممبئی ہوتے رہتے ہیں،انھیں متعدد بار فون لگایا مگر ریسیو نہ ہو سکا،گیٹ ہی کے پاس ایک مولانا نظر آئے ان سے مفتی صاحب کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے فون لگایا اور ہمارے بارے میں بتایا ان کے ذریعے بات ہوئی معلوم ہوا کہ وہ ارریا میں ہیں بہرحال ان کے ایما پر مولانا کی توجہ حاصل ہوئی
انہوں نے ناشتہ وچائے سے ضیافت کی،یہیں امارت کے دوسرے نائب ناظم مولانا شبلی صاحب سے ملاقات ہوئی علیک سلیک کے علاوہ ان سے کوئی بات نہیں ہوئی دل نے کہا کہ یہ وہی تو نہیں جن کی تعلیم شیخوپور سے ہوئی ہے مگر چونکہ ان کی طرف سے سرد مہری تھی اس لیے ہم نے بھی خاموشی میں ہی عافیت سمجھی،بعد میں استاد محترم حاجی بابو خیر آبادی سے معلوم ہوا کہ یہ وہی شبلی صاحب ہیں'۔
نکلتے وقت ہم نے مولانا ارشد صاحب جن سے ابتداء میں ملاقات ہوئی تھی سے درخواست کی کہ ادارے کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں'انھوں نے ایک شخص کو اس کے لئے ہمارے ساتھ لگا دیا تھوڑی دیر تک ہم دفتروں اور کلاسوں کو دیکھتے رہے اس کے بعد وہاں سے رخصت ہوگئے، مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ رخصت ہوتے وقت ضیافت ،دلچسپی اور واردین کے ساتھ ان کے خشک کرداروں سے متعلق دل میں کوئی اچھا اثر قائم نہ ہوسکا۔
باقی اس بات سے قطع نظر یہ ادارہ نیشنل پیمانے پر اپنی خدمات انجام دے رہا ہے خاص طور سے بہار اڑیسہ جھارکھنڈ میں اس کے اثرات بہت خوشگوار اور گہرے ہیں'،یہاں دورہ حدیث تک تعلیم کا نظم ہے' شعبہ افتاء وقضاء کے علاوہ ہاسپٹل اور انسٹیٹیوٹ کا بھی بہترین نظام ہے' مذکورہ صوبوں میں اس ادارے کے ماتحت دینی اسلامی اداروں کے علاوہ متعدد ہاسپٹل میڈیکل کالج اور اسکول بھی چلتے ہیں'کہنا چاہیے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں یہ ادارہ آئیڈیل کی حیثیت رکھتا ہے اگر اس طرح کے ادارے ہر صوبے میں قائم ہوجائے تو ملت کی تعلیمی اور سیاسی کایا پلٹ سکتی ہے۔
اس کے بانی مفکر اسلام مولانا محمد سجاد صاحب کے خلوص کا نتیجہ ہی اسے قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس قدر منظم انداز میں یہ ادارہ ارتقاء کی شاہراہ پر گامزن ہے۔
جاری _______
