بھاجپا سرکار میں مسلم دشمنی کی وجہ سے جمہوریت ہی داؤ پر
____________________________ آنکھیں کھولیے! حالات کا جائزہ لیجیے اور قوم و ملت کی فکر کیجیے!!! ____
تحریر : وزیر احمد مصباحی
پریہار ،دھوریہ (بانکا)
رابطہ نمبر :6394421415
Wazirmisbahi87@gmail.com
اس وقت ہندوستان کی جو حالت زار ہے وہ کسی باشعور افراد سے پوشیدہ نہیں ہیں. ماقبل میں جتنی بھی بدعنوانیاں اور تباہیاں وطن عزیز میں ہوئے ہیں، ان سب کو ایک طرف رکھ دیں اور حالیہ واقعات پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہی وہ چند واقعات ہیں جو ہندوستانی جمہوریت کو شرمشار کر دینے کے لیے کافی ہیں.
کچھ ماہ قبل این آر سی کے نفاذ اور بار بار حکومت و وزیر داخلہ امت شاہ کے اعلانات نے تو ایک عام ہندی باشندہ سے لے کر پڑھے لکھے طبقوں تک کی نیندیں ہی حرام کر ڈالیں تھیں. ہر طرف ہاہاکار سی مچی ہوئی تھی کہ آخر ایک عام بندہ ایسے موقع پر اپنے کام کاج داؤ پر لگا کر کتنی مرتبہ کوٹ کچہری کا چکر کاٹے اور پریشاں حال زبان سے کس کس کے آگے اپنی نصرت و معاونت کے لیے دست سوال دراز کرے؟ لیکن جب آسام سے این آر سی کا غیر متوقع رزلٹ سامنے آیا تو اس نے شرپسندوں کے دماغ ہی ٹھکانے لگا دیے، کیونکہ اس کی چپیٹ میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم افراد ہی آئے تھے اور امت شاہ کی تقریر کے مطابق وہی لوگ گھسپٹیے کہلانے کے زیادہ حقدار نکلے تھے. پر ہاں! یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ جب آپ کا دشمن اپنے کسی ایک حربہ و داؤ پیچ میں ناکام ہو جائے تو وہ خاموش نہیں بیٹھتا ہے کہ چلو! میں تو ناکام ہو گیا اس لیے اب بس کر دیتے ہیں. نہیں... ایسا ہرگز نہیں ہے ۔
جی ہاں! ابھی یہ معاملہ ٹھنڈ بھی نہیں پڑا تھا کہ بابری مسجد کے غیر متوقع فیصلہ نے تو مسلم دشمنی کا بالکل بین ثبوت پیش کر دیا.... جو اس طرح جگ ظاہر ہوا کہ اسے پوری دنیا نے دیکھا اور مورخوں نے اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیا. اس بات کا تو ذرہ برابر بھی یقین نہیں تھا کہ ایک ہندوستانی عدلیہ جس پر لوگ مکمل اعتماد و بھروسہ رکھتے ہیں، وہ اس طرح غیرمنصفانہ فیصلہ سنائے گی. مگر اس معاملے میں بھی مسلمانوں نے اپنی انسان دوستی کے ساتھ امن پسندی کا بھرپور ثبوت فراہم کیا کہ نہیں.... کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہماری اپنی بےتوجہی کی بنیاد پر ہندو مسلم منافرت کی آگ اس نازک اور حساس وقت میں شعلہ جوالہ بن کر پھوٹ پڑے. ہر طرف سے امن و امان کی اپیل کی جاتی رہی. مگر ایک یہ شرپسند عناصر تھے کہ وہ لوگ فیصلہ آنے سے قبل ہی یہ بیان بازی کرتے رہے کہ فیصلہ مندر کے حق میں آئے گا... پھر اس پہ مستزاد یہ کہ ان شرپسندوں پر حکومت نکیل کسنے کے بجائے پیٹھ پیچھے حوصلہ افزائی کرکے مزید شہ دینے کا کام کرتی رہی.... مگر کہتے ہیں نا کہ :"اللہ تبارک و تعالٰی اپنے گھر کی بہتر حفاظت فرمانے والا ہے اور وہ ہر آن اس کی دیکھ ریکھ کرتا رہتا ہے" آج اس کی حقیقی تصویر سامنے آ ہی گئی جب بہار کے دربھنگہ ضلع سے چار افراد پچاس لاکھ کی خطیر رقم لے کر کے مندر کی تعمیر کے غرض سے ایودھیا جا رہے تھے... مگر راستے میں ان چاروں کو دردناک موت نے اس طرح دبوچ لیا کہ وہ دوسروں کے لیے سامانِ عبرت بن گیے... گھبرائیں نہیں! ابھی اور بھی بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا کہ __
کبھی تو ظالموں کے ظلم کا حساب ہوگا
اوہ ہاں! این آر سی نے غریب طبقوں کی ابھی نیندیں اڑ ہی رکھی تھی کہ پھر سے مودی کابینہ نے "بھارت ہندو راشٹر" کے دھن میں سی - اے - بی یعنی Citizenship Amendment Bill پاس کر دیا. اور اب تو اسے عنقریب ہی پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا جانے والا ہے تا کہ اسے پورے ملک میں نافذ کر کے یہاں برسوں سے رہ رہے کروڑوں مسلمانوں کو ملک سے باہر کیا جا سکے. اس بل کے تحت مسلمانوں کے خلاف تمام فرقوں کے لیے جو آسانیاں پیدا کی گئی ہیں وہ انتہائی حیرت انگیز ہے کہ آخر اس میں مسلمان کیوں نہیں ہے؟ کیا ہمارے ساتھ بھی روہنگیا جیسی صورت اپنائی جانے والی ہے؟ جب کسی دوسرے ملک کے باشندے جو مسلمان نہیں ہیں اور وہ ہندوستانی شہریت اختیار کرنا چاہے تو کر سکتے ہیں تو پھر ایک مسلمان کیوں نہیں؟ یہ سوال اپنے آپ میں انتہائی خطرناک اور حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ امن پسند ہندوستانیوں کو بےچین کردینے کے لیے کافی ہے. ہمارے اپنے ملک کی خوبصورتی اور اس کی گنگا جمنی تہذیب پہ نہ جانے کس چالاکی سے وار کیا گیا ہے کہ وہ بالکل داؤ پر ہیں. آزادی ہند کے بعد جو دستور امبیڈکر صاحب نے ہمیں دیا تھا اس میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ یہاں ہر مذاہب کو اپنی پسند کے مطابق پھلنے پھولنے کا حق حاصل ہے، مگر اس وقت یہ سارے حقوق اپنے اوپر سراب کی چادر تانے خاموش ہیں.
یہ تو رہی موجودہ حکومت کی شوریدہ سری کہ وہ اپنا ہر خواب پورا کرنے کے لیے کسی چیز کو بھی داؤ پر لگا دینے کے لیے تیار نظر آ رہی ہے اور ہر آئے دن اسے عملی جامہ زیب تن بھی کرتی چلی جا رہی ہے. مگر.... مگر اس پر خطر حالات میں ہمارے قائدین ملت اور سربراہان قوم کی حالت بھی تو دیکھنے لائق ہوتی ہیں. فی الحال ایک دو کے علاوہ کہیں ایسا کوئی چہرہ ہی نظر نہیں آتا __جسے دیکھ کر ایک پریشاں حال شخص کی پریشانی کچھ کم ہو سکے. ہر کوئی اپنی اپنی دنیا میں مست و مگن ہیں. آخر ایسا ہو بھی کیوں نا! جب کہ اس کے لیے اپنی ایک ٹولی ہے، ہاں! دیوانوں کا ایک ایسا گروہ جو ہر آن جناب عالی کے ایک ادنی سا اشارہ پر جان تک کی بازی لگا دینے کے لیے تیار رہتے ہیں. یہ واقعی سوچنے والی بات ہے کہ ہمارے ملک میں خانقاہوں کی تعداد کچھ کم نہیں ہیں. آپ کو ہر علاقے میں ایک دو خانقاہ ایسے ضرور مل جائیں گے جس کے سجادگان جہاں علم و ادب، سیاسی بصیرت اور ملکی حالات سے بالکلیہ بےخبر ہوتے ہیں وہی وہ قوم کی گاڑھی کمائی اینٹھ کر اپنا جیب بھرنے میں کمال کا درک رکھتے ہیں... مگر ان سے قوم کی رہبری کے چند اصول و طریقہ کار پوچھ لیجیے تو بدن سے پسینے اتر جائیں گے. جانتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ اس کی سب سے سے قوی اور درست علت ہی یہی ہے کہ ان لوگوں نے کبھی زخم خوردہ قوم کی خلوص دل سے سربراہی کی ہی نہیں.... بلکہ ان سادہ دل بھولے بھالے عوام الناس کو جنت میں بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کے ملنے کا سنہرے خواب دکھا کر ہمیشہ لوٹنے کا کام کرتا رہا. یاد رہے کہ اب وقت و حالات یکسر بدل چکے ہیں. اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ ان سادہ دل لوگوں کی فکر کریں اور زندگی کے ہر محاذ جیسے :معاشی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی و ملی سطح وغیرہ پر اس کی آواز بنیں۔
سی - اے - بی کے خلاف اس وقت سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان برپا ہے اور ہر لمحہ زور ہی پکڑتا چلا جا رہا ہے. لیکن یہاں پر یہ نازک سوال ابھرتا ہے کہ کیا ہمارے اس عمل سے ہماری ناراضگی پارلیمنٹ میں بیٹھے ان حکومتی کارندوں کے کان تک پہنچ سکتی ہے؟نہیں... ہرگز نہیں.. اس وقت ضرورت اس بات کی ہے ہم اور آپ تمام اقلیتی پارٹیوں کے ساتھ مل کر اس بل کے خلاف آواز اٹھائیں اور کسی طرح اس بل کو پاس ہونے سے روک دیں. اگر یہ بل پاس ہو گیا تو پھر جمہوریت کی خوبصورتی یکا یک ختم ہو جائے گی اور مذہب و ذات پات کے نام پر یہاں شہریت تقسیم کی جانے لگے گی. ساتھ ہی ہم سے ہمارا ووٹ دینے کا حق تو چھین ہی لیا جائے گا. میرے خیال میں اس بل کو پاس کرنے کا سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ وہ کسی طرح آسام میں کھائے گہرے زخم کے لیے سامانِ مرہم پٹی تلاش کر سکے. پھر ان علاقوں میں بھی جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں یہ اپنا حربہ استعمال کر سکے اور کسی طرح اسد الدین اویسی جیسے مسلم لیڈران کی بڑھتی حمایت پر نکیل کس سکے.
یہ تو غنیمت ہے کہ ابھی فی الحال ہی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس بل کی پر زور مخالفت کی ہے اور ساتھ ہی لوگوں سے مخالفت کرنے کی اپیل بھی کی ہے. اس طرح سے اگر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مسلم قائدین کی بھی یہ وقت کی اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام حزب مخالف پارٹیوں کو ساتھ لے کر صدائے احتجاج بلند کریں اور کسی طرح اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس ہونے سے رکوانے میں کامیاب ہو جائیں... ورنہ تو ہمارا ملک جس راستے پہ چل پڑا ہے اور مسلم دشمنی کی جس بھیانک آگ میں ہر آئے دن جل کر راکھ ہوتا چلا جارہا ہے، ایسی صورت میں وہ اپنا جمہوری نظام کھونے اور اس میں پوشیدہ ترقیوں کے سوت پر بندھ باندھنے کے ساتھ ہماری اپنی شناخت ختم کرکے ہمیشہ کے لیے نشیمن بھی پھونک دے گا. پتہ نہیں میرا ایقان یہ کیوں کہتا کے کہ اگر مسلم قائدین مسلک و مشرب سے اوپر اٹھ کر بنام مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں اور برسوں سے زخم خوردہ شجرِ انصاف کو انصاف دلانے کی ٹھان لیں تو یہ شرپسند عناصر اور موجودہ حکومت یقیناً گھوٹنے ٹیکنے کے لیے تیار ہو جائیں گے .... بس شرط صرف اتنی سی ہے کہ اتحاد و اتفاق کی کوئی چنگاری کہیں سے روشن ہو جائے کہ ___
دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو
نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو
____________________________ آنکھیں کھولیے! حالات کا جائزہ لیجیے اور قوم و ملت کی فکر کیجیے!!! ____
تحریر : وزیر احمد مصباحی
پریہار ،دھوریہ (بانکا)
رابطہ نمبر :6394421415
Wazirmisbahi87@gmail.com
اس وقت ہندوستان کی جو حالت زار ہے وہ کسی باشعور افراد سے پوشیدہ نہیں ہیں. ماقبل میں جتنی بھی بدعنوانیاں اور تباہیاں وطن عزیز میں ہوئے ہیں، ان سب کو ایک طرف رکھ دیں اور حالیہ واقعات پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہی وہ چند واقعات ہیں جو ہندوستانی جمہوریت کو شرمشار کر دینے کے لیے کافی ہیں.
کچھ ماہ قبل این آر سی کے نفاذ اور بار بار حکومت و وزیر داخلہ امت شاہ کے اعلانات نے تو ایک عام ہندی باشندہ سے لے کر پڑھے لکھے طبقوں تک کی نیندیں ہی حرام کر ڈالیں تھیں. ہر طرف ہاہاکار سی مچی ہوئی تھی کہ آخر ایک عام بندہ ایسے موقع پر اپنے کام کاج داؤ پر لگا کر کتنی مرتبہ کوٹ کچہری کا چکر کاٹے اور پریشاں حال زبان سے کس کس کے آگے اپنی نصرت و معاونت کے لیے دست سوال دراز کرے؟ لیکن جب آسام سے این آر سی کا غیر متوقع رزلٹ سامنے آیا تو اس نے شرپسندوں کے دماغ ہی ٹھکانے لگا دیے، کیونکہ اس کی چپیٹ میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم افراد ہی آئے تھے اور امت شاہ کی تقریر کے مطابق وہی لوگ گھسپٹیے کہلانے کے زیادہ حقدار نکلے تھے. پر ہاں! یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ جب آپ کا دشمن اپنے کسی ایک حربہ و داؤ پیچ میں ناکام ہو جائے تو وہ خاموش نہیں بیٹھتا ہے کہ چلو! میں تو ناکام ہو گیا اس لیے اب بس کر دیتے ہیں. نہیں... ایسا ہرگز نہیں ہے ۔
جی ہاں! ابھی یہ معاملہ ٹھنڈ بھی نہیں پڑا تھا کہ بابری مسجد کے غیر متوقع فیصلہ نے تو مسلم دشمنی کا بالکل بین ثبوت پیش کر دیا.... جو اس طرح جگ ظاہر ہوا کہ اسے پوری دنیا نے دیکھا اور مورخوں نے اپنی ڈائری میں نوٹ کر لیا. اس بات کا تو ذرہ برابر بھی یقین نہیں تھا کہ ایک ہندوستانی عدلیہ جس پر لوگ مکمل اعتماد و بھروسہ رکھتے ہیں، وہ اس طرح غیرمنصفانہ فیصلہ سنائے گی. مگر اس معاملے میں بھی مسلمانوں نے اپنی انسان دوستی کے ساتھ امن پسندی کا بھرپور ثبوت فراہم کیا کہ نہیں.... کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہماری اپنی بےتوجہی کی بنیاد پر ہندو مسلم منافرت کی آگ اس نازک اور حساس وقت میں شعلہ جوالہ بن کر پھوٹ پڑے. ہر طرف سے امن و امان کی اپیل کی جاتی رہی. مگر ایک یہ شرپسند عناصر تھے کہ وہ لوگ فیصلہ آنے سے قبل ہی یہ بیان بازی کرتے رہے کہ فیصلہ مندر کے حق میں آئے گا... پھر اس پہ مستزاد یہ کہ ان شرپسندوں پر حکومت نکیل کسنے کے بجائے پیٹھ پیچھے حوصلہ افزائی کرکے مزید شہ دینے کا کام کرتی رہی.... مگر کہتے ہیں نا کہ :"اللہ تبارک و تعالٰی اپنے گھر کی بہتر حفاظت فرمانے والا ہے اور وہ ہر آن اس کی دیکھ ریکھ کرتا رہتا ہے" آج اس کی حقیقی تصویر سامنے آ ہی گئی جب بہار کے دربھنگہ ضلع سے چار افراد پچاس لاکھ کی خطیر رقم لے کر کے مندر کی تعمیر کے غرض سے ایودھیا جا رہے تھے... مگر راستے میں ان چاروں کو دردناک موت نے اس طرح دبوچ لیا کہ وہ دوسروں کے لیے سامانِ عبرت بن گیے... گھبرائیں نہیں! ابھی اور بھی بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا کہ __
کبھی تو ظالموں کے ظلم کا حساب ہوگا
اوہ ہاں! این آر سی نے غریب طبقوں کی ابھی نیندیں اڑ ہی رکھی تھی کہ پھر سے مودی کابینہ نے "بھارت ہندو راشٹر" کے دھن میں سی - اے - بی یعنی Citizenship Amendment Bill پاس کر دیا. اور اب تو اسے عنقریب ہی پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا جانے والا ہے تا کہ اسے پورے ملک میں نافذ کر کے یہاں برسوں سے رہ رہے کروڑوں مسلمانوں کو ملک سے باہر کیا جا سکے. اس بل کے تحت مسلمانوں کے خلاف تمام فرقوں کے لیے جو آسانیاں پیدا کی گئی ہیں وہ انتہائی حیرت انگیز ہے کہ آخر اس میں مسلمان کیوں نہیں ہے؟ کیا ہمارے ساتھ بھی روہنگیا جیسی صورت اپنائی جانے والی ہے؟ جب کسی دوسرے ملک کے باشندے جو مسلمان نہیں ہیں اور وہ ہندوستانی شہریت اختیار کرنا چاہے تو کر سکتے ہیں تو پھر ایک مسلمان کیوں نہیں؟ یہ سوال اپنے آپ میں انتہائی خطرناک اور حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ امن پسند ہندوستانیوں کو بےچین کردینے کے لیے کافی ہے. ہمارے اپنے ملک کی خوبصورتی اور اس کی گنگا جمنی تہذیب پہ نہ جانے کس چالاکی سے وار کیا گیا ہے کہ وہ بالکل داؤ پر ہیں. آزادی ہند کے بعد جو دستور امبیڈکر صاحب نے ہمیں دیا تھا اس میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ یہاں ہر مذاہب کو اپنی پسند کے مطابق پھلنے پھولنے کا حق حاصل ہے، مگر اس وقت یہ سارے حقوق اپنے اوپر سراب کی چادر تانے خاموش ہیں.
یہ تو رہی موجودہ حکومت کی شوریدہ سری کہ وہ اپنا ہر خواب پورا کرنے کے لیے کسی چیز کو بھی داؤ پر لگا دینے کے لیے تیار نظر آ رہی ہے اور ہر آئے دن اسے عملی جامہ زیب تن بھی کرتی چلی جا رہی ہے. مگر.... مگر اس پر خطر حالات میں ہمارے قائدین ملت اور سربراہان قوم کی حالت بھی تو دیکھنے لائق ہوتی ہیں. فی الحال ایک دو کے علاوہ کہیں ایسا کوئی چہرہ ہی نظر نہیں آتا __جسے دیکھ کر ایک پریشاں حال شخص کی پریشانی کچھ کم ہو سکے. ہر کوئی اپنی اپنی دنیا میں مست و مگن ہیں. آخر ایسا ہو بھی کیوں نا! جب کہ اس کے لیے اپنی ایک ٹولی ہے، ہاں! دیوانوں کا ایک ایسا گروہ جو ہر آن جناب عالی کے ایک ادنی سا اشارہ پر جان تک کی بازی لگا دینے کے لیے تیار رہتے ہیں. یہ واقعی سوچنے والی بات ہے کہ ہمارے ملک میں خانقاہوں کی تعداد کچھ کم نہیں ہیں. آپ کو ہر علاقے میں ایک دو خانقاہ ایسے ضرور مل جائیں گے جس کے سجادگان جہاں علم و ادب، سیاسی بصیرت اور ملکی حالات سے بالکلیہ بےخبر ہوتے ہیں وہی وہ قوم کی گاڑھی کمائی اینٹھ کر اپنا جیب بھرنے میں کمال کا درک رکھتے ہیں... مگر ان سے قوم کی رہبری کے چند اصول و طریقہ کار پوچھ لیجیے تو بدن سے پسینے اتر جائیں گے. جانتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ اس کی سب سے سے قوی اور درست علت ہی یہی ہے کہ ان لوگوں نے کبھی زخم خوردہ قوم کی خلوص دل سے سربراہی کی ہی نہیں.... بلکہ ان سادہ دل بھولے بھالے عوام الناس کو جنت میں بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کے ملنے کا سنہرے خواب دکھا کر ہمیشہ لوٹنے کا کام کرتا رہا. یاد رہے کہ اب وقت و حالات یکسر بدل چکے ہیں. اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ ان سادہ دل لوگوں کی فکر کریں اور زندگی کے ہر محاذ جیسے :معاشی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی و ملی سطح وغیرہ پر اس کی آواز بنیں۔
سی - اے - بی کے خلاف اس وقت سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان برپا ہے اور ہر لمحہ زور ہی پکڑتا چلا جا رہا ہے. لیکن یہاں پر یہ نازک سوال ابھرتا ہے کہ کیا ہمارے اس عمل سے ہماری ناراضگی پارلیمنٹ میں بیٹھے ان حکومتی کارندوں کے کان تک پہنچ سکتی ہے؟نہیں... ہرگز نہیں.. اس وقت ضرورت اس بات کی ہے ہم اور آپ تمام اقلیتی پارٹیوں کے ساتھ مل کر اس بل کے خلاف آواز اٹھائیں اور کسی طرح اس بل کو پاس ہونے سے روک دیں. اگر یہ بل پاس ہو گیا تو پھر جمہوریت کی خوبصورتی یکا یک ختم ہو جائے گی اور مذہب و ذات پات کے نام پر یہاں شہریت تقسیم کی جانے لگے گی. ساتھ ہی ہم سے ہمارا ووٹ دینے کا حق تو چھین ہی لیا جائے گا. میرے خیال میں اس بل کو پاس کرنے کا سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ وہ کسی طرح آسام میں کھائے گہرے زخم کے لیے سامانِ مرہم پٹی تلاش کر سکے. پھر ان علاقوں میں بھی جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں یہ اپنا حربہ استعمال کر سکے اور کسی طرح اسد الدین اویسی جیسے مسلم لیڈران کی بڑھتی حمایت پر نکیل کس سکے.
یہ تو غنیمت ہے کہ ابھی فی الحال ہی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس بل کی پر زور مخالفت کی ہے اور ساتھ ہی لوگوں سے مخالفت کرنے کی اپیل بھی کی ہے. اس طرح سے اگر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مسلم قائدین کی بھی یہ وقت کی اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام حزب مخالف پارٹیوں کو ساتھ لے کر صدائے احتجاج بلند کریں اور کسی طرح اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس ہونے سے رکوانے میں کامیاب ہو جائیں... ورنہ تو ہمارا ملک جس راستے پہ چل پڑا ہے اور مسلم دشمنی کی جس بھیانک آگ میں ہر آئے دن جل کر راکھ ہوتا چلا جارہا ہے، ایسی صورت میں وہ اپنا جمہوری نظام کھونے اور اس میں پوشیدہ ترقیوں کے سوت پر بندھ باندھنے کے ساتھ ہماری اپنی شناخت ختم کرکے ہمیشہ کے لیے نشیمن بھی پھونک دے گا. پتہ نہیں میرا ایقان یہ کیوں کہتا کے کہ اگر مسلم قائدین مسلک و مشرب سے اوپر اٹھ کر بنام مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں اور برسوں سے زخم خوردہ شجرِ انصاف کو انصاف دلانے کی ٹھان لیں تو یہ شرپسند عناصر اور موجودہ حکومت یقیناً گھوٹنے ٹیکنے کے لیے تیار ہو جائیں گے .... بس شرط صرف اتنی سی ہے کہ اتحاد و اتفاق کی کوئی چنگاری کہیں سے روشن ہو جائے کہ ___
دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہو
نکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو
