تقاضئہ وقت اور ہمارا حال
طاہر ندوی
متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
آج ہمیں ایسے حالات کا سامنا ہے جس کی ہم نے کبھی کلپنا بھی نہیں کی تھی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جس ملک کو بنانے اور سنوارنے کی خاطر لاکھوں قربانیاں دیں جس ملک کی آزادی کی خاطر ہماری ماؤں نے اپنے بچوں کو قربان کردیا آج اسی ملک میں ہمیں اپنی شہریت ثابت کرنی پڑ رہی ہے آج ہم سے ہماری شہریت کا سرٹیفکٹ مانگا جا رہا ہے
یقیناً موجودہ حکومت کے لیے یہ شرم کی بات ہے کہ جس نے آپ کو اقتدار پر بٹھایا, جس نے آپ کو تاج و تخت عطا کیا, جس نے آپ کو اپنی آنکھوں میں بٹھایا , جس نے بہتر مستقبل کے لیے آپ کا انتخاب کیا، آج اس کی شہریت آپ کو مشکوک لگتی ہے ، اس کی دیش بھگتی پر سوال اٹھایا جا رہا ہے!
آج پورے ملک میں ایک قیامت برپا ہے، ہم بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہیں ہیں،آج حملہ ہمارے آئین پر ہے ہمارے constitution پر ہے جس کو بابا صاحب امبیڈکر نے باہمی مفاہمت سے تیار کیا تھا!
جس دستور نے ہمیں بولنے کی آزادی دی، اپنے حق کی خاطر لڑنے کی آزادی دی، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی آزادی دی،اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی، آج اسی دستور کو ختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے،احتجاج اور سچ بولنے پر پابندی لگائی جا رہی ہے!
الغرض! ہم سے ہمارے وہ تمام حقوق جو دستور نے ہمیں دیا, آئین نے ہمیں دیا، وہ سلب کیا جارہا ہے اور ہمارا حال کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟
ہم New year کے جشن منانے میں مصروف ہیں, ناچ گانوں میں مصروف ہیں, بے حیاؤں کی طرح ٹھمکے لگانے میں مصروف ہیں!
ایک دن پہلے کی بات ہے ہمارے علاقے میں کچھ نوجوانوں نے ساؤنڈ سسٹم اور ڈی جے وغیرہ لے کر جو تماشہ انہوں نے دکھایا اور رقص کیا اور کمر لچکا ئے میرا خیال ہے کہ اگر فاحشہ خانہ کی عورتیں انہیں دیکھ لیتیں تو مارے شرم کے وہ بھی مر جاتیں!
لیکن افسوس! کسی نے ان کو روکنے کی کوشش تک نہیں کی, کسی کے کانوں میں جوئیں تک نہ رینگیں، مجھے شکایت ہے یہاں کی تمام کمیٹیوں سے اور اس علاقے کے ذمہ داروں سے کہ آپ کی غیرت کہاں مر گئی؟ آپ کے بازوؤں کی طاقت کہاں چلی گئی؟ آپ کے ایمانی جوش و جذبے کو کس کی نظر لگ گئی؟ یا آپ نے حالات سے سودا کر لیا ؟
گزرتی ہے جس کی زندگی رقص گاہوں میں
پھر ان کی نسل میں قطب و ابدال پیدا نہیں ہوتے
یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں غوروفکر کریں اور مناسب اقدام کریں تاکہ آئندہ ایسے حالات میں، جہاں ہماری مائیں اور بہنیں اس ملک کو بچانے کی خاطر ، آئین و دستور کو بچانے کی خاطر سر اپا احتجاج بنی بیٹھی ہیں۔ جہاں سارا ملک سراپا احتجاج بنا بیٹھا ہے۔ جہاں لوگ اس دستور کو بچانے کی خاطر اپنی گرفتاریاں دے رہے ہیں۔ ہم ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس کی وجہ سے ہم پر دھبہ لگ جائے اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے!
اس لیے میری آپ سے گزارش ہے اگر آپ اس ملک کو بچانے کی خاطر اور دستور کو بچانے کی خاطر کوئی قربانی پیش نہیں کرسکتے تو کم از کم ان لوگوں کے لیے ہم دعا کریں جو اس ملک کو بچانے کے خاطر لڑ رہے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں
طاہر ندوی
متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
آج ہمیں ایسے حالات کا سامنا ہے جس کی ہم نے کبھی کلپنا بھی نہیں کی تھی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جس ملک کو بنانے اور سنوارنے کی خاطر لاکھوں قربانیاں دیں جس ملک کی آزادی کی خاطر ہماری ماؤں نے اپنے بچوں کو قربان کردیا آج اسی ملک میں ہمیں اپنی شہریت ثابت کرنی پڑ رہی ہے آج ہم سے ہماری شہریت کا سرٹیفکٹ مانگا جا رہا ہے
یقیناً موجودہ حکومت کے لیے یہ شرم کی بات ہے کہ جس نے آپ کو اقتدار پر بٹھایا, جس نے آپ کو تاج و تخت عطا کیا, جس نے آپ کو اپنی آنکھوں میں بٹھایا , جس نے بہتر مستقبل کے لیے آپ کا انتخاب کیا، آج اس کی شہریت آپ کو مشکوک لگتی ہے ، اس کی دیش بھگتی پر سوال اٹھایا جا رہا ہے!
آج پورے ملک میں ایک قیامت برپا ہے، ہم بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہیں ہیں،آج حملہ ہمارے آئین پر ہے ہمارے constitution پر ہے جس کو بابا صاحب امبیڈکر نے باہمی مفاہمت سے تیار کیا تھا!
جس دستور نے ہمیں بولنے کی آزادی دی، اپنے حق کی خاطر لڑنے کی آزادی دی، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی آزادی دی،اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی، آج اسی دستور کو ختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے،احتجاج اور سچ بولنے پر پابندی لگائی جا رہی ہے!
الغرض! ہم سے ہمارے وہ تمام حقوق جو دستور نے ہمیں دیا, آئین نے ہمیں دیا، وہ سلب کیا جارہا ہے اور ہمارا حال کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟
ہم New year کے جشن منانے میں مصروف ہیں, ناچ گانوں میں مصروف ہیں, بے حیاؤں کی طرح ٹھمکے لگانے میں مصروف ہیں!
ایک دن پہلے کی بات ہے ہمارے علاقے میں کچھ نوجوانوں نے ساؤنڈ سسٹم اور ڈی جے وغیرہ لے کر جو تماشہ انہوں نے دکھایا اور رقص کیا اور کمر لچکا ئے میرا خیال ہے کہ اگر فاحشہ خانہ کی عورتیں انہیں دیکھ لیتیں تو مارے شرم کے وہ بھی مر جاتیں!
لیکن افسوس! کسی نے ان کو روکنے کی کوشش تک نہیں کی, کسی کے کانوں میں جوئیں تک نہ رینگیں، مجھے شکایت ہے یہاں کی تمام کمیٹیوں سے اور اس علاقے کے ذمہ داروں سے کہ آپ کی غیرت کہاں مر گئی؟ آپ کے بازوؤں کی طاقت کہاں چلی گئی؟ آپ کے ایمانی جوش و جذبے کو کس کی نظر لگ گئی؟ یا آپ نے حالات سے سودا کر لیا ؟
گزرتی ہے جس کی زندگی رقص گاہوں میں
پھر ان کی نسل میں قطب و ابدال پیدا نہیں ہوتے
یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں غوروفکر کریں اور مناسب اقدام کریں تاکہ آئندہ ایسے حالات میں، جہاں ہماری مائیں اور بہنیں اس ملک کو بچانے کی خاطر ، آئین و دستور کو بچانے کی خاطر سر اپا احتجاج بنی بیٹھی ہیں۔ جہاں سارا ملک سراپا احتجاج بنا بیٹھا ہے۔ جہاں لوگ اس دستور کو بچانے کی خاطر اپنی گرفتاریاں دے رہے ہیں۔ ہم ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس کی وجہ سے ہم پر دھبہ لگ جائے اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے!
اس لیے میری آپ سے گزارش ہے اگر آپ اس ملک کو بچانے کی خاطر اور دستور کو بچانے کی خاطر کوئی قربانی پیش نہیں کرسکتے تو کم از کم ان لوگوں کے لیے ہم دعا کریں جو اس ملک کو بچانے کے خاطر لڑ رہے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں
