سیاہ قانون کو نہیں مانیںگے
بریاتو میدان میںمنعقد اجلاس سے مقررین کا خطاب، ہزاروں کی امڈی بھیڑ،حکومت کی پایسی کے خلاف غصہ کا اظہار
رپورٹ! دانش ایاز
رانچی:18/جنوری 2020 آئی این اے نیوز
ملک بھر میں سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف جو احتجاج ہورہے ہیں اس آگ کی تپش رانچی میں بھی محسوس کی جارہی ہے۔ رانچی میں گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج سنویدھان بچائو دیش بچائو کانفرنس بریاتو کے پہاڑی میدان میں منعقد ہو ئی۔ جس میں ہزروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوکر کالے قانون کے خلاف آواز بلند کی اور حکومت ہند سے فی الفور سیاہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ تقریب میں اقراء مسجد کے خطیب ڈاکٹر و مولانا عبید اللہ قاسمی نے کہاکہ خزانے کوردی سمجھ کربیچ ڈالے گا، چندن کو اگربتی سمجھ کر بیچ ڈالے گا۔ حکومت ہم نے دے دی ہے ایک چائے والے کو، وہ ہم لوگوں کو چائے پتی سمجھ کر بیچ ڈالے گا۔ مولانا نے کہا کہ محفوظ اپنے ہی گھر میں عزت نہیں رہی، کیسا ہمارا قوم کا دلدار ہو گیا، جمہوریت کے نام پر ہوتا ہے قتل روز، جینا ہمارا ملک میں دشوار ہو گیا۔ چھاپےگا کون ظلم کی روئے داد ہو بہو، ظالم کے حق میں ملک کا اخبار ہو گیا۔ لہو کی بات کرتا ہے کفن کی بات کرتا ہے، وہ کاروباریوں سے مل کردمن کی بات کرتا ہے، ہمارے ملک نے کیسا نمونہ چن لیا یارو، وطن کی بات کرنے چھوڑ من کی بات کرتا ہے۔ کانفرنس جمعیت علماء جھارکھنڈ کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کی صدارت جمعیت علماء جھارکھنڈ کےجنرل سکریٹری نیز بڑی مسجد رانچی کےخطیب اورجھارکھنڈ کے سب سے بڑے دینی ادارہ مدرسہ حسینیہ کڈرو کے استاد حضرت مولانامحمد ابوبکر قاسمی نے کی۔ مولانا ابو بکر قاسمی نے کہا کہ آج سمویدھان بچانے کی ضرورت ہے۔ ہم اس کالے قانون کو نہیں مانتے ہیں۔ قانون ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ آج مرکز کی حکومت ہندو مسلم اتحاد کو توڑنا چاہتی ہے۔ جسے ہم کبھی ایسا ہونے نہیں دیں گے ۔ہم سب ہندو -مسلم ایک ساتھ رہتے آئے ہیں اور مرتے دم تک ایک ساتھ رہیںگے۔افتتاحی کلمات حواری مسجد کے خطیب حضرت مولانا مفتی قمر عالم نے ادا کئے۔انہوں نے کہا کہ آئین بچے گا تو ساری چیزیں بچیں گی۔ اگر آئین کو بچانے کے لئے جان کی قربانی دینی پڑے گی تو ہم دیں گے۔ ہمارے علماء نے آزادی کی تحریک میں بڑی قربانی دی ہے۔اس تقریب سے سنجے مہلی ،متھلیش کمار ،تیرتھ ناتھ آکاش ، امر اوراؤں ،پروفیسر عبدالخالق ،سشانتو مکھرجی ،پروفیسر ڈاکٹر حسن رضا ،پرکاش ویپلو،قاری جان محمد رضوی ،نصری بیگم ،ابھے کمار،قاضی شریعت نیز راعین مسجد رانچی کے خطیب حضرت مولانا مفتی انور قاسمی،ادارہ شرعیہ کے ناظم اعلی حضرت مولانا قطب الدین رضوی ،اوپی یادو ،اہل حدیث مسجد کے خطیب حضرت مولانا شفیق علیاوی ، مختار احمد ایڈووکیٹ ،مولانا زاہد ،پریم شاہی منڈا ،قاری انصار اللہ ،ڈاکٹر اصغر مصباحی ،مولانا طلحہ ندوی ،خالد خلیل ،سمنور منصوری ،محمد مدثر،اعجاز گدی وغیرہ نے خطاب کیا۔اور این آر سی اور سی اے اے کی پُرزور مخالفت کی۔،قاری احسان کی دعا پر کانفرنس ختم ہوئی۔
بریاتو میدان میںمنعقد اجلاس سے مقررین کا خطاب، ہزاروں کی امڈی بھیڑ،حکومت کی پایسی کے خلاف غصہ کا اظہار
رپورٹ! دانش ایاز
رانچی:18/جنوری 2020 آئی این اے نیوز
ملک بھر میں سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف جو احتجاج ہورہے ہیں اس آگ کی تپش رانچی میں بھی محسوس کی جارہی ہے۔ رانچی میں گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج سنویدھان بچائو دیش بچائو کانفرنس بریاتو کے پہاڑی میدان میں منعقد ہو ئی۔ جس میں ہزروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوکر کالے قانون کے خلاف آواز بلند کی اور حکومت ہند سے فی الفور سیاہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ تقریب میں اقراء مسجد کے خطیب ڈاکٹر و مولانا عبید اللہ قاسمی نے کہاکہ خزانے کوردی سمجھ کربیچ ڈالے گا، چندن کو اگربتی سمجھ کر بیچ ڈالے گا۔ حکومت ہم نے دے دی ہے ایک چائے والے کو، وہ ہم لوگوں کو چائے پتی سمجھ کر بیچ ڈالے گا۔ مولانا نے کہا کہ محفوظ اپنے ہی گھر میں عزت نہیں رہی، کیسا ہمارا قوم کا دلدار ہو گیا، جمہوریت کے نام پر ہوتا ہے قتل روز، جینا ہمارا ملک میں دشوار ہو گیا۔ چھاپےگا کون ظلم کی روئے داد ہو بہو، ظالم کے حق میں ملک کا اخبار ہو گیا۔ لہو کی بات کرتا ہے کفن کی بات کرتا ہے، وہ کاروباریوں سے مل کردمن کی بات کرتا ہے، ہمارے ملک نے کیسا نمونہ چن لیا یارو، وطن کی بات کرنے چھوڑ من کی بات کرتا ہے۔ کانفرنس جمعیت علماء جھارکھنڈ کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کی صدارت جمعیت علماء جھارکھنڈ کےجنرل سکریٹری نیز بڑی مسجد رانچی کےخطیب اورجھارکھنڈ کے سب سے بڑے دینی ادارہ مدرسہ حسینیہ کڈرو کے استاد حضرت مولانامحمد ابوبکر قاسمی نے کی۔ مولانا ابو بکر قاسمی نے کہا کہ آج سمویدھان بچانے کی ضرورت ہے۔ ہم اس کالے قانون کو نہیں مانتے ہیں۔ قانون ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ آج مرکز کی حکومت ہندو مسلم اتحاد کو توڑنا چاہتی ہے۔ جسے ہم کبھی ایسا ہونے نہیں دیں گے ۔ہم سب ہندو -مسلم ایک ساتھ رہتے آئے ہیں اور مرتے دم تک ایک ساتھ رہیںگے۔افتتاحی کلمات حواری مسجد کے خطیب حضرت مولانا مفتی قمر عالم نے ادا کئے۔انہوں نے کہا کہ آئین بچے گا تو ساری چیزیں بچیں گی۔ اگر آئین کو بچانے کے لئے جان کی قربانی دینی پڑے گی تو ہم دیں گے۔ ہمارے علماء نے آزادی کی تحریک میں بڑی قربانی دی ہے۔اس تقریب سے سنجے مہلی ،متھلیش کمار ،تیرتھ ناتھ آکاش ، امر اوراؤں ،پروفیسر عبدالخالق ،سشانتو مکھرجی ،پروفیسر ڈاکٹر حسن رضا ،پرکاش ویپلو،قاری جان محمد رضوی ،نصری بیگم ،ابھے کمار،قاضی شریعت نیز راعین مسجد رانچی کے خطیب حضرت مولانا مفتی انور قاسمی،ادارہ شرعیہ کے ناظم اعلی حضرت مولانا قطب الدین رضوی ،اوپی یادو ،اہل حدیث مسجد کے خطیب حضرت مولانا شفیق علیاوی ، مختار احمد ایڈووکیٹ ،مولانا زاہد ،پریم شاہی منڈا ،قاری انصار اللہ ،ڈاکٹر اصغر مصباحی ،مولانا طلحہ ندوی ،خالد خلیل ،سمنور منصوری ،محمد مدثر،اعجاز گدی وغیرہ نے خطاب کیا۔اور این آر سی اور سی اے اے کی پُرزور مخالفت کی۔،قاری احسان کی دعا پر کانفرنس ختم ہوئی۔
