سی اے اے کے خلاف دیوبند سراپا احتجاج!
عیدگاہ میدان میں منعقد مظاہرہ میں ہزاروں مردو زن شامل
حکومت وقت ملک کے مشترکہ ور ثہ کو تباہ کرنے میں لگی ہے:مفتی عفان منصورپوری
دیوبند۔۱۹؍ جنوری(ایس۔چودھری)شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے لئے اب شاہین باغ ایک مثال بن گیا ہے اور شاہین باغ کی طرز پر ملک کے متعددمقامات اور شہروںمیں خواتین اس قانون کی مخالفت میں مظاہرے کررہی ہیں، اسی کڑی میں انقلابی سرزمین دیوبند کی خواتین بھی بھر پور جوش و خروش کے ساتھ اس مہم میں حصہ لے رہی ہیں،اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر جمعیۃ علماء دیوبند اور خواتین ایکشن کمیٹی دیوبند کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دیوبند کے عیدگاہ میدان میں احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیاگیا ،جس میں کثیر تعداد میں مردو زن نے حصہ لیکر حکومت وقت کو انتباہ دیاکہ جب تک شہریت ترمیمی قانون، این آرسی اور پی این آر جیسے فیصلے واپس نہیں لئے جائینگے اس وقت تک اس کے خلاف جمہوری طریقہ سے ہم یہ احتجاجی تحریک کو جاری رکھے گیں۔ پروگرام میں ہزاروں مردو خواتین نے شرکت کرکے بیک آواز حکومت ہند سے اس قانون کو واپس لینے کامطالبہ کیا اور اس قانون کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کیا ۔ ترنگے جھنڈوں اور سی اے اے و این آرسی کے خلاف بنے بینر پوسٹر کے ساتھ احتجاج گاہ پہنچی خواتین اور لوگوں کا جوش و خوش قابل دید تھا، خواتین نے زبردست طریقہ سے انقلابی نعروں کے ساتھ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں ہوگا اس وقت تک یہ احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا،ساتھ ہی خواتین اور طالبات نے جامعہ ملیہ اسلامیہ،جے این یو اور طلبہ مدارس کے خلاف کی گئی انتظامیہ کی کارروائی پر سخت غصہ کااظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری طورپر یہ مقدمات واپس لینے اور بے قصور کو رہا کرنے کامطالبہ کیا،خاص بات یہ ہے اس پروگرام میں خواتین کے ساتھ بچوں نے بھی جوش و خروش سے حصہ لیا۔اس موقع پر معروف نوجوان عالم دین مفتی عفان منصورپوری نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ حکومت وقت ملک کی مشترکہ ور ثہ اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے لیکن ملک کے عوام حکومت کی اس منشا کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون ہر طبقہ کو ہراساں کرنے والا ہے اسلئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ فوری طورپر یہ قانون واپس لے۔انہوں نے دیوبند کی تاریخ اور یہاں کے اکابرین کی خدمات کے حوالے و جنگ آزاد میں دیوبند کی قربانیوں پر روشنی ڈالی اور شہریت ترمیمی قانون کو امتیازی اور غیرجمہوری بتایا اور کہا کہ یہ ہندوستانی جمہوریت پر بدنما داغ ہے۔انہوںنے کہاکہ اس ملک کی آزادی میں ہمارے آباؤ اجداد کا خون شامل ہے ،جنہوں نے اپنے جانیں نچھاور کرکے اس ملک کو آزادی دلائی لیکن آج ہمیں دوسرے درجہ کا شہری ثابت کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں،جس کے خلاف ہم آخرتک اپنی آواز بلند کریںگے۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں اس تحریک میں شامل مردو خواتین اور طلبہ وطالبات کی ستائش کی۔انہوں نے یوپی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہاکہ یوپی حکومت قوانین کا غلط استعمال کرکے ایک فرقہ کو نشانہ بنارہی ہے جو قابل مذمت ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت اکثریت کے زعم میں غلط قوانین پاس کررہی ہے لیکن عوامی اکثریت ایسے قوانین کو کبھی برداشت نہیں کریگی۔ انہوں نے حاضرین مجلس سے کہاکہ احتجاجی مظاہرے اپنی جگہ ہیں لیکن ہمیں سب سے پہلے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا اسی وقت اللہ کی مدد اور نصرت حاصل ہوگی۔ جے این یو کی اسٹوڈینٹ صائمہ ایس ،سعادت حسین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے طالبعلم فواز خان نے بھی اپنے خطاب میں حکومت کو زبردشت تنقید کا نشانہ بتاتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ایک طبقہ کو ہراساں کرنے کی سیاست کررہے ہیں جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیاجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک کے چپہ چپہ پر طالبعلم،بزرگ ،نوجوان اور خواتین سڑکوں پر ہیں ،حکومت کوشرم آنی چاہئے اور اس قانون کو فوراً واپس لینا چاہئے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، شاہین باغ اور جی این یو و علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کی گئی پولیس کی زیادتیوں کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اس آواز کو دبانا چاہتی لیکن یہ کبھی ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس قانون کے ساتھ ساتھ اس حکومت کو بھی جانا ہوگا۔ جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے سکریٹری سید ذہین احمد نے کہاکہ جب تک یہ تینوں کالے قانون واپس نہیں ہونگے اس وقت تک ہماری احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔آخر جمعیۃ علماء دیوبند یونٹ کے سکریٹری عمیر احمد عثمانی نے سبھی لوگوں کا شکریہ اداکیا۔نظامت کے فرائض مولانا محمود الرحمن صدیقی نے انجام دیئے۔ اس دوران جمعیۃ علماء ہند کے مجلس منتظمہ کے رکن مولانا شمشیر الحسنی قاسمی، فیصل حمید خان،سلیم احمد عثمانی،چودھری صادق، قاری زبیر احمد قاسمی، صادق صدیقی ،صفوانہ راحت خلیل،منتہی اشرف خان،خدیجہ مدنی، رقیہ محمود،روبنیہ شہزاد،رونام عثمانی،جویریہ عمران مرزا،ثاقبہ مدنی سمیت ہزاروںکی تعداد میں مردو خواتین شامل رہے۔ مظاہرہ کے دوران بڑ ی تعداد میں پولیس فورس تعینات رہی اور خفیہ محکمہ کے افسران بھی پل پل کی خبر اعلیٰ افسران کو دیتے دکھائی دیئے۔
عیدگاہ میدان میں منعقد مظاہرہ میں ہزاروں مردو زن شامل
حکومت وقت ملک کے مشترکہ ور ثہ کو تباہ کرنے میں لگی ہے:مفتی عفان منصورپوری
دیوبند۔۱۹؍ جنوری(ایس۔چودھری)شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے لئے اب شاہین باغ ایک مثال بن گیا ہے اور شاہین باغ کی طرز پر ملک کے متعددمقامات اور شہروںمیں خواتین اس قانون کی مخالفت میں مظاہرے کررہی ہیں، اسی کڑی میں انقلابی سرزمین دیوبند کی خواتین بھی بھر پور جوش و خروش کے ساتھ اس مہم میں حصہ لے رہی ہیں،اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر جمعیۃ علماء دیوبند اور خواتین ایکشن کمیٹی دیوبند کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دیوبند کے عیدگاہ میدان میں احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیاگیا ،جس میں کثیر تعداد میں مردو زن نے حصہ لیکر حکومت وقت کو انتباہ دیاکہ جب تک شہریت ترمیمی قانون، این آرسی اور پی این آر جیسے فیصلے واپس نہیں لئے جائینگے اس وقت تک اس کے خلاف جمہوری طریقہ سے ہم یہ احتجاجی تحریک کو جاری رکھے گیں۔ پروگرام میں ہزاروں مردو خواتین نے شرکت کرکے بیک آواز حکومت ہند سے اس قانون کو واپس لینے کامطالبہ کیا اور اس قانون کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کیا ۔ ترنگے جھنڈوں اور سی اے اے و این آرسی کے خلاف بنے بینر پوسٹر کے ساتھ احتجاج گاہ پہنچی خواتین اور لوگوں کا جوش و خوش قابل دید تھا، خواتین نے زبردست طریقہ سے انقلابی نعروں کے ساتھ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں ہوگا اس وقت تک یہ احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا،ساتھ ہی خواتین اور طالبات نے جامعہ ملیہ اسلامیہ،جے این یو اور طلبہ مدارس کے خلاف کی گئی انتظامیہ کی کارروائی پر سخت غصہ کااظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری طورپر یہ مقدمات واپس لینے اور بے قصور کو رہا کرنے کامطالبہ کیا،خاص بات یہ ہے اس پروگرام میں خواتین کے ساتھ بچوں نے بھی جوش و خروش سے حصہ لیا۔اس موقع پر معروف نوجوان عالم دین مفتی عفان منصورپوری نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ حکومت وقت ملک کی مشترکہ ور ثہ اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے لیکن ملک کے عوام حکومت کی اس منشا کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون ہر طبقہ کو ہراساں کرنے والا ہے اسلئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ فوری طورپر یہ قانون واپس لے۔انہوں نے دیوبند کی تاریخ اور یہاں کے اکابرین کی خدمات کے حوالے و جنگ آزاد میں دیوبند کی قربانیوں پر روشنی ڈالی اور شہریت ترمیمی قانون کو امتیازی اور غیرجمہوری بتایا اور کہا کہ یہ ہندوستانی جمہوریت پر بدنما داغ ہے۔انہوںنے کہاکہ اس ملک کی آزادی میں ہمارے آباؤ اجداد کا خون شامل ہے ،جنہوں نے اپنے جانیں نچھاور کرکے اس ملک کو آزادی دلائی لیکن آج ہمیں دوسرے درجہ کا شہری ثابت کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں،جس کے خلاف ہم آخرتک اپنی آواز بلند کریںگے۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں اس تحریک میں شامل مردو خواتین اور طلبہ وطالبات کی ستائش کی۔انہوں نے یوپی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہاکہ یوپی حکومت قوانین کا غلط استعمال کرکے ایک فرقہ کو نشانہ بنارہی ہے جو قابل مذمت ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت اکثریت کے زعم میں غلط قوانین پاس کررہی ہے لیکن عوامی اکثریت ایسے قوانین کو کبھی برداشت نہیں کریگی۔ انہوں نے حاضرین مجلس سے کہاکہ احتجاجی مظاہرے اپنی جگہ ہیں لیکن ہمیں سب سے پہلے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا اسی وقت اللہ کی مدد اور نصرت حاصل ہوگی۔ جے این یو کی اسٹوڈینٹ صائمہ ایس ،سعادت حسین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے طالبعلم فواز خان نے بھی اپنے خطاب میں حکومت کو زبردشت تنقید کا نشانہ بتاتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ایک طبقہ کو ہراساں کرنے کی سیاست کررہے ہیں جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیاجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک کے چپہ چپہ پر طالبعلم،بزرگ ،نوجوان اور خواتین سڑکوں پر ہیں ،حکومت کوشرم آنی چاہئے اور اس قانون کو فوراً واپس لینا چاہئے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، شاہین باغ اور جی این یو و علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کی گئی پولیس کی زیادتیوں کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اس آواز کو دبانا چاہتی لیکن یہ کبھی ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس قانون کے ساتھ ساتھ اس حکومت کو بھی جانا ہوگا۔ جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے سکریٹری سید ذہین احمد نے کہاکہ جب تک یہ تینوں کالے قانون واپس نہیں ہونگے اس وقت تک ہماری احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔آخر جمعیۃ علماء دیوبند یونٹ کے سکریٹری عمیر احمد عثمانی نے سبھی لوگوں کا شکریہ اداکیا۔نظامت کے فرائض مولانا محمود الرحمن صدیقی نے انجام دیئے۔ اس دوران جمعیۃ علماء ہند کے مجلس منتظمہ کے رکن مولانا شمشیر الحسنی قاسمی، فیصل حمید خان،سلیم احمد عثمانی،چودھری صادق، قاری زبیر احمد قاسمی، صادق صدیقی ،صفوانہ راحت خلیل،منتہی اشرف خان،خدیجہ مدنی، رقیہ محمود،روبنیہ شہزاد،رونام عثمانی،جویریہ عمران مرزا،ثاقبہ مدنی سمیت ہزاروںکی تعداد میں مردو خواتین شامل رہے۔ مظاہرہ کے دوران بڑ ی تعداد میں پولیس فورس تعینات رہی اور خفیہ محکمہ کے افسران بھی پل پل کی خبر اعلیٰ افسران کو دیتے دکھائی دیئے۔
