یہ جہد مسلسل........ موسم بہار کی علامت ہے!!!!
طاہر ندوی
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
یہ ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، جہاں چاروں اطراف آگ ہی آگ ہے، چاروں اور چیخ و پکار ہے، جسے دیکھو بے چینی کا شکار ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے، جب سے NRC اور CAA جیسے UNCONSTITUTIONAL قوانین حکومت نے پاس کیا ہے پورا ملک سراپا احتجاج بن چکا ہے ہر ایک اپنی بساط کے مطابق آوازیں بلند کرنے میں لگا ہے اور لاکھوں کروڑوں لوگ سڑکوں پر آکر اس بل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو انکا حق ہے وہ آئین کی عظمت کو باقی رکھتے ہوئے پرامن طریقے سے اپنی بات حکومت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں لیکن کچھ شر پسند عناصر انکے PEACEFULLY PROTEST کو پُر تشدد رنگ بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور برسراقتدار جماعتیں اپنے ایوانوں میں بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہے ہیں..
یقیناً جب کوئی منصف مزاج مؤرخ اس دور کو رقم کریگا تو وہ سوچنے پر مجبور ہو جا ئے گا کہ اس سیاہ دور کا کس سیاہ دور سے موازنہ کریں، اس ظلم و جبر کا کس ظلم و بربریت سے COMPARE کریں، ان تانا شاہی حکمرانوں کا کس ہٹلرِ زمانہ سے کریں؟؟؟
لیکن اس سیاہ دور کے دوسرے پہلوؤں پر جب اس کی نظر پڑیگی تو اس کی آنکھیں چمکنے لگیں گی سینہ فخر سے کشادہ ہونے لگے گا
جب اس کی نظر اسکول کالیجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ وطا لبات پر پڑے گی، جب اسکی نظر سڑکوں پر اترے بلا کسی تفریق مذہب لاکھوں افراد پر جائے گی، جب اس کی نظر گوشہ نشینی کو خیر باد کہنے والے علماء پر جائے گی، جب اس کی نظر برقعہ پوش خواتین پر جائے گی، جب اس کی نظر آپ کی جہد مسلسل کی طرف جائے گی، جب اس کی نظر آئین اور دستور سے آپ کی محبت کی طرف جائے گی، جب اسکی نظر آئین کو بچانے کی آپ کے حوصلوں اور عزائم کی طرف جائے گی.
تو یقیناً وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ یہ زندہ دل لوگ ہیں جنھوں نے جان کی فکر کی نہ اپنے اہل و عیال کی
اور بے خطر کود پڑے اس آتش نمرود میں.....
اور اخیر میں
وہ اس جملے پر اپنی بات کو ختم کر نا چاہےگا کہ.......
یہ جہد مسلسل....... موسم بہار کی علامت ہے
طاہر ندوی
دارالعلوم ندوةالعلماء لکھنؤ
طاہر ندوی
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
یہ ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، جہاں چاروں اطراف آگ ہی آگ ہے، چاروں اور چیخ و پکار ہے، جسے دیکھو بے چینی کا شکار ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے، جب سے NRC اور CAA جیسے UNCONSTITUTIONAL قوانین حکومت نے پاس کیا ہے پورا ملک سراپا احتجاج بن چکا ہے ہر ایک اپنی بساط کے مطابق آوازیں بلند کرنے میں لگا ہے اور لاکھوں کروڑوں لوگ سڑکوں پر آکر اس بل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو انکا حق ہے وہ آئین کی عظمت کو باقی رکھتے ہوئے پرامن طریقے سے اپنی بات حکومت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں لیکن کچھ شر پسند عناصر انکے PEACEFULLY PROTEST کو پُر تشدد رنگ بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور برسراقتدار جماعتیں اپنے ایوانوں میں بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہے ہیں..
یقیناً جب کوئی منصف مزاج مؤرخ اس دور کو رقم کریگا تو وہ سوچنے پر مجبور ہو جا ئے گا کہ اس سیاہ دور کا کس سیاہ دور سے موازنہ کریں، اس ظلم و جبر کا کس ظلم و بربریت سے COMPARE کریں، ان تانا شاہی حکمرانوں کا کس ہٹلرِ زمانہ سے کریں؟؟؟
لیکن اس سیاہ دور کے دوسرے پہلوؤں پر جب اس کی نظر پڑیگی تو اس کی آنکھیں چمکنے لگیں گی سینہ فخر سے کشادہ ہونے لگے گا
جب اس کی نظر اسکول کالیجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ وطا لبات پر پڑے گی، جب اسکی نظر سڑکوں پر اترے بلا کسی تفریق مذہب لاکھوں افراد پر جائے گی، جب اس کی نظر گوشہ نشینی کو خیر باد کہنے والے علماء پر جائے گی، جب اس کی نظر برقعہ پوش خواتین پر جائے گی، جب اس کی نظر آپ کی جہد مسلسل کی طرف جائے گی، جب اس کی نظر آئین اور دستور سے آپ کی محبت کی طرف جائے گی، جب اسکی نظر آئین کو بچانے کی آپ کے حوصلوں اور عزائم کی طرف جائے گی.
تو یقیناً وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ یہ زندہ دل لوگ ہیں جنھوں نے جان کی فکر کی نہ اپنے اہل و عیال کی
اور بے خطر کود پڑے اس آتش نمرود میں.....
اور اخیر میں
وہ اس جملے پر اپنی بات کو ختم کر نا چاہےگا کہ.......
یہ جہد مسلسل....... موسم بہار کی علامت ہے
طاہر ندوی
دارالعلوم ندوةالعلماء لکھنؤ
