مسلم راشٹریہ منچ کی کانفرنس میں ہنگامہ اور مارپیٹ
نام نہاد مولویوں کو جمع کرکے سی اے اے کی حمایت کی آر ایس ایس کی کوشش ناکام، سنگھ پریوار کے خلاف نعرے بازی
نئی دہلی۔ ۱۶؍جنوری: متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج کے درمیان آر ایس ایس کی مسلم راشٹریہ منچ نے کچھ نام نہادمولویوں کے ساتھ آج دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں کانفرنس بلائی تھی۔ یہ کانفرنس بری طرح ناکام ہوگئی۔مسڈکال،جوابی ریلی،اشتہارات کے ناکام ہونے کے بعدبی جے پی الگ الگ کوششیں کررہی ہے تاکہ بتایاجاسکے کہ مسلمان اورعوام اس قانون کے ساتھ ہیں۔اسی ضمن میں آج یہ میٹنگ بلائی گئی تھی لیکن اسی میں جم کرمخالفت ہوئی ،سوشل میڈیاپرجاری ویڈیومیں آرایس ایس لیڈراورمسلم راشٹریہ منچ کے سربراہ اندریش کمارکے سامنے ہی حاضرین نے این آرسی،این پی آراورسی اے اے کے خلاف احتجاج کیااورآرایس ایس کے خلاف نعرے بازی ہوئی ۔جس کے بعدکھسیاکرموجودفرقہ پرست عناصرغنڈہ گردی پراترآئے اواران کی پٹائی شروع کردی۔مظاہرین اپنے ہاتھوں میں سی اے اے، این آر سی واپس لو والے پرچے لیے ہوئے تھے، اس دوران مسلم راشٹریہ منچ کے صدر آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار بھی موجود تھے۔ پروگرام میں ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح سی اے اے کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کو وہاں سے ہٹادیاگیا۔بعد میں انہیں پارلیمنٹ پولس چوکی لے جایا گیا جہاں سے انہیں خبر لکھے جانے تک رہا کردیاگیا تھا۔ واضح رہے کہ دوپہر دو بجے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں نام نہاد مولویوں کی میٹنگ طلب کی گئی تھی، اس میں ملک بھر کے دو سے زائدنام نہاد مولویوں کے شریک ہونے کادعویٰ تھالیکن صہیب قاسمی جیسے لوگوں کی بہت کم تعدادرہی ۔ اس میٹنگ میں اندریش کمار نے کہاکہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں سی اے بی کو پیش کیاگیا تو اب سی اے اے بن گیا، اسے اب بدلا نہیں جائے گا اور واپس لینے کا سوال بھی نہیں اْٹھتا۔ ہر ملک میں غیر ملکیوں کولے کر قانون ہے، پہلے گیارہ سال میں ہندوستانی شہریت مل جاتی تھی جسے اب گھٹا کر چھ سال کردی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ پاکستان، بنگلہ دیش، اور افغانستان کانگریس کی کوکھ سے جنم لیا ہوا ملک ہے۔اندریش کمار نے کہاکہ کچھ لوگ اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ جو لوگ اسلام کی سچی سوچ والے ہیں آرام سے بیٹھے ہیں۔ میڈیامیں اپنی سبکی وائرل ہونے کے خوف سے انھوں نے کہاہے کہ آج میڈیا کو شیطان اور انسان کوپہچان لیناچاہیے اور انسان کو ہی دکھانا چاہیے۔ میڈیاکوان لوگوں کو شہریت قانون کے مخالف کے طو رپر نہیں دکھاناچاہیے۔مسلمانوں میں کروڑوں لوگ امن پرست ہیں جبکہ چند لوگ ہی شیطان پرست ہیں۔ وشو ہندو پریشد کے کارگزار صد رآلوک کمار نے کہا کہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ بولنے کی آزادی صرف ان کے لیے ہے، وہ بحث کرنے نہیں آئے ہیں، بلکہ ہنگامہ کرنے آئے ہیں۔ وہیں سپریم کورٹ کے وکیل سراج قریشی نے کہاکہ اس قانون کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے، یہ قانون نیا نہیں ہے۔ اس قانون میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے ہندوستانی مسلمانوں کی شہریت کو خطرہ ہو، اس ملک میں چھ اقلیتیں رہتی ہیں، مسلمان، سکھ، بودھ، جین، عیسائی، مگر اکثریت ہونے کے بعد بھی ہندوئوں کے ساتھ جموں کشمیر میں ظلم ہوا، لیکن تب کسی نے ااواز نہیں اْٹھائی کہ کشمیری پنڈتوں او رڈوگروں پر ظلم کیوں ہورہا ہے۔
نام نہاد مولویوں کو جمع کرکے سی اے اے کی حمایت کی آر ایس ایس کی کوشش ناکام، سنگھ پریوار کے خلاف نعرے بازی
نئی دہلی۔ ۱۶؍جنوری: متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج کے درمیان آر ایس ایس کی مسلم راشٹریہ منچ نے کچھ نام نہادمولویوں کے ساتھ آج دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں کانفرنس بلائی تھی۔ یہ کانفرنس بری طرح ناکام ہوگئی۔مسڈکال،جوابی ریلی،اشتہارات کے ناکام ہونے کے بعدبی جے پی الگ الگ کوششیں کررہی ہے تاکہ بتایاجاسکے کہ مسلمان اورعوام اس قانون کے ساتھ ہیں۔اسی ضمن میں آج یہ میٹنگ بلائی گئی تھی لیکن اسی میں جم کرمخالفت ہوئی ،سوشل میڈیاپرجاری ویڈیومیں آرایس ایس لیڈراورمسلم راشٹریہ منچ کے سربراہ اندریش کمارکے سامنے ہی حاضرین نے این آرسی،این پی آراورسی اے اے کے خلاف احتجاج کیااورآرایس ایس کے خلاف نعرے بازی ہوئی ۔جس کے بعدکھسیاکرموجودفرقہ پرست عناصرغنڈہ گردی پراترآئے اواران کی پٹائی شروع کردی۔مظاہرین اپنے ہاتھوں میں سی اے اے، این آر سی واپس لو والے پرچے لیے ہوئے تھے، اس دوران مسلم راشٹریہ منچ کے صدر آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار بھی موجود تھے۔ پروگرام میں ہاتھا پائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح سی اے اے کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کو وہاں سے ہٹادیاگیا۔بعد میں انہیں پارلیمنٹ پولس چوکی لے جایا گیا جہاں سے انہیں خبر لکھے جانے تک رہا کردیاگیا تھا۔ واضح رہے کہ دوپہر دو بجے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں نام نہاد مولویوں کی میٹنگ طلب کی گئی تھی، اس میں ملک بھر کے دو سے زائدنام نہاد مولویوں کے شریک ہونے کادعویٰ تھالیکن صہیب قاسمی جیسے لوگوں کی بہت کم تعدادرہی ۔ اس میٹنگ میں اندریش کمار نے کہاکہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں سی اے بی کو پیش کیاگیا تو اب سی اے اے بن گیا، اسے اب بدلا نہیں جائے گا اور واپس لینے کا سوال بھی نہیں اْٹھتا۔ ہر ملک میں غیر ملکیوں کولے کر قانون ہے، پہلے گیارہ سال میں ہندوستانی شہریت مل جاتی تھی جسے اب گھٹا کر چھ سال کردی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ پاکستان، بنگلہ دیش، اور افغانستان کانگریس کی کوکھ سے جنم لیا ہوا ملک ہے۔اندریش کمار نے کہاکہ کچھ لوگ اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ جو لوگ اسلام کی سچی سوچ والے ہیں آرام سے بیٹھے ہیں۔ میڈیامیں اپنی سبکی وائرل ہونے کے خوف سے انھوں نے کہاہے کہ آج میڈیا کو شیطان اور انسان کوپہچان لیناچاہیے اور انسان کو ہی دکھانا چاہیے۔ میڈیاکوان لوگوں کو شہریت قانون کے مخالف کے طو رپر نہیں دکھاناچاہیے۔مسلمانوں میں کروڑوں لوگ امن پرست ہیں جبکہ چند لوگ ہی شیطان پرست ہیں۔ وشو ہندو پریشد کے کارگزار صد رآلوک کمار نے کہا کہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ بولنے کی آزادی صرف ان کے لیے ہے، وہ بحث کرنے نہیں آئے ہیں، بلکہ ہنگامہ کرنے آئے ہیں۔ وہیں سپریم کورٹ کے وکیل سراج قریشی نے کہاکہ اس قانون کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے، یہ قانون نیا نہیں ہے۔ اس قانون میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے ہندوستانی مسلمانوں کی شہریت کو خطرہ ہو، اس ملک میں چھ اقلیتیں رہتی ہیں، مسلمان، سکھ، بودھ، جین، عیسائی، مگر اکثریت ہونے کے بعد بھی ہندوئوں کے ساتھ جموں کشمیر میں ظلم ہوا، لیکن تب کسی نے ااواز نہیں اْٹھائی کہ کشمیری پنڈتوں او رڈوگروں پر ظلم کیوں ہورہا ہے۔
