دارالعلوم دیوبند کی مجلس عاملہ اجلاس اختتام پذیر
اراکین کا ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کااظہار
دیوبند۔ ۲۱؍جنوری: (ایس چودھری) عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں یک روزہ مجلس عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر ہوگیا ہے، جس میں ارکین نے ادارہ کے متعلق اہم تجاویز پر غور کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات پر بھی تشویشناک کااظہارکیا۔ دارالعلوم دیوبند کے گیسٹ ہاؤس میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں سابقہ شوریٰ کی کارروائی کی توثیق عمل میں آئی،اس کے علاوہ آئندہ کالائحہ تیار کیاگیا۔ میٹنگ کے دوران خاص طورپر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہورہے ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور ملک کے موجودہ تشویشناک حالات پر اراکین نے سرجوڑ کر غوروفکر کرتے ہوئے بقائے باہمی پر زور دیا۔گزشتہ دنوں سرخیوں میں رہی دارالعلوم دیوبند کی جدید لائبریری کے متعلق اراکین نے اہم فیصلہ لیا حالانکہ اس سلسلہ میںمیڈیا کو دارالعلوم دیوبند نے زیادہ معلومات فراہم نہیںکرائی ہے ۔میٹنگ میں طلبہ مدارس کے مسائل کے علاوہ تعلیمی رپورٹ وغیرہ بھی زیر غور آئیں، ساتھ ہی بینکنگ کے مسائل اور سابقہ شوریٰ میں پاس کی گئی اس تجویز پر بھی گفت و شنیدی کی گئی جس میں بجٹ سال اپریل تا مارچ کیا گیا تھا اور اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیںشمسی تاریخوںکے اعتبار دی جائینگی۔میٹنگ کے دوران ادارہ کے درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ دو نشستوں پر منعقد میٹنگ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں ہورہے احتجاجی مظاہروں کو لیکر گفت و شنیدی کی گئی اور گزشتہ دنوںدارالعلوم دیوبند کی جانب سے اس کے خلاف صدر جمہوریہ ہند اور چیف جسٹس آف انڈیا کو ارسال کئے گئے میمورنڈم کی ستائش کی گئی اور اس کو بہتر قدم بتایا گیا۔دارالعلوم دیوبند کی جانب سے اس سلسلہ میںکوئی ریلیز جاری نہیںکی گئی لیکن ذرائع کے مطابق ملک کے موجودہ تشویشناک حالات اور حکومت کی جانب سے تعداد کی بنیاد پر سلسلہ وار طریقہ سے پاس کئے جارہے قوانین پر اراکین نے عاملہ نے نہایت فکر مندی کااظہار کیا۔میٹنگ میں مہاراشٹر اسمبلی کے رکن مفتی اسماعیل مالیگاؤں، مولانا ابراہیم مدارسی،مولانا انوارالرحمن بجنوری،مفتی عبدالعلیم فاروقی، مولانا محمودراجستھانوی،مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابوالقاسم نعمانی اور شیخ الحدیث مفتی سعید پالنپوری شریک رہے۔
اراکین کا ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کااظہار
دیوبند۔ ۲۱؍جنوری: (ایس چودھری) عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں یک روزہ مجلس عاملہ کا اجلاس اختتام پذیر ہوگیا ہے، جس میں ارکین نے ادارہ کے متعلق اہم تجاویز پر غور کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات پر بھی تشویشناک کااظہارکیا۔ دارالعلوم دیوبند کے گیسٹ ہاؤس میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں سابقہ شوریٰ کی کارروائی کی توثیق عمل میں آئی،اس کے علاوہ آئندہ کالائحہ تیار کیاگیا۔ میٹنگ کے دوران خاص طورپر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہورہے ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور ملک کے موجودہ تشویشناک حالات پر اراکین نے سرجوڑ کر غوروفکر کرتے ہوئے بقائے باہمی پر زور دیا۔گزشتہ دنوں سرخیوں میں رہی دارالعلوم دیوبند کی جدید لائبریری کے متعلق اراکین نے اہم فیصلہ لیا حالانکہ اس سلسلہ میںمیڈیا کو دارالعلوم دیوبند نے زیادہ معلومات فراہم نہیںکرائی ہے ۔میٹنگ میں طلبہ مدارس کے مسائل کے علاوہ تعلیمی رپورٹ وغیرہ بھی زیر غور آئیں، ساتھ ہی بینکنگ کے مسائل اور سابقہ شوریٰ میں پاس کی گئی اس تجویز پر بھی گفت و شنیدی کی گئی جس میں بجٹ سال اپریل تا مارچ کیا گیا تھا اور اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیںشمسی تاریخوںکے اعتبار دی جائینگی۔میٹنگ کے دوران ادارہ کے درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ دو نشستوں پر منعقد میٹنگ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں ہورہے احتجاجی مظاہروں کو لیکر گفت و شنیدی کی گئی اور گزشتہ دنوںدارالعلوم دیوبند کی جانب سے اس کے خلاف صدر جمہوریہ ہند اور چیف جسٹس آف انڈیا کو ارسال کئے گئے میمورنڈم کی ستائش کی گئی اور اس کو بہتر قدم بتایا گیا۔دارالعلوم دیوبند کی جانب سے اس سلسلہ میںکوئی ریلیز جاری نہیںکی گئی لیکن ذرائع کے مطابق ملک کے موجودہ تشویشناک حالات اور حکومت کی جانب سے تعداد کی بنیاد پر سلسلہ وار طریقہ سے پاس کئے جارہے قوانین پر اراکین نے عاملہ نے نہایت فکر مندی کااظہار کیا۔میٹنگ میں مہاراشٹر اسمبلی کے رکن مفتی اسماعیل مالیگاؤں، مولانا ابراہیم مدارسی،مولانا انوارالرحمن بجنوری،مفتی عبدالعلیم فاروقی، مولانا محمودراجستھانوی،مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابوالقاسم نعمانی اور شیخ الحدیث مفتی سعید پالنپوری شریک رہے۔
