اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: دہلی کانتیجہ فرقہ پرستی کی شکست ہے از: محمــد عظیم فیض آبادی دارالعـــلوم النصـرہ دیــوبنــد 9358163428

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 15 February 2020

دہلی کانتیجہ فرقہ پرستی کی شکست ہے از: محمــد عظیم فیض آبادی دارالعـــلوم النصـرہ دیــوبنــد 9358163428

دہلی کانتیجہ فرقہ پرستی کی شکست ہے


از: محمــد عظیم فیض آبادی دارالعـــلوم النصـرہ دیــوبنــد
          9358163428

"دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو ، کیجریوال دہشت گردہے ، کیجریوال کے پاکستان سے لنک ہیں ، دہلی کی جنتاکو مفت خور بنارہے ہیں ، 11تاریخ کے بعد شاہین باغ نہیں رہے گا، شاہین باغ کو فنڈنگ کہاں سے ہورہی ہے، جناح والی آزادی، سرکار سے سوال کرنے والے پاکستانی ہیں، شاہین باغ والے غدار، دہلی والے بےوقوف ہیں،  شاہین باغ میں بریانی، شاہین باغ کے لا کھوں لوگ آپ کے گھروں میں گھس جائیں گے، ہندوستان بمقابلہ پاکستان میچ، بٹن ایسا دباؤ کہ کرنٹ شاہین باغ میں لگے ، دہلی میں سرکاری زمینوں پر تعمیر تمام مساجد کو گرا دیا جائے گا ، کاغذ نہ دکھانے والی ذہنیت ہارے گی اور کاغذ دکھانے والی ذہنیت جیتے گی " یہ اور اس طرح کے نہ جانے کتنے جملے دہلی الیکشن میں آپ کی سماعتوں سے ٹکرائے ہونگے جو نفرتوں کی فیکٹری چلانے والے سوداگروں کے ذریعہ وجود میں آئے جس نے پوری دہلی نہیں بلکہ ملک کی فضا کو مسموم کرنے کی ناپاک وگھناؤنی کوشش کی ، انھیں نفرتوں کا اثر تھا جو جامعہ اور شاہین باغ میں گولیاں چلیں تھیں اور اس نفرت کا اثر ابھی ختم نہیں ہوا انھیں نفرتوں کے جنون میں ڈوبے لوگوں نےمہرولی سے نریس یادو کے قافلے پرنتیجہ والی رات کودیر رات کو حملہ کر دیا اور حملے میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئیں 
  اسی نفرتوں کو پھیلانے کے لئے دیگر صوبوں سے اسپرٹ وماہرین کی ایک پوری ٹیم ہفتوں دہلی میں رات دن کام کرتی رہی ان نعروں پر غور کیجئے کہ نفرتوں کی سوجی کا کون کونسا حلوہ نہ تیار کیا گیا جانب داری کے باوجود کئی لوگوں پر الیکشن کمیشن کو مجبوراپابندی عائد کرنی پڑی کیا چھوٹے کیابڑے سب کی زبان ایک ہی طرح کی نشتر چلارہی تھیں لیکن کیا کیجئے گا جس کے ترکش میں ایک ہی طرح کے تیر ہوں وہ دوسری طرح کا تیر کہا سے لائے گا مودی شاہ کی پوری کابینہ 300 اراکین پارلیمنٹ 5 صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور دولت کی ریل پیل کے باوجود 
 نتیجہ یہ ہوا کہ......
    الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
  سیکولر بالروں کے سامنے تین سو سے زیادہ افراد پر مشتمل نفرتوں کے بلے بازوں کی پوری ٹیم اپنے کپتانوں کے ساتھ ایک ایک کرکے سب 8 رن بنا کر آل آوٹ ہوگئے امپائر کے ساتھ کسی طرح evm کی سیٹنگ اور اس کی ہیرا پھیری بھی کارگر نہ ہوسکی یا پھر بالروں کی چوکسی اور سیکولر عوام کی بیداری کی وجہ سے اس پر ہاتھ صاف کرنے کا کوئی موقع ہی نہ مل سکا اور نتیجہ بالکل عوام کی امیدوں کے مطابق آیا
   اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی کی ہارفرقہ پرست طاقتوں کی کھلی شکست ہےاور اس فرقہ پرستی کی کمر ضرور توٹےگی ، گزشتہ کئی سالوں سے سنگھ اور بی جے پی نے جس طرح کی ہریلی زبان استعمال کرتے ہوئے سماج کے ذہنوں میں نفرت بھر رہی ہے اور مذہب کے نام پر ہندوستان کو مختلف خانوں میں بانٹ کر گندی سیاست کو فروغ دینے کی کوشس کر رہی ہے اسےدہلی کے امن پسند شہریوں ، پیار ومحبت اور سیکولرزم پر یقین رکھنے والے اہل وطن نےاسےخارج کردیا اور عوام نےفرقہ پرستی کے منہ پر طماچہ مار کر یہ خاموش پیغام دیا کہ ملک ودستور اور جمہوریت سے کس طرح کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اس کی حفاظت ہم سب اہل وطن کا فرض ہے
 دہلی کا نتیجہ یہ گاندھی کے اس نظریہ کی جیت ہے جس نےسبھی مذاہب ، تمام طبقوں کے لوگوں کو ملک میں رہنے اس کی تعمیر وترقی اور اس کے سجانے سنوارنے کا حقوق فراہم کئے ہیں فرقہ پرست طاقتوں اور اس کی سوداگری کربے والے سیاست دانوں کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کسی ملک کی تعمیر وترقی امن وامان ، آپسی پیار محبت ، اور بھائی چارے میں پوسیدہ ہے
نفرت و فرقہ پرستی سے تخریب، تفریق وتقسیم تو ہو سکتی ہے تعمیر وترقی نہیں ، نفرتوں کی کشتی میں سورر ہوکرمنزل مقصود کا حصول نہ کبھی ممکن ہواہے نہ ہی ہوسکتا ہے  اس لئے ہم سب کو ایک بار پھر سے سوچنے کی ضرورت ہے اورآپسی پیار محبت اور بھائی چارے کی پونجی کے ساتھ ملک کی تعمیر وترقی میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے


 ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے