اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: فسادمتاثرہ علاقوں میں مسلم نوجوانوں کی یکطرفہ گرفتاریاں جمعیۃعلماء ہند کے وفدکی دہلی پولس کمشنرسے ملاقات، کمشنرنے منصفانہ کارروائی کی یقین دہانی کرائی نئی دہلی 14/مارچ

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 14 March 2020

فسادمتاثرہ علاقوں میں مسلم نوجوانوں کی یکطرفہ گرفتاریاں جمعیۃعلماء ہند کے وفدکی دہلی پولس کمشنرسے ملاقات، کمشنرنے منصفانہ کارروائی کی یقین دہانی کرائی نئی دہلی 14/مارچ

         
فسادمتاثرہ علاقوں میں مسلم نوجوانوں کی یکطرفہ گرفتاریاں
جمعیۃعلماء ہند کے وفدکی دہلی پولس کمشنرسے ملاقات، کمشنرنے منصفانہ کارروائی کی یقین دہانی کرائی
نئی دہلی 14/مارچ 2020 آئی این اے نیوز
 مولانا سید ارشد مدنی صدرجمعیۃعلماء ہند کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کاایک نمائندہ وفد مسلسل 19 روز سے شمال مشرقی دہلی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہا ہے اور ہر ایک چیز کا بہت باریکی سے جائزہ لیکر ہر طرح کا تعاون کر رہا ہے ریلیف کے ساتھ ساتھ مساجد ومکانوں کی باز آبادکاری کا سلسلہ بھی جاری ہے اور قانونی امداد بھی فراہم کی جارہی ہے،دوسری طرف پولس کامسلمانوں کے تعلق سے جانبدارانہ روریہ بدستورجاری ہے، متأثرین کی طرف سے مسلسل یہ شکایات موصول ہورہی  ہے کہ فسادمیں ملوث شرپسندعناصرکی جگہ بے گناہ مسلم نوجوانوں کو ہی زیادہ تعداد میں گرفتار کیاجارہا ہے اورانہیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، وفد شدت کے ساتھ یہ محسوس کرتاہے کہ پولس سیاسی دباؤ اوراپنی فرقہ وارانہ سوچ کے مطابق ہی کام کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ اصل خاطیوں کو سامنے لانے کی جگہ وہ مسلم نوجوانوں کو ہی گناہ گاربناکر پیش کررہی ہے، جبکہ ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں اس اندوہناک سچائی کو بارباراجاگرکیا گیا ہے کہ پولس کی طرف سے شرپسندوں کو کھلی چھوٹ دی گئی اورچشم دیدگواہوں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے مطابق پولیس انتظامیہ نے شرپسندوں کے ساتھ ملکرمسلمانوں کو جو جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے جس میں 15 مساجد تین مدارس اور سینکڑوں مکانات ودوکانیں شامل ہیں۔ زیادہ ترواقعات میں  پولیس یا تو تماش بین بنی رہی یا پھر شرپسندوں کے ساتھ ملکر ظلم و تشدد کرتی نظر آئی متأثرین کے مطابق جب ان لوگوں نے یہ دیکھا کہ شرپسند مسلسل ان پر حملہ آور ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے کوئی مدد نہیں مل رہی ہے توانہوں نے اپنا دفاع خود کرنے کا فیصلہ کیا مگر اب الٹا انہیں کو گرفتار کیا جارہا ہے اور ڈرایا دھمکایا جارہا ہے تاکہ وہ شرپسندوں کے خلاف مقدمات درج کرانے کی جرأت نہ کرنے پائیں اور جو مقدمات کرائے جارہے ہیں انکو بھی صحیح طریقے پر درج نہیں کیا جارہا بلکہ ایک علاقے کے تمام نقصانات کی ایک ہی ایف آئی آر لکھی جارہی ہے ان تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان خوف و ہراس کا ماحول ہے اور کافی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ڈر اور خوف کی وجہ سے نامزد ایف آئی آر کرانے سے کترارہے ہیں انہیں تمام باتوں کو لیکر جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے دہلی پولیس کمشنر سے ملاقات کی اور ان کے سامنے تفصیل سے تمام شکایات کو رکھا،انہوں نے تمام باتوں کو بغور سنا اور ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے نیز شمال مشرقی دہلی کے ڈی سی پی کو فون کر کے انصاف کے ساتھ کاروائی کرنے کی ہدایت بھی دی علاوہ ازیں خود متأثرہ علاقوں کا دورہ کرکے خوف و ہراس کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، حقیقت یہ ہے کہ فسادکے دوران پولس جس طرح شرپسندعناصرکے ساتھ کھڑی نظرآئی اور انہیں لوٹ ماراور قتل وغارت گری کی چھوٹ دی اس کے بعدسے پولس پر سے مسلمانوں کا اعتمادبری طرح مجروح ہوچکاہے یہی وجہ ہے کہ اب وہ پولس کی طرف سے دی جانے والی کسی بھی یقین دہانی پر اعتمادکرنے کو تیارنہیں ہیں، یہ ایک انتہائی خطرناک صورت حال ہے کہ جب ملک کی ایک بڑی آبادی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو لیکر محتاط روی کا مظاہرہ کرے اور ان سے انصاف کی توقع کرناہی ترک کردے ایسے میں وفد محسوس کرتاہے کہ انتہائی ضروری ہے کہ پولس عوام بالخصوص مسلمانوں میں جس قدرجلد ممکن ہواپنا اعتمادبحال کرنے کی عملی کوشش کرے اور اس کی ایک بہترین صورت یہی ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ کارروائی کرے۔
وفد میں عبدالرازق مظاہری،مفتی عبدالقدیر،قاری محمد ساجد فیضی،قاری دلشاد قمر مظاہری،مولانا محمد عاقل قاری عقیل، ڈاکٹر شمس ایڈوکیٹ احمد مہتاب عالم شامل تھے۔