اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: شہریت قانون کی مخالفت میں دھرنا ومظاہرہ جاری رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدہوبنی :20/مارچ 2020 آئی این اے نیوز

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 20 March 2020

شہریت قانون کی مخالفت میں دھرنا ومظاہرہ جاری رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مدہوبنی :20/مارچ 2020 آئی این اے نیوز

شہریت قانون کی مخالفت میں دھرنا ومظاہرہ جاری رہے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 مدہوبنی :20/مارچ 2020 آئی این اے نیوز
(محمد سالم آزاد ) رہیکا بلاک عبدالغفور چوک پر شاہین باغ کے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے  ڈاکٹر امام الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا پہلے ریاستی حکومت اور اب مرکزی حکومت این پی آر اور این آر سی پر جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ ہماری لڑائی اصل میں سی اے اے ہے اس لئے ہمیں کسی بھی حکومت کے جھوٹ میں نہیں پھنسنا ہے۔ جس طرح سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ذریعہ اس کالے قانون کو بنایا گیا ہے جب تک وہاں سے اس قانون کو خارج نہیں کیا جاتا ہے تب تک مضبوطی کے ساتھ احتجاج کو جاری رکھنا ہوگا۔ بہار میں بھی نتیش کمار نے این پی آر اسمبلی میں کہا کہ 2010 کے فارمیٹ پر این پی آر ہوگا لیکن اب تک 2010کا فارمیٹ عوام کے بیچ نہیں لایا گیا ہے اور نہ پہلے سے جو گزٹ پاس کیا گیاہے اسے خارج نہیں کیا ہے۔ ابھی دو دن پہلے امیت شاہ نے کہا کہ این پی آر اور این آرسی سے کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ این آر سی نہیں ہوگا یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے امیت شاہ اور مودی کا۔ ہماری تین مہینے کی لڑائی کو سازش کے تحت کمزور کیا جارہا ہے اس لئے ہمیں نہ مرکزی حکومت  اور نہ ہی ریاستی حکومت کے جھوٹ میں پھنسنا ہے۔ اگر ہم لوگ امیت شاہ اور ریاستی حکومت کے جھوٹ میں پھنس گئے تو یقینا پورے بھارت کا احتجاج کمزور پڑجائے گا۔ نوجوان شاعر اسامہ عاقل نے کہا کہ یہ لڑائی صرف ملک اور آئین بچانے کی نہیں ہے  بلکہ مسلمانوں کے مستقبل بچانے کی بھی لڑائی ہے اس لئے مسلمانوں کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ اس لڑائی کو مضبوطی کے ساتھ انجام تک پہنچائیں۔ آج اگر ہم اس لڑائی کو لڑنے میں ناکام ہوگئے تو جس طرح سے دہلی کو جلادیا گیا اگلا نمبر بہار کا ہوگا۔ سبھی پارٹیاں لگاتار این پی آر اور این آرسی پر بات تو کررہی ہے لیکن جو سب سے زیادہ خطرناک اور مسلمانوں کے خلاف قانون ہے CAA اس پر کوئی بھی بات نہیں کرتا۔ جب تک CAA جیسا کالاقانون رہے گا تب تک بھارت کا مسلمان محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری لڑائی پہلے سے زیادہ مضبوط ہونی چاہئے اور تب تک اس لڑائی کو لڑنی ہوگی جب تک ہم CAA واپس نہیں کروالیتے ہیں،شاعر اسامہ عاقل نے کہا شہریت قانون کی مخالفت میں دھرنا ومظاہرہ جاری رہے گا ۔ بالی ووڈ اکار ارشاد خان  نے کہا کہ نتیش کمار ہوں یا کجریوال ہوں یا جو بھی ریاست کے وزیراعلیٰ نے این پی آر کے خلاف اسمبلی میں تجویز پاس کی ہے وہ مرکزی حکومت پر دباؤ بنائے کہ CAA واپس لے اگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے ہیں تو سارے شاہین باغ اور تمام مسلمانوں کو این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ تبھی ہم اس لڑائی کو جیت پائیں گے۔ انہو نے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپریل سے شروع ہونے والا این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کے لئے تیار رہیں۔ ہمیں کسی بھی حالت میں این پی آر نہیں ہونے دینا ہے  یہ سبھی لوگ ذہن میں بٹھالیں اور اپنے اپنے گھروں کے علاوہ محلے سماج کے لوگوں کو بھی پوری طرح بیدار کردیں کہ این پی آر کا پورے بھارت کے مسلمان بائیکاٹ کررہے ہیں۔ کسی بھی طرح کی کوئی جانکاری اور کوئی فارم نہیں بھرنا ہے۔ یقینا جانئے اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو مرکز کی تاناشاہ حکومت کو CAAواپس لینا مجبوری ہوجائے گی۔  CAA, NPR, NRC میں صرف CAA ہی قانون  ہے جو مذہب کو بنیاد بناکر مسلمانوں کے خلاف بنایا گیا کالا قانون ہے اور اگر یہ قانون ختم نہیں ہوا تو بھارت کے مسلمانوں کو بھی برما کے مسلمانوں جیسی حالت بنانے میں بھاجپا کامیاب ہوجائے گی۔وہیں مہمانوں کو پرزور استقبال کیا گیا. اس موقع پر اصغر علی، آرزو ،وسیم شیخ ،محمد رازق،مولوی مرتضی، عبدالرافع ،رازق،محمد خورشید، عبدالمتین ، عارف ، چاند ، صفدر علی ،محمد حبیب ، شمس الدین، جنید ،ببلو کمار، شفیق الدین ، عارف ،محمد انصاری ،محمد جاسم ،مولوی جمیل وغیرہم موجود تھے ۔