ایک صوتی پیغام اور چند وضاحتیں
(کرونا وائرس کلپ کی کرونالوجی)
عمر عابدین قاسمی مدنی
"راقم الحروف" کا ایک صوتی پیغام(Voice message) دو روز سے خوب گردش میں ہے، گو کہ "راقم" چہار دیواری میں قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار تھا، پر "حروف" نے چار دانگ عالم کی خوب سیر کی، مگر "راقم و حروف" میں خوئے وفاشعاری اس درجہ تھی کہ، یہ حروف شب بھر "دریچہ"( WhatsApp window) سے جھانکا کیئے، بقول کسے :
سوگئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کُھلی ہے ابھی
یا الفاظ دیگر :
بند کھڑکی سے ہَوا آتی رہی
ایک شیشہ تھا کہیں ٹوٹا ہُوا
یہ صوتی پیغام شخصی تھا، میرے قابل اعتماد دوست مولانا مفتی عفان صاحب کو ارسال کیا گیا تھا، مگر وہ "جام جم' یکایک "جام سفال" بن کر میخانہ در میخانہ، میکدہ در میدکہ گردش کرتا رہا، ان کے ہاتھ بھی لگا جو محرم راز درون مے خانہ تھے اور ان کے ہاتھ بھی آیا جو آداب مے نوشی سے واقف نہ تھے۔
بقول مفتی عفان صاحب ہوا یوں تھا کہ:
"مولانا آپ کی اس چشم کشا گفتگو نے مجھے ھی نہیں بلکہ بہت سوں کو مسئلہ کی حساسیت سے واقف کرادیا اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ، جزاکم اللہ خیرا ۔
میں نے ایک ذمہ دار ساتھی کو آپ کی یہ آڈیو ارسال کی تھی انہوں نے کسی گروپ میں شیئر کردیا بس پھر کیا تھا لمحوں میں ساری دنیا میں عام ھوگئی"۔
اس تین منٹ چھالیس سیکنڈ کے دورانیہ پر مشتمل صوتی پیغام میں ہم نے حسب ذیل باتیں کہی تھیں :
1۔ مرض کی ہلاکت خیزی اور اندیشے۔
2. عالمی سطح پر مرض کے پھیلنے کی رفتار۔
3.ہندوستان میں ہلاکت خیزی کے متوقع نتائج۔
4.سخت احتیاطی طبی نگرانی میں موجود افراد کی تعداد، اور مسلمانوں کا اس میں تناسب۔
5. جماعت و جمعہ کے قیام کے حوالے سے فقہی نقطۂ نظر۔
1۔ مرض کی ہلاکت خیزی اور اندیشے:
وہ بعینہ وہی تھے جو اطبا نے ذکر کئے،بلکہ ہم نے "کتمان علم" سے کام لیتے ہوئے تمام باتیں ذکر نہیں کی تھیں، یوں بھی اس میں کوئی "اجتہاد" کی گنجائش نہیں تھی، سو مجرد تقلید ہی سے کام لیا گیا۔
2.عالمی سطح پر مرض کے پھیلنے کی رفتار:
یہ معلومات بھی اسی مجلس میں ماہرین نے بیان کی تھیں، چوں کہ ہم نے اس مجلس کی تمام تر اہم باتیں قلم بند کی ہیں، اس لیئے یہ نکات یاد داشت سے نہیں نوشتے سے بیان کئے گئے ہیں۔
3.ہندوستان میں ہلاکت خیزی کے متوقع نتائج:
یہ معلومات بھی انہی لوگوں کی فراہم کردہ تھیں۔
4.سخت احتیاطی طبی نگرانی میں موجود افراد کی تعداد اور مسلمانوں کا اس میں تناسب:
کرونا وائرس کے حوالے سے دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں،
الف : وہ جو طبی جانچ کے بعد "مثبت" قرار دیئے گئے ہیں۔(أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيهم ويعافيهم).
ب : جو "سخت طبی نگہداشت" میں رکھے گئے، ان کے بارے میں مثبت و منفی دونوں رپورٹ آسکتی ہے(نسأل العفو والعافية للجميع).
اس بابت جو ڈوکومنٹ ہر جگہ دستیاب تھا، وہ دوسرے زمرہ کے افراد سے متعلق تھا، اور ان میں ایک طبقہ کا تناسب بہت زیادہ تھا، یہی ڈوکومنٹ ہماری نظر سے بھی گزرا اور اسی کو بنیاد بنا کر کہا گیا ۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ اس فہرست میں جو لوگ شامل ہیں؛ وہ ہسپتال کی جانب سے فیصل شدہ مریض نہیں ہیں، بلکہ "مشتبہ حیثیت کے مریض" شمار ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ کر غلط فہمی در آئی۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ آج ایک آڈیو کے ذریعہ خبر ملی کہ ان میں سے اکثر لوگ صحت مند ہیں۔ والحمد لله على ذلك .
بہت سے "عجلت پسند مفکرین" نے اس بیانیہ کو عالمی یا قومی سطح کا سمجھ لیا، حالاں کہ ہم نے محض حیدرآباد کی بات کی تھی، گو کہ برطانیہ کے سلسلہ میں بھی ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی پانچ فیصد سے کم ہے، لیکن کورونا کے متاثرین میں ان کا تناسب پچیس فیصد ہے۔
در اصل ان کا یہ کہنا تھا کہ مسلمان جو خیر امت ہیں؛ وبا کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے مسجد کی جماعتوں کو محدود نہیں کریں گے، تو اس کے نتیجہ میں آسانی سے یہ کہا جائے گا بلکہ جارہا ہے کہ سب سے زیادہ کرونا مسلمان ہی پھیلا رہے ہیں، ہمارا یہی حال رہا تو ایک زمانہ آگاہ اور بلند نگاہ پروفیسر کے بقول: بی جے پی 2024 کا الیکشن کرونا کے مدعا پر لڑنے جا رہی ہے۔ اس لیے ہمیں محتاط طرز عمل کا ثبوت دینا چاہئے۔
یہ بات قابل اطمینان ہے کہ کل سے عمومی رویہ میں تبدیلی آئی ہے، اس طرح کہ عام لوگوں کے لیے مسجد کے مقفل ہونے کا اعلان کیا جارہا ہے اور اندر محدود جماعت بھی قائم کی جارہی رہے۔ سرکاری طور پر خدا نخواستہ اس طرح تالے نہ لگائے جائیں کہ ان کی کنجیاں بھی ہمیں نہ مل سکیں۔
کہا جاتا ہے کہ "انسان خطا کا پتلا ہے"، ظاہر ہے تعبیر میں کمی و بیشی ہوجاتی ہے، مگر بات یوں ہے کہ "عقیدت ہو تو تاویل اور عداوت ہو تو تقصیر کی جاتی ہے"۔
5. جماعت و جمعہ کے قیام کے حوالے سے فقہی نقطہ نظر:
ہم نے اس صوتی پیغام میں یہ بات کہی کہ عام افراد کےلیئے مسجد مقفل کر دی جائے، ہاں جماعت و جمعہ کےلئے جو فقہی اعتبار سے (Minimum Requirements) ہے اس کا لحاظ رکھا جائے، اب اس کمبخت فرنگی زبان کا کیا کیا جائے، بعض "دیسی ساختہ" اور "سوزشِ دل سے سوختہ" احباب نے اس فرنگی لفظ کو انگیز نہ کیا، اور اسے حذف کرکے یہ سمجھ بیٹھے کہ سرے سے مسجد مقفل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
ہم نے جو فقہی نقطہ نظر پیش کیا یہ وہی ہے جو فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مفتی اعظم مہاراشٹرا مولانا عزیز الرحمن صاحب، حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب، حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب و دیگر کا موقف تھا۔
اور خود جامعہ نظامیہ کے نائب شیخ التفسیر حضرت مولانا مفتی انوار احمد صاحب نے بھی اسی موقف کا اظہار کیا، ان کا ویڈیو ہر جگہ دستیاب ہے، دیکھا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس پوری گفتگو کو کسی ادارہ یا نشست سے منسوب نہیں کیا گیا، ہاں آغاز میں برسبیل تذکرہ ایک باوقار درس گاہ و دانش گاہ کا نام لیا گیا ہے، اور بات یوں ہے کہ، اگر کہنا ہو "اسلام کی بنیاد توحید پر ہے"،تو اس سے پیش تر یہ کہنا کس حد تک بامعنی ہوگا کہ "ہمارے شیخ فرماتے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔"۔ صبح روشن کی طرح یہ حقائق لوگوں کے سامنے ہیں، اسے کسی دلیل و حجت کی کیا ضرورت ہوگی۔ ایمان داری کے جذبہ اور گوشِ ہوش کے ساتھ اس صوتی پیام کو سنا جائے تو غلط فہمی از خود دور ہوجائے گی۔
اسی طرح جن لوگوں نے اس کے رد عمل میں ہرزہ سرائی، قد تراشی، بازاری لب و لہجہ، اور سوقیانہ اسلوب اختیار کیا، وہ سب ہمارے "حقیقی محسن" ہیں، اللہ کرے اسی بہانے "دفتر اعمال" میں کچھ نیکیوں کا اضافہ ہوجائے۔
ہمارا مزاج یہ ہے کہ باوقار اور تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار سوالات کا خیر مقدم کرتے ہیں، باقی سب و شتم، تحقیر وتنقیص اور دشنام طرازی کے جواب میں کیا کہا جائے:
"حسبنا الله ونعم الوكيل" ۔
مجھے خوشی ہے کہ اس آڈیو کو سنجیدہ و باشعور لوگوں نے سنجیدگی سے لیا، پورے ملک سے اہل علم و دانش نے سراہا، اور آج اسی کے مطابق ملک گیر سطح پر جمعہ و جماعت کا اہتمام بھی ہوا ۔
برادر مکرم مفتی عفان منصورپوری، برادر عزیز مولانا ڈاکٹر شکیب قاسمی (نائب مہتمم دار العلوم وقف دیوبند)، مفتی رفیع الدین رشادی (سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ)، مفتی شاہد علی قاسمی، مفتی محمد اعظم ندوی،
مفتی خالد نیموی (جمعیت العلما بہار)، معروف صحافی مولانا شاہنواز بدر قاسمی، مفتی نافع عارفی (جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار) اور نہ جانے کتنے ہی مخلصین و محبین نے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ ان گزارشات کے تئیں عملی پیش رفت بھی کی۔
حدیث دل :
پوری دنیا اس ہلاکت خیز وبا و بلا سے جوجھ رہی ہے، اٹلی کے کئی شہر اب شہرخموشاں کا منظر پیش کر رہے ہیں، انسان انسان سے یوں بھاگتا پھرتا ہے؛ گویا قیامت کا میدان سجا دیا گیا ہو(سورة عبس: ٣٥) امید کی ساری کرنیں مدہم ہوئی جارہی ہیں، علم وتحقیق کے ادارے اپنی پست قامتی اور بے بضاعتی کا شکوہ کر رہے ہیں۔ ایسے سنگین حالات میں اہل ایمان کا قافلہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے، ترجیحات کا تعین کرے اور اس لوٹے پٹے کارواں کے درد کا مداوا کرے، بےکسوں کے سر پر ہاتھ رکھے، فاقہ کشوں کےلئے لقمۂ حیات کا نظم کرے، بے آسرا و نادار لوگوں کو کمک پہنچائے۔ اور پھر آہ سحرگاہی کے اہتمام سے صبح نو کا انتظار کرے، زمزمۂ ربّآنی کے نغموں سے "فصلِ حیات" کی آبیاری کرے، دل کے آتشدان میں ذکر و عشق نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چراغ روشن کرے اور پورے جذب و وجد سے یہ کہتا جائے :
کہہ رہا ہے آپ کا رب "اَنتَ فِیھِم" آپ سے
میں انہیں دوں کیوں سزائیں،آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
صلى الله على سيدنا ونبينا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين
(کرونا وائرس کلپ کی کرونالوجی)
عمر عابدین قاسمی مدنی
"راقم الحروف" کا ایک صوتی پیغام(Voice message) دو روز سے خوب گردش میں ہے، گو کہ "راقم" چہار دیواری میں قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار تھا، پر "حروف" نے چار دانگ عالم کی خوب سیر کی، مگر "راقم و حروف" میں خوئے وفاشعاری اس درجہ تھی کہ، یہ حروف شب بھر "دریچہ"( WhatsApp window) سے جھانکا کیئے، بقول کسے :
سوگئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کُھلی ہے ابھی
یا الفاظ دیگر :
بند کھڑکی سے ہَوا آتی رہی
ایک شیشہ تھا کہیں ٹوٹا ہُوا
یہ صوتی پیغام شخصی تھا، میرے قابل اعتماد دوست مولانا مفتی عفان صاحب کو ارسال کیا گیا تھا، مگر وہ "جام جم' یکایک "جام سفال" بن کر میخانہ در میخانہ، میکدہ در میدکہ گردش کرتا رہا، ان کے ہاتھ بھی لگا جو محرم راز درون مے خانہ تھے اور ان کے ہاتھ بھی آیا جو آداب مے نوشی سے واقف نہ تھے۔
بقول مفتی عفان صاحب ہوا یوں تھا کہ:
"مولانا آپ کی اس چشم کشا گفتگو نے مجھے ھی نہیں بلکہ بہت سوں کو مسئلہ کی حساسیت سے واقف کرادیا اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ، جزاکم اللہ خیرا ۔
میں نے ایک ذمہ دار ساتھی کو آپ کی یہ آڈیو ارسال کی تھی انہوں نے کسی گروپ میں شیئر کردیا بس پھر کیا تھا لمحوں میں ساری دنیا میں عام ھوگئی"۔
اس تین منٹ چھالیس سیکنڈ کے دورانیہ پر مشتمل صوتی پیغام میں ہم نے حسب ذیل باتیں کہی تھیں :
1۔ مرض کی ہلاکت خیزی اور اندیشے۔
2. عالمی سطح پر مرض کے پھیلنے کی رفتار۔
3.ہندوستان میں ہلاکت خیزی کے متوقع نتائج۔
4.سخت احتیاطی طبی نگرانی میں موجود افراد کی تعداد، اور مسلمانوں کا اس میں تناسب۔
5. جماعت و جمعہ کے قیام کے حوالے سے فقہی نقطۂ نظر۔
1۔ مرض کی ہلاکت خیزی اور اندیشے:
وہ بعینہ وہی تھے جو اطبا نے ذکر کئے،بلکہ ہم نے "کتمان علم" سے کام لیتے ہوئے تمام باتیں ذکر نہیں کی تھیں، یوں بھی اس میں کوئی "اجتہاد" کی گنجائش نہیں تھی، سو مجرد تقلید ہی سے کام لیا گیا۔
2.عالمی سطح پر مرض کے پھیلنے کی رفتار:
یہ معلومات بھی اسی مجلس میں ماہرین نے بیان کی تھیں، چوں کہ ہم نے اس مجلس کی تمام تر اہم باتیں قلم بند کی ہیں، اس لیئے یہ نکات یاد داشت سے نہیں نوشتے سے بیان کئے گئے ہیں۔
3.ہندوستان میں ہلاکت خیزی کے متوقع نتائج:
یہ معلومات بھی انہی لوگوں کی فراہم کردہ تھیں۔
4.سخت احتیاطی طبی نگرانی میں موجود افراد کی تعداد اور مسلمانوں کا اس میں تناسب:
کرونا وائرس کے حوالے سے دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں،
الف : وہ جو طبی جانچ کے بعد "مثبت" قرار دیئے گئے ہیں۔(أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيهم ويعافيهم).
ب : جو "سخت طبی نگہداشت" میں رکھے گئے، ان کے بارے میں مثبت و منفی دونوں رپورٹ آسکتی ہے(نسأل العفو والعافية للجميع).
اس بابت جو ڈوکومنٹ ہر جگہ دستیاب تھا، وہ دوسرے زمرہ کے افراد سے متعلق تھا، اور ان میں ایک طبقہ کا تناسب بہت زیادہ تھا، یہی ڈوکومنٹ ہماری نظر سے بھی گزرا اور اسی کو بنیاد بنا کر کہا گیا ۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ اس فہرست میں جو لوگ شامل ہیں؛ وہ ہسپتال کی جانب سے فیصل شدہ مریض نہیں ہیں، بلکہ "مشتبہ حیثیت کے مریض" شمار ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ کر غلط فہمی در آئی۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ آج ایک آڈیو کے ذریعہ خبر ملی کہ ان میں سے اکثر لوگ صحت مند ہیں۔ والحمد لله على ذلك .
بہت سے "عجلت پسند مفکرین" نے اس بیانیہ کو عالمی یا قومی سطح کا سمجھ لیا، حالاں کہ ہم نے محض حیدرآباد کی بات کی تھی، گو کہ برطانیہ کے سلسلہ میں بھی ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی پانچ فیصد سے کم ہے، لیکن کورونا کے متاثرین میں ان کا تناسب پچیس فیصد ہے۔
در اصل ان کا یہ کہنا تھا کہ مسلمان جو خیر امت ہیں؛ وبا کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے مسجد کی جماعتوں کو محدود نہیں کریں گے، تو اس کے نتیجہ میں آسانی سے یہ کہا جائے گا بلکہ جارہا ہے کہ سب سے زیادہ کرونا مسلمان ہی پھیلا رہے ہیں، ہمارا یہی حال رہا تو ایک زمانہ آگاہ اور بلند نگاہ پروفیسر کے بقول: بی جے پی 2024 کا الیکشن کرونا کے مدعا پر لڑنے جا رہی ہے۔ اس لیے ہمیں محتاط طرز عمل کا ثبوت دینا چاہئے۔
یہ بات قابل اطمینان ہے کہ کل سے عمومی رویہ میں تبدیلی آئی ہے، اس طرح کہ عام لوگوں کے لیے مسجد کے مقفل ہونے کا اعلان کیا جارہا ہے اور اندر محدود جماعت بھی قائم کی جارہی رہے۔ سرکاری طور پر خدا نخواستہ اس طرح تالے نہ لگائے جائیں کہ ان کی کنجیاں بھی ہمیں نہ مل سکیں۔
کہا جاتا ہے کہ "انسان خطا کا پتلا ہے"، ظاہر ہے تعبیر میں کمی و بیشی ہوجاتی ہے، مگر بات یوں ہے کہ "عقیدت ہو تو تاویل اور عداوت ہو تو تقصیر کی جاتی ہے"۔
5. جماعت و جمعہ کے قیام کے حوالے سے فقہی نقطہ نظر:
ہم نے اس صوتی پیغام میں یہ بات کہی کہ عام افراد کےلیئے مسجد مقفل کر دی جائے، ہاں جماعت و جمعہ کےلئے جو فقہی اعتبار سے (Minimum Requirements) ہے اس کا لحاظ رکھا جائے، اب اس کمبخت فرنگی زبان کا کیا کیا جائے، بعض "دیسی ساختہ" اور "سوزشِ دل سے سوختہ" احباب نے اس فرنگی لفظ کو انگیز نہ کیا، اور اسے حذف کرکے یہ سمجھ بیٹھے کہ سرے سے مسجد مقفل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
ہم نے جو فقہی نقطہ نظر پیش کیا یہ وہی ہے جو فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مفتی اعظم مہاراشٹرا مولانا عزیز الرحمن صاحب، حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب، حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب و دیگر کا موقف تھا۔
اور خود جامعہ نظامیہ کے نائب شیخ التفسیر حضرت مولانا مفتی انوار احمد صاحب نے بھی اسی موقف کا اظہار کیا، ان کا ویڈیو ہر جگہ دستیاب ہے، دیکھا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس پوری گفتگو کو کسی ادارہ یا نشست سے منسوب نہیں کیا گیا، ہاں آغاز میں برسبیل تذکرہ ایک باوقار درس گاہ و دانش گاہ کا نام لیا گیا ہے، اور بات یوں ہے کہ، اگر کہنا ہو "اسلام کی بنیاد توحید پر ہے"،تو اس سے پیش تر یہ کہنا کس حد تک بامعنی ہوگا کہ "ہمارے شیخ فرماتے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔"۔ صبح روشن کی طرح یہ حقائق لوگوں کے سامنے ہیں، اسے کسی دلیل و حجت کی کیا ضرورت ہوگی۔ ایمان داری کے جذبہ اور گوشِ ہوش کے ساتھ اس صوتی پیام کو سنا جائے تو غلط فہمی از خود دور ہوجائے گی۔
اسی طرح جن لوگوں نے اس کے رد عمل میں ہرزہ سرائی، قد تراشی، بازاری لب و لہجہ، اور سوقیانہ اسلوب اختیار کیا، وہ سب ہمارے "حقیقی محسن" ہیں، اللہ کرے اسی بہانے "دفتر اعمال" میں کچھ نیکیوں کا اضافہ ہوجائے۔
ہمارا مزاج یہ ہے کہ باوقار اور تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار سوالات کا خیر مقدم کرتے ہیں، باقی سب و شتم، تحقیر وتنقیص اور دشنام طرازی کے جواب میں کیا کہا جائے:
"حسبنا الله ونعم الوكيل" ۔
مجھے خوشی ہے کہ اس آڈیو کو سنجیدہ و باشعور لوگوں نے سنجیدگی سے لیا، پورے ملک سے اہل علم و دانش نے سراہا، اور آج اسی کے مطابق ملک گیر سطح پر جمعہ و جماعت کا اہتمام بھی ہوا ۔
برادر مکرم مفتی عفان منصورپوری، برادر عزیز مولانا ڈاکٹر شکیب قاسمی (نائب مہتمم دار العلوم وقف دیوبند)، مفتی رفیع الدین رشادی (سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ)، مفتی شاہد علی قاسمی، مفتی محمد اعظم ندوی،
مفتی خالد نیموی (جمعیت العلما بہار)، معروف صحافی مولانا شاہنواز بدر قاسمی، مفتی نافع عارفی (جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار) اور نہ جانے کتنے ہی مخلصین و محبین نے نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ ان گزارشات کے تئیں عملی پیش رفت بھی کی۔
حدیث دل :
پوری دنیا اس ہلاکت خیز وبا و بلا سے جوجھ رہی ہے، اٹلی کے کئی شہر اب شہرخموشاں کا منظر پیش کر رہے ہیں، انسان انسان سے یوں بھاگتا پھرتا ہے؛ گویا قیامت کا میدان سجا دیا گیا ہو(سورة عبس: ٣٥) امید کی ساری کرنیں مدہم ہوئی جارہی ہیں، علم وتحقیق کے ادارے اپنی پست قامتی اور بے بضاعتی کا شکوہ کر رہے ہیں۔ ایسے سنگین حالات میں اہل ایمان کا قافلہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے، ترجیحات کا تعین کرے اور اس لوٹے پٹے کارواں کے درد کا مداوا کرے، بےکسوں کے سر پر ہاتھ رکھے، فاقہ کشوں کےلئے لقمۂ حیات کا نظم کرے، بے آسرا و نادار لوگوں کو کمک پہنچائے۔ اور پھر آہ سحرگاہی کے اہتمام سے صبح نو کا انتظار کرے، زمزمۂ ربّآنی کے نغموں سے "فصلِ حیات" کی آبیاری کرے، دل کے آتشدان میں ذکر و عشق نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چراغ روشن کرے اور پورے جذب و وجد سے یہ کہتا جائے :
کہہ رہا ہے آپ کا رب "اَنتَ فِیھِم" آپ سے
میں انہیں دوں کیوں سزائیں،آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے
صلى الله على سيدنا ونبينا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين
