*ِسندھیا کی سیندھ.....*
شاداب راہی
7376254435
راجنیتی میں کیا دیکھنا اور دکھانا سب کھلی کتاب ہے جب اور جہاں سے دل چاہے پڑھ لیجئے۔دل کا مانئے تو ان امور سے الگ ہی رہیں کیوں کہ ایمان اور اخلاق کا گرتا معیار راجنیتی سے زیادہ کہیں اور نہیں مل سکتا۔سندھیا جی نے تو کانگریس کو لاجواب کردیا ۔۔۔۔ *مہاراج تو اس بواسیر کی طرح زخم بن کر ابھرے کہ علاج سے زیادہ کانگریس کسی کو بتانے سے جھجھک رہی ہے۔*۔۔۔۔۔۔۔
شیوراج کی جے ہو۔۔۔۔۔۔۔جب جب سندھیا یعنی مہاراج سے ملاقات ہوئ لب پہ صرف اتنا رہا بس یہ ایک اوپچارک اور ویہوارک ملاقات ہے ۔۔۔۔۔اور اچانک شیوراج نے مہاراج کو گود میں بٹھا لیا مانا کہ جیسے سب پری پلاننگ تھی کہ ہولی اس بار ایسے نہیں ایسے کھیلنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔رنگ تو پرانا ہی ہے ایک نئ امنگ آگئ الگ سے۔۔۔
کمل ناتھ کی کمی اس بات سے عیاں ہے کہ کمل جی نے کمل ہونے کے ساتھ بھی اپنی خوشبو سے مہاراج کو محو نہ کرسکے۔کاش کمل جی اپنے تمام نیتا کو ناتھ دئے ہوتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔۔۔۔۔۔
ڈیڑھ سالہ پرانی دلہن میکے جاتے ہوئے راستے سے اٹھا لی گئ۔۔۔اور کمل ناتھ سسر کو پتا تک نہ چلا ۔۔۔۔بات بنائ جائے تو بہت کچھ ہے۔۔۔۔کمل ناتھ کا شپت اور شیوراج کا مہاراج سے ہنسنا کھلکھلانا بتا رہا تھا ڈور شیوراج کے ہاتھ میں ہے اور بس شیوارج جی پتنگ کے کٹنے کا انتظار کر رہے تھے۔
نیوز اینکر تو کہ رہے ہیں کہ یہ ہے مودی کی ہولی۔۔۔۔مان بھی لی جائے تو غلط نہیں کیوں کہ جس درد کے ساتھ مدھیہ پردیش کو بھاجپا سے نجات ملی تھی ایک دن وہ درد کا آنا لازمی تھا
کبھی ادھر اور کبھی ادھر پر جیت تو گئ کانگریس اور بھاجپا جب سے آئ انہیں ہارنا منظور نہیں۔۔۔۔یہ الگ بات ہے کہ دھیرے دھیرے بھاجپا کا دم گھٹتا جارہا ہے اور دن بدن کمل کا رنگ پھیکا پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔لیکن موقع ملے تو سب وعدے کر تمام نیتا کو ایک ایک کر اپنے یہاں بھاجپا بٹھالے۔۔۔۔۔دیکھئے مناسب وقت نکال کر کہ کون سا لالی پاپ مہاراج سندھیا کو بی جے پی نے کانگریس میں سیندھ لگانے کے لئے دی اور وہ لالی پاپ کب تک اپنی اصلی حالت پر قائم رہے گی۔
سندھیا جی بار بار اپنی یہ بات دہراتے رہے کہ انکی عزت کانگریس میں نہیں ہورہی ہے اور اس بات سے کانگریس بے خبر رہی۔۔۔۔۔لیکن ماننا ہوگا جب تک سندھیا یہ سن رہے تو کہ کانگریس صدر سندھیا بن سکتے ہیں ہنس کر اور کھل کر جواب دیتے رہے جو اعلی کمان کہے گی وہ کرینگے۔۔۔۔۔آج بھول گئے کہ اعلی کمان کو یہ کہیں کہ میں بھاجپا میں جا رہا ہوں بتائے کیا کروں۔۔۔دوسری شکایت راجیہ سبھا کی سیٹ چاہئے تھی۔۔۔۔اب سندھیا تو رہے ایک راج نیتا جن کو مہاراج کا لقب ہے مہاراج کو ایک عہدہ سے پیٹ کہاں بھرنا تھا ہو سکتا تھا ایک کے بعد یونہی اپنی خواہنشات کا اظہار کرتے اور کانگریس اور کمل ناتھ پر الزام لگاتے رہتے۔۔۔۔۔ایک لحاظ سے اچھا ہوا کم از کم اہل مدھی پردیش یہ تو جان گئے کہ مہاراج کو اپنی عزت۔عہدہ۔ایمان۔قدر ۔وعدہ ۔وفا اور اہل مدھیہ پردیش سے کتنا پیار ہے
: اب اہل مدھیہ پردیش اگر اس سندھیا کی گگلی کو غلط سمجھتی ہے تو اس کے بعد بھی مدھیہ پردیش میں چناو ہونگے ہی وہ اپنے ووٹ سے جواب دے سکتی ہیں۔۔۔۔رہا مسئلہ کانگریس کا تو اس کی عادت آج کل ہر گیند پر کلین بولڈ ہونے جیسی ہی ہے چاہے وہ بال فل ٹاس ہو یا یارکر۔۔۔۔۔۔۔۔
چلئے آگے آگے دیکھتے ہیں اب سندھیا کی یہ کتنی بڑی جیت ہے یا ہار۔۔۔۔۔۔۔
سندھیا کی سیندھ کمل ناتھ اور کانگریس کو دی بھید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاداب راہی
7376254435
راجنیتی میں کیا دیکھنا اور دکھانا سب کھلی کتاب ہے جب اور جہاں سے دل چاہے پڑھ لیجئے۔دل کا مانئے تو ان امور سے الگ ہی رہیں کیوں کہ ایمان اور اخلاق کا گرتا معیار راجنیتی سے زیادہ کہیں اور نہیں مل سکتا۔سندھیا جی نے تو کانگریس کو لاجواب کردیا ۔۔۔۔ *مہاراج تو اس بواسیر کی طرح زخم بن کر ابھرے کہ علاج سے زیادہ کانگریس کسی کو بتانے سے جھجھک رہی ہے۔*۔۔۔۔۔۔۔
شیوراج کی جے ہو۔۔۔۔۔۔۔جب جب سندھیا یعنی مہاراج سے ملاقات ہوئ لب پہ صرف اتنا رہا بس یہ ایک اوپچارک اور ویہوارک ملاقات ہے ۔۔۔۔۔اور اچانک شیوراج نے مہاراج کو گود میں بٹھا لیا مانا کہ جیسے سب پری پلاننگ تھی کہ ہولی اس بار ایسے نہیں ایسے کھیلنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔رنگ تو پرانا ہی ہے ایک نئ امنگ آگئ الگ سے۔۔۔
کمل ناتھ کی کمی اس بات سے عیاں ہے کہ کمل جی نے کمل ہونے کے ساتھ بھی اپنی خوشبو سے مہاراج کو محو نہ کرسکے۔کاش کمل جی اپنے تمام نیتا کو ناتھ دئے ہوتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔۔۔۔۔۔
ڈیڑھ سالہ پرانی دلہن میکے جاتے ہوئے راستے سے اٹھا لی گئ۔۔۔اور کمل ناتھ سسر کو پتا تک نہ چلا ۔۔۔۔بات بنائ جائے تو بہت کچھ ہے۔۔۔۔کمل ناتھ کا شپت اور شیوراج کا مہاراج سے ہنسنا کھلکھلانا بتا رہا تھا ڈور شیوراج کے ہاتھ میں ہے اور بس شیوارج جی پتنگ کے کٹنے کا انتظار کر رہے تھے۔
نیوز اینکر تو کہ رہے ہیں کہ یہ ہے مودی کی ہولی۔۔۔۔مان بھی لی جائے تو غلط نہیں کیوں کہ جس درد کے ساتھ مدھیہ پردیش کو بھاجپا سے نجات ملی تھی ایک دن وہ درد کا آنا لازمی تھا
کبھی ادھر اور کبھی ادھر پر جیت تو گئ کانگریس اور بھاجپا جب سے آئ انہیں ہارنا منظور نہیں۔۔۔۔یہ الگ بات ہے کہ دھیرے دھیرے بھاجپا کا دم گھٹتا جارہا ہے اور دن بدن کمل کا رنگ پھیکا پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔لیکن موقع ملے تو سب وعدے کر تمام نیتا کو ایک ایک کر اپنے یہاں بھاجپا بٹھالے۔۔۔۔۔دیکھئے مناسب وقت نکال کر کہ کون سا لالی پاپ مہاراج سندھیا کو بی جے پی نے کانگریس میں سیندھ لگانے کے لئے دی اور وہ لالی پاپ کب تک اپنی اصلی حالت پر قائم رہے گی۔
سندھیا جی بار بار اپنی یہ بات دہراتے رہے کہ انکی عزت کانگریس میں نہیں ہورہی ہے اور اس بات سے کانگریس بے خبر رہی۔۔۔۔۔لیکن ماننا ہوگا جب تک سندھیا یہ سن رہے تو کہ کانگریس صدر سندھیا بن سکتے ہیں ہنس کر اور کھل کر جواب دیتے رہے جو اعلی کمان کہے گی وہ کرینگے۔۔۔۔۔آج بھول گئے کہ اعلی کمان کو یہ کہیں کہ میں بھاجپا میں جا رہا ہوں بتائے کیا کروں۔۔۔دوسری شکایت راجیہ سبھا کی سیٹ چاہئے تھی۔۔۔۔اب سندھیا تو رہے ایک راج نیتا جن کو مہاراج کا لقب ہے مہاراج کو ایک عہدہ سے پیٹ کہاں بھرنا تھا ہو سکتا تھا ایک کے بعد یونہی اپنی خواہنشات کا اظہار کرتے اور کانگریس اور کمل ناتھ پر الزام لگاتے رہتے۔۔۔۔۔ایک لحاظ سے اچھا ہوا کم از کم اہل مدھی پردیش یہ تو جان گئے کہ مہاراج کو اپنی عزت۔عہدہ۔ایمان۔قدر ۔وعدہ ۔وفا اور اہل مدھیہ پردیش سے کتنا پیار ہے
: اب اہل مدھیہ پردیش اگر اس سندھیا کی گگلی کو غلط سمجھتی ہے تو اس کے بعد بھی مدھیہ پردیش میں چناو ہونگے ہی وہ اپنے ووٹ سے جواب دے سکتی ہیں۔۔۔۔رہا مسئلہ کانگریس کا تو اس کی عادت آج کل ہر گیند پر کلین بولڈ ہونے جیسی ہی ہے چاہے وہ بال فل ٹاس ہو یا یارکر۔۔۔۔۔۔۔۔
چلئے آگے آگے دیکھتے ہیں اب سندھیا کی یہ کتنی بڑی جیت ہے یا ہار۔۔۔۔۔۔۔
سندھیا کی سیندھ کمل ناتھ اور کانگریس کو دی بھید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
