اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: کورونا ایسے ہی پھیلتا رہا تو مئی تک دیوالیہ ہو جائیں گی زیادہ تر ائیرلائنس: سی اے پی اے کورونا وائرس کے لگاتار پھیلنے کی وجہ سے اس سال مئی کے آخر تک زیادہ تر ائیرلائنس دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔ ائیر لائنس کی اہم مشاورتی کمیٹی سنٹر فار ایشیا پیسفک ایوی ایشن نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 16 March 2020

کورونا ایسے ہی پھیلتا رہا تو مئی تک دیوالیہ ہو جائیں گی زیادہ تر ائیرلائنس: سی اے پی اے کورونا وائرس کے لگاتار پھیلنے کی وجہ سے اس سال مئی کے آخر تک زیادہ تر ائیرلائنس دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔ ائیر لائنس کی اہم مشاورتی کمیٹی سنٹر فار ایشیا پیسفک ایوی ایشن نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے۔


کورونا ایسے ہی پھیلتا رہا تو مئی تک دیوالیہ ہو جائیں گی زیادہ تر ائیرلائنس: سی اے پی اے

کورونا وائرس کے لگاتار پھیلنے کی وجہ سے اس سال مئی کے آخر تک زیادہ تر ائیرلائنس دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔ ائیر لائنس کی اہم مشاورتی کمیٹی سنٹر فار ایشیا پیسفک ایوی ایشن نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہے کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ اثر ائیر لائنس پر پڑنے والا ہے اور ہو سکتا ہے کہ مئی کے آخر تک زیادہ تر ائیرلائنس دیوالیہ ہو جائیں۔ دنیا بھر کی ائیرلائنس کی اہم مشاورتی کمیٹی سنٹر فار ایشیا پیسفک ایوی ایشن یعنی سی اے پی اے نے ایسا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ سی اے پی اے نے کہا ہے کہ اس تباہی سے تبھی بچا جا سکتا ہے جب سبھی حکومتیں متحد ہو کر ائیرلائنس انڈسٹری کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے کی کوششیں کریں۔ پیر 16 مارچ کو جاری ایک بیان میں سی اے پی اے نے کہا ہے کہ ’’ائیرلائنس کے پاس پیسے کی لگاتار کمی ہو رہی ہے، کیش ریزرو سکڑتا جا رہا ہے کیونکہ زیادہ تر طیارے زمین پر ہی کھڑے کر دئیے گئے ہیں، اور جو اڑ رہے ہیں ان میں صلاحیت سے نصف سے بھی کم مسافر سوار ہیں۔‘‘ جس طرح سے دنیا بھر میں حکومتیں سفر پر پابندی لگا رہی ہیں، اس سے اندیشہ ہے کہ کئی ائیرلائنس ٹیکنیکل دیوالیہ کے دور میں پہنچ چکی ہیں یا پھر اپنے فرض چکانے میں ناکام ہو سکتی ہیں۔
غور طلب ہے کہ چین سے شروع ہو کر کورونا وائرس نے پوری دنیا میں پیر پسار لیے ہیں اور اس کی زد میں آ کر اب تک کم از کم 6 ہزار لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ وہیں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ اس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ ہندوستان میں بھی اب تک آفیشیل طور پر کم از کم دو لوگوں کی موت ہوئی ہے اور 120 سے زیادہ لوگ متاثر پائے گئے ہیں۔
سی اے پی اے کے جنوب ایشیا سی ای او کپل کول نے ایک بزنس نیوز ویب سائٹ سے بات چیت میں کہا ہے کہ ’’ہندوستان میں جن ائیرلائنس کی بیلنس شیٹ کمزور ہے، ان پر سب سے زیادہ اس کا اثر پڑے گا جو کورونا وائرس کے ہندوستان میں پھیلنے پر منحصر کرے گا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’حال میں حکومت نے طیاروں کے ایندھن پر ٹیکس کو کم کیا ہے، لیکن کورونا وائرس سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی میں اس سے بہت زیادہ مدد ملنا مشکل ہے۔‘‘
دھیان رہے کہ ابھی 14 مارچ کو سول ایوی ایشن منسٹر ہردیپ پری نے اشارہ دیا تھا کہ طیاروں کے ایندھن کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے ابھی گزشتہ ہفتہ ہی بیرون ممالک سے ہندوستان آنے والے لوگوں کے لیے ویزا کو 15 اپریل تک کے لیے معطل کر دیا ہے، ساتھ ہی لوگوں سے ملک کے اندر اور باہر سفر کم کرنے کو کہا ہے۔ حکومت نے کہا کہ اگر بہت زیادہ ضرور ہو تبھی لوگ سفر کریں۔
اسی طرح کے اقدام کئی دیگر ممالک نے بھی اٹھائے ہیں۔ قطر اور یو اے ای سمیت مشرق وسطیٰ میں کئی پروازوں کو معطل کر دیا ہے۔ انڈیگو، وستارا اور اسپائس جیٹ سمیت سبھی ہندوستانی ائیرلائنس کی بکنگ میں پہلے ہی گراوٹ درج ہونا شروع ہو گئی تھی۔ رپورٹس بتاتی ہے کہ ائیرلائنس کے 50 فیصد تک طیارے کھڑے کیے جا سکتے ہیں
سی اے پی اے نے سفر سے متعلق ایسی صلاح کے لیے حکومت کی تنقید کی ہے۔ سی اے پی اے کا کہنا ہے کہ ’’حالانکہ حکومت صحت سے متعلق چیلنجز کو لے کر فکرمند ہے، لیکن صنعتوں کے مدنظر اسے کو آرڈینیٹڈ کوششیں کرنی چاہیے تھیں۔ سبھی ممالک کو ایسے حل تلاشنے چاہئیں جو سبھی کے مفاد میں ہوں۔ لیکن بغیر صنعتوں کو اعتماد میں لیے اٹھائے گئے قدم سے نقصان بڑھنے کا اندیشہ ہے۔‘‘
سی اے پی اے نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مثال دی جنھوں نے یوروپی ممالک سے صلاح مشورہ لیے بغیر ہی یوروپی ممالک سے سفر پر پابندی لگا دی۔ سی اے پی اے نے کہا کہ ’’اس سے پہلے کہ اس عالمی وبا کے حملے سے نمٹا جائے، یہ ضروری ہے کہ دنیا بھر کی ہوائی خدمات دینے والی ائیرلائنس، آئی سی اے او، یوروپی یونین، آئی اے ٹی اے، ریجنل ائیر سروسز یونین اور اہم ائیر سروسز آپسی تعاون سے کام لیں تاکہ اس صدی میں دنیا کی سماجی اور معاشی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔
اس درمیان ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کاؤنسل (ڈبلیو ٹی ٹی سی) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا خطرہ جاری رہا تو کم از کم 5 کروڑ لوگوں کی ملازمت پر خطرہ آ جائے گا۔