*جب تک CAAواپس نہیں ہوجاتا، احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئے گی: نظرعالم*
*مرکزی اور ریاستی حکومت کے جھوٹ میں پھنس کر احتجاج کو کمزور نہ کریں: بیداری کارواں*
*مستقبل بچانے کی اس لڑائی میں سبھی غیرمعینہ دھرناکو مضبوطی کے ساتھ چلانا ہوگا: لال باغ ستیہ گرہ*
مدھوبنی:15 /مارچ 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد
پہلے ریاستی حکومت اور اب مرکزی حکومت این پی آر اور این آر سی پر جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ ہماری لڑائی اصل میں سی اے اے ہے اس لئے ہمیں کسی بھی حکومت کے جھوٹ میں نہیں پھنسنا ہے۔ جس طرح سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ذریعہ اس کالے قانون کو بنایا گیا ہے جب تک وہاں سے اس قانون کو خارج نہیں کیا جاتا ہے تب تک مضبوطی کے ساتھ احتجاج کو جاری رکھنا ہوگا۔ بہار میں بھی نتیش کمار نے این پی آر اسمبلی میں کہا کہ 2010 کے فارمیٹ پر این پی آر ہوگا لیکن اب تک 2010کا فارمیٹ عوام کے بیچ نہیں لایا گیا ہے اور نہ پہلے سے جو گزٹ پاس کیا گیاہے اسے خارج نہیں کیا ہے۔ ابھی دو دن پہلے امیت شاہ نے کہا کہ این پی آر اور این آرسی سے کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ این آر سی نہیں ہوگا یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے امیت شاہ اور مودی کا۔ ہماری تین مہینے کی لڑائی کو سازش کے تحت کمزور کیا جارہا ہے اس لئے ہمیں نہ مرکزی حکومت اور نہ ہی ریاستی حکومت کے جھوٹ میں پھنسنا ہے۔ اگر ہم لوگ امیت شاہ اور ریاستی حکومت کے جھوٹ میں پھنس گئے تو یقینا پورے بھارت کا احتجاج کمزور پڑجائے گا۔مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے پریس بیان میں کہی۔ مسٹرنظرعالم نے کہا کہ یہ لڑائی صرف ملک اور آئین بچانے کی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے مستقبل بچانے کی بھی لڑائی ہے اس لئے مسلمانوں کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ اس لڑائی کو مضبوطی کے ساتھ انجام تک پہنچائیں۔ آج اگر ہم اس لڑائی کو لڑنے میں ناکام ہوگئے تو جس طرح سے دہلی کو جلادیا گیا اگلا نمبر بہار کا ہوگا۔ سبھی پارٹیاں لگاتار این پی آر اور این آرسی پر بات تو کررہی ہے لیکن جو سب سے زیادہ خطرناک اور مسلمانوں کے خلاف قانون ہے CAA اس پر کوئی بھی بات نہیں کرتا۔ جب تک CAA جیسا کالاقانون رہے گا تب تک بھارت کا مسلمان محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری لڑائی پہلے سے زیادہ مضبوط ہونی چاہئے اور تب تک اس لڑائی کو لڑنی ہوگی جب تک ہم CAA واپس نہیں کروالیتے ہیں۔مسٹرعالم نے کہا کہ نتیش کمار ہوں یا کجریوال ہوں یا جو بھی ریاست کے وزیراعلیٰ نے این پی آر کے خلاف اسمبلی میں تجویز پاس کی ہے وہ مرکزی حکومت پر دباؤ بنائے کہ CAA واپس لے اگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے ہیں تو سارے شاہین باغ اور تمام مسلمانوں کو این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ تبھی ہم اس لڑائی کو جیت پائیں گے۔ مسٹرنظرعالم نے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپریل سے شروع ہونے والا این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کے لئے تیار رہیں۔ ہمیں کسی بھی حالت میں این پی آر نہیں ہونے دینا ہے یہ سبھی لوگ ذہن میں بٹھالیں اور اپنے اپنے گھروں کے علاوہ محلے سماج کے لوگوں کو بھی پوری طرح بیدار کردیں کہ این پی آر کا پورے بھارت کے مسلمان بائیکاٹ کررہے ہیں۔ کسی بھی طرح کی کوئی جانکاری اور کوئی فارم نہیں بھرنا ہے۔ یقینا جانئے اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو مرکز کی تاناشاہ حکومت کو CAAواپس لینا مجبوری ہوجائے گی۔ CAA, NPR, NRC میں صرف CAA ہی قانون ہے جو مذہب کو بنیاد بناکر مسلمانوں کے خلاف بنایا گیا کالا قانون ہے اور اگر یہ قانون ختم نہیں ہوا تو بھارت کے مسلمانوں کو بھی برما کے مسلمانوں جیسی حالت بنانے میں بھاجپا کامیاب ہوجائے گی۔
*مرکزی اور ریاستی حکومت کے جھوٹ میں پھنس کر احتجاج کو کمزور نہ کریں: بیداری کارواں*
*مستقبل بچانے کی اس لڑائی میں سبھی غیرمعینہ دھرناکو مضبوطی کے ساتھ چلانا ہوگا: لال باغ ستیہ گرہ*
مدھوبنی:15 /مارچ 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! محمد سالم آزاد
پہلے ریاستی حکومت اور اب مرکزی حکومت این پی آر اور این آر سی پر جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ ہماری لڑائی اصل میں سی اے اے ہے اس لئے ہمیں کسی بھی حکومت کے جھوٹ میں نہیں پھنسنا ہے۔ جس طرح سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ذریعہ اس کالے قانون کو بنایا گیا ہے جب تک وہاں سے اس قانون کو خارج نہیں کیا جاتا ہے تب تک مضبوطی کے ساتھ احتجاج کو جاری رکھنا ہوگا۔ بہار میں بھی نتیش کمار نے این پی آر اسمبلی میں کہا کہ 2010 کے فارمیٹ پر این پی آر ہوگا لیکن اب تک 2010کا فارمیٹ عوام کے بیچ نہیں لایا گیا ہے اور نہ پہلے سے جو گزٹ پاس کیا گیاہے اسے خارج نہیں کیا ہے۔ ابھی دو دن پہلے امیت شاہ نے کہا کہ این پی آر اور این آرسی سے کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ این آر سی نہیں ہوگا یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے امیت شاہ اور مودی کا۔ ہماری تین مہینے کی لڑائی کو سازش کے تحت کمزور کیا جارہا ہے اس لئے ہمیں نہ مرکزی حکومت اور نہ ہی ریاستی حکومت کے جھوٹ میں پھنسنا ہے۔ اگر ہم لوگ امیت شاہ اور ریاستی حکومت کے جھوٹ میں پھنس گئے تو یقینا پورے بھارت کا احتجاج کمزور پڑجائے گا۔مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے پریس بیان میں کہی۔ مسٹرنظرعالم نے کہا کہ یہ لڑائی صرف ملک اور آئین بچانے کی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے مستقبل بچانے کی بھی لڑائی ہے اس لئے مسلمانوں کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ اس لڑائی کو مضبوطی کے ساتھ انجام تک پہنچائیں۔ آج اگر ہم اس لڑائی کو لڑنے میں ناکام ہوگئے تو جس طرح سے دہلی کو جلادیا گیا اگلا نمبر بہار کا ہوگا۔ سبھی پارٹیاں لگاتار این پی آر اور این آرسی پر بات تو کررہی ہے لیکن جو سب سے زیادہ خطرناک اور مسلمانوں کے خلاف قانون ہے CAA اس پر کوئی بھی بات نہیں کرتا۔ جب تک CAA جیسا کالاقانون رہے گا تب تک بھارت کا مسلمان محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری لڑائی پہلے سے زیادہ مضبوط ہونی چاہئے اور تب تک اس لڑائی کو لڑنی ہوگی جب تک ہم CAA واپس نہیں کروالیتے ہیں۔مسٹرعالم نے کہا کہ نتیش کمار ہوں یا کجریوال ہوں یا جو بھی ریاست کے وزیراعلیٰ نے این پی آر کے خلاف اسمبلی میں تجویز پاس کی ہے وہ مرکزی حکومت پر دباؤ بنائے کہ CAA واپس لے اگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے ہیں تو سارے شاہین باغ اور تمام مسلمانوں کو این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ تبھی ہم اس لڑائی کو جیت پائیں گے۔ مسٹرنظرعالم نے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپریل سے شروع ہونے والا این پی آر کا مکمل بائیکاٹ کے لئے تیار رہیں۔ ہمیں کسی بھی حالت میں این پی آر نہیں ہونے دینا ہے یہ سبھی لوگ ذہن میں بٹھالیں اور اپنے اپنے گھروں کے علاوہ محلے سماج کے لوگوں کو بھی پوری طرح بیدار کردیں کہ این پی آر کا پورے بھارت کے مسلمان بائیکاٹ کررہے ہیں۔ کسی بھی طرح کی کوئی جانکاری اور کوئی فارم نہیں بھرنا ہے۔ یقینا جانئے اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو مرکز کی تاناشاہ حکومت کو CAAواپس لینا مجبوری ہوجائے گی۔ CAA, NPR, NRC میں صرف CAA ہی قانون ہے جو مذہب کو بنیاد بناکر مسلمانوں کے خلاف بنایا گیا کالا قانون ہے اور اگر یہ قانون ختم نہیں ہوا تو بھارت کے مسلمانوں کو بھی برما کے مسلمانوں جیسی حالت بنانے میں بھاجپا کامیاب ہوجائے گی۔
