قرنطینہ کی رات تک!!!
قسط 1
مولوی سلطان جونپوری متعلم دارالعلوم دیوبند کی کہانی خود ان کی زبانی
٢٧ کی شب ٣٩ساتھیوں کا ایک چھوٹا قافلہ بذریعہ بس مادر علمی دارالعلوم دیوبند سے روانہ ہوا،اولا تو ٣٢ یا ٣٣ افراد پر مشتمل یہ قافلہ سر زمین دیو بند سے نکلا تہا،جس میں بشمول دارالعلوم کے مختلف مدرسوں کے طلبہ شامل تھے، چھوٹی سوئی ١١سے کچھ آگے اور بڑی غالبا ٤ یا اس سے کچھ نیچے تھی،جب ہم نے دارالعلوم کو الوداع کہا،تھوڑی بہت دشواریوں کو جھیلتے ہوۓ راستوں کے ٢٠٠ کلو میٹر طے کر کے گاڑی صبح کے تین بجے مرادآباد شہر میں داخل ہوئی،اور مذکورہ شہر کے ایک معروف پڑاؤ بمنسوب (زیرو پوائنٹ)پر رکی ،جہاں حسب وعدہ مراداباد کے چند طالب علم کھڑے،گاڑی کا انتظار کر رہے تھے،جن کو سوار ہو نا تھا،عافیت یہ رہی کہ سارے ساتھی وقت پر پہلے سے کھڑے ملے ،علیک سلیک کے بعد گاڑی ان کو لے کر آگے بڑھی ،صحیح معنوں میں راستہ کی اصل دشواریاں یہیں سے شروع ہوئی اور سارا راستہ ساتھ لگی رہیں،سب سے بڑی پریشانی یہ رہی کی اس مشکل حالات میں سفر کی جس مقدار کو ١٣سے ١٥ گھنٹہ کے بیچ طے کرنا تھا،وہ ٢١ گھنٹہ سے زاید وقت میں طے ہوا، حیرت کی بات یہ رہی کی اس درمیان ساتھیوں نے نہ کچھ کھایا نہ ہی اس کا تقاضا کیا، دوچند کے سوا،اور بسلامت و عافیت جونپور کے تمام ساتھی اپنے اپنے کاشانے پہوںچے،چلے تھے ٢٧کی شب اور ٢٨کی شب آ چکی تھی جب ہم مہد طفولیت میں داخل ہو رہے تھے،
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، اپنوں کی شکایتیں تھیں،شکایتیں اپنوں سے ہی ہوا کرتی ہیں،سب کافور ہو گئیں،سفر کی ساری صعوبتوں کو بھول کر زندگی معمول پر آچکی تھی،ہم سب ایک نۓ پل اور نئی زندگی کی تلاش ہی میں تھے کہ ،یکا یک بنارس کے ساتھیوں میں کے ایک نے بیل بجائی ،اور ڈرا دینے والی داستان کانوں میں بھر کر فون کو خاموش کر دیا،پریشانی لاحق ہوئی ،حالات اور صورت حال معلوم کرنے کی بہت کوشش کی ،پر سکوت طویل تھا،دوسرے ساتھیوں سے رابطہ کیا،دبے لفظوں کچھ بات کا علم ہوا،لیکن تسلی کے لیے نا کافی تھا،اپنوں سے ہم کلام ہوا شاید تفصیل معلوم ہو،ناکام رہا،اسی شش و پنج کے بیچ ایک بات گردش کرتی،بنارس کی گلیاں اور وادیاں ،جونپور کی سڑکیں اور منزلیں، چیرتی اورسر کرتی میری آنکھوں کے سامنے بشکل الفاظ آ موجود ہوئی،اب مت پوچھۓ کیا عالم تھا آواز کہ رہی تھی "خیر منائیں"،شاید پہلے بول اس کے یہی تھے،وجہ پوچھی،"مت پوچھو" ذہن الجھا دینے جیسے چند کلمے کانوں پر تھوپ دۓ گۓ,بات اصرار تک پہونچی،تب اتنی بات معلوم ہوئی کہ رات بنارس کے تمامہی طلبہ کو گھر سے بلا کسی اطلاع و توقف کے اٹھا لیا گیا،اور آنے سے لیکر اب تک کی ساری تفصیلات پوچھے جا چکی ہیں،میں نے آپ کا نمبر جونپور کے ذمہ دار ساتھی کے طور پر دے دیا ہے ،شاید وہ آپ کو کال پر بلائیں،یہ ساری بات اس لئے بتائی تاکہآپ فی الوقت آپا نہ کھو دیں،اتنی ساری باتیں ایک سوال کے جواب میں برتن میں تیل انڈیلنے جیسی میرے سامنے الٹ دی گئیں،آگے کچھ بات ہو پاتی کہ اس سے پہلے رابطہ کا تار کٹ چکا تھا،آنافانا آنے والے دوستوں کو مطلع کرنے کی غرض سے فخر کو واٹساپ کیا،جوابی الفاظ یہ تھے،کہ ابھی رک جاؤ بات پوری سن لو سمجھ لو پھر مطلع کرتے ہیں،بات اچھی اور معقول تھی،دل میں اتار لی،بات آگے بڑھی،رابطے جاری تھے، اسی بیچ بنارس سے خبر موصول ہوئی کہ معاملہ سنگین ہے،بات لوگوں تک پہونچا دی گئی کہ آپ کبھی بھی کسی بھی وقت جانچ کے لئے طلب کۓ جا سکتے ہو،یہ خبر اپنے آپ میں تکلیف دہ تھی، لیکن اس سے زیادہ چبھتی بات یہ تھی کہ پولیس رات کو دبش دیتی ہے،اور چوروں اچکوں جیسا سلوک کرتے ہوئے تھانے پھر وہاں سے ہاسپٹل اور پھر قرنطینہ کے نام پر آخری قیام گاہ چھوڑ آتی ہے، اب یہ سنناتھا کہ تیاری کے نام پر ہلچل شروع ،متعلقین کے روابط نمبر کا فون کی اسکرین پر اس قدر کثرت سے ورود کہ طبیعت ان کو دیکھ کر تھک تھک جاۓ،اور سوالات تو کبھی ہنسا تے اور کبھی یہ کیفیت پیدا کر جاتے کہ منٹوں اور سیکنڈوں کی بات گھنٹوں بے چین کۓ رکھتی،خیر یہ کچھ ہوتا رہا کہ اسی بیچ ایک رات قریب سوا ایک کے CO cant کی رنگ بجی،شاید گھر آنے کے بعد یہ پہلی رات تھی کہ رات سویرے سو گیا تھا،اور یہی پہلی رات تھی کہ روز کے کۓ جانے کے کام کو پہلی مرتبہ کرنے صبح کے چار بجے بستر چھوڑا ہو،چنانچہ آنکھ ملتے حسب عادت سب سے پہلے موبائل کی تلاشی لی،یکھا تو " bsnl company "کا ایک انجانا نمبر سکرین پر مسڈ کال کی صورت میں نمایاں تھا،جوابا کال دہرایا تو کسی گنر نے جواب دیا،پوچھنے پر پتہ چلا کہ میں گنر ہوں ،صاب سو رہے ہیں ،بات صبح ہوگی،اب بے چینی کہ نہ جانے کیامعاملہ ہو،اور سوالات کس نوعیت کے ،اور جواب میں دی گئی کون سی انفارمیشن ساتھیوں کو مجھ سے برگشتہ کر دے،اور جب بات ساتھیوں کی آتی ہے تو عموما اس مشکل گھڑی سے راہ پانے کی سب سے پہلی امید مفتی فخرالدین کی یاد آتی ہے،ان سے رابطہ کیا تو یہ طے پایا کہ صحیح صورت حال سے باخبر کیا جائے البتہ آپ نے جوابا فون کر دیا ہے،اب ان کے جواب کا ہی انتظا کیا جائے،آپ کی طرف سے مزید پہل نہ ہو،
بات والدہ تک پہونچی،ہاٹ کی مریضہ ہیں،شاید عین وقت ہمت نہ ہاری جائیں،اسی غرض ان کو مطلع فرمایا ،جو کیفیت پیش آئی اندازہ اس سے کم کا بھی نہ تھا، اب آنسوں ماں کے پوچھوں،یا حکومتی رویہ دیکھ کر دم توڑ رہی ہمت کو سہارا دوں،اور آنے والی گھڑی کے لئے خود کو تیار کروں،کام دونوں اپنے ہی کرنے کے تھے،امکان بھر کرنے کی کوشش کی،والد کو بتا کر مزید اس بوجھ میں تخفیف کی گذارش کی ،اتنے میں دن کے ٢ بج چکے تھے ،کال آتی ہے،سلام کرتا ہوں جواب ملتا ہے Co Cant بول رہا ہوں،ٹھیک سر!کہۓ!آپ سلطان ؟جی!آپ لیڈر تھے بس کے؟یہ تو میرے بس کے کام نہیں سر،لوگ تھے میں تھا،اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں سر،آپ کے ایک ساتھی کا pasitive آیا ہے ،ٹھیک سر،آپ سب کی جانچ ہوگی،،ٹھیک سر،آپ مجھے کچھ بتاؤ گے،ضرور سر،کتنے لوگ تھے،٣٩ افراد پر مشتمل قافلہ تھا سر،سب دیو بند سے گاڑی پر سوار ہوۓ تھے؟نہیں سر ، یہ سوالات تو شروعاتی ہیں ،اور آپ ٥منٹ میں ان کی لسٹ دو جیسے ہو،دیوبند سے معلوم کرو،پر بات ختم ہوئی،خیر جو ممکن تھی دیدی گئی،لیکن اردو میں ہونے کے سبب انگریزوں کی فکری اولاد کو بازیچہ سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوئی، ایک گھنٹے کے اندر ہی دوبارہ رنگ بجی،سلطان !جی سر,آپ مجھے کچھ انفارمیشن اینڈ ڈٹیل دوگے ،سر ہم آپ کے تعاون ہی کے لئے تو ہیں،یہ دل کے الفاظ نہیں مصلحت کی ردا لئے اس عملہ کے خوف کے سبب تہا،قریب گھنٹوں کی بات کے بعد
اس نتیجہ پر پہونچے کہ سارے ساتھیوں کا ٹیسٹ ہوگا، بات یہیں پر ختم ہو گئی،وقت گذرتا رہا پہلے عصر ہوئی،مغرب اور دیکھتے دیکھتے موذن وقت عشاء کا اعلان بھی کرنے لگا، سوچا کہ اب کھانا لے لوں اور نماز سے فارغ ہو جاؤں، ابھی اسی سوچ وچار میں ہی تھا،کہ برادر خرد عبدالرحمن نے اطلاع دی کہ بھائی باہر کچھ پولیس والے اپنی اسٹائل میں کھڑے آپ کے منتظر ہیں،باہر نکلا تو دیکھا :سچ مچ آٹھ دس افراد پر مشتمل ایک چھوٹی سی پولیس کی ٹکڑی کسی کرمنل (مجرم)کو گرفتار کرنے جیسے انداز میں کھڑی راہ تک رہی تھی، سب کے ہاتھ میں یا تو لاٹھی تھی یا پھر بندوق کی نالی پکڑے خود کو تھکا رہے تھے،سلام کر کے حق ضیافت ادا کرنا چاہا،لیکن وہ تو اس قدر متنفر تھے گویا بچکھوپڑا منہ باۓ کسی تالاب کے کنارے گھور رہا ہو،کرسی پیش کر کے سامان لینے کی اجازت چاہی،اجازت تو مل گئی پر کرسی ان کو سوٹ نہیں آئی،شاید کسی شریف النسب شخص کی ضیافت و خاطر داری ان کو راس ہی نہ آتی ہو،میں تھا کہ کرسی باہر رکھ کے اندرون خانہ سامان لینے چلا گیا،یہ حضرات کھڑے بت کی طرح انتظار کرتے رہے، مجھے لگا کہ شاید آج میرا مرتبہ کچھ بڑھ گیا ہے کہ پورا تھانا میرے گھر سے نکلنے کا منتظر ہے،لیکن معاملہ برعکس تھا،ماں کی دعاؤں اور بہنوں کے آنسو اپنے ساتھ لۓ گھر سے بے گھر ہونے کو نکل پڑا
جاری ______
قسط 1
مولوی سلطان جونپوری متعلم دارالعلوم دیوبند کی کہانی خود ان کی زبانی
٢٧ کی شب ٣٩ساتھیوں کا ایک چھوٹا قافلہ بذریعہ بس مادر علمی دارالعلوم دیوبند سے روانہ ہوا،اولا تو ٣٢ یا ٣٣ افراد پر مشتمل یہ قافلہ سر زمین دیو بند سے نکلا تہا،جس میں بشمول دارالعلوم کے مختلف مدرسوں کے طلبہ شامل تھے، چھوٹی سوئی ١١سے کچھ آگے اور بڑی غالبا ٤ یا اس سے کچھ نیچے تھی،جب ہم نے دارالعلوم کو الوداع کہا،تھوڑی بہت دشواریوں کو جھیلتے ہوۓ راستوں کے ٢٠٠ کلو میٹر طے کر کے گاڑی صبح کے تین بجے مرادآباد شہر میں داخل ہوئی،اور مذکورہ شہر کے ایک معروف پڑاؤ بمنسوب (زیرو پوائنٹ)پر رکی ،جہاں حسب وعدہ مراداباد کے چند طالب علم کھڑے،گاڑی کا انتظار کر رہے تھے،جن کو سوار ہو نا تھا،عافیت یہ رہی کہ سارے ساتھی وقت پر پہلے سے کھڑے ملے ،علیک سلیک کے بعد گاڑی ان کو لے کر آگے بڑھی ،صحیح معنوں میں راستہ کی اصل دشواریاں یہیں سے شروع ہوئی اور سارا راستہ ساتھ لگی رہیں،سب سے بڑی پریشانی یہ رہی کی اس مشکل حالات میں سفر کی جس مقدار کو ١٣سے ١٥ گھنٹہ کے بیچ طے کرنا تھا،وہ ٢١ گھنٹہ سے زاید وقت میں طے ہوا، حیرت کی بات یہ رہی کی اس درمیان ساتھیوں نے نہ کچھ کھایا نہ ہی اس کا تقاضا کیا، دوچند کے سوا،اور بسلامت و عافیت جونپور کے تمام ساتھی اپنے اپنے کاشانے پہوںچے،چلے تھے ٢٧کی شب اور ٢٨کی شب آ چکی تھی جب ہم مہد طفولیت میں داخل ہو رہے تھے،
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، اپنوں کی شکایتیں تھیں،شکایتیں اپنوں سے ہی ہوا کرتی ہیں،سب کافور ہو گئیں،سفر کی ساری صعوبتوں کو بھول کر زندگی معمول پر آچکی تھی،ہم سب ایک نۓ پل اور نئی زندگی کی تلاش ہی میں تھے کہ ،یکا یک بنارس کے ساتھیوں میں کے ایک نے بیل بجائی ،اور ڈرا دینے والی داستان کانوں میں بھر کر فون کو خاموش کر دیا،پریشانی لاحق ہوئی ،حالات اور صورت حال معلوم کرنے کی بہت کوشش کی ،پر سکوت طویل تھا،دوسرے ساتھیوں سے رابطہ کیا،دبے لفظوں کچھ بات کا علم ہوا،لیکن تسلی کے لیے نا کافی تھا،اپنوں سے ہم کلام ہوا شاید تفصیل معلوم ہو،ناکام رہا،اسی شش و پنج کے بیچ ایک بات گردش کرتی،بنارس کی گلیاں اور وادیاں ،جونپور کی سڑکیں اور منزلیں، چیرتی اورسر کرتی میری آنکھوں کے سامنے بشکل الفاظ آ موجود ہوئی،اب مت پوچھۓ کیا عالم تھا آواز کہ رہی تھی "خیر منائیں"،شاید پہلے بول اس کے یہی تھے،وجہ پوچھی،"مت پوچھو" ذہن الجھا دینے جیسے چند کلمے کانوں پر تھوپ دۓ گۓ,بات اصرار تک پہونچی،تب اتنی بات معلوم ہوئی کہ رات بنارس کے تمامہی طلبہ کو گھر سے بلا کسی اطلاع و توقف کے اٹھا لیا گیا،اور آنے سے لیکر اب تک کی ساری تفصیلات پوچھے جا چکی ہیں،میں نے آپ کا نمبر جونپور کے ذمہ دار ساتھی کے طور پر دے دیا ہے ،شاید وہ آپ کو کال پر بلائیں،یہ ساری بات اس لئے بتائی تاکہآپ فی الوقت آپا نہ کھو دیں،اتنی ساری باتیں ایک سوال کے جواب میں برتن میں تیل انڈیلنے جیسی میرے سامنے الٹ دی گئیں،آگے کچھ بات ہو پاتی کہ اس سے پہلے رابطہ کا تار کٹ چکا تھا،آنافانا آنے والے دوستوں کو مطلع کرنے کی غرض سے فخر کو واٹساپ کیا،جوابی الفاظ یہ تھے،کہ ابھی رک جاؤ بات پوری سن لو سمجھ لو پھر مطلع کرتے ہیں،بات اچھی اور معقول تھی،دل میں اتار لی،بات آگے بڑھی،رابطے جاری تھے، اسی بیچ بنارس سے خبر موصول ہوئی کہ معاملہ سنگین ہے،بات لوگوں تک پہونچا دی گئی کہ آپ کبھی بھی کسی بھی وقت جانچ کے لئے طلب کۓ جا سکتے ہو،یہ خبر اپنے آپ میں تکلیف دہ تھی، لیکن اس سے زیادہ چبھتی بات یہ تھی کہ پولیس رات کو دبش دیتی ہے،اور چوروں اچکوں جیسا سلوک کرتے ہوئے تھانے پھر وہاں سے ہاسپٹل اور پھر قرنطینہ کے نام پر آخری قیام گاہ چھوڑ آتی ہے، اب یہ سنناتھا کہ تیاری کے نام پر ہلچل شروع ،متعلقین کے روابط نمبر کا فون کی اسکرین پر اس قدر کثرت سے ورود کہ طبیعت ان کو دیکھ کر تھک تھک جاۓ،اور سوالات تو کبھی ہنسا تے اور کبھی یہ کیفیت پیدا کر جاتے کہ منٹوں اور سیکنڈوں کی بات گھنٹوں بے چین کۓ رکھتی،خیر یہ کچھ ہوتا رہا کہ اسی بیچ ایک رات قریب سوا ایک کے CO cant کی رنگ بجی،شاید گھر آنے کے بعد یہ پہلی رات تھی کہ رات سویرے سو گیا تھا،اور یہی پہلی رات تھی کہ روز کے کۓ جانے کے کام کو پہلی مرتبہ کرنے صبح کے چار بجے بستر چھوڑا ہو،چنانچہ آنکھ ملتے حسب عادت سب سے پہلے موبائل کی تلاشی لی،یکھا تو " bsnl company "کا ایک انجانا نمبر سکرین پر مسڈ کال کی صورت میں نمایاں تھا،جوابا کال دہرایا تو کسی گنر نے جواب دیا،پوچھنے پر پتہ چلا کہ میں گنر ہوں ،صاب سو رہے ہیں ،بات صبح ہوگی،اب بے چینی کہ نہ جانے کیامعاملہ ہو،اور سوالات کس نوعیت کے ،اور جواب میں دی گئی کون سی انفارمیشن ساتھیوں کو مجھ سے برگشتہ کر دے،اور جب بات ساتھیوں کی آتی ہے تو عموما اس مشکل گھڑی سے راہ پانے کی سب سے پہلی امید مفتی فخرالدین کی یاد آتی ہے،ان سے رابطہ کیا تو یہ طے پایا کہ صحیح صورت حال سے باخبر کیا جائے البتہ آپ نے جوابا فون کر دیا ہے،اب ان کے جواب کا ہی انتظا کیا جائے،آپ کی طرف سے مزید پہل نہ ہو،
بات والدہ تک پہونچی،ہاٹ کی مریضہ ہیں،شاید عین وقت ہمت نہ ہاری جائیں،اسی غرض ان کو مطلع فرمایا ،جو کیفیت پیش آئی اندازہ اس سے کم کا بھی نہ تھا، اب آنسوں ماں کے پوچھوں،یا حکومتی رویہ دیکھ کر دم توڑ رہی ہمت کو سہارا دوں،اور آنے والی گھڑی کے لئے خود کو تیار کروں،کام دونوں اپنے ہی کرنے کے تھے،امکان بھر کرنے کی کوشش کی،والد کو بتا کر مزید اس بوجھ میں تخفیف کی گذارش کی ،اتنے میں دن کے ٢ بج چکے تھے ،کال آتی ہے،سلام کرتا ہوں جواب ملتا ہے Co Cant بول رہا ہوں،ٹھیک سر!کہۓ!آپ سلطان ؟جی!آپ لیڈر تھے بس کے؟یہ تو میرے بس کے کام نہیں سر،لوگ تھے میں تھا،اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں سر،آپ کے ایک ساتھی کا pasitive آیا ہے ،ٹھیک سر،آپ سب کی جانچ ہوگی،،ٹھیک سر،آپ مجھے کچھ بتاؤ گے،ضرور سر،کتنے لوگ تھے،٣٩ افراد پر مشتمل قافلہ تھا سر،سب دیو بند سے گاڑی پر سوار ہوۓ تھے؟نہیں سر ، یہ سوالات تو شروعاتی ہیں ،اور آپ ٥منٹ میں ان کی لسٹ دو جیسے ہو،دیوبند سے معلوم کرو،پر بات ختم ہوئی،خیر جو ممکن تھی دیدی گئی،لیکن اردو میں ہونے کے سبب انگریزوں کی فکری اولاد کو بازیچہ سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوئی، ایک گھنٹے کے اندر ہی دوبارہ رنگ بجی،سلطان !جی سر,آپ مجھے کچھ انفارمیشن اینڈ ڈٹیل دوگے ،سر ہم آپ کے تعاون ہی کے لئے تو ہیں،یہ دل کے الفاظ نہیں مصلحت کی ردا لئے اس عملہ کے خوف کے سبب تہا،قریب گھنٹوں کی بات کے بعد
اس نتیجہ پر پہونچے کہ سارے ساتھیوں کا ٹیسٹ ہوگا، بات یہیں پر ختم ہو گئی،وقت گذرتا رہا پہلے عصر ہوئی،مغرب اور دیکھتے دیکھتے موذن وقت عشاء کا اعلان بھی کرنے لگا، سوچا کہ اب کھانا لے لوں اور نماز سے فارغ ہو جاؤں، ابھی اسی سوچ وچار میں ہی تھا،کہ برادر خرد عبدالرحمن نے اطلاع دی کہ بھائی باہر کچھ پولیس والے اپنی اسٹائل میں کھڑے آپ کے منتظر ہیں،باہر نکلا تو دیکھا :سچ مچ آٹھ دس افراد پر مشتمل ایک چھوٹی سی پولیس کی ٹکڑی کسی کرمنل (مجرم)کو گرفتار کرنے جیسے انداز میں کھڑی راہ تک رہی تھی، سب کے ہاتھ میں یا تو لاٹھی تھی یا پھر بندوق کی نالی پکڑے خود کو تھکا رہے تھے،سلام کر کے حق ضیافت ادا کرنا چاہا،لیکن وہ تو اس قدر متنفر تھے گویا بچکھوپڑا منہ باۓ کسی تالاب کے کنارے گھور رہا ہو،کرسی پیش کر کے سامان لینے کی اجازت چاہی،اجازت تو مل گئی پر کرسی ان کو سوٹ نہیں آئی،شاید کسی شریف النسب شخص کی ضیافت و خاطر داری ان کو راس ہی نہ آتی ہو،میں تھا کہ کرسی باہر رکھ کے اندرون خانہ سامان لینے چلا گیا،یہ حضرات کھڑے بت کی طرح انتظار کرتے رہے، مجھے لگا کہ شاید آج میرا مرتبہ کچھ بڑھ گیا ہے کہ پورا تھانا میرے گھر سے نکلنے کا منتظر ہے،لیکن معاملہ برعکس تھا،ماں کی دعاؤں اور بہنوں کے آنسو اپنے ساتھ لۓ گھر سے بے گھر ہونے کو نکل پڑا
جاری ______
