5اپریل کی شب میں مسلمانان ہند کیا کریں
از قلم :مرغوب الرحمٰن قاسمی مالیر کوٹلہ پنجاب
اس شب میں وہ کریں جس سے غیروں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کی جائے
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ مصائب و آفات و بلیات کے وقت ہندو دھرم میں دیاء یا آگ وغیرہ جلاکر انکے عقیدہ کے مطابق پوجا پاٹھ کی جاتی ہے اسی طرح ہنن وغیرہ کیا جاتا ہے
لیکن مسلمانوں کو اس طرح کے کاموں سے قطعاً پرہیز کرنا چاہیے چونکہ یہ سب شرکیہ کام ہیں لیکن اس مسئلہ کو اپنی قوم تک ہی خفیہ طور پر محدود رکھا جائے علماء حضرات اپنے اپنے علاقوں میں اپنے طریقے سے مسلمانوں کو آگاہ کریں
اس مسئلہ کو نیشنل لیول کا ایشو بنانے کی قطعاً ضرورت نہیں چونکہ فی الحال پورے ملک میں مسلمانوں کی فضاء ویسے ہی ناخوشگوار ہے ہندوستان کی میڈیا نے تبلیغی مرکز کو اسٹینڈ بناکر جو کردار اداء کیا وہ بہت ہی قابل مذمت ہے ہمارا ملک اس وقت جن ناگہانی وباء آفت سے دو چار ہے
و ہر مسلمان یہ چاہتا ہے کہ یہ ملک بلکہ پورا عالم اس عذاب الٰہی سے محفوظ رہے
ایسے موقع پر ہمیں سیرت النبی سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ عام بلاء و آفت کے موقع پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے و صدقہ کا اہتمام فرماتے تھے
اسلیے مسلمانوں کو اس موقع پر اظہار و یکجہتی کے طور پر کوئ نہ کوئ ایسا عمل ضرور کرنا چاہیے و اسے سوشل میڈیا پر وائرل بھی کرنا چاہیے تاکہ اہل وطن کو یہ میسج جائے کہ دیش کا مسلمان اس مہماری میں دیش کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے 5 اپریل کی رات 9بجے اپنے گھروں کی بتی گل کرکے دو رکعات نماز نفل پڑھ کر اللہ کے سامنے روئے گڑگڑاے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے
اسی کے ساتھ ساتھ کچھ صدقہ بھی نکال دیں و اپنی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر وائرل بھی کریں یاد رکھیں وقت و حالات کے پیش نظر ہمیں بھی بڑی فراست و ہوشمندی کے ساتھ فیصلہ کرنے پڑیں گے
اسی کے ساتھ ہمیں اپنے عقائد و ایمانیات میں ذرہ برابر بھی لچک قبول نہیں کریں گے
اللہ تعالٰی سے دعاء گو ہیں کہ سارے عالم کی حفاظت فرمائے آمین