مودی کا اعلان: نئے ’رنگ-روپ‘ والا ہوگا لاک ڈاؤن-4؛ ریل سے کٹ کر مرے مزدوروں پر خاموشی
قوم سے خطاب کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ لاک ڈاؤن-4 نئے رنگ روپ والا ہوگا اور 17 مئی کے بعد اس کی رہنما ہدایات جاری کر دی جائیں گی؛ مہاراشٹر ریل حادثہ میں مرے مزدوروں پر کوئی بات نہیں کی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کی شام 8 بجے قوم سے خطاب کیا اور کورونا وائرس ے پیش نظر ملک بھر میں نافذ لاک ڈاؤں کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن-4 نئے ’رنگ-روپ‘ والا ہوگا اور 17 کے بعد جب لاک ڈاؤن کا تیسرا مرحلہ ختم ہوگا، تو نئے اصول و ضوابط کا اعلان کر دیا جائے گا۔ تاہم تاہم وزیر اعظم نریندر نے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے مہاراشٹر کے اورنگ آباد ریل حادثہ پر ایک لفظ نہیں کہا، جس میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے 16 مزدوروں کی موت ہو گئی تھی۔
وزیر اعظم مودی نے قوم سے خطاب کے دوران ایک خصوصی اقتصادی پیکیج کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، ’’کورونا کا سامنا کرتے ہوئے، نئے عزائم کے ساتھ میں آج ایک خصوصی اقتصادی پیکیج کا اعلان کر رہا ہوں۔ یہ اقتصادی پیکیج ’خود مختار ہندوستان مہم‘ کی اہم کڑی کے روز پر کام کرے گا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’حال ہی میں حکومت نے کورونا بحران سے جڑے جو اقتصادی اعلانات کئے تھے، جو ریزرو بینک کے فیصلے تھے اور آج جس پیکیج کا اعلان ہو رہا ہے اسے جوڑ دیں تو یہ قریب قریب 20 لاکھ کروڑ روپے کا بیٹھتا ہے۔ یہ پیکیج ہندوستان کی جی ڈی پی کا تقریباً 10 فیصد ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیکیج ملک کے ان محنت کشوں کے لئے ہیں، ملک کے اس کسان کے لئے ہے جو ہر صورت حال، ہر موسم میں ملک ے باشندگان کے لئے دن رات مشقت کر رہے یہں۔ یہ اقتصادی پیکیج ہمارے ملک کی متوسط طبقہ کے لئے ہے جو ایمانداری سے ٹیکس دیتا ہے، ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دیتا ہے۔‘‘
قبل ازیں، وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ ایک وائرس نے دنیا کو درہم برہم کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے جان گنوا دی ہے اور ہندوستان میں بھی لوگوں کی جان گئی ہے لیکن ہمیں اس سے بچنا بھی ہے اور آگے بڑھنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’تھکنا، ہارنا ٹوٹنا، بکھرنا نسان کو منظور نہیں ہے۔ محتاط رہتے ہوئے، ایسی جنگ تمام اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اب ہمیں بچنا بھی ہے اور آگے بڑھنا بھی ہے۔‘‘
مودی نے کہا کہ آج کی صورت حال ہمیں سکھاتی ہے کہ اس کا ایک ہی راستہ ہے ’خود مختار ہندوستان‘۔ جب کورونا کا بحران شروع ہوا تھا تو ہندوستان میں ایک بھی پی پی ای کٹ نہیں بنتی تھی۔ این-95 ماسک کی ہندوستان میں نام نہاد تخلیق ہوتی تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان میں ہی ہر روز 2 لاکھ پی پی ای اور 2 لاکھ این-95 ماسک بنائے جا رہے ہیں۔
