ازقلم: مفتی محمد نوراللہ قاسمی دربھنگوی
___________________
رمضان المبارک مسلمان کے لئے ایک نہایت برکت وفضیلت کا حامل مہینہ ہے ، اس کی بے شمار خیر وخوبیاں اور بے حساب فضائل ومناقب ہیں، یہ مہینہ ایک مومن کے لئے گناہوں کی بخشش ومغفرت اور نیکیوں اور بھلائیوں کے حصول اور رضائِ الہی کے جویا اور متلاشی کے لئے گویا ایک سیزن اور اللہ کو راضی کرنے اور منوانے اور اپنے گناہوں کے دھلوانے اور اس کے بخشوانے کا بہترین موقع ہے،اس ماہ میں اللہ کی رحمت بارش کی طرح برستی ہے ، مغفرت کا پروانہ ملتا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو یہ ماہ مبارک غنیمت سمجھنا چاہیے اس کیلیے نیکیاں کرے، عمل صالح بجا لائے اور گناہوں سے باز رہے،
اور سابقہ کیۓ ہوے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے،توبہ استغفار دعا کی خاص قسم ہے اس میں گناہ کی وجہ سے پستی کا احساس، انتہائی ندامت، غفلت کا اظہار، برے انجام کے خوف سے لرزنا، کہ مالک و مولیٰ اللہ کی نافرمانی سے کہیں ہلاک ہی نہ ہو جائوں، نفس امارہ اور ابلیس کے وسوسے، بری صحبت سے گناہ ہو جاتا ہے،تو پھر وہ اللہ کو منانے کے لیے روتا ہے گڑ گڑاتا ہے اور دعا کی خاص قسم توبہ و استغفار کا سہارا لیتا ہے۔
حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ ہے، آپ کی ایک شاگردہ جو باقاعدہ آپ کا درس سننے آتی تھی، نہایت عبادت گزار تھی، اس بے چاری کا جوانی میں خاوند چل بسا، اس نے دل میں سوچا! ایک بیٹا ہے اگر میں دوسرا نکاح کرلوں گی تو مجھے دوسرا خاوند تو مل جائے گا‘ لیکن میرے بچے کی زندگی برباد ہوجائے گی، اب وہ بچہ جوان ہونے کے قریب ہے، ”یہی میرا سہارا سہی“ لہٰذا اس عظیم ماں نے یہی سوچ کر اپنے جذبات کی قربانی دی۔
وہ ماں گھر میں بچے کا پورا خیال رکھتی لیکن جب وہ بچہ گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہوپاتی،
اب اس بچے کے پاس مال کی کمی نہ تھی ،اٹھتی ہوئی جوانی بھی تھی یہ جوانی دیوانی مستانی ہوجاتی ہے چنانچہ وہ بچہ بری صحبت میں گرفتار ہوگیا، شباب اور شراب کے کاموں میں مصروف ہوگیا، ماں برابر سمجھاتی لیکن بچے پر کچھ اثر نہ ہوتا‘ چکنا گھڑا بن گیا‘ وہ اس کو حضرت حسن بصری کے پاس لے کر آتی‘ حضرت بھی اس کو کئی کئی گھنٹے سمجھاتے لیکن اس بچے کا نیکی کی طرف رجحان ہی نہیں تھا،حضرت کے دل میں بھی یہ بات آئی کہ شاید اس کا دل پتھر بن گیا ہے‘ مہر لگ گئی ہے بہرحال ماں تو ماں ہوتی ہے، ماں اسے پیار سے سمجھاتی رہی، میرے بیٹے نیک بن جاو ‘تمہاری زندگی اچھی ہوجائے گی۔
کئی سال برے کاموں میں لگ کر اس نے اپنی دولت کے ساتھ اپنی صحت بھی تباہ کرلی اور اس کے جسم میں لاعلاج بیماریاں پیدا ہوگئیں‘معاملہ یہاں تک آپہنچا کہ اٹھنے کی بھی سکت نہ رہی اور بستر پر پڑگیا، اب اس کو آخرت کا سفر سامنے نظر آنے لگا‘ ماں نے پھر سمجھایا‘ بیٹا! تو نے اپنی زندگی توخراب کرلی‘ اب آخرت بنالے اور توبہ کرلے ‘اللہ بڑا غفور الرحیم ہے وہ تمہارے تمام گناہوں کومعاف کر دیگا۔
جب ماں نے سمجھایا اس کے دل پر کچھ اثر ہوا ،کہنے لگا! ماں میں کیسے توبہ کروں؟ میں نے بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں‘ ماں نے کہا بیٹا حضرت سے پوچھ لیتے ہیں‘ بیٹے نے کہا ماں اگر میں فوت ہوجاوں تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ پڑھائیں۔
ماں حضرت کے پاس گئی حضرت کھانے سے فارغ ہوئے تھے اور تھکے ہوئے تھے اور درس بھی دینا تھا، اس لیے قیلولہ کیلئے لیٹنا چاہتے تھے،ماں نے دروازہ کھٹکھٹایا‘ پوچھا کون؟ عرض کیا حضرت میں آپ کی شاگردہ ہوں، میرا بچہ اب آخری حالت میں ہے وہ توبہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا آپ گھر تشریف لے چلیں۔
حضرت نے سوچا یہ پھر دھوکا دے رہا ہے اور میرا وقت ضائع کرے گا اور اپنا بھی کرے گا۔ سالوں گزرگئے اب تک کوئی بات اثر نہ کرسکی اب کیا کرے گی، کہنے لگے!میں اپنا وقت ضائع کیوں کروں؟ میں نہیں آتا، ماں نے کہا حضرت اس نے تو یہ بھی کہا کہ اگر میرا انتقال ہوجائے تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری پڑھائیں، حضرت نے کہا میں اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھاوں گا،اس نے تو کبھی نماز ہی نہیں پڑھی ،اب وہ شاگردہ تھی چپ کرگئی‘ روتی ہوئی گھر آگئی۔
بیٹے نے پوچھا کیا ہوا؟ ماں نے کہا ایک طرف تیری حالت دوسری طرف حضرت نے انکار کردیا، اب یہ بات بچے نے سنی تو اس کے دل پر چوٹ لگی اور کہا ماں میری ایک وصیت سن لیجئے ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیا؟
عجیب وصیت
کہا امی میری وصیت یہ ہے کہ جب میری جان نکل جائے تو سب سے پہلے اپنا دوپٹا میرے گلے میں ڈالنا‘ میری لاش کو کتے کی طرح صحن میں گھسیٹنا‘ جس طرح مرے ہوئے کتے کی لاش گھسیٹی جاتی ہے، ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیوں؟ کہا امی اس لیے کہ دنیا والوں کو پتہ چل جائے کہ جو اپنے رب کا نافرمان اور ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہے اس کا انجام یہ ہوا کرتا ہے۔
میری پیاری ماں مجھے قبرستان میں دفن نہ کرنا‘ ماں نے کہا وہ کیوں؟ کہا ماں مجھے اسی صحن میں دفن کردینا ایسا نہ ہو کہ میرے گناہوں کی وجہ سے قبرستان کے مردوں کو تکلیف پہنچے جس وقت نوجوان نے ٹوٹے دل سے عاجزی کی یہ بات کہی تو پروردگار کو اس کی یہ بات اچھی لگی‘ روح قبض ہوگئی‘ابھی روح نکلی ہی تھی ماں آنکھیں بند کررہی تھی تو دروازے پر دستک ہوئی پوچھا کون؟ جواب آیا حسن بصری ہوں۔ کہا حضرت آپ کیسے؟ فرمایا جب میں نے تمہیں جواب دے دیا اور سوگیا۔ خواب میں اللہ رب العزت کی طرف سے اشارہ ملا کہ حسن بصری تو میرا کیسا ولی ہے؟ میرے ایک ولی کا جنازہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ نے تیرے بیٹے کی توبہ قبول کرلی ہے، تیرے بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے حسن بصری کھڑا ہے،
اے اللہ! تو کتنا کریم ہے کہ مرنے سے چند لمحہ پہلے اگر کوئی بندہ شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی زندگی کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔
تو آئیے ہم اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ کریں اور گڑ گڑا کر گناہوں سے معافی کے طالب ہوں تاکہ یہ کرونا وائرس جیسےبلاؤں اور وباؤں سے نجات ملے،اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت میں عذا بوں سے نجات کے لیے استغفار کا تحفہ چھوڑ گئے ہیں۔
اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دی: ’’مبارک ہو اس مومن کو جو اپنے صحیفے (نامہ اعمال) میں کثرت سے استغفار لکھا ہوا پائے‘‘ مراد یہ ہے کہ صرف استغفار زبانی کلامی نہ ہو۔ عملاً گناہوں سے دوری اختیار کرے، آئندہ نہ کرنے کا سچے دل سے عہد کرے اور اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کثرت سے کرتا رہے،نوافل اور توبہ سے بھی قرب حاصل کرے تو اس کے لیے خوشخبری ہے۔
جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی قسم میں ایک دن میں سو سو بار توبہ استغفار کرتا ہوں، لہٰذا اے انسانو! تم بھی توبہ کرتے رہا کرو‘‘۔
ابن عمر ؓ فرماتے ہیں: ہم گِنا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مجلس میں سو سو بار ان مبارک لفظوں سے اللہ کے حضور دعا فرمایا کرتے تھے:
’’رب اغفرلی وتب علی انک انت التواب الغفور‘‘۔ ترجمہ:’’اے میرے رب آپ مجھے بخش دیں اور میری طرف لوٹ آئیں یقینا آپ توبہ قبول کرنے والے بخشنہارہیں‘‘۔
گناہ پر اصرار نہ کریں: لوگ رات کو شراب پی کر صبح توبہ کر لیتے ہیں ۔(اللہ ہمیں بچائے) روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’توبہ کرکے گناہ پر ڈٹا رہنے والا اصرار کرنے والا ایسے ہے جیسے اپنے رب اللہ سے ٹھٹھا کر رہا ہو‘‘۔ فضیل بن عیاض ؒ کہتے ہیں: استغفار کے ساتھ گناہ جاری رکھنا، جھوٹوں کی توبہ ہے، جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹاشخص میرے امت میں سےنہیں ہے۔
فرشتوں کی دعائیں:سورۃ المومن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’وہ نورانی فرشتے جو اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب ،اللہ کی پاکی حمد کے ساتھ بیا ن کرتے ہیں اور وہ سب اللہ پر ایمان والے بھی ہیں ،وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو ایمان والے (توبہ کرنے والے) ہیں‘‘۔
’’اے ہمارے رب! آپ کی رحمت اور علم نے ہر شيء کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے لہٰذا ہماری دعا ہے کہ آپ ان لوگوں کو بخش دیں جنہوں نے توبہ کی اور آپ کے سیدھے راستے (اسلام) کا اتباع کیا لہٰذا آپ ہم سب کو بھڑکتے ہوئے جہنم کے عذاب سے بچا لیں‘‘۔
انتہائی زبردست خوش خبری:سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اللہ کے حضور توبہ استغفار کرنا لازم ٹھہرا لیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگ دستی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتے ہیں اور ہر قسم کے وہم، پریشانی، ڈیپریشن، دباؤ کو رفع دفع کر دیتے ہیں اور اسے وہاں سے (طیب، حلال،، مبارک) رزق عطا فرماتے ہیں جہاں سے اس کی وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا‘‘۔ لہٰذا کوشش کریں کہ رمضان شریف کی مبارک گھڑیوں میں زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کریں تاکہ رزق میں فراخی ہو۔
کب تک توبہ استغفار کریں: سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: ’’یقینا اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جان کنی کا وقت آ جائے کہ اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہو گی جیسے فرعون کی قبول نہیں ہوئی تھی لہٰذا موت کا انتظار کیے بغیر فوری توبہ استغفار کر لینا چاہیے۔
جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ’’استغفر اللہ الذی لاالٰہ الا ھو القیوم و اتوب الیہ‘‘ کہا وہ بخشا گیا۔
جو مومن یقین و ایمان کے ساتھ یہ صبح پڑھے اور شام تک فوت ہو جائے تو اہل جنت میں سے ہو گا، رات کو پڑھے اور صبح تک موت آ جائے تو اہل جنت میں سے ہو گا۔ (بشرطیکہ مشرک، کافر، منافق، بدعتی اور گناہ کبیرہ ،جو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے اس کا مرتکب نہ ہو)-آئیے مغفرت اور نجات کے ان ایام میں اللہ پاک سے امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں کریں اور ہم سب توبہ استغفار کریں کہ اللہ گناہوں کو معاف فرمائے اور ہم سب کے سيأت کو حسنات سے مبدل فرماۓ۔ آمین یارب العالمین
___________________
رمضان المبارک مسلمان کے لئے ایک نہایت برکت وفضیلت کا حامل مہینہ ہے ، اس کی بے شمار خیر وخوبیاں اور بے حساب فضائل ومناقب ہیں، یہ مہینہ ایک مومن کے لئے گناہوں کی بخشش ومغفرت اور نیکیوں اور بھلائیوں کے حصول اور رضائِ الہی کے جویا اور متلاشی کے لئے گویا ایک سیزن اور اللہ کو راضی کرنے اور منوانے اور اپنے گناہوں کے دھلوانے اور اس کے بخشوانے کا بہترین موقع ہے،اس ماہ میں اللہ کی رحمت بارش کی طرح برستی ہے ، مغفرت کا پروانہ ملتا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو یہ ماہ مبارک غنیمت سمجھنا چاہیے اس کیلیے نیکیاں کرے، عمل صالح بجا لائے اور گناہوں سے باز رہے،
اور سابقہ کیۓ ہوے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے،توبہ استغفار دعا کی خاص قسم ہے اس میں گناہ کی وجہ سے پستی کا احساس، انتہائی ندامت، غفلت کا اظہار، برے انجام کے خوف سے لرزنا، کہ مالک و مولیٰ اللہ کی نافرمانی سے کہیں ہلاک ہی نہ ہو جائوں، نفس امارہ اور ابلیس کے وسوسے، بری صحبت سے گناہ ہو جاتا ہے،تو پھر وہ اللہ کو منانے کے لیے روتا ہے گڑ گڑاتا ہے اور دعا کی خاص قسم توبہ و استغفار کا سہارا لیتا ہے۔
حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ ہے، آپ کی ایک شاگردہ جو باقاعدہ آپ کا درس سننے آتی تھی، نہایت عبادت گزار تھی، اس بے چاری کا جوانی میں خاوند چل بسا، اس نے دل میں سوچا! ایک بیٹا ہے اگر میں دوسرا نکاح کرلوں گی تو مجھے دوسرا خاوند تو مل جائے گا‘ لیکن میرے بچے کی زندگی برباد ہوجائے گی، اب وہ بچہ جوان ہونے کے قریب ہے، ”یہی میرا سہارا سہی“ لہٰذا اس عظیم ماں نے یہی سوچ کر اپنے جذبات کی قربانی دی۔
وہ ماں گھر میں بچے کا پورا خیال رکھتی لیکن جب وہ بچہ گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہوپاتی،
اب اس بچے کے پاس مال کی کمی نہ تھی ،اٹھتی ہوئی جوانی بھی تھی یہ جوانی دیوانی مستانی ہوجاتی ہے چنانچہ وہ بچہ بری صحبت میں گرفتار ہوگیا، شباب اور شراب کے کاموں میں مصروف ہوگیا، ماں برابر سمجھاتی لیکن بچے پر کچھ اثر نہ ہوتا‘ چکنا گھڑا بن گیا‘ وہ اس کو حضرت حسن بصری کے پاس لے کر آتی‘ حضرت بھی اس کو کئی کئی گھنٹے سمجھاتے لیکن اس بچے کا نیکی کی طرف رجحان ہی نہیں تھا،حضرت کے دل میں بھی یہ بات آئی کہ شاید اس کا دل پتھر بن گیا ہے‘ مہر لگ گئی ہے بہرحال ماں تو ماں ہوتی ہے، ماں اسے پیار سے سمجھاتی رہی، میرے بیٹے نیک بن جاو ‘تمہاری زندگی اچھی ہوجائے گی۔
کئی سال برے کاموں میں لگ کر اس نے اپنی دولت کے ساتھ اپنی صحت بھی تباہ کرلی اور اس کے جسم میں لاعلاج بیماریاں پیدا ہوگئیں‘معاملہ یہاں تک آپہنچا کہ اٹھنے کی بھی سکت نہ رہی اور بستر پر پڑگیا، اب اس کو آخرت کا سفر سامنے نظر آنے لگا‘ ماں نے پھر سمجھایا‘ بیٹا! تو نے اپنی زندگی توخراب کرلی‘ اب آخرت بنالے اور توبہ کرلے ‘اللہ بڑا غفور الرحیم ہے وہ تمہارے تمام گناہوں کومعاف کر دیگا۔
جب ماں نے سمجھایا اس کے دل پر کچھ اثر ہوا ،کہنے لگا! ماں میں کیسے توبہ کروں؟ میں نے بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں‘ ماں نے کہا بیٹا حضرت سے پوچھ لیتے ہیں‘ بیٹے نے کہا ماں اگر میں فوت ہوجاوں تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ پڑھائیں۔
ماں حضرت کے پاس گئی حضرت کھانے سے فارغ ہوئے تھے اور تھکے ہوئے تھے اور درس بھی دینا تھا، اس لیے قیلولہ کیلئے لیٹنا چاہتے تھے،ماں نے دروازہ کھٹکھٹایا‘ پوچھا کون؟ عرض کیا حضرت میں آپ کی شاگردہ ہوں، میرا بچہ اب آخری حالت میں ہے وہ توبہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا آپ گھر تشریف لے چلیں۔
حضرت نے سوچا یہ پھر دھوکا دے رہا ہے اور میرا وقت ضائع کرے گا اور اپنا بھی کرے گا۔ سالوں گزرگئے اب تک کوئی بات اثر نہ کرسکی اب کیا کرے گی، کہنے لگے!میں اپنا وقت ضائع کیوں کروں؟ میں نہیں آتا، ماں نے کہا حضرت اس نے تو یہ بھی کہا کہ اگر میرا انتقال ہوجائے تو میرا جنازہ حضرت حسن بصری پڑھائیں، حضرت نے کہا میں اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھاوں گا،اس نے تو کبھی نماز ہی نہیں پڑھی ،اب وہ شاگردہ تھی چپ کرگئی‘ روتی ہوئی گھر آگئی۔
بیٹے نے پوچھا کیا ہوا؟ ماں نے کہا ایک طرف تیری حالت دوسری طرف حضرت نے انکار کردیا، اب یہ بات بچے نے سنی تو اس کے دل پر چوٹ لگی اور کہا ماں میری ایک وصیت سن لیجئے ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیا؟
عجیب وصیت
کہا امی میری وصیت یہ ہے کہ جب میری جان نکل جائے تو سب سے پہلے اپنا دوپٹا میرے گلے میں ڈالنا‘ میری لاش کو کتے کی طرح صحن میں گھسیٹنا‘ جس طرح مرے ہوئے کتے کی لاش گھسیٹی جاتی ہے، ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیوں؟ کہا امی اس لیے کہ دنیا والوں کو پتہ چل جائے کہ جو اپنے رب کا نافرمان اور ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہے اس کا انجام یہ ہوا کرتا ہے۔
میری پیاری ماں مجھے قبرستان میں دفن نہ کرنا‘ ماں نے کہا وہ کیوں؟ کہا ماں مجھے اسی صحن میں دفن کردینا ایسا نہ ہو کہ میرے گناہوں کی وجہ سے قبرستان کے مردوں کو تکلیف پہنچے جس وقت نوجوان نے ٹوٹے دل سے عاجزی کی یہ بات کہی تو پروردگار کو اس کی یہ بات اچھی لگی‘ روح قبض ہوگئی‘ابھی روح نکلی ہی تھی ماں آنکھیں بند کررہی تھی تو دروازے پر دستک ہوئی پوچھا کون؟ جواب آیا حسن بصری ہوں۔ کہا حضرت آپ کیسے؟ فرمایا جب میں نے تمہیں جواب دے دیا اور سوگیا۔ خواب میں اللہ رب العزت کی طرف سے اشارہ ملا کہ حسن بصری تو میرا کیسا ولی ہے؟ میرے ایک ولی کا جنازہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ نے تیرے بیٹے کی توبہ قبول کرلی ہے، تیرے بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے حسن بصری کھڑا ہے،
اے اللہ! تو کتنا کریم ہے کہ مرنے سے چند لمحہ پہلے اگر کوئی بندہ شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی زندگی کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔
تو آئیے ہم اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ کریں اور گڑ گڑا کر گناہوں سے معافی کے طالب ہوں تاکہ یہ کرونا وائرس جیسےبلاؤں اور وباؤں سے نجات ملے،اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت میں عذا بوں سے نجات کے لیے استغفار کا تحفہ چھوڑ گئے ہیں۔
اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دی: ’’مبارک ہو اس مومن کو جو اپنے صحیفے (نامہ اعمال) میں کثرت سے استغفار لکھا ہوا پائے‘‘ مراد یہ ہے کہ صرف استغفار زبانی کلامی نہ ہو۔ عملاً گناہوں سے دوری اختیار کرے، آئندہ نہ کرنے کا سچے دل سے عہد کرے اور اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کثرت سے کرتا رہے،نوافل اور توبہ سے بھی قرب حاصل کرے تو اس کے لیے خوشخبری ہے۔
جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی قسم میں ایک دن میں سو سو بار توبہ استغفار کرتا ہوں، لہٰذا اے انسانو! تم بھی توبہ کرتے رہا کرو‘‘۔
ابن عمر ؓ فرماتے ہیں: ہم گِنا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مجلس میں سو سو بار ان مبارک لفظوں سے اللہ کے حضور دعا فرمایا کرتے تھے:
’’رب اغفرلی وتب علی انک انت التواب الغفور‘‘۔ ترجمہ:’’اے میرے رب آپ مجھے بخش دیں اور میری طرف لوٹ آئیں یقینا آپ توبہ قبول کرنے والے بخشنہارہیں‘‘۔
گناہ پر اصرار نہ کریں: لوگ رات کو شراب پی کر صبح توبہ کر لیتے ہیں ۔(اللہ ہمیں بچائے) روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’توبہ کرکے گناہ پر ڈٹا رہنے والا اصرار کرنے والا ایسے ہے جیسے اپنے رب اللہ سے ٹھٹھا کر رہا ہو‘‘۔ فضیل بن عیاض ؒ کہتے ہیں: استغفار کے ساتھ گناہ جاری رکھنا، جھوٹوں کی توبہ ہے، جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹاشخص میرے امت میں سےنہیں ہے۔
فرشتوں کی دعائیں:سورۃ المومن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’وہ نورانی فرشتے جو اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب ،اللہ کی پاکی حمد کے ساتھ بیا ن کرتے ہیں اور وہ سب اللہ پر ایمان والے بھی ہیں ،وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو ایمان والے (توبہ کرنے والے) ہیں‘‘۔
’’اے ہمارے رب! آپ کی رحمت اور علم نے ہر شيء کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے لہٰذا ہماری دعا ہے کہ آپ ان لوگوں کو بخش دیں جنہوں نے توبہ کی اور آپ کے سیدھے راستے (اسلام) کا اتباع کیا لہٰذا آپ ہم سب کو بھڑکتے ہوئے جہنم کے عذاب سے بچا لیں‘‘۔
انتہائی زبردست خوش خبری:سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اللہ کے حضور توبہ استغفار کرنا لازم ٹھہرا لیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگ دستی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتے ہیں اور ہر قسم کے وہم، پریشانی، ڈیپریشن، دباؤ کو رفع دفع کر دیتے ہیں اور اسے وہاں سے (طیب، حلال،، مبارک) رزق عطا فرماتے ہیں جہاں سے اس کی وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا‘‘۔ لہٰذا کوشش کریں کہ رمضان شریف کی مبارک گھڑیوں میں زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کریں تاکہ رزق میں فراخی ہو۔
کب تک توبہ استغفار کریں: سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے: ’’یقینا اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جان کنی کا وقت آ جائے کہ اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہو گی جیسے فرعون کی قبول نہیں ہوئی تھی لہٰذا موت کا انتظار کیے بغیر فوری توبہ استغفار کر لینا چاہیے۔
جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ’’استغفر اللہ الذی لاالٰہ الا ھو القیوم و اتوب الیہ‘‘ کہا وہ بخشا گیا۔
جو مومن یقین و ایمان کے ساتھ یہ صبح پڑھے اور شام تک فوت ہو جائے تو اہل جنت میں سے ہو گا، رات کو پڑھے اور صبح تک موت آ جائے تو اہل جنت میں سے ہو گا۔ (بشرطیکہ مشرک، کافر، منافق، بدعتی اور گناہ کبیرہ ،جو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے اس کا مرتکب نہ ہو)-آئیے مغفرت اور نجات کے ان ایام میں اللہ پاک سے امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں کریں اور ہم سب توبہ استغفار کریں کہ اللہ گناہوں کو معاف فرمائے اور ہم سب کے سيأت کو حسنات سے مبدل فرماۓ۔ آمین یارب العالمین
