غزل
نفرتوں کو دلوں سے مٹا دیجیے
اسماء خواج *صباؔ*
لکھیم پور کھیری
نفرتوں کو دلوں سے مٹا دیجۓ
یا خدا اسمیں الفت بسا دیجۓ
شمع علم و عمل کی جلا دیجۓ
اور تعصب کو جڑ سے مٹا دیجۓ
ہم کو پیغام دیتا ہے اپنا وطن
سب کو آپس میں رہنا سکھا دیجۓ
اب نہ مندر نہ مسجد گراۓ کوئ
اِک مِثال ایسی مِل کر بنا دیجۓ
ہوں نہ رسوا جہاں میں کبھی بیٹیاں
اے *صباؔ* ظالموں کو سزا دیجۓ
نفرتوں کو دلوں سے مٹا دیجیے
اسماء خواج *صباؔ*
لکھیم پور کھیری
نفرتوں کو دلوں سے مٹا دیجۓ
یا خدا اسمیں الفت بسا دیجۓ
شمع علم و عمل کی جلا دیجۓ
اور تعصب کو جڑ سے مٹا دیجۓ
ہم کو پیغام دیتا ہے اپنا وطن
سب کو آپس میں رہنا سکھا دیجۓ
اب نہ مندر نہ مسجد گراۓ کوئ
اِک مِثال ایسی مِل کر بنا دیجۓ
ہوں نہ رسوا جہاں میں کبھی بیٹیاں
اے *صباؔ* ظالموں کو سزا دیجۓ
