اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: *بیماری،اسباب بیماری اور ممکنہ حل و تدابیر* _غور و فکر_ _توقیر بدر القاسمی آزاد_

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 14 June 2020

*بیماری،اسباب بیماری اور ممکنہ حل و تدابیر* _غور و فکر_ _توقیر بدر القاسمی آزاد_

*بیماری،اسباب بیماری اور ممکنہ حل و تدابیر*

_غور و فکر_

_توقیر بدر القاسمی آزاد_

صبح صبح جب موبائیل آن کیا تو حسب سابق کورونا سے متعلق لگاتار کیی ایک میسیجز واٹس ایپ گشت کرتے نظر آیے!

اس بابت گزشتہ دنوں جو کچھ پڑھا ہے،اسکی روشنی میں چند باتیں پیش کرنا چاہوں گا.

درج ذیل باتیں اہل علم جانتے ہیں سو وہ اسکی تصدیق کریں گے کہ گزشتہ سالوں و دہائیوں میں پیدا ہوئے وائرس اور جدید تحقیق کے حوالے سے ماہرین یہ مانتے ہیں کہ انسانی جسم میں چالیس بلین جراثیم پیدا ہوتے ہیں.

ان میں سے اکثر رب کریم کی طرف سے عطا کردہ قوت ممد حیات vital force کے بل پر از خود تباہ ہوجاتے ہیں،تاہم کچھ امراض کے باعث بنتے ہیں،جنکو Pathogens كہا جاتا ہے،جو دفاعی نظام Immune system کو ناکارہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں،ان میں سے وایرس virus وہ ہے،جو انسانی جسم کے خلیوں کو تباہ کرکے ہی پنپتا ہے اور وہ خطرناک سے خطرات تر بنتا چلا جاتا ہے.
گزشتہ دہائیوں میں ان جراثیم و pathogens کو ختم کرنے کے لیے Anti biotic(جراثیم کش) کا کھوج ہوا اور ادویہ ساز کمپنیاں اس کو ہاتھوں ہاتھ لیتی چلی گئی!

تاہم یہ بھی ایک المیہ رہا کہ جوں جوں یہ جراثیم کش ادویہ بازار میں آتی گیی،ہر تین چار سال میں اس کا توڑ Anti biotic resistant بھی ابھر کر سامنے آتا گیا،جیسا کہ اس میدان کے ماہرMoyo Mckexma کی رپورٹ بتاتی ہے.

افسوس کہ آج کی بے خدا سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا ہوس بھرا بے رحم کردار اس پر مستزاد ہے،لہذا جس قدر pharmaceutical companies (ادویہ ساز کمپنیاں)
نے antibiotics ادویات کو اسکے مضرت رساں پہلو سے صرف نظر کرتے،بلکہ جان بوجھ کر سرمایہ بٹورنے کی غرض سے ڈاکٹروں کو الگ الگ ترغیبات سے انہیں تجویز کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور بات بات پر اسے فروغ دینے کا جو عمل رواں دواں ہے،وہ آج کافی تکلیف دہ بیانیہ ہے.

پچاس کی دہائی میں زخمی فوجیوں پر پنسیلین penicillin{1942}آزمایا گیا اور دنیا جوں جوں اسکی عادی ہوتی گیی،متجسسانہ عادت اور آزاد انسانی فطرت سے گریز کرکے دیگر مفید متبادل مثلا یونانی میں سرجری و جراثیم کش ادویات کا کھوج نہ کرنا اور اس Anti biotic کو ہی لازمہ زندگی سمجھنا،یہ دنیا کے حق میں بھاری پڑتا چلا گیا،اور اسکے نتیجے میںAMR یعنی Anti microbial resistance کا عمل بطور ردعمل شروع ہوا.

بقول ماہرین مثلا Margaret سابق صدر WHO اب AMR اور Anti biotic كے درمیان ایک خطرناک جنگ جاری ہے،جس کا جدید طب کی مکمل شکست پر ہی ختم ہونا ممکن ہے.

ایسا اس لیے کہ Anti biotic اور AMR کی آپسی کشمکش وہ pathogens تیار کررہے ہیں،جو ایک طرف کیمیائی و عضویاتی ردعمل تو دوسری طرف سائیکلنگ سسٹم سے پانی و جانوروں سے ہوتا ہوا انسانوں کی سانسوں اور غذاؤں کا حصہ بنکر انتہائی بھیانک روپ لے رہا ہے،جس کا نتیجہ دنیا آج Sars، AIDS اور حالیہ کووڈ 19کی شکل میں دیکھ اور بھگت رہی ہے.حیرت ناک بات یہ ہے کہ ان pathogens کے مقابل جدید ادویاتی صنعت Modern pharmaceutical industry بزبان حال شکست کا اعتراف کرنے لگی ہے.

بقول ماہرین ہی اس سے جب تک چھٹکارا نہیں پالیا جاتا،اسکو چند ہاتھوں میں سمٹنے کے بجایے اسکو قومیانے کا عمل نیز اسکی خطرناکی کے ازالے کے لیے،اسکے متبادل پر غور و خوض نہیں کیاجاتا،فطری غذا و قدرتی علاج دودھ،شہد،کھجور،اپنے ہاتھوں سے ابالا و فلٹر کردہ پانی،کلونجی،غیر فارمنگ انڈے،مچھلی،کیمیکل چھڑکاؤ فری تازہ پھل سبزیاں، سونے جاگنے کا منظم ترتیب اور صاف ستھری ہوا میں یومیہ ورزش وغیرہ کو پھر سے جب تک سادہ زندگی اور Natural Process کا حصہ نہیں بنایا جاتا،آیندہ دوہزار پچاس تک دنیا مزید بھیانک سے بھیانک نتائج سے دوچار ہونے کو تیار رہے!

اللھم احفظنا منہ!

{نوٹ:اس مضمون کا اکثر مواد بطور خاص ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کے مضمون سے مستفاد ہے}
_________
ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتاء والتحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار انڈیا رابطہ نمبر :
+918789554895