★باپ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے★
:*محمد علی جوہر سوپولوی*
باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے ۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے ،تاکہ وہ معاشرے میں باوقار، شان و شوکت اور باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے،والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،
والد ایک ذمہ دار انسان ہے جو اپنی خون پسینے کی محنت سے گھر چلاتا ہے والد ایک مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی خاندان کی نگرانی کرتا ہے ،والد کے آنسو تمہارے دکھ سے نہ گریں، ورنہ اللہ تم کو جنت سے گرادے گا،اور دورانِ حیات باپ کا ادب واحترام کرنا ان سے محبت کرنا اولاد پر لازم ہے اسی طرح جب والدین دنیا سے رخصت ہوجائیں تو ان کے لیے سرمایہ آخرت نیک اولاد ہی ہوتی ہے جو ان کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتی ہے،
والد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور باپ سچے جذبے اور صادق رشتے کا نام ہے ،
باپ اک چھت کی مانند ہوتا ہے جس طرح اک چھت گھر کے مکین کو موسم کے سرد گرم موصول سے محفوظ رکھتی ہے ،جس کا کوئی نعم البدل نہیں،
باپ کی عظمت سے کوئی بھی انسان، دین، مذہب، قوم اور فرقہ انکار نہیں کر سکتا، باپ کا رشتہ ہر غرض بناوٹ اور ہر طرح کے تقاضے سے پاک ہوتاہے،
اسی طرح باپ موسم کے نارواں سلوک سے ہمیں تحفظ دیتا ہے آندھی طوفان اور گرج چمک اور گھنگھور گھٹا سے بچا کے رکھتا ہے ،اور باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے ،
غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے بوڑھے باپ نے ہمارے لیے کیا کیا، اولاد جوان ہونے کے بعد باپ کی محنت و مشقت اور مہربانیاں بھول جاتی ہے ،جوان بیٹا ہاتھ آئی دولت پر اپنا حق یوں جتلاتا ہے ، جیسے صرف اسی کے خون پسینے کی کمائی ہے، والد کا احترام کرو تاکہ تمہاری اولاد تمہارا احترام کرے والد کی عزت کرو تاکہ اس سے فیض یاب ہوسکو،والد کا حکم مانو تاکہ خوشحال ہوسکو اور والد کے سامنے اونچا نہ بولو ورنہ اللہ تم کو نیچا کردے گا،
ماں باپ کی بہت خدمت کرے ان کے مرنے سے پہلے اگر باپ گھر وغیرہ کے اخراجات کے لئے اولاد کو رقم دیتی ہے تو اس کا صحیح استعمال ہونا چاہئے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی فرمانبردای کرنے والا بنائے اور ہماری اولاد کو بھی ان حقوق کی ادائیگی کرنے والا بنائے والدین کے ساتھ حسن سلوک ایک نہایت ہی بنیادی حق اور اہم ترین فریضہ ہے اسی طرح ان کی خدمت وفرمانبرداری بھی ایک بہترین اطاعت ہے ،
باپ کا مقام بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایاباپ جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے ایک موقعہ پر ایک صحابی رسول آکر آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت کرنے لگے کہ میرے والد میرے مال سے خرچ کرنا چاہتے ہیں ایسے موقع پر میں کیا کروں آپﷺ نے جواب دیاتو اورتیرا مال تیرے والد ہی کے لیے ہے ،
یہی وجہ ہے کہ رب العالمین نے والدین کے حقوق کو اپنے حقوق کے ساتھ بیان فرمایا ہے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں والدین کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جن کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
:*محمد علی جوہر سوپولوی*
باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے ۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے ،تاکہ وہ معاشرے میں باوقار، شان و شوکت اور باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے،والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،
والد ایک ذمہ دار انسان ہے جو اپنی خون پسینے کی محنت سے گھر چلاتا ہے والد ایک مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی خاندان کی نگرانی کرتا ہے ،والد کے آنسو تمہارے دکھ سے نہ گریں، ورنہ اللہ تم کو جنت سے گرادے گا،اور دورانِ حیات باپ کا ادب واحترام کرنا ان سے محبت کرنا اولاد پر لازم ہے اسی طرح جب والدین دنیا سے رخصت ہوجائیں تو ان کے لیے سرمایہ آخرت نیک اولاد ہی ہوتی ہے جو ان کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتی ہے،
والد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور باپ سچے جذبے اور صادق رشتے کا نام ہے ،
باپ اک چھت کی مانند ہوتا ہے جس طرح اک چھت گھر کے مکین کو موسم کے سرد گرم موصول سے محفوظ رکھتی ہے ،جس کا کوئی نعم البدل نہیں،
باپ کی عظمت سے کوئی بھی انسان، دین، مذہب، قوم اور فرقہ انکار نہیں کر سکتا، باپ کا رشتہ ہر غرض بناوٹ اور ہر طرح کے تقاضے سے پاک ہوتاہے،
اسی طرح باپ موسم کے نارواں سلوک سے ہمیں تحفظ دیتا ہے آندھی طوفان اور گرج چمک اور گھنگھور گھٹا سے بچا کے رکھتا ہے ،اور باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے ،
غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے بوڑھے باپ نے ہمارے لیے کیا کیا، اولاد جوان ہونے کے بعد باپ کی محنت و مشقت اور مہربانیاں بھول جاتی ہے ،جوان بیٹا ہاتھ آئی دولت پر اپنا حق یوں جتلاتا ہے ، جیسے صرف اسی کے خون پسینے کی کمائی ہے، والد کا احترام کرو تاکہ تمہاری اولاد تمہارا احترام کرے والد کی عزت کرو تاکہ اس سے فیض یاب ہوسکو،والد کا حکم مانو تاکہ خوشحال ہوسکو اور والد کے سامنے اونچا نہ بولو ورنہ اللہ تم کو نیچا کردے گا،
ماں باپ کی بہت خدمت کرے ان کے مرنے سے پہلے اگر باپ گھر وغیرہ کے اخراجات کے لئے اولاد کو رقم دیتی ہے تو اس کا صحیح استعمال ہونا چاہئے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین کی فرمانبردای کرنے والا بنائے اور ہماری اولاد کو بھی ان حقوق کی ادائیگی کرنے والا بنائے والدین کے ساتھ حسن سلوک ایک نہایت ہی بنیادی حق اور اہم ترین فریضہ ہے اسی طرح ان کی خدمت وفرمانبرداری بھی ایک بہترین اطاعت ہے ،
باپ کا مقام بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایاباپ جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے ایک موقعہ پر ایک صحابی رسول آکر آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت کرنے لگے کہ میرے والد میرے مال سے خرچ کرنا چاہتے ہیں ایسے موقع پر میں کیا کروں آپﷺ نے جواب دیاتو اورتیرا مال تیرے والد ہی کے لیے ہے ،
یہی وجہ ہے کہ رب العالمین نے والدین کے حقوق کو اپنے حقوق کے ساتھ بیان فرمایا ہے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں والدین کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جن کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
