اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ہوئے سیراب اس چشمہ سے ہندو بھی مسلماں بھی مہدی حسن عینی قاسمی ڈائریکٹر دیوبند اسلامک اینڈ ریسرچ سینٹر

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 17 June 2020

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ہوئے سیراب اس چشمہ سے ہندو بھی مسلماں بھی مہدی حسن عینی قاسمی ڈائریکٹر دیوبند اسلامک اینڈ ریسرچ سینٹر

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

ہوئے سیراب اس چشمہ سے ہندو بھی مسلماں بھی

مہدی حسن عینی قاسمی
ڈائریکٹر دیوبند اسلامک اینڈ ریسرچ سینٹر

       مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہند وستان کفر وشرک کا گہوارہ تھا ، اصنام پر ستی عام تھی، ایمان با لغیب کاتصور تک نا تھا کیونکہ یہاں کے باشند ے محسوس و مشاہد خداؤوں کی پر ستش کے خو گر بن چکے تھے،چہار جانب ظلم و بر بریت کا دور دورہ تھا، مختلف مذاھب کے لوگ تودر کنار،ایک ہی دھرم کے بچاریوں وبدھ جیویوں میں بھی مساوات انسانی کا کوئی تصور نا تھا، ایک آدم کی اولاد ہزاروں ذاتوں اور دھڑوں میں منقسم ہو چکی تھی کسی کی بھی جان ومال یا عزت وآبرو محفوظ نہ تھی،عورت کو ذلیل سمجھا جاتاتھا،اپنے شوہر کی موت پر وہ اس کے ساتھ چتا پر زندہ جل کر ستی ہو جانا اپنا مذھبی فریضہ سمجھتی تھی، ہر ہمن دیگر ہندوؤں کے لئے معاشی طفیلئے تھے،ان حالات میں بر صغیر میں مسلمانوں کے دو گروہ داخل ہوئے،ایک’’ مسلم فاتحین‘‘ جنہوں نے ہند وستان میں ہند وؤں کے اقتد ار کا سورج غروب کیا،دوسرے مسلمان صوفیاء عظام جنہوں نے باشندگان ہند کے دلوں کو مسخرکیا،ان دونوں طبقات نے بر صغیر کی انسانی تہذیب وثقافت پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ،مؤخر الذکر طبقے کے لوگ ایسے بلند کردار،انسان دوست اور با اخلاق تھے کہ انہوں نے رنگ ونسل اور مذہب وملت کی تفریق کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے ہر ایک تک اپنا محبت بھرا پیغام پہوانچا نے کی سعی کی ، ان شخصات میں اتنی کشش تھی کہ دوسرے مذاہب کے پیرو کار بھی ان کی خانقاہوں پر حاضری دیتے اور ان کے پیغام کی تاثیر سے حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے،ان ہستیوں میں ایک نام حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین سنجری ثم اجمیریؒ کاہے، جو ہند وستان میں سلسلۂ چشتیہ کے سر خیل مانے جاتے ہیں ،پانچویں یا چھٹی صدی ہجری میں خراسان کے ایک گاؤں چشت میں چند بزرگان دین نے جس سلسلہ کی بنیاد رکھی تھی،سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر ی تصوف کے اسی سلسلۂ چشتیہ کے ہندوستان میں بانی ہیں،
آپ کے والد حضرت امام حسین اور والدہ امام حسن کی اولاد میں سے ہیں اس طرح سے آپ نجیب الطرفین سید ہوئے جب عمر مبارک ۱۵ سال کی تھی آپ کے والد کا وصال ہوا،والد کا مزار بغداد میں ہے پیرومرشدکا نام حـضرت خواجہ عثمان ہارونی ہے، ان کا مزار مکہ معظمہ میں ہے، آپ پیر ومرشد کے ساتھ روضہ رسول پر گئے،اور کعبۃ اللہ کی زیارت کی ،حضور  اقدسﷺ کے حکم پر ۵۸۸ء میں ہندوستان تشریف لائے،ہندوستان تشریف آوری کے موقع پر مریدین ومعتقدین کی تعداد چالیس تھی، جب آپ اجمیر تشریف لائے، اس وقت اجمیر میں پر تھوی راج چوہان کی حکومت تھی، یہیں سے آپ کا خانقاہی سفر شروع ہوا، مجددانہ انداز میں آپ کا علمی وروحانی فیضان جاری ہوا،اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا بر صغیر آپ کی روحانی کرامات وارشادات کے نتیجہ میں یا تو حلقہ بگوش اسلام ہو گیا اور یا اسلام سے ایسا متاثر ہوا کہ غیر مسلم ہوتے ہوئے بھی اسلامی تعلیمات پر عمل در آمد کرنے لگا، خواجہ اجمیری علیہ الرحمۃ کی حیات و خدمات ،کشف کرامات اور افکار وارشادات کے متعلق مختلف زبانوں میں نظم ونثر میں بہت کچھ لکھا گیا،ان کے بارے میں صرف مسلم قلمکاروں نے ہی نہیں لکھا، بلکہ غیر مسلم اور مغرب کے دانشوروں اور اسکالرز نے آپ کی مدح سرائی میں خوب خراج عقیدت پیش کی ہے، مسلم قلمکاروں کا آپ کے دربار میں نذرانہ محبت پیش کرنا اور آپ کی حیات وخدمات پر قلم اٹھانا ان کی عقیدت کا مظہر ہے، لیکن دائرہ اسلام میں داخل ہوئے بغیر کسی شخص کا اس عظیم صوفی کی عظمت کا اعتراف خود آپ کی عالمگیریت کی دلیل ہے، کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’الفضل ماشہدت بہ الأعداء‘‘ فضیلت اسی گواہی کو ہے جو دشمن دین۔
اب آئیے تاریخ کے دریچوں کو کھنگالتے ہوئے کچھ غیر مسلموں کے احساسات وجذبات جو خواجہ اجمیری کی شان اقدس میں ان کے قلم سے سپر د قرطاس ہوئے ہیں یہاں رقم کریں،پروفیسر تھامس آرنلڈ مشاعر مشرق علامہ اقبال کے استاذ تھے انہوں نے اپنی معروف کتاب the preching of islam میں حضرت خواجہ غریب نواز کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:ہندوستان کے مشہورو معروف اولیائے کبار میں سے خواجہ معین الدین چشتی بھی ہیں جنہوں نے راجپوتانہ میں اسلام کی تبلیغ کی اور 1234عیسوی میں اجمیر میں انتقال کیا، ان کو خواب میں ہندوستان کے کفارمیں تبلیغ کا حکم ملاتھا،مدینہ منورہ کے سفر میں محمد ﷺ ان کے خواب میں آئے اور ان سے فرمایا کہ خدانے ہندوستان کاملک تیرے سپر دکیا ہے وہاں جا اور اجمیر میں سکونت اختیار کر ،خدا کی مدد سے دین اسلام سے، اور تیرے ارادت مندوں کی پر ہیزگاری سے ‘‘خواجہ صاحب نے اس حکم کی تعمیل کی اور اجمیر آئے جہاں کا راجہ ہندو تھا، ملک میں ہر طرف بت پرستی پھیلی ہوئی تھی،یہاں پہونچنے کے بعد سب سے پہلے آپ کے ہاتھوں پر جس نے اسلام قبول کیا وہ راجہ کا ایک جوگی گروتھا،آپ ایک مذھبی پیشوا ہونے کے سا تھ ساتھ امن وآشتی کے پیامبر بھی تھے اجمیر جاتے ہوئے دہلی کے دور قیام میں آپ نے سات سو ہندوؤں کو مسلمان کیا تھا‘‘
اس کے علاوہ مستشرقین کی ایک بڑی جماعت جس میں سے جے.اسپنسرٹری منگھم، اے ۔جے آربیری،ولیم اسٹو ڈارٹ وغیرہ نے تصوف وسلوک پر لکھتے ہوئے خواجہ غریب نواز کا تذکرہ جن زریں الفاظ میں کیا ہے وہ تایخ کا ایک روشن ترین اور ناقابل فراموش باب ہے،لیکن ان سب میں سب سے زیادہ اہمیت اور تحقیق سے جس مغربی دانشور نے نائب البنی فی الہند کے بارے میں لکھا ہے وہ مرے.ٹائی ٹس نانی محقق ہے جس نے برصغیر میں اسلام کی نشرو اشاعت کے متعلق دوسال تک تحقیق کی ہے اور ایک عظیم وضخیم مقالہ لکھا ہے،اور اس مقالے کی تکمیل پر مرے کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نواز ا گیا، ۱۹۹۰ میں مرے کایہ مقالہ بر صغیر بالخصوص پاک میں خوب چھپا تھا، اس عظیم مستشرق نے خواجہ صاحب کوہندوستان کا سب سے معروف اور عظیم مبلغ قرار دیتے ہوئے لکھا ہیکہ خواجہ صاحب کی شہرت ایک مرشد و مربی کی حیثیت سے اجمیر کے قرب وجوار میں پھیل گئی اورہندو بڑی تعداد میں ان کے پاس آتے اور ان کی ترغیب سے دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے، مرے کے علاوہ ولیم اسٹو ڈارٹ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ ہندوستان میں جاری ہونے والا سب سے معروف صوفی سلسلہ چشتی طریقہ ہے جس کے بانی معین الدین چشتی ہیں جن کا مزار اجمیر میں برصغیر کے عظیم ترین مزاروں میں سے ایک ہے، ہندو مسلمان یکساں طور پر اس پر حاضری دیتے ہیں در اصل خواجہ اجمیری کی ہندو ستان آمد سے قبل یہاں کے ہندو ذات پات کے ایسے نظام میں جکڑے ہوئے تھے کہ ادنی ذات کے ہندوؤں کو اعلیٰ ذات کے مندروں میں جانے کی اجازت بالکل نا تھی،اگر کوئی مسلمان کسی ہندو کی رسوئی میں پاؤں رکھ دیتا تو ان کا سب کچھ بھر شٹ ہوجاتا.
حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے چھوا چھوت کے اس بھیانک ماحول میں اسلام کا نظریہ توحید عملی طور پر پیش کیا اور بتایا کہ یہ صرف تخیلی چیز نہیں بلکہ زندگی کا ایسا اصول ہے جس کو تسلیم کرلینے کے بعد ذات پات کی تفریق بے معنی ہوجاتی ہے۔
خواجہ غریب نواز کی زندگی میں ہر مذہب کے پیرو کاروں کو ان کی درگاہ پر حاضر ہونے کی کھلی اجازت تھی،خواجہ اجمیری نے اجمیر میں ایک لنگر خانہ قائم کیا تھا جس سے روزانہ  کثیر تعداد میں ہندو مسلم غرباء کو کھانا ملتا تھا ان کے وصال کے بعد بھی یہ سلسلہ جوں کاتوں ہے۔
ان سب کے علاوہ ہندو وشعراء نے بھی خواجہ اجمیری کے اوصاف وخصائل اور ان کی مزار سے عقیدت ومحبت کو اپنے اشعار میں پرویا ہے،جیسے کہ جگن ناتھ آزاد جوار دوزبان کے قادر الکلام شاعر معروف نقاد اور ماہر اقبالیات ہیں انہوں نے اپنی شاعری میں اولیاء اللہ وصوفیاء کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے،انہوں نے سلسلۂ چشتیہ کے ہندو ستان میں بانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے؛
یہ چشتی خاندان ،نازاں ہے جس  پر مرتبۂ عالی
بنا خواجہ نے اس کی وادی اجمیر میں ڈالی

جگن ناتھ آزاد نے اپنی معروف ’’نظم اے کشور ہندوستان‘‘ میں سرز مین خواجہ کا یوں ذکرکیا !

 اجمیر کی درگاہ سے تیری زمین ہے آسماں،
ذرے ہیں تیرے کہکشاں ،
اونچا رہے تیرا نشاں،
اے کشور ہند وستاں،

جگن ناتھ آزاد نے خواجہ اجمیری ؒ اور صابر کلیریؒ پر بہت سارے نظم بھی لکھے ہیں آزاد کے علاوہ ہندومصنفین اور دیگر مذاہب کے پیروکار اسکالرز نے حضرت غریب نواز کی لازوال تجدیدی خدمات کو بڑی اہمیت وخصوصیت سے ذکر کیا ہے۔

بالخصوص آپ کا پیام امن وسلامتی ،پیغام محبت وآشتی ناصرف ان کی نظر میں قابل تقلید ہے بلکہ انسانیت کی بقاء اور عروج کے لئے اکسیرو حیاتین ہے،اسی لئے حضرت خواجہ اجمیری کی مزار کو آج بھی جو عالمگیریت اور مرجعیت حاصل ہے،شاہ وفقیر،وزائے اعظم وصدور مملکت،سفراء وبین الاقوامی حکومتی کا رندے ہوں، یا پھر لاکھوں کی تعداد میں آنے والے ملکی وغیر ملکی مہمان ، ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ سلطان الہند خواجہ اجمیری کی مزار پر ایک مرتبہ حاضری کی سعادت مل جائے،سالانہ عرس کے موقع پر بلا تفریق مذہب عقیدت مندوں کا سیلاب آپ کی مقدس وپاکیزہ تعلیمات کا ہی اثر ہے،اس لئے ایسے نازک ترین وقیامت خیز حالات میں جب ملک انار کی وفرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہا ہے،نفرت نے ملک کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی کے وسیع تر پیام امن ومحبت کو ناصرف عام کیا جائے بلکہ خود بھی اس کا عملی مظہر بننے کی کوشش کی جائے،
اس دیش کی بھلائی انہیں صوفی سنتوں کے اسلامی تعلیمات اور اپدیشوں پر عمل کرنے اور انہیں ترویج دینے میں ہے تاکہ ملک سے نفرت وعداوت کی شکستہ دیوار یں منہدم ہو سکیں۔
9565799937
mehdihasanqasmi45@gmail.com