*معصیت کا رجحان*
✍🏻 از قلم : خاکپائے اکابرافتخار احمد قاسمی
خادم
مدرسہ اسلامیہ سعیدیہ تلبہٹہ مظفرپور بہار
اللہ پاک کی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش یہ بھی ہے, کہ جب کسی شخص یا جماعت کے اندر معصیت کا رجحان بڑھنے لگتا ہے, تو اس کے سامنے اس کے گناہ کرنے کے مواقع آنے شروع ہوجاتے ہیں ,تاکہ نافرمان کے اندر کا چھپا ہوا جذبہ اگر راسخ ہو چکا ہے تو کھل کر پوری طرح سامنے آجائے
سورہ یس
میں ایک معزب بستی کا ذکر اللہ تعالی نے کیا ہے،
قرآن شریف کا بیان ہے ایک بستی کے رہنے والے جب کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے اور اس کی وجہ سے ان کے پورے نظام زندگی میں فساد رونما ہونے لگا تو اللہ پاک نے ان کی اصلاح کے لیے تین پیغمبروں کو بھیجا بستی والوں نے ان کی باتوں کا انکار کیا یہی نہیں بلکہ ان حضرات کی مخالفت کرنی ی شروع کر دی مولا کریم نے ان کی کبر و غرور کو توڑنے کے لیے انہیں کسی حادثے میں مبتلا کردیا، سرکشوں نے بجائے توبہ استغفار کرنے کے اسے پیغمبر کی نحوست کہا اور انہیں مارنے کی دھمکی بھی دے ڈالی، اسی کشمکش میں بستی کے کنارے سے ایک مرد حق آیا، اور اس نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور ایمان لانے کی ترغیب کی ان کی دعوت کو سن کر وہ سبھی چراغ پا ہو گئے، اور اللہ کے اس مرد مومن کو قتل کر ڈالا اس کی نعش کو روندا اور اس کی توہین بھی کی بس کیا تھا ؟قہرالہی بھی جوش میں آ گیا اور ایک ہولناک چیخ نے اس بستی والے کی شمع زندگی کو بجھا کر رکھ دیا
*وما انزلنا على قومه من بعده من جند من السماء وما كنا منزلين ان كانت الا صيحه واحده فاذا هم خامدون*
اللہ اس قوم پر آسمان سے کوئی لشکر ہلاک کرنے کے لئے نہیں اتارا بس ایک چیخ ان کے لئے کافی ہو ئی اور وہ ہلاک ہو کر رہ گئے
اصحاب ثبت کا واقعہ
بنی اسرائیل یہودیوں کی ایک جماعت جو ایلا لا کے مقام پر بحرقلزم کے کنارے آباد تھی ہفتہ کے احترام کی خلاف ورزی کرنے پر اتر آئی
کیوں کہ ہفتہ کا دن بنی اسرائیل کے لئے مقدس قرار دیا گیا تھا تھا ان لوگوں کو یہ سبق ملا تھا کہ اسی دن یعنی ہفتے کے دن کو دینوی کام نہ کیا جائے اور اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو اسے قتل کردیا جائے ایک عرصہ تک تو یہ لوگ سچائی سے اس کی تعمیل کرتے رہے لیکن آہستہ آہستہ ان میں احکام الہی کے خلاف حیلہ کرنے اور پوشیدہ طریقوں سے سنیچر کے روز سے فائدہ اٹھانے کا رجحان ترقی کرتا رہا
پہلے تو چند افراد اس خودبینی میں مبتلا رہے پھر ان حیلوں کو باقاعدہ تاویل و توجیہ کے ذریعے شرعی حیثیت دیا جانے لگا،
اور ان کی کامیابی حیلہ تراشیوں پر فخر کیا جانے لگا ،
اس پر جب علمائے حق نے ان کو منع کرتے تو وہ کہتے ہیں ہم ہفتہ کے دن شکار نہیں کرتے
سورہ اعراف میں خدا تعالی نے فرمایا
*فلما نسوا ما ذكروا به انجينا الذين ينهون عن السوء واخذنا الذين ظلموا الاخ*
( اعراف)
*من لعنه الله وغضب عليه وجعل منهم القراده الخنازير*
بدترین ہے وہ لوگ جن پر خدا تعالی نے لعنت کی اور ان پر اپنا غضب نازل کیا اور بعضوں کی شکل مسخ کرکے ان کو بندر اور سور بنا دیا
اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائیں آمین
