*مسلمانوں کی تنزلی کے اسباب اور اس کا علاج*
✍️ ازقلم : *ارشد جمال عمار*
ضلعی، صوبائی، ملکی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مسلمان جس طرح پستی و تنزلی کا شکار ہیں وہ ناقابلِ بیان اور قابلِ افسوس ہے، ہر طرف سے ان کے اوپر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، اپنی ہر سازشوں اور شورشوں کا نشتر ان پر ہی چلایا جارہا ہے، الغرض کہ ہر سیاست انہیں کی خلاف چل رہی ہے،
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ توجہ کا مرکز، اور نفرت کا نشانہ وہی بنتا ہے جو حق پرست، اور راہ راست پر گامزن ہو، مخالفت اسی کی کی جاتی ہے جو اوج ثریا پر سیر و تفریح کا حوصلہ رکھتا ہو، جس کے اندر فلک بوس منزلوں پر پرواز کرنے کی قوت ہو.
لیکن یہ سوچ کر جان حلق کو آتی ہے کہ اب یہ چیز ہمارے زاویہ فکر سے خارج ہوچکی، ہم احساس کمتری کا شکار ہوچکے، ہمارے آہنی حوصلے پست پڑگئے، ہمارے فولادی جسم میں بزدلی گھر کر گئی.
دوسری بات کہ مسلم طبقہ تعلیم و تعلم کے میدان میں شکست خوردہ بنے ہوئے ہیں، پورا معاشرہ جاہلوں کے دست غفلت سے تباہ کاریوں میں مبتلا ہے، تعلیمی لیاقت حد درجہ مفقود ہے پھر بھی انانیت کا ناسور پورے معشرے میں نشونما پا رہا ہے، ہر شخص خود کو اعلیٰ معیار گردانتے نہیں تھکتا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جہال کے لئے دنیا کی رنگ و بو سے لطف اندوز ہونے کی تفکیر و تدبیر سے بہتر ہے کہ وہ زمین کے اندر رداء تربت اوڑھ کر سوجائیں، کیوں کہ وہ دنیا سے لطف اندوز اسی وقت ہوسکتے ہیں جب وہ علم کا ایک وافر حصہ حاصل کرلیں ورنہ تو وہ مانند ایک لاش کے ہیں جس کو دنیا میں رہنے کا کسی بھی طرح کوئی حق نہیں.
دین اسلام کے متعلق بھی ہماری کئی طرح کی کوتاہیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جو واقعی ہماری کشتی کے غرقاب ہونے کا سبب بن سکتیں ہیں،
ہم غریبوں اور مسکینوں کے لئے درِ رحمت و شفقت بند کر چکے ہیں
حج، نماز، زکوٰۃ الغرض کہ ہر فرائض کی ادائیگی میں سستی و کسلان سے کام لیا رہا ہے۔
جنس نسوانیت بھی ہمارے باعث شرمسار ہوچکی ہے کہ اس کی توہین و تذلیل اور حق تلفی کی جارہی ہے، اس کو اس کے متعینہ حق سے محروم رکھا جارہا ہے جس کو شریعت نے مقرر کیا، چاہے وہ محبت ہو یا ملکیت، جب کہ عورت کا اسلام میں ایک الگ مقام اور منفرد حیثیت ہے کہ وہ بیٹی ہے تو رحمت ہے، بہن ہے تو شفقت ہے، بیوی ہے تو عظمت ہے اور گر ماں ہے تو جنت ہے
آخری بات کہ دنیا میں جتنے مسلم ممالک ہیں ان کے درمیان اتحاد کا فقدان ہے، ایک ملک میں اگر مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہورہی ہے تو دیگر ممالک میدان حرب میں نذر آتش لاشوں کو خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں، کسی بھی طرح کا کوئی مزاحمی پہلو اختیار نہیں کرتے، اقدامی پہلو کی تو خیر کوئی امید نہیں.
اس لئے اب ضرورت ہے اس بات کی کہ ہمیں علمی اور عملی میدان میں اترنے کے لئے کمر کس لینی چاہئے، اتحاد کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا اور ان کے سازشی مکر سے مقام تحفظ اختیار کرنا چاہئے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو اپنا فرض منصبی سمجھنا چاہیئے، تب کہیں جاکر اسلام کا بول بالا ہوگا.
