بنکر لیڈران نے کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات، پاورلوم پر ملیگی بجلی کی سہولیت
ٹانڈه/امبيڈکرنگر:08/جولائی 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! معراج احمد انصاری
اترپردیش بنکرسبھا کے صدر حاجی افتخار احمد انصاری نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے کی ملاقات، پاورلوم سے متعلق مسائل کے حل کیلئے ہوئی گفتگو اور بنکروں کے صورتحال پر کیا گیا تبادلہ خیال، وزیراعلیٰ نے بجلی مسائل کو حل کرانے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی۔ تفصیلات کے مطابق اترپردیش بنکرسبھا کے اعلانیہ پر ریاست بھر میں بنکروں نے حکومت کی جانب سے فلیٹ ریٹ بجلی پاس بک اسکیم کے ختم کئے جانے کے خلاف یکم جولائی سے ایک ہفتہ تک چلی پاورلوم کی ہڑتال کے بعد اترپردیش بنکرسبھا کے صدر حاجی افتخار احمد انصاری و ندیم انصاری نے علاقائی ممبر پارلیمنٹ رتیش پانڈے کے ساتھ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے 5 کالی داس مارگ لکھنؤ واقع رہائش گاہ پر ملاقات میں فلیٹ ریٹ اسکیم کی بحالی اور بجلی بل کی ادائیگی سمیت پاورلوم سے متعلق تمام مسائل کے حل کیلئے تفصیلی گفتگو اور بنکروں کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ حاجی افتخار نے بتایا کہ گزشتہ 7 جولائی کو وزیر اعلیٰ یوپی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات انتہائی خو شگوار ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے بنکروں کے تمام مطالبات کی تائید کی اور بجلی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے یہ بھی وعدہ کیا کہ پاورلوم پر بجلی بل کی ادائیگی سے متعلق حکومت کی طرف سے جاری نئے حکم نامہ کو رکنے کوکہدیا گیا ہے اور اس کا ایک بہترین متبادل تلاش کرنے کے بعد جلد ہی کابینہ میں اس تجویز کی منظوری دی جائے گی، تب تک کوئی بھی پاورلوم بنکروں کو پریشان نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے 14 جون 2006 کو پاورلوم بنکروں کی فلاح و بہبود کے لئے بجلی کی شرح میں چھوٹ فلیٹ ریٹ اسکیم شروع کی تھی۔ اس کے بعد اس اسکیم کو محکمہ بجلی کے حوالے کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت بنکروں سے فی لوم (0.5 ہارس پاور) کے لئے 65 روپے اور (ایک ہارس پاور) کے لئے ہر ماہ 130 روپے فکس پاس بک پر وصول کیے جاتے رہے۔ جبکہ دیہی علاقوں میں فی لوم (0.5 ہارس پاور) 37.5 روپئے اور 75 روپے (فی ہارس پاور) وصول کیے جاتے رہے۔ یہ سلسلہ تقریباً دس سالوں سے محکمہ بجلی کے ذریعے حکومت نے بنکروں کو سبسڈی کا فائدہ دیا۔ لیکن جب اکھلیش یادو کی حکومت آئی تب شاید بنکروں کو اس طرح سے فائدہ دیا جانا پسندنہیں رہا۔ انہوں نے اس اسکیم کو 2015-16 میں ایک حکم نامہ جاری کرکے ہینڈلوم و ٹیکسٹائل انڈسٹریز محکمہ کے حوالے کر دی گئی۔تبھی سے بنکروں کے سامنے یہ ایک مسئلہ بنکر الجھنا شروع ہو گیا تھا اور اس دوران بنکر لیڈران کو اس پر غور و فکر کرنے کے بجائے وہ خود بھی حکومتی نشےمیں شریکِ سفر رہے۔ انکی اس غفلت سے وقت تو گزر گئے۔ لیکن محکمہ بجلی اورمحکمہ ہینڈلوم کے گھال میل کی وجہ سے یہ پریشانیاں بنکروں کے لئے سبب بن کر آکھڑی ہوئی۔ معلوم ہوا ہےکہ محکمہ بجلی کے ہینڈلوم محکمہ پر کروڑوں روپے کی ادائیگی باقی ہے۔
ٹانڈه/امبيڈکرنگر:08/جولائی 2020 آئی این اے نیوز
رپورٹ! معراج احمد انصاری
اترپردیش بنکرسبھا کے صدر حاجی افتخار احمد انصاری نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے کی ملاقات، پاورلوم سے متعلق مسائل کے حل کیلئے ہوئی گفتگو اور بنکروں کے صورتحال پر کیا گیا تبادلہ خیال، وزیراعلیٰ نے بجلی مسائل کو حل کرانے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی۔ تفصیلات کے مطابق اترپردیش بنکرسبھا کے اعلانیہ پر ریاست بھر میں بنکروں نے حکومت کی جانب سے فلیٹ ریٹ بجلی پاس بک اسکیم کے ختم کئے جانے کے خلاف یکم جولائی سے ایک ہفتہ تک چلی پاورلوم کی ہڑتال کے بعد اترپردیش بنکرسبھا کے صدر حاجی افتخار احمد انصاری و ندیم انصاری نے علاقائی ممبر پارلیمنٹ رتیش پانڈے کے ساتھ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے 5 کالی داس مارگ لکھنؤ واقع رہائش گاہ پر ملاقات میں فلیٹ ریٹ اسکیم کی بحالی اور بجلی بل کی ادائیگی سمیت پاورلوم سے متعلق تمام مسائل کے حل کیلئے تفصیلی گفتگو اور بنکروں کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ حاجی افتخار نے بتایا کہ گزشتہ 7 جولائی کو وزیر اعلیٰ یوپی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات انتہائی خو شگوار ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے بنکروں کے تمام مطالبات کی تائید کی اور بجلی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے یہ بھی وعدہ کیا کہ پاورلوم پر بجلی بل کی ادائیگی سے متعلق حکومت کی طرف سے جاری نئے حکم نامہ کو رکنے کوکہدیا گیا ہے اور اس کا ایک بہترین متبادل تلاش کرنے کے بعد جلد ہی کابینہ میں اس تجویز کی منظوری دی جائے گی، تب تک کوئی بھی پاورلوم بنکروں کو پریشان نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے 14 جون 2006 کو پاورلوم بنکروں کی فلاح و بہبود کے لئے بجلی کی شرح میں چھوٹ فلیٹ ریٹ اسکیم شروع کی تھی۔ اس کے بعد اس اسکیم کو محکمہ بجلی کے حوالے کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت بنکروں سے فی لوم (0.5 ہارس پاور) کے لئے 65 روپے اور (ایک ہارس پاور) کے لئے ہر ماہ 130 روپے فکس پاس بک پر وصول کیے جاتے رہے۔ جبکہ دیہی علاقوں میں فی لوم (0.5 ہارس پاور) 37.5 روپئے اور 75 روپے (فی ہارس پاور) وصول کیے جاتے رہے۔ یہ سلسلہ تقریباً دس سالوں سے محکمہ بجلی کے ذریعے حکومت نے بنکروں کو سبسڈی کا فائدہ دیا۔ لیکن جب اکھلیش یادو کی حکومت آئی تب شاید بنکروں کو اس طرح سے فائدہ دیا جانا پسندنہیں رہا۔ انہوں نے اس اسکیم کو 2015-16 میں ایک حکم نامہ جاری کرکے ہینڈلوم و ٹیکسٹائل انڈسٹریز محکمہ کے حوالے کر دی گئی۔تبھی سے بنکروں کے سامنے یہ ایک مسئلہ بنکر الجھنا شروع ہو گیا تھا اور اس دوران بنکر لیڈران کو اس پر غور و فکر کرنے کے بجائے وہ خود بھی حکومتی نشےمیں شریکِ سفر رہے۔ انکی اس غفلت سے وقت تو گزر گئے۔ لیکن محکمہ بجلی اورمحکمہ ہینڈلوم کے گھال میل کی وجہ سے یہ پریشانیاں بنکروں کے لئے سبب بن کر آکھڑی ہوئی۔ معلوم ہوا ہےکہ محکمہ بجلی کے ہینڈلوم محکمہ پر کروڑوں روپے کی ادائیگی باقی ہے۔
